نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق
نبی کریمﷺ کے صحابہؓ کے اخلاق
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ قریش کے تین آدمی ایسے ہیں جن کے چہرے سب لوگوں سے زیادہ خوب صورت اور جن کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہیں اور جن میں حیا سب سے زیادہ ہے۔ اگر یہ حضرات تم سے بات کریں تو کبھی غلط بات نہیں کہیں گے اور اگر تم ان سے کوئی بات کرو گے تو وہ تمھیں جھوٹا نہیں سمجھیں گے۔ وہ حضرات یہ ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عثمان بن عفان اور حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح ؓ۔3
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ قریش کے تین آدمی ایسے ہیں جن کے چہرے سب سے زیادہ خوب صورت، جن کے اخلاق سب سے عمدہ اور جن میں حیا سب سے زیادہ ہے۔ وہ حضرت ابوبکر، حضرت عثمان اور حضرت ابو عبیدہ ؓ ہیں۔1
حضرت حسنؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: میں اپنے صحابہ میں سے جس کے اخلاق پر گرفت کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں، بس ایک ابو عبیدہ بن جرّاح ایسے ہیں کہ ان کی گرفت نہیں کر سکتا۔2
حضرت عبد الرحمن بن عثمان قریشیؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ اپنی بیٹی کے پاس تشریف لے گئے وہ (اپنے خاوند) حضرت عثمان کا سر دھو رہی تھیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے بِٹیا! ابو عبد اللہ (یعنی حضرت عثمانؓ) کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو، کیوںکہ میرے صحابہ میں سے سب سے زیادہ ان کے اخلاق مجھ سے مشابہ ہیں۔3
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضورﷺ کی بیٹی، حضرت عثمانؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت رقیہؓ کے پاس گیا ان کے ہاتھ میںکنگھی تھی۔ انھوں نے کہا: ابھی حضور ﷺ میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے ہیں میں ان کے سر کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم نے ابو عبد اللہ (یعنی حضرت عثمانؓ) کو کیسا پایا؟ میں نے کہا: بہت اچھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: ان کا اکرا م کرتی رہو، کیوںکہ وہ اخلاق میں میرے صحابہ میں سے میرے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔4
حضور ﷺ کے آزادکردہ غلام حضرت اسلمؓ کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت جعفرؓ سے فرمایا: تم صورت اور اخلاق میں میرے مشابہ ہو۔5
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ میں، حضرت جعفر اور حضرت زید تینوں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضورﷺ نے حضرت زیدؓ سے فرمایا: تم ہمارے بھائی اور محبت کرنے والے ساتھی ہو۔ یہ سن کر حضرت زید (خوشی کے مارے) وجد میں آکر اچھلنے لگ گئے۔ پھر حضورﷺ نے حضرت جعفرؓ سے فرمایا: تم صورت اور سیرت میں میرے مشابہ ہو۔ اس پر حضرت جعفر حضرت زید سے زیادہ اچھلے۔ پھر حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ یہ سن کر میں حضرت جعفر سے بھی زیادہ اچھلا۔1
حضرت اسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے حضرت جعفرؓ سے فرمایا: تمہارے اخلاق میرے اخلاق جیسے ہیں اور تمہاری شکل وصورت مجھ سے ملتی جلتی ہے، لہٰذا تم مجھ سے ہو۔ اور اے علی! تم مجھ سے ہو اور میرے بیٹوں یعنی نواسوں کے والد ہو۔2
حضرت عبد اللہ بن جعفرؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ سے ایسی بات سنی ہے کہ مجھے یہ بالکل پسند نہیں ہے کہ اس کے بدلہ میں مجھے سرخ اُونٹ مل جائیں (جو کہ عربوں میں سب سے عمدہ مال شمار ہوتا تھا)۔ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جعفر کی صورت اور سیرت مجھ سے ملتی ہے۔ اور اے عبداللہ! اللہ کی ساری مخلوق میں تم اپنے والد کے سب سے زیادہ مشابہ ہو (میں والد کے مشابہ ہوا اور والد حضورﷺ کے مشابہ ہیں، تو میں بھی حضورﷺ کے مشابہ ہو گیا)۔3
حضرت بحیریّہؓکہتی ہیں: میرے چچا حضرت خِداشؓ نے حضورﷺ کو ایک پیالہ میں کھاتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے حضور ﷺ سے وہ پیالہ بطورِ ہدیہ مانگ لیا۔ (حضور ﷺ نے ان کو وہ پیالہ دے دیا) چناںچہ وہ پیالہ ہمارے ہاں رکھا رہتا تھا۔ حضرت عمرؓ ہم سے فرمایاکرتے تھے کہ وہ پیالہ میرے پاس نکال کر لاؤ۔ ہم زَم زَم کے پانی سے بھر کر وہ پیالہ حضرت عمر کے پاس لاتے۔ حضرت عمر اس میں سے کچھ پیتے اور کچھ (برکت کے لیے) اپنے سر اور چہرے پر ڈال دیتے۔ پھر ایک چور نے ہم پر بڑا ظلم کیا کہ وہ ہمارے سامان کے ساتھ اسے بھی چوری کر کے لے گیا۔ پیالہ کی چوری کے بعد حضرت عمر ہمارے پاس آئے اور حسبِ دستور پیالہ کا مطالبہ کیا۔ ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین! وہ پیالہ تو ہمارے سامان کے ساتھ چوری ہوگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا: وہ چور تو بڑا سمجھ دار ہے جو حضورﷺ کا پیالہ چرا کر لے گیا۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت عمرؓ نے نہ تو چور کو برا بھلا کہا اور نہ اس پر لعنت بھیجی۔1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عیینہ بن حصن بن (حذیفہ بن) بدرؓ (مدینہ) آئے اور وہ اپنے بھتیجے حضرت حُر بن قیسؓ کے ہاں ٹھہرے۔ حضرت حُر ان لوگوں میں سے تھے جنھیں حضرت عمرؓ اپنے قریب رکھتے تھے، اور عبادت گذار عُلَما ہی حضرت عمر کی مجلسِ شوریٰ میں ہوتے تھے چاہے وہ جوان ہوتے یا عمررسیدہ۔ حضرت عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا: اے میرے بھتیجے! تمھیں امیر المؤمنین کے ہاں بڑا درجہ حاصل ہے، تم ان سے میرے لیے آنے کی اجازت حاصل کرو۔ انھوں نے جا کر اپنے چچا کے لیے حضرت عمر سے اجازت مانگی، حضرت عمر نے اجازت دے دی۔ جب وہ حضرت عمر کے پاس گئے تو ان سے یہ کہا: اے ابنِ خطّاب! دیکھو، اللہ کی قسم! آپ ہمیں زیادہ نہیں دیتے ہیں اور ہمارے درمیان عد ل کا فیصلہ نہیں کرتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر کو غصہ آگیا اور حضرت عیینہ کو سزا دینے کا ارادہ فرما لیا۔ حضرت حُر نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا:
{خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ o}2
سرسری برتاؤ کو قبول کر لیا کیجیے اور نیک کام کی تعلیم کر دیا کیجیے اور جاہلوں سے ایک کنارہ ہو جایا کیجیے۔
اور یہ بھی ان جاہلوں میں سے ہے (اس لیے آپ ان کی اس بات سے کنارہ کرلیں)۔ جب حضرت حُر نے یہ آیت پڑ ھی تو اللہ کی قسم! حضرت عمر وہیں رک گئے (اور سزا دینے کا ارادہ چھوڑ دیا)۔ اور حضرت عمر کی یہ بہت بڑی صفت تھی کہ وہ کسی کام کا ارادہ کر لیتے پھر انھیں بتا یا جاتا کہ اللہ کی کتاب اس کام سے روک رہی ہے تو فوراً اس ارادہ کو چھوڑ دیتے اور ایک دم رک جاتے۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: میں نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ جب بھی حضرت عمرؓ کو کسی بات پر غصہ آیا، پھر کسی نے ان کے سامنے اللہ کا نام لے لیا یا انھیں آخرت کی پکڑ سے ڈرایا یا ان کے سامنے قرآن کی آیت پڑھ دی، تو حضرت عمر غصہ میں جس کام کا ارادہ کر چکے ہوتے تھے اس سے ایک دم رک جایا کرتے تھے۔2
حضرت اسلم ؓکہتے ہیں کہ حضرت بلالؓ نے پوچھا: اے اسلم! تم لوگوں نے حضرت عمرؓکو کیسا پایا؟ میں نے کہا: بہت اچھا پایا، لیکن انھیں جب غصہ آجاتا ہے تو مسئلہ بڑا مشکل ہوجاتا ہے۔ حضرت بلال نے فرمایا: آیندہ اگر تمہاری موجودگی میں حضرت عمر کو غصہ آجائے تو تم ان کے سامنے قرآن پڑھنے لگ جانا، اِن شاء اللہ ان کا غصہ چلا جائے گا۔ حضرت مالک دار (حضرت عمرؓ کے غلام) کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر نے مجھے ڈانٹا اور مارنے کے لیے کوڑا اٹھا لیا۔ میں نے کہا: میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔ اس پر حضرت عمر نے وہ کوڑا نیچے رکھ دیا اور فرمایا: تم نے ایک بڑی ذات کا مجھے واسطہ دیا ہے۔3
حضرت عامربن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت مُصْعب بن عمیرؓ شروع سے میرے دوست تھے اور جس دن وہ اسلام لائے اس دن سے لے کر جنگِ اُحد میں شہادت پانے تک وہ میرے ساتھ رہے۔ وہ حبشہ کی دونوں ہجرتوں میں ہمارے ساتھ گئے تھے اور سارے قافلہ میں سے وہ میرے رفیقِ سفر رہے۔ میں نے کوئی آدمی ان سے زیادہ اچھے اخلاق والا اور مخالفت نہ کرنے والا نہیں دیکھا۔4
حضرت حَبَّہ بن جُوین ؓکہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علیؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے حضرت عبد اللہ (بن مسعودؓ) کی چند باتوں کا تذکرہ کیا اور لوگوں نے ان کی تعریف کی اور یوں کہا: اے امیر المؤمنین! ہم نے کوئی آدمی حضرت عبد اللہ بن مسعود سے زیادہ اچھے اخلاق والا اور ان سے زیادہ نرمی سے تعلیم دینے والا اور ہم نشین کے ساتھ ان سے زیادہ اچھا سلوک کرنے والا اور ان سے زیادہ تقویٰ اور احتیاط والا نہیں دیکھا۔ حضرت علی نے فرمایا: میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ تم یہ تمام باتیں سچے دل سے کہہ رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرت علی نے فرمایا: اے اللہ! میں تجھے اس بات پر گواہ بناتا ہوں کہ میں بھی ان کے بارے میں وہ تمام باتیں کہتا ہوں جو ان لوگوں نے کہی ہیں، بلکہ میں تو ان سے زیادہ کہتا ہوں۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت علی نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت ابنِ مسعود نے قرآن پڑھا اور اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرا م کو حرام سمجھا (یعنی حلال کو اختیار کیا اور حرام کو چھوڑ دیا)۔ وہ دین کے بہت بڑے فقیہ اور سنتِ نبوی کے زبردست عالم تھے۔1
حضرت سالم ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے کبھی کسی خادم کو لعنت نہیں کی، بس ایک مرتبہ ایک خادم کو لعنت کی تھی تو اسے آزاد کر دیا تھا۔ حضرت زہری ؓکہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابنِ عمرنے اپنے خادم کو لعنت کرنے کا ارادہ کیا ابھی اتنا ہی کہا تھا: اے اللہ! اس پر لَعْ کہہ کر رک گئے اور لفظ پورا نہ کیا اور فرمایا: میں اس لفظ کو زبان سے کہنا نہیں چاہتا۔2
اور صحابۂ کرامؓ کے مال خرچ کرنے کے شوق کے عنوا ن کے ذیل میں یہ حدیث گذر چکی ہے کہ حضرت معاذبن جبلؓ لوگوں میں سب سے زیادہ خوب صورت چہرے والے، سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے اور سب سے زیادہ کھلے ہاتھ والے یعنی سخی تھے۔3