نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق
نبی کریم ﷺ کی حیا
حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں: کنواری لڑکی اپنے پردے میں جتنی شرم و حیا والی ہوتی ہے حضور ﷺ اس سے زیادہ حیا والے تھے۔ اور جب حضورﷺ کو کوئی بات ناگوار ہوتی تھی تو آپ کے چہرے سے اس ناگواری کا صاف پتا چل جاتا تھا۔1
حضرت انس ؓ سے بھی ایسی حدیث منقول ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ حیا تو ساری کی ساری خیر ہی خیر ہے۔2
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی پر زرد رنگ دیکھا جو آپ کو برا محسوس ہوا۔ جب وہ آدمی اُٹھ کر چلا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم لوگ اسے یہ کہہ دو کہ وہ یہ زرد رنگ دھو ڈالے تو بہت اچھا ہو۔ آپ کی اکثر عادتِ شریفہ یہ تھی کہ جب کسی کی کوئی چیز ناگوار ہوتی تھی تو آپ اس آدمی کے منہ پر براہِ راست نہ کہا کرتے۔3
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: جب حضورﷺ کو کسی آدمی کے کسی عیب کی خبر پہنچتی تو اس آدمی کا نام لے کر یوں نہ فرماتے کہ فلاں کو کیا ہوگیا کہ وہ یوں کہتا ہے، بلکہ یوں فرماتے کہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ یوں اور یوں کہتے ہیں۔4
حضرت عائشہؓ کے آزادکردہ ایک غلام کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ میں نے (حیا کی وجہ سے) حضورﷺ کی شرم کی جگہ کبھی نہیں دیکھی۔5