نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق
حضورﷺ کی تواضع
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ اُتر رہا ہے، تو انھوں نے کہا: جب سے یہ فرشتہ پیدا ہوا ہے اس وقت سے اب تک یہ زمین پر کبھی نہیں اُترا۔ جب وہ فرشتہ زمین پر اُتر گیا تو اس نے کہا: اے محمد! آپ کے رب نے مجھے آپ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ آپ کو بادشاہ اور نبی بناؤں یا بندہ اور رسول؟ حضرت جبرائیل نے کہا: اے محمد! آپ اپنے رب کے سامنے تواضع اختیار کریں۔ تو حضورﷺ نے فرمایا: میں بندہ اور رسول بننا چاہتا ہوں۔1
حضرت عائشہؓ اس حدیث کو بیان کر کے آخر میں فرماتی ہیں کہ اس کے بعد حضور ﷺ نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھایا، بلکہ فرماتے تھے کہ میں ایسے کھاتا ہوں جیسے غلام کھاتا ہے اور ایسے بیٹھتا ہوں جیسے غلام بیٹھتا ہے۔2
مال واپس کرنے کے باب میں طبرانی وغیرہ کی روایت سے حضرت ابنِ عباس ؓ کی اسی کے ہم معنی حدیث گزر چکی ہے۔
حضرت ابو غالب ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو اُمامہ ؓ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمیں ایسی حدیث سنائیں جو آپ نے حضورﷺ سے سنی ہو۔ فرمایا: حضورﷺکی ساری گفتگو قرآن (کے مطابق) ہوتی تھی، آپ اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے تھے اور بیان مختصر کرتے تھے، نماز لمبی پڑھتے تھے۔ آپ ناک نہیں چڑھاتے تھے اور اس سے تکبر محسوس نہیں فرماتے تھے کہ مسکین اور کمزور آدمی کے ساتھ جا کر اس کی ضرورت پوری کر کے ہی آئیں۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے تھے اور لغو اور بے کار بات با لکل نہ فرماتے تھے۔ گدھے پر سوار ہو جاتے تھے اور اُون کا کپڑا پہن لیتے تھے اور غلام کی دعوت قبول فرما لیتے تھے۔ اور اگر تم غزوۂ خیبر کے دن حضور ﷺ کو دیکھتے کہ گدھے پر سوار ہیں جس کی لگام کھجور کی چھال کی بنی ہوئی تھی تو عجیب منظر دیکھتے۔
’’ترمذی‘‘ میں حضرت انس ؓ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ بیمار کی عیادت فرماتے تھے اور جنازہ میں شرکت فرماتے تھے۔2
حضرت ابو موسیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ گدھے پر سوار ہوتے تھے اور اُون پہنتے تھے اور بکری کی ٹانگوں کو قابو کر کے اس کا دودھ نکالتے اور مہمان کی خاطر مدارات خود کرتے۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ زمین پر بیٹھا کرتے تھے، زمین پر کھایا کرتے تھے اور بکری کی ٹانگ باندھ کر دودھ نکالا کرتے تھے اور کوئی غلام جَو کی روٹی کی دعوت کیا کرتا تو اسے بھی قبول فرما لیا کرتے تھے۔4
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (مدینہ سے باہر کی آبادی) عوالی کا کوئی آدمی حضورﷺ کو آدھی رات کے وقت جو کی روٹی پر بلاتا تو بھی آپ اسے قبول فرما لیتے۔5
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کو کوئی آدمی جَو کی روٹی اور بدذائقہ چربی کی دعوت دیتا تو آپ اسے قبول فرما لیا کرتے۔ (اور اپنا سب کچھ دوسروں پر خرچ کرنے کا یہ عالم تھا کہ) آپ کی ایک زِرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی، اور انتقال تک آپ کے پاس اتنا مال جمع نہ ہوسکا کہ جسے دے کر آپ اس زِرہ کو یہودی سے چھڑا لیتے۔1
حضرت عمر بن خطّاب ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کو تین مرتبہ آواز دی، حضور ﷺ ہرمرتبہ جواب میں لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ فرماتے۔2
حضرت ابو اُمامہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت مردوں سے بے حیائی کی باتیں کیا کرتی تھی، اور بہت بے باک اور بد کلام تھی۔ ایک مرتبہ وہ حضورﷺ کے پاس سے گزری، حضورﷺ ایک اونچی جگہ پر بیٹھے ہوئے ثرید کھا رہے تھے۔ اس پر اس عورت نے کہا: انھیں دیکھو ایسے بیٹھے ہوئے ہیں جیسے غلام بیٹھتا ہے، ایسے کھا رہے ہیں جیسے غلام کھاتا ہے۔ یہ سن کر حضورﷺ نے فرمایا: کون سا بندہ مجھ سے زیادہ بندگی اختیار کرنے والا ہوگا؟ پھر اس عورت نے کہا: یہ خود کھا رہے ہیں اور مجھے نہیں کھلا رہے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تُوبھی کھالے۔ اس نے کہا: مجھے اپنے ہاتھ سے عطا فرمائیں۔ حضورﷺ نے اسے دیا تو اس نے کہا: جو آپ کے منہ میں ہے اس میں سے دیں۔ حضور ﷺ نے اس میں سے دیا جسے اس نے کھا لیا۔ (اس کھانے کی برکت سے) اس پر شرم و حیا غالب آگئی اور اس کے بعد اس نے اپنے انتقال تک کسی سے بے حیائی کی کوئی بات نہ کی۔3
حضرت جریر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سامنے سے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس پر کپکپی طاری ہوگئی۔ حضورﷺ نے فرمایا: تسلی رکھو، میں بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو قریش کی ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا ہوا گوشت بھی کھا لیا کرتی تھی۔4
حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی فتحِ مکہ کے دن حضورﷺ سے بات کرنے لگا تو اس پر کپکپی طاری ہوگئی۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ہے۔1
حضرت عامر بن ربیعہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا۔ آپ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا۔میںنے ٹھیک کرنے کے لیے حضورﷺکی جوتی لے لی۔ حضور ﷺ نے میرے ہاتھ سے جوتی لے کر فرمایا: تسمہ تو میرا ٹوٹا اور ٹھیک تم کرو، اس سے فوقیت نظر آتی ہے اور میں دوسروں پر اپنی فوقیت پسند نہیں کرتا (بلکہ میں تو سب کے برابر بن کر رہنا چاہتا ہوں)۔2
حضرت عبد اللہ بن جبیر خُزاعی ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ اپنے چند صحابہ ؓ کے ساتھ جارہے تھے، کسی نے کپڑے سے آپ پر سایہ کر دیا۔ جب آپ کو زمین پر سایہ نظر آیا تو آپ نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک صاحب چادر سے آپ پر سایہ کر رہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: رہنے دو۔ اور کپڑا اس سے لے کر رکھ دیا اور فرمایا: میں بھی تم جیسا آدمی ہوں (اپنے لیے امتیازی سلوک نہیں چاہتا)۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس ؓ نے فرمایا: میں نے دل میں کہا: معلوم نہیں حضورﷺ مزید اور کب تک ہم میں رہیں گے؟ یہ معلوم کرنے کے لیے میں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ سایہ کے لیے ایک چھپّر بنالیں تو بہت اچھا ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں تو لوگوں میں ایسے گھل مل کر رہنا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ میری ایڑیاں روندتے رہیں اور میری چادر کھینچتے رہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ (دنیا سے اٹھا کر) مجھے ان لوگوں سے راحت دے (میں اپنے لیے الگ جگہ بنانا نہیں چاہتا)۔4
حضرت عکرمہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عباسؓ نے فرمایا کہ میں پتا چلاؤں گا کہ حضور ﷺ ہم میں اور کتنا رہیں گے۔ تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیکھ رہا ہوں کہ عام لوگوں کے ساتھ رہنے سے آپ کو تکلیف ہوتی ہے، ان کا سارا گردو غبار آپ پر آجاتا ہے، اس لیے اگر آپ اپنے لیے ایک تخت بنالیں جس پر بیٹھ کر آپ لوگوں سے بات کیا کریں تو یہ بہتر ہوگا۔ حضورﷺ نے وہی جواب دیا جو پچھلی حدیث میں گزر گیا۔ حضرت عباس کہتے ہیں کہ آپ کے اس جواب سے میں سمجھ گیا کہ اب آپ ہم میں تھوڑا عرصہ ہی رہیں گے۔1
حضرت اسود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ جب نبی کریم ﷺ گھر تشریف لاتے تو کیا کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ گھر والوں کے کام کاج میں لگ جاتے، اور جب نماز کا وقت آجاتا تو باہر تشریف لے جاتے اور نماز پڑھاتے۔ 2
حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ کیا حضور ﷺ اپنے گھر میں کچھ کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: ہاں، حضورﷺ اپنی جوتی خود گانٹھ لیا کرتے اور اپنے کپڑے سی لیا کرتے۔ آپ گھر میں اسی طرح کام کیا کرتے جس طرح آپ لوگ کرتے ہیں۔
حضرت عمرہؓ کہتی ہیں: میں نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ حضورﷺ اپنے گھر میں کیا کیا کرتے تھے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: حضور ﷺ بھی انسا ن ہی تھے تو اور انسانوں کی طرح آپ اپنے کپڑوں میں سے (شبہ کی وجہ سے) جوئیں نکال لیتے تھے اور اپنی بکری کا دودھ نکالتے تھے اور اپنے کام خود کیا کرتے تھے۔3
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اپنے وضو کا پانی کسی کے سپرد نہ فرماتے (بلکہ خود اس سے وضو فرماتے) اور جب آپ کوئی صدقہ دینا چاہتے تو خود دیتے۔4
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے، آپ نہ خچر پر سوار تھے اور نہ ترکی گھوڑے پر (بلکہ پیدل تشریف لائے تھے)۔5
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے پرانے کجاوے پر حج فرمایا اور کجاوے پر ایک چادر تھی جس کی قیمت چار درہم بھی نہیں تھی، اس کے باوجود آپ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! مجھے ایسے حج کی توفیق عطا فرما جس میں نہ ریا ہو اور نہ شہرت۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ مکہ میں (فاتحانہ) داخل ہوئے تو لوگ اونچی جگہوں پر چڑھ کر حضورﷺ کو دیکھ رہے تھے، لیکن تواضع اور عاجزی کی وجہ سے آپ کا سر کجاوے کو لگا ہوا تھا۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے دن جب حضورﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے تو آپ کی ٹھوڑی تواضع کی وجہ سے کجاوے پر تھی۔3
حضرت عبد اللہ بن ابی بکر ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ ذی طُویٰ مقام پر پہنچے تو اپنی سواری پر کھڑے ہوگئے، اس وقت آپ نے سرخ یمنی دھاری دار چادر سر پر باندھی ہوئی تھی اور اس کا ایک کنارہ منہ پر ڈالا ہوا تھا۔ جب حضورﷺ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فتحِ مکہ سے سرفراز فرمایا ہے تو حضورﷺ نے اللہ کے سامنے عاجزی ظاہر کرنے کے لیے اپنا سر جھکا لیا یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھی کجاوے کے درمیانی حصے کو لگ رہی تھی۔4
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضورﷺ کے ساتھ بازار گیا۔ حضور ﷺ کپڑا بیچنے والوں کے پاس بیٹھ گئے اور چار درہم میں ایک شلوار خریدی۔ بازار والوں نے ایک (سونا چاندی) تولنے والا رکھا ہوا تھا، حضورﷺ نے اس سے فرمایا: تولو اور جھکتا ہوا تولو۔ حضور ﷺ نے وہ شلوار لے لی۔ میں نے حضورﷺ سے شلوار لے کر اٹھانی چاہی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: چیز کا مالک خود اسے اٹھانے کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، ہاں اگر وہ مالک اتنا کمزور ہو کہ اپنی چیز کو اُٹھا نہ سکتا ہو تو پھر اس کا مسلمان بھائی اس کی مدد کر دے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ یہ شلوار پہنیں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: ہاں دن رات سفر و حضر میں پہنوں گا، کیوںکہ مجھے ستر ڈھانکنے کا حکم دیا گیا ہے اور مجھے اس سے زیادہ ستر ڈھانکنے والی کوئی چیز نہ ملی۔1
دوسری روایت میں حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے تولنے والے سے فرمایا: تولو اور جھکتا ہوا تولو۔ اس تولنے والے نے کہا: میں نے یہ بات کسی اور سے نہیں سنی۔ میں نے اسے کہا کہ تیرے ہلاک ہونے اور تیرے دین کے بگاڑ کے لیے یہ کافی ہے کہ تو اپنے نبی کو نہیں پہچانتا۔ یہ سن کر اس نے ترازو وہیں پھینکی اور کود کر اٹھا اور حضورﷺ کے ہاتھ کو لے کر اسے بوسہ دینا چاہا۔ حضورﷺ نے اس سے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا اور فرمایا: یہ کیا ہے؟ ایسے تو عجم کے لوگ اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں اور میں تو بادشاہ نہیں ہوں، میں تو آپ لوگوں میں سے ہی ایک آدمی ہوں۔ چناںچہ اس نے جھکتا ہوا تولا اور اپنے تولنے کی اُجرت لی۔2