نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ

نبی کریمﷺ کا حضرت خدیجہؓ سے نکاح

حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت خدیجہؓ (سے شادی) کا تذکرہ کیا اور حضرت خدیجہ کے والد حضورﷺ سے حضرت خدیجہ کی شادی پر راضی نہ تھے۔ حضرت خدیجہ نے کھانے اور پینے کا انتظام کیا، اور اپنے والد اور قریش کے چند آدمیوں کو بلایا۔ چناںچہ ان لوگوں نے (آکر) کھانا کھایا اور شراب پی یہاں تک سب نشہ میں چور ہوگئے، تو حضرت خدیجہ نے کہا: حضرت محمد بن عبد اﷲ مجھے نکاح کا پیغام دے رہے ہیں آپ ان سے میری شادی کر دیں۔ انھوں نے حضورﷺ سے حضرت خدیجہ کی شادی کر دی۔ اس پر حضرت خدیجہ نے اپنے والد کو خلوق خوش بو لگائی اور انھیں جوڑا پہنایا۔ اس زمانے میں شادی کے موقع پر والد کے ساتھ ایسا کرنے کا دستور تھا۔ جب ان کا نشہ اُترا تو انھوں نے دیکھا کہ انھوں نے خلوق خوش بو لگا رکھی ہے اور جوڑا پہن رکھا ہے، تو انھوں نے کہا: مجھے کیا ہوا؟ یہ کیا ہے؟ حضرت خدیجہ نے کہا: آپ نے حضرت محمد بن عبد اﷲ سے میری شادی کر دی ہے؟ انھوں نے کہا: کیا میں نے ابو طالب کے یتیم سے شادی کر دی ہے؟ نہیں نہیں، میری زندگی کی قسم! نہیں۔ حضرت خدیجہ نے کہا: آپ کو شرم آنی چاہیے۔ آپ اپنے آپ کو قریش کی نگاہ میں بے وقوف ثابت کرنا چاہتے ہیں لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ نشہ میں تھے؟ چناںچہ وہ اپنے والد کو سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئے۔1 حضرت نفیسہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت خدیجہ بنتِ خویلد ؓ بڑی سمجھ دار، دور اندیش، طاقت ور اور شریف خاتون تھیں۔ اﷲتعالیٰ نے بھی ان کے ساتھ اکرام اور خیر کا ارادہ فرما لیا۔ وہ اس وقت قریش میں سب سے افضل خاندان والی اور سب سے زیادہ شرافت والی اور سب سے زیادہ مال دار تھیں۔ ان کی قوم کا ہر آدمی ان سے شادی کرنے کی تمنا رکھتا تھا اور ان سے شادی کے لیے بہت مال خرچ کرنے کے لیے تیار تھا۔ جب حضرت محمدﷺ حضرت خدیجہ ؓ کا تجارتی قافلہ ملکِ شام سے لے کر واپس آئے تو حضرت خدیجہ نے مجھے حضورﷺ کی خدمت میں اندازہ لگانے کے لیے بھیجا۔ میں نے جا کر کہا: اے محمد! آپ شادی کیوں نہیں کرتے؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ شادی کرنے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں نے کہا: اگر شادی کے خرچ کا انتظام ہو جائے اور آپ کو خوب صورت، مال دار، شریف اور جوڑ کی عورت سے شادی کی دعوت دی جائے تو کیا آپ قبول نہیں کر لیں گے؟ حضورﷺ نے فرمایا: وہ عورت کون ہے؟ میں نے کہا: حضرت خدیجہ۔ حضورﷺ نے فرمایا: میری ان سے شادی کیسے ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا: اس کی میں ذمہ دار ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تو پھر میں تیار ہوں۔ میں نے جا کر حضرت خدیجہ کو بتایا تو انھوں نے حضورﷺ کو پیغام بھیجا کہ فلاں وقت تشریف لے آئیں اور اپنے چچا عمرو بن اسد کو پیغام بھیجا کہ وہ ان کی شادی کر دیں۔ تو وہ آگئے اور حضورﷺ بھی اپنے چچوں کے ساتھ تشریف لے آئے اورایک چچا نے حضورﷺ کی شادی کرا دی۔ عمرو بن اسد نے کہا: یہ ایسے جوڑ کے خاوند ہیں جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس شادی کے وقت حضورﷺ کی عمر پچیس سال تھی اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس تھی۔ وہ اصحابِ فیل کے واقعہ سے پندرہ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں۔2