نبی کریمﷺ اور صحابہؓ کے اخلاق

حضورﷺ کا مزاح

حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہم سے مذاق بھی فرمالیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، مگر میں کبھی غلط بات نہیں کہتا۔1 ایک آدمی نے حضرت ابنِ عباس ؓ سے پوچھا کہ کیا حضورﷺ مزاح فرمایا کرتے تھے؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: ہاں۔ اس آدمی نے کہا: آپ کا مزاح کیسا ہوتا تھا؟ حضرت ابنِ عباس نے حضورﷺ کے مزاح کا یہ قصہ سنایاکہ حضورﷺ نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کو کھلا کپڑا پہننے کو دیا اور فرمایا: اسے پہن لو اور اللہ کا شکر ادا کرو اور نئی دلہن کی طرح اس کا دامن گھسیٹ کر چلو۔2 حضرت انسؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے اخلاق تمام لوگوںسے عمدہ تھے۔ میرا ایک بھائی ابو عمیرنامی تھاجو دودھ چھوڑ چکا تھا۔ جب حضورﷺ ہمارے ہاں تشریف لاتے اور اسے دیکھ لیتے تو فرماتے: اے ابو عمیر! تمہارے نُغَیْر(یعنی لال چڑیا یا بلبل) کا کیا ہوا؟ نُغَیْرپرندے کے ساتھ ابو عمیرکھیلا کرتا تھا۔ بعض دفعہ نماز کا وقت آتا اور آپ ہمارے گھر میں ہوتے تو آپ ارشاد فرماتے کہ میرے نیچے جو بچھونا ہے اسے جھاڑو اور اس پر پانی چھڑکو۔ ہم ایسے ہی کرتے۔ پھر حضورﷺ کھڑے ہو جاتے ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہو جاتے، آپ ہمیں نفل نماز پڑھاتے۔ وہ بچھوناکھجور کے پتوں کا بنا ہوا تھا۔3 دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ ہم لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے حتیٰ کہ آپ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: اے ابو عمیر! نُغیر پرندے کا کیا بنا؟ 4 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ حضرت ابو طلحہ ؓ کے ہاں تشریف لے گئے تو ان کے ایک بیٹے کو بڑا غمگین دیکھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی۔ حضورﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ جب ابو عمیر کو دیکھا کرتے تو اس سے مزاح فرمایاکرتے۔ چناںچہ حضورﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے، ابو عمیر غمگین نظر آرہا ہے؟ گھر والوں نے بتایاکہ اس کا نُغَیْر پرندہ مر گیا ہے جس سے یہ کھیلا کرتا تھا۔ اس پر حضورﷺ اسے (دل لگی کے لیے) فرمانے لگے: اے ابو عمیر! نُغَیْر پرندے کا کیا بنا؟1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضورﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے حضورﷺ سے اپنے لیے سواری مانگی تو حضورﷺ نے فرمایا: ہم تمھیں اونٹنی کا بچہ دیں گے۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا (مجھے تو سواری کے لیے جانور چاہیے وہ بچہ تو سواری کے کام نہیں آسکے گا)۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہر اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوتا ہے۔2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے ایک دفعہ مجھے از راہ مزاح فرمایا: او، دو کان والے!3 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ دیہات کے رہنے والے ایک آدمی کا نام زاہر تھا۔ وہ گاؤں سے حضورﷺ کے لیے (سبزی، ترکاری وغیرہ) ہدیہ لایا کرتے، اور جب یہ واپس جانے لگتے تو حضورﷺ انھیں شہر کی چیزیں دے دیا کرتے۔ اورحضورﷺ فرماتے : زاہر ہمارا دیہات ہے اور ہم اس کا شہر ہیں۔ حضورﷺ کو ان سے بڑی محبت تھی، لیکن تھے یہ بدصورت۔ ایک مرتبہ حضرت زاہر اپنا سامان بیچ رہے تھے، حضورﷺ نے پیچھے سے جاکر ان کی کولی ایسی طرح بھری کہ وہ حضورﷺ کو دیکھ نہ سکیں، یعنی ان کی کمر اپنے سینے سے لگا کر ان کی بغلوںکے نیچے سے دونوں ہاتھ لے جا کر ان کی آنکھوں پر رکھ دیے۔ حضرت زاہر نے کہا: مجھے چھوڑو، یہ کون ہے؟ پھر پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضورﷺ کو پہچان لیا اور اپنی پیٹھ حضورﷺ کے سینے سے اچھی طرح چمٹانے لگے اور حضورﷺ بطورِ مزاح فرمانے لگے: اس غلام کو کون خریدے گا؟ حضرت زاہر نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ مجھے بیچیں گے تو مجھے کھوٹا اور کم قیمت پائیں گے۔ حضورﷺ نے فرمایا: لیکن تم اللہ کے نزدیک کھوٹے اور کم قیمت نہیں ہو، بلکہ اللہ کے ہاں تمہاری بڑی قیمت ہے۔1 حضرت نعمان بن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر ؓ نے حضورﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضرت ابو بکر نے سنا کہ حضرت عائشہؓ کی آواز حضور ﷺ سے اونچی ہو رہی ہے۔ انھوں نے اندر جا کر تھپڑ مارنے کے لیے حضرت عائشہ کو پکڑا اور فرمایا: تم اپنی آواز اللہ کے رسول سے اونچی کر رہی ہو؟ حضورﷺ حضرت ابو بکر کو روکنے لگے۔حضرت ابوبکر اسی غصہ میں واپس چلے گئے۔ جب حضرت ابو بکر چلے گئے تو حضورﷺ نے فرمایا: دیکھا، میں نے تمھیں کیسے اس آدمی سے چھڑا لیا۔ چند دن کے بعد پھر حضرت ابوبکر نے حضورﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی (اجازت ملنے پر اندر گئے) تو دیکھا کہ دونوں میں یعنی حضورﷺ اور عائشہ میں صلح ہو چکی ہے۔ اس پر حضرت ابو بکر نے عرض کیا: جیسے آپ دونوں نے اپنی لڑائی میں شریک کیا تھا ایسے ہی اپنی صلح میں بھی مجھے شریک کرلیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: ہم نے تمھیں شریک کرلیا، تمھیں شریک کرلیا۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ میں حضورﷺ کے ساتھ سفر میں گئی۔ میں اس وقت نو عمر تھی، میرے جسم پر گوشت بھی کم تھا اور میرا بدن بھاری نہیں تھا۔ حضورﷺ نے لوگوں سے کہا: آپ لوگ آگے چلے جائیں۔ چناںچہ سب چلے گئے تو مجھ سے فرمایا: آؤ، میں تم سے دوڑ میں مقابلہ کروں۔ چناںچہ ہم دونوں میں مقابلہ ہوا تو میں حضورﷺ سے آگے نکل گئی اور حضورﷺ خاموش رہے۔ پھر میرے جسم پر گوشت زیادہ ہوگیا اور میرا بدن بھاری ہوگیا اور میں پہلے قصہ کو بھول گئی تو پھر میں آپ کے ساتھ سفر میں گئی۔ آپ نے لوگوں سے کہا: آگے چلے جاؤ۔ لوگ آگے چلے گئے۔ پھر مجھ سے فرمایا: آؤ، میں تم سے دوڑ میں مقابلہ کروں۔ چناںچہ ہم دونوں میں مقابلہ ہوا تو حضورﷺ مجھ سے آگے نکل گئے۔ حضورﷺ ہنسنے لگے اور فرمایا: یہ پہلی دوڑ کے بدلے میں ہے (اب معاملہ برابر ہوگیا)۔1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ سفر میں چل رہے تھے۔ ایک حُدِی خواں (حُدِیْ ان اَشعار کو کہا جاتا ہے جنھیں پڑھنے سے اُونٹ تیز چلنے لگتے ہیں) حضور ﷺ کی ازواجِ مطہّراتؓ کے اونٹوں کو حُدِی پڑھ کر آگے سے چلا رہا تھا اور یہ ازواجِ مطہّرات حضورﷺ سے آگے جا رہی تھیں۔ حضورﷺ نے (حُدِی خواںکو) فرمایا: اے اَنْجشہ! تیرا بھلا ہو، ان کانچ کی شیشیوں کے ساتھ نرمی کرو (اونٹوں کو زیادہ تیز نہ چلاؤ)۔2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ اپنی بعض بیویوں کے پاس آئے۔ ان ازواجِ مطہّراتؓ کے ساتھ حضرت اُمّ سلیم ؓ بھی تھیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اَنْجشہ! ان شیشیوں کو آہستہ لے کر چلو (اونٹ زیادہ حُدِی سن کر مستی میں آگئے تو یہ عورتیں گر جائیں گی یا حدی کے اشعار سے ان کے دل چکنا چور ہو جائیں گے)۔ حضرت ابو قلابہ کہتے ہیں: حضور ﷺ نے ایسی بات ارشاد فرمائی ہے اگر تم میں سے کوئی یہ بات کہتا تو تم اسے عیب کی بات سمجھتے اور وہ بات یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: ان شیشیوں کو آہستہ لے کر چلو۔3 حضرت حسن ؓ فرماتے ہیں: ایک بوڑھی عورت نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ دعا فرمائیںکہ اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ نے فرمایا: اے اُمّ فلاں! جنت میں کوئی بوڑھی عورت نہیں جائے گی۔ وہ عورت روتے ہوئے واپس جانے لگی تو آپ نے فرمایا: اسے بتا دو کہ وہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہیں ہوگی (بلکہ جوان کنواری بن کر جنت میں جائے گی) کیوںکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {اِنَّا اَنْشَاْنٰھُنَّ اِنْشَآئً o فَجَعَلْنٰھُنَّ اَبْکَارًا o}1 ہم نے (وہاں کی) ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں۔2