نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ
حضورﷺ کا حضرت صفیہ بنتِ حیی بن اَخطبؓ سے نکاح
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب خیبر میں قیدی جمع کیے گئے تو حضرت دحیہؓ نے آکر عرض کیا: یا رسول اﷲ! ان قیدیوں میں سے ایک باندی مجھے دے دیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: جا کر لے لو۔ چناںچہ انھوں حضرت صفیہ بنت حییؓ کو لے لیا۔ تو ایک آدمی نے آکر حضورﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یانبیّ اﷲ! آپ نے قریظہ اور نضیر کی سردار صفیہ بنتِ حیی حضرت دِحیہ کو دے دی، وہ تو آپ ہی کے مناسب ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس (صفیہ) کو یہاں لائو۔ جب حضورﷺ نے انھیں دیکھا تو فرمایا: (اے دحیہ!) تم اس کی جگہ قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو۔ پھر حضورﷺ نے انھیں آزاد کیا اور ان سے شادی کرلی۔1
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ خیبر گئے۔ جب خیبر کا قلعہ اﷲ تعالیٰ نے فتح کرکے حضور ﷺ کو دے دیا تو آپ کے سامنے کسی نے حضرت صفیہ بنتِ حیی بن اخطبؓ کے حسن وجمال کا تذکرہ کیا۔ ان کا خاوند قتل ہو چکا تھا اور ان کی نئی شادی ہوئی تھی اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں، تو حضورﷺ نے انھیں اپنے لیے خاص کر لیا۔ حضورﷺ انھیں وہاں سے لے کر چلے، جب آپ صَہْبَاء کے مقام کے سد نامی پہاڑ کے قریب پہنچے تو حضرت صفیہ حیض سے پاک ہوگئیں تو حضورﷺ نے ان سے خلوت فرمائی۔ پھر حضورﷺ نے چمڑے کے چھوٹے دستر خوان پر کھجور، گھی اور آٹے کا حلوہ تیار کیا پھر مجھ سے فرمایا: اپنے آس پاس کے لوگوں کو خبر کر دو (کہ ولیمہ تیار ہے)۔ حضرت صفیہ کی رخصتی پر حضورﷺ کی طرف سے یہی ولیمہ تھا۔ پھر ہم وہاں سے مدینہ چلے تو میں نے دیکھا کہ حضورﷺ اونٹ کی کوہان پر چادر سے حضرت صفیہ کے لیے پردے کا انتظام فرماتے، پھر اُونٹ کے پاس بیٹھ کر اپنا گھٹنا کھڑا کر دیتے جس پر اپنا پائوں رکھ کر حضرت صفیہ اُونٹ پر سوار ہوتیں۔2
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے خیبر اور مدینہ کے درمیان حضرت صفیہؓ کے ساتھ تین راتیں گزاریں اور میں نے آپ کے ولیمہ کے لیے لوگوں کو بلایا۔ اس ولیمہ میں نہ روٹی تھی اور نہ گوشت، بلکہ آپ کا ولیمہ یوں ہوا کہ حضورﷺ کے ارشاد پر حضرت بلالؓ نے چمڑے کے دسترخوان بچھائے اور ان پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا۔ لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ حضرت صفیہ اُمّ المؤمنین ہیں یا باندی؟ تو لوگوں نے کہا: اگر حضورﷺ نے انھیں پردہ کرایا پھر تو یہ اُمّ المؤمنین ہیں اور اگرپردہ نہ کرایا تو پھر یہ حضورﷺ کی باندی ہیں۔ جب آپ وہاں سے چلنے لگے تو آپ نے حضرت صفیہ کے لیے اپنے پیچھے کچھ بچھا کر نرم جگہ بنائی اور پردہ لٹکایا۔3
حضرت جابر بن عبد اﷲؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطبؓ حضور ﷺ کے خیمہ میں داخل ہوئیں تو لوگ وہاں جمع ہوگئے اور میں بھی وہاں پہنچ گیا تاکہ مجھے بھی ولیمہ میں سے کچھ مل جائے۔ حضورﷺ نے باہر آکر فرمایا: تم اپنی ماں کے پاس سے اُٹھ کر چلے جائو (یعنی میں نے حضرت صفیہؓ سے شادی کی ہے اس لیے وہ اب تمہاری ماں بن گئی ہیں)۔ جب عشاء کا وقت ہوا تو ہم دوبارہ حاضر ہوئے پھر حضورﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے۔ آپ کی چادر کے ایک کونے میں ڈیڑھ مد عجوہ عمدہ کھجوریں تھیں اور فرمایا: اپنی ماں کا ولیمہ کھا لو۔1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت صفیہؓ کی آنکھوں میں نیلا نشان تھا۔ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ تمہاری آنکھوں میں نیلا نشان کیسا ہے؟ حضرت صفیہ نے کہا: میں نے اپنے خاوند سے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ چاند میری گود میں آگیا ہے تو اس نے مجھے تھپڑ مارا اور کہا: کیا تم یَثرِب (مدینہ) کے بادشاہ کو چاہتی ہو؟ حضرت صفیہ فرماتی ہیں: حضورﷺ سے زیادہ مجھے کسی سے بغض نہیں تھا، کیوںکہ آپ نے میرے والد اور خاوند کو قتل کیا تھا۔ (شادی کے بعد) حضورﷺ میرے والد اور خاوند کے قتل کرنے کی وجوہات بیان فرماتے رہے اور یہ بھی فرمایا: اے صفیہ! تمہارے والد نے میرے خلاف عرب کے لوگوں کو جمع کیا اور یہ کیا اور یہ کیا غرضیکہ حضورﷺ نے اتنی وجوہات بیان کیں کہ آخر میرے دل میں سے حضورﷺ کا بغض بالکل نکل گیا۔2
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ حضرت صفیہؓ کے پاس (خیمہ میں) اندر تشریف لے گئے تو حضرت ابو ایوبؓ نے حضورﷺ کے دروازے پر ساری رات گزاری۔ جب صبح کو انھوں نے حضورﷺ کو دیکھا تو اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا۔ اس وقت حضرت ابو ایوب کے پاس تلوار بھی تھی۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! اس لڑکی کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور آپ نے اس کے باپ، بھائی اور خاوند کو قتل کیا ہے، مجھے اس کی طرف سے آپ پر اطمینان نہیں تھا (اس وجہ سے میں نے رات یہاں گزاری ہے)۔ حضورﷺ مسکرائے اور حضرت ابو ایوبؓ کے بارے میں خیر کے کلمات فرمائے۔1
ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو ایوبؓ نے عرض کیا کہ میں نے یہ سوچا کہ اگر رات کو کسی وقت حضرت صفیہؓ (آپ کو تکلیف پہنچانے کے لیے) کوئی حرکت کریں تو میں آپ کے قریب ہی ہوں۔
حضرت عطاء بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ جب حضرت صفیہؓ خیبر سے مدینہ آئیں تو ان کو حضرت حارثہ بن نعمانؓ کے ایک گھر میں ٹھہرایا گیا۔ انصار کی عورتیں سن کرحضرت صفیہؓ کے حسن وجمال کو دیکھنے آنے لگیں۔ حضرت عائشہؓ بھی نقاب ڈالے ہوئے آئیں۔ جب حضرت عائشہ وہاں سے باہر نکلیں تو حضورﷺ بھی ان کے پیچھے پیچھے نکل آئے اور پوچھا: اے عائشہ! تم نے کیا دیکھا؟ حضرت عائشہ نے کہا: میں نے ایک یہودی عورت دیکھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: ایسے نہ کہو، کیوںکہ یہ تو مسلمان ہوگئی ہے اور بہت اچھی طرح مسلمان ہوئی ہے۔2
حضرت سعید بن مسیب ؓ سے صحیح سند سے روایت ہے کہ جب حضرت صفیہؓ آئیں تو ان کے کان میں سونے کا بنا ہوا کھجور کا ایک پتّہ تھا۔ تو انھوں نے اس میں سے کچھ حضرت فاطمہؓ کو اور ان کے ساتھ آنے والی عورتوں کو ہدیہ کیا۔3