نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق

نبی کریمﷺ کی شفقت

حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: میں بعض دفعہ نماز شروع کرتا ہوں اور میرا خیال یہ ہوتا ہے کہ میں نماز ذرا لمبی پڑھاؤں گا، لیکن میں نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو نماز کو مختصر کر دیتا ہوں، کیوںکہ مجھے پتا ہے کہ بچہ کے رونے سے اس کی ماں پریشان ہو گی۔1 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ سے پوچھا کہ میرا باپ کہاں ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: دوزخ میں۔ جب حضورﷺ نے اس جواب پر اس کے چہرے پر ناگواری کا اثر دیکھا تو فرمایا: میرا باپ اور تیرا باپ دونوں دوزخ میں ہیں۔ (بہتر یہی ہے کہ حضورﷺ کے والدین کے جنتی یا دوزخی ہونے کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے کیوںکہ بعض روایات میں ان کے جنتی ہونے کا ذکر ہے اور بعض روایات میں یہ ہے کہ قیامت کے دن ان کا امتحان لیا جائے گا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں)۔2 حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضورﷺ کی خدمت میں خون بہا ادا کرنے میں مدد لینے آیا۔ حضورﷺ نے اسے کچھ دے دیا۔ پھر حضورﷺ نے اس سے پوچھا: کیا میں نے تم پر احسان کر دیا؟ اس دیہاتی نے کہا: نہ آپ نے احسان کیا اور نہ اچھا سلوک کیا۔ کچھ مسلمانوں کو اس کی اس بات پر غصہ آگیا اور انھوں نے کھڑ ے ہو کر اسے مارنا چاہا تو حضورﷺ نے انھیں اشارہ سے فرمایا کہ رک جاؤ۔ جب حضورﷺ وہاں سے کھڑے ہو کر اپنے گھر پہنچے تو اس دیہاتی کو گھر بلا کر فرمایا: تم ہمارے پا س کچھ لینے آئے تھے ہم نے تم کو (وہاں صحابہ کے سامنے) کچھ دیا جس پر تم نے کچھ نازیبا بات کہہ دی۔ اس کے بعد حضورﷺ نے اس دیہاتی کو کچھ اور دیا اور اس سے پوچھا: اب تو میں نے تم پر احسان کر دیا؟ اس دیہاتی نے کہا: ہاں، اللہ تعالیٰ آپ کو میرے گھر والوں اور میرے خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم ہمارے پاس آئے تھے اور تم نے مانگا ہم نے تمھیں کچھ دیا لیکن تم نے اس پر نامناسب بات کہہ دی، جس کی وجہ سے میرے صحابہ کے دل میں تمہارے اوپر غصہ آگیا، لہٰذا اب تم ان کے پاس جا کر ان کے سامنے وہ بات کہہ دینا جو تم نے اب میرے سامنے کہی ہے تاکہ ان کا غصہ جاتا رہے۔ اس نے کہا: بہت اچھا۔ چناںچہ جب وہ دیہاتی صحابہ کے پاس واپس پہنچا تو حضورﷺ نے فرمایا: تمہارا یہ ساتھی ہمارے پاس آیا تھا اور اس نے کچھ مانگا تھا جس پر ہم نے اسے کچھ دیا تھا، لیکن اس پر اس نے نامناسب بات کہی تھی۔ اب ہم نے اسے گھر بلا کر کچھ اور دیا ہے جس پر اس نے کہا کہ اب وہ راضی ہوگیا ہے۔ کیوںاے دیہاتی! بات ایسے ہی ہے نا؟ اس دیہاتی نے کہا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ آپ کو میرے گھر والوں اور میرے خاندان کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: میری اور اس دیہاتی کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کی ایک اونٹنی تھی جو بدک گئی۔ لوگ اس کے پیچھے لگ گئے اس سے وہ اور زیادہ بھاگنے لگی۔ اونٹنی والے نے لوگوں سے کہا: تم لوگ اس کا پیچھا چھوڑ دو میں اسے خود پکڑ لوں گا، میں اس کے مزاج وعادت کو خوب جانتا ہوں، میں نرمی کر کے اسے پکڑ لوں گا۔ چناںچہ وہ اونٹنی کی طرف چل پڑا اور زمین پر پڑا ہوا کھجور کا بے کار خوشہ لے کر اسے بلاتا رہا یہاں تک کہ وہ آگئی اور مان گئی۔ آخر اس نے اس پر کجاوہ کسا اور اس پر بیٹھ گیا۔ اس نے پہلے جو بات کہی تھی اس پر اگر میں تمہاری بات مان کر اسے سزا دے دیتا تو یہ دوزخ میں داخل ہو جاتا۔1