نکاح میں حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ کا طریقہ
نبی کریم ﷺ کا اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کی حضرت علی بن ابی طالبؓ سے شادی کرنا
حضرت علیؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے پاس حضرت فاطمہؓ کی شادی کا پیغام آیا تو میری ایک باندی نے مجھ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضورﷺ کے پاس حضرت فاطمہ کی شادی کا پیغام آیا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: ان کی شادی کا پیغام آچکا ہے، آپ حضورﷺ کے پاس کیوں نہیں چلے جاتے تاکہ حضورﷺ آپ سے شادی کر دیں۔ میں نے کہا: کیا میرے پاس ایسی کوئی چیز ہے جس کے ذریعہ میں شادی کر سکوں؟ اس باندی نے کہا: اگر آپ حضورﷺ کے پاس جائیں گے تو حضورﷺ آپ سے ضرور شادی کر دیں گے۔ اﷲ کی قسم! وہ مجھے اُمید دلاتی رہی یہاں تک کہ میں حضورﷺ کے پاس چلا گیا۔ جب میں حضورﷺ کے سامنے بیٹھا تو مجھ سے بولا نہ گیا، اور حضورﷺ کے رعب اور دبدبہ کی وجہ سے میں بات نہ کرسکا۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم کیوں آئے ہو؟ کیا تمھیں کوئی ضرورت ہے؟ میں خاموش رہا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: شاید تم فاطمہ سے شادی کا پیغام دینے آئے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ حضورﷺ نے فرمایا: مہر میں دینے کے لیے تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! کچھ نہیں ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں نے تم کو جو زرہ بطورِ اسلحہ کے دی تھی اس کا کیا ہوا؟ وہ زرہ قبیلہ حطمہ بن محارب کی بنائی ہوئی تھی۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں علی کی جان ہے! اس کی قیمت چار درہم نہ تھی (بلکہ چار سو اسّی درہم تھی جیسے کہ آگے ابنِ عساکر کی روایت میں آرہا ہے)۔ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں نے فاطمہ سے تمہاری شادی کر دی ہے، تم وہ زرہ فاطمہ کو بھیج دو اور اسی کو فاطمہ کا مہر سمجھو۔ بس یہ تھا رسول اﷲﷺ کی بیٹی کا مہر۔1
حضرت بُرَیدؓ فرماتے ہیں کہ انصار کے چند لوگوں نے حضرت علیؓ سے کہا: تم حضرت فاطمہؓ سے شادی کا پیغام دو۔ چناںچہ حضرت علی حضورﷺ کی خدمت میں گئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: ابو طالب کے بیٹے (علی) کو کیا کام ہے؟ حضرت علی نے کہا: میں رسول اﷲﷺ کی بیٹی فاطمہ سے شادی کا پیغام دینا چاہتا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: مَرْحَبًا وَأَہْلاً۔ مزید اور کچھ نہ فرمایا۔ حضرت علی باہر آئے تو انصار کے وہی لوگ حضرت علی کا انتظار کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے پوچھا: کیا ہوا؟ حضرت علی نے کہا: اور تو میں کچھ جانتا نہیں آپ نے بس اتنا فرمایا: مَرْحَبًا وَأَہْلًا۔ ان لوگوں نے کہا: حضورﷺ نے (جملہ فرما کر) تمھیں اہل بھی عنایت فرمایا اور مَرْحَبًا بھی یعنی کشادہ جگہ بھی حضورﷺ کی طرف سے، تو ان دو میں سے ایک چیز ہی کافی تھی۔ جب حضورﷺ نے حضرت علی کی شادی کر دی تو ان سے فرمایا: اے علی! دلہن (کے گھر) آنے پر ولیمہ کا ہونا ضروری ہے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: میرے پاس ایک مینڈھا ہے (میں وہ دے دیتا ہوں)۔ اورانصار نے حضرت علی کے لیے چند صاع مکئی جمع کی۔ جب رخصتی کی رات آئی تو حضورﷺ نے فرمایا: مجھ سے ملنے سے پہلے کچھ نہ کرنا۔ چناںچہ حضورﷺ نے پانی منگا کر اس سے وضو کیا اور وہ پانی حضرت علی پر ڈال دیا اور یہ دعا دی: اے اﷲ! ان دونوں میں برکت نصیب فرما اور ان دونوں کے لیے اس رخصتی میں برکت نصیب فرما۔1
طبرانی اور بزّار کی روایت میں یہ ہے کہ انصار کی ایک جماعت نے حضرت علیؓ سے کہا: اگر تم فاطمہ سے شادی کا پیغام دو تو بہت اچھا ہو۔ اور آخر میں حضورﷺ کی دعا یہ ہے: اے اﷲ! ان دونوں میں برکت نصیب فرما اور ان کے شیر جیسے دو بچوں میں برکت نصیب فرما۔
رویانی اور ابنِ عساکر کی روایت میںیہ ہے: اے اﷲ! ان دونوں میں برکت نصیب فرما، ان دونوں پر برکت نصیب فرما، ان دونوں کی رخصتی میں برکت نصیب فرما اور ان دونوں کے لیے ان کی نسل میں برکت نصیب فرما۔ اور ایک روایت میں ہے: اے اﷲ! ان دونوں کے اس جمع ہونے میں برکت نصیب فرما۔
حضرت اسماء بنتِ عمیسؓ فرماتی ہیں کہ جب حضرت فاطمہؓ رخصت ہو کر حضرت علی بن ابی طالبؓ کے ہاں آئیں تو ہمیں ان کے گھر میں یہی چند چیزیں ملیں: ایک چٹائی بچھی ہوئی تھی، ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اور ایک گھڑا اور ایک مٹی کا لوٹا تھا۔ حضورﷺ نے حضرت علی کو پیغام بھیجا کہ جب تک میں نہ آجائوں اس وقت تک اپنے گھر والوں کے قریب نہ جانا۔ چناںچہ جب حضورﷺ تشریف لائے تو فرمایا: کیا میرا بھائی یہاں ہے؟حضرت اُمّ ایمنؓ جو کہ حضرت اُسامہ بن زیدؓ کی والدہ تھیں اور وہ ایک حبشی اور نیک عورت تھیں۔ انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! جب آپ نے اپنی بیٹی کی شادی حضرت علیؓ سے کر دی تو اب یہ آپ کے بھائی کیسے ہوئے؟ حضورﷺ نے دیگر صحابہ کا آپس میں بھائی چارہ کرایا تھا اور حضرت علی کا بھائی چارہ اپنے ساتھ کیا تھا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس بھائی چارے کے ساتھ یہ شادی ہو سکتی ہے۔ پھر حضورﷺ نے ایک برتن میں پانی منگایا، پھر کچھ پڑھ کر حضرت علی کے سینے اور چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ پھر حضورﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو بلایا تو فاطمہ اُٹھ کر آپ کے پاس آئیں اور وہ شرم وحیا کی وجہ سے اپنی چادر میں لڑکھڑا رہی تھیں۔ حضورﷺ نے اس پانی میں سے کچھ حضرت فاطمہ پر چھڑکا اور ان سے کچھ فرمایا اور یہ بھی فرمایا: اپنے خاندان میں مجھے جو سب سے زیادہ محبوب تھا اس سے تمہاری شادی کر نے میں میں نے کوئی کمی نہیں کی۔
پھر حضور ﷺ نے پردے یا دروازے کے پیچھے کسی آدمی کا سایہ دیکھا تو حضورﷺ نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: اسماء۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا اسماء بنتِ عمیس؟ میں نے کہا: جی ہاں، یا رسول اﷲ! حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم اﷲکے رسول کے اِکرام کی وجہ سے آئی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ جب کسی جوان لڑکی کی رخصتی ہو تو اس رات اس لڑکی کے پاس کسی رشتہ دار عورت کا ہونا ضروری ہے، تاکہ اگر اس لڑکی کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو یہ عورت اس کی ضرورت پوری کر دے۔ اس پر حضورﷺ نے مجھے ایسی زبردست دعا دی کہ میرے نزدیک وہ سب سے زیادہ قابلِ اعتماد عمل ہے۔ پھر حضرت علی سے فرمایا: لواپنی بیوی سنبھال لو۔ پھر حضور ﷺ باہر تشریف لے گئے اور اپنے گھر میں داخل ہونے تک حضرت فاطمہ حضرت علیؓ دونوں کے لیے دعا فرماتے رہے۔1
ایک روایت میں حضرت اسماء بنتِ عمیسؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کی صاحب زادی حضرت فاطمہؓ کی رخصتی والی رات کو میں بھی وہاں تھی۔ جب صبح ہوئی تو حضورﷺ نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا۔ حضرت اُمّ ایمنؓ نے کھڑے ہو کر دروازہ کھولا۔ حضورﷺ نے ان سے فرمایا: اے اُمّ ایمن! میرے بھائی کو بلائو۔ انھوں نے کہا: کیا وہ آپ کے بھائی ہیں؟ آپ نے ان سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے اُمّ ایمن! میرے پاس بلا لائو۔ عورتیں حضورﷺ کی آواز سن کر اِدھر اُدھر ہوگئیں۔ پھر حضورﷺ ایک کونے میں بیٹھ گئے۔ پھر حضرت علی آئے تو حضورﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی اور ان پر کچھ پانی چھڑکا۔ پھر فرمایا: فاطمہ کو میرے پاس بلا لائو۔ جب حضرت فاطمہؓ آئیں تو وہ شرم وحیا کی وجہ سے پسینہ پسینہ ہو رہی تھیں اور چھوٹے چھوٹے قدم رکھ رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا: چپ ہو جائو، میں نے تمہاری شادی ایسے آدمی سے کی ہے جو مجھے اپنے خاندان میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ہے۔1
حضرت علیؓ فرماتے ہیں: جب نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کی (مجھ سے) شادی کی تو آپ نے پانی منگا کر اس سے کلی کی، پھر مجھے اپنے ساتھ اندر لے گئے، اور وہ پانی میرے گریبان اور میرے دونوں کندھوں کے درمیان چھڑکا، اور {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌo}، {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ o} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ o} پڑھ کر مجھ پر دم کیا۔2
حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو ان کی بیٹی حضرت فاطمہؓ سے شادی کا پیغام بھیجا۔ پھر میں نے اپنی ایک زرہ اور اپنا کچھ سامان چار سو اسّی درہم میں بیچا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس کے دو تہائی کی خوش بو اور ایک تہائی کے کپڑے خرید لو۔ اور پانی کے ایک گھڑے میں کلی فرمائی اور فرمایا: اس سے غسل کرو۔ اور حضرت فاطمہؓ سے فرمایا کہ جب تمہارا بچہ ہو تو اپنے بچے کو میرے آنے سے پہلے دودھ نہ پلانا، لیکن حضرت فاطمہ نے حضرت حسینؓکو دودھ پلا دیا، البتہ حضرت حسنؓکو نہ پلایا بلکہ حضورﷺ نے ان کے منہ میں کوئی چیز ڈالی جس کا پتا نہ چلا، اسی وجہ سے دونوں بھائیوں میں حضرت حسن زیادہ علم والے تھے۔3
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی شادی کے موقع پر ہم بھی موجود تھے، ہم نے اس سے اچھی کوئی شادی نہیںدیکھی۔ بچھونے میں ہم نے کھجور کی چھال بھری، اور کھجور اور کشمش ہمارے پاس لائی گئی جسے ہم نے کھایا۔ اور شادی کی رات میں حضرت فاطمہ کا بچھونا ایک مینڈھے کی کھال تھی۔4
حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جہیز میں ایک جھالر والی چادر، ایک مشکیزہ اور ایک چمڑے کا تکیہ دیا جس میں اِذخر گھاس بھرا ہوا تھا۔1
حضرت عبد اﷲ بن عمروؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ نے حضرت فاطمہؓکو حضرت علیؓ کے گھر بھیجا تو ان کے ساتھ ایک جھالر والی چادر اور چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کی چھال اور اِذخر گھاس بھرا ہوا تھا اورایک مشکیزہ بھی بھیجا۔ وہ دونوں آدھی چادر کو نیچے بچھا لیتے تھے اور آدھی کو اوپر اوڑھ لیتے تھے۔2