نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ
حضورﷺ کا حضرت اُمّ سلمہ بنتِ ابی اُمیّہ ؓ سے نکاح
حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں: جب میری عدت پوری ہوگئی تو حضرت ابو بکر ؓ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا، میں نے انھیںانکار کر دیا۔ پھر حضورﷺ نے شادی کا پیغام دے کر ایک آدمی بھیجا، میں نے اس سے کہا: اﷲ کے رسولﷺکو بتا دو کہ مجھ میں غیرت کا مضمون بہت زیادہ ہے اور میرے بچے بھی ہیں اور میرا کوئی سرپرست یہاں موجود نہیں ہے۔ (اس آدمی نے جاکر یہ باتیں حضورﷺ کو بتائیں) حضورﷺ نے فرمایا: جا کر اُمّ سلمہ سے کہہ دو کہ تم نے جو کہا ہے کہ مجھ میں غیرت کا مضمون بہت زیادہ ہے تو میں اﷲتعالیٰ سے دعا کروں گا یہ غیرت (کی زیادتی) جاتی رہے گی۔ اور تم نے جو کہا ہے کہ میرے بچے بھی ہیں تو تمہارے بچوں کا بھی انتظام ہو جائے گا۔ اور تم نے جو کہا ہے کہ میرا کوئی سرپرست یہاں نہیں ہے تو تمہارا کوئی موجود یاغیر حاضر سرپرست (مجھ سے شادی کرنے پر) ناراض نہیں ہوگا۔ (اس آدمی نے جا کر حضرت اُمّ سلمہؓ کو یہ تمام باتیں بتائیں) اس پر حضرت اُمّ سلمہ نے اپنے بیٹے حضرت عمر سے کہا: اٹھو اور میری شادی اﷲ کے رسولﷺ سے کر دو۔ چناںچہ اس نے میری حضور ﷺ سے شادی کر دی۔2
حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ جب میں مدینہ آئی تو میں نے مدینہ والوں کو بتایا کہ میں ابو اُمیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہوں، لیکن ان لوگوں نے میری اس بات کو نہ مانا۔ پھر ان میں سے کچھ لوگ حج کو جانے لگے تو انھوں نے کہا: کیا تم اپنے خاندان والوں کو کچھ لکھو گی؟ چناںچہ میں نے انھیں خط لکھ کر دیا۔ جب وہ لوگ حج کر کے مدینہ واپس آئے تو انھوں نے بتایا کہ یہ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ اس سے مدینہ والوں کی نگاہ میں میری عزّت اور بڑھ گئی۔ جب میری بیٹی زینب پیدا ہوئی (اور میری عدت پوری ہوگئی) تو حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے اور مجھے شادی کا پیغام دیا تو میں نے کہا: کیا مجھ جیسی عورت کابھی نکاح ہوسکتا ہے؟ میری عمر اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب میرا کوئی بچہ پیدا نہیں ہوگا اور مجھ میں غیرت بہت ہے اور میرے بچے بھی ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں عمر میں تم سے بڑا ہوں اور تمہاری غیرت کو اﷲتعالیٰ دور کر دے گا اور تمہارے بچے اﷲ اور اس کے رسول کے حوالے۔ پھر (میں راضی ہو گئی اور) حضورﷺ نے مجھ سے شادی کرلی۔ پھر حضورﷺ میرے پاس تشریف لاتے اور از راہِ شفقت فرماتے کہ زَناب کہاں ہے؟ زینب کو لائو۔ پیارکی وجہ سے زَناب فرماتے)
ایک دن حضرت عمارؓ آکر زینب کو زور سے لے گئے اور یوں کہا: اس کی وجہ سے حضورﷺ کو اپنی ضرورت پوری کرنے میں دِقت پیش آتی ہے۔ میں اسے دودھ پلاتی تھی۔ پھر حضورﷺ تشریف لائے اور فرمایا: زَناب کہاں ہے؟ اس وقت (میری بہن) حضرت قریبہ بنتِ ابی اُمیہؓ بھی وہاں تھیں، انھوںنے کہاکہ (عمار) ابنِ یاسرؓ اسے لے گئے۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: آج رات میں تمہارے پاس آئوں گا۔ میں نے کھال کا ایک ٹکڑا نکالا (جسے چکی کے نیچے رکھا جاتا تھا تاکہ آٹا اس پر گرے) اور گڑھے میں سے جو کے دانے نکالے اور کچھ چربی نکالی اور پھر چربی میں ملا کر حضورﷺ کے لیے مالیدہ تیار کیا۔ چناںچہ وہ رات حضورﷺ نے میرے ہاں گزاری اور صبح کو فرمایا: تم اپنے خاندان میں عزّت والی ہو اگر تم چاہو تو میں تمہارے لیے باری کی سات راتیں مقرر کر دوں، لیکن یہ خیال رکھنا کہ اگر تمہارے لیے سات راتیں مقرر کروں گا تو باقی بیویوں کے لیے بھی سات راتیں مقرر کرنی ہوں گی۔1