گفتگو

حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی گفتگو

حضرت جابرؓ یا حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کی گفتگو واضح حروف کے ساتھ ہوتی تھی یا ہر ہر لفظ جدا ہوتا تھا اور اس میں عجلت نہیں پائی جاتی تھی۔ امام احمد اور بخاری حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ جب کوئی اہم بات فرماتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے۔ اور جب کسی قوم کے پاس جا کر سلام کرتے تو تین مرتبہ کرتے۔ امام احمد حضرت ثمامہ بن انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس ؓ جب کوئی بات کرتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے۔ اور وہ یہ بتایا کرتے کہ نبی کریم ﷺ بھی جب کوئی (اہم) بات فرماتے تو اسے تین مرتبہ دہراتے اور اجازت بھی تین مرتبہ لیتے۔ ’’ترمذی‘‘ میں حضرت ثمامہ بن انس ؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ کوئی (اہم) بات فرماتے تو اسے تین دفعہ دہراتے تاکہ اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔1 امام احمد اور بخاری حضرت ابو ہریرہؓ سے یہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ مجھے جامع کلمات دے کر بھیجا گیا ہے (جن کے الفاظ تھوڑے اور معانی زیادہ ہیں) اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔ ایک مرتبہ میں سو رہا تھا تو زمین کے خزانوں کی چابیاں مجھے دی گئیں اور میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ حضرت عبد اللہ بن سلامؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ بیٹھے ہوئے گفتگو فرما رہے ہوتے تو (اللہ تعالیٰ کی محبت اور وحی کے انتظار میں) بار بار نگاہ آسمان کی طرف اُٹھاتے۔2 حضرت عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ قوم کے بدترین شخص کی طرف بھی تالیفِ قلب کے خیال سے پوری طرح متوجہ ہو کر بات فرماتے (جس کی وجہ سے اس کو اپنی خصوصیت کا خیال ہو جاتا تھا)۔ چناںچہ خود میری طرف بھی حضورﷺ کی توجہاتِ عالیہ اور کلام کا رخ بہت زیادہ رہتا تھا حتیٰ کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ میں قوم کا بہترین شخص ہوں، اسی وجہ سے حضورﷺ سب سے زیادہ توجہ فرماتے ہیں۔ میں نے اسی خیال سے ایک دن دریافت کیا کہ یارسول اللہ! میں افضل ہوں یا ابو بکرؓ؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ابوبکر۔ پھر میں نے پوچھا کہ میںافضل ہوں یا عمرؓ؟ حضورﷺ نے فرمایا: عمر۔ پھر میں نے پوچھا کہ میںافضل ہوں یا عثمانؓ؟ حضورﷺ نے فرمایا: عثمان۔ جب میں نے حضورﷺ سے صاف صاف پوچھا تو حضورﷺ نے بلا رعایت صحیح صحیح بتا دیا (میری رعایت میں مجھے افضل نہیں فرمایا۔ مجھے اپنی اس حرکت پر بعد میں ندامت ہوئی) اور بڑی تمنا ہوئی کہ کاش! میں حضور ﷺ سے یہ بات نہ پوچھتا۔1