نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کی معاشرت

لباس میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرامؓ کا طریقہ

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ؓکہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطّابؓ کے ساتھ تھا، انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابو القاسمﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایک شامی جبہ پہنا ہوا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔1 حضرت جندب بن مَکِیثؓ فرماتے ہیں کہ جب کوئی وفد آتا تو حضورﷺ اپنے سب سے اچھے کپڑے پہنتے اور اپنے بڑے اور اونچے صحابہ کو بھی اس بات کا حکم دیتے۔ چناںچہ میں نے دیکھا کہ جس دن کندہ کا وفد آیا اس دن حضورﷺ نے یمنی جوڑا پہنا ہوا تھا اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے بھی ایسے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔2 حضرت سلمہ بن اکوعؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفانؓآدھی پنڈلی تک لنگی باندھا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے محبوبﷺ کی لنگی ایسی ہوا کرتی تھی۔3 حضرت اَشعث بن سُلَیم ؓکہتے ہیں کہ میں نے اپنی پھوپھی سے سنا وہ اپنے چچا سے نقل کر رہی تھیں کہ میں ایک مرتبہ مدینہ میں چلا جارہا تھا کہ اتنے میں ایک آدمی نے میرے پیچھے سے کہا: اپنی لنگی کو اوپر اٹھا لو کہ اس میں تقویٰ بھی زیادہ ہے اور اس سے لنگی بھی زیادہ دیر چلے گی۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو حضورﷺ تھے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! یہ تو سیاہ سفید دھاریوں والی (ایک معمولی) چادر ہی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تمھیں میرے نمونے پر چلنے کا شوق نہیں ہے؟ میں نے دیکھا تو حضورﷺ کی لنگی آدھی پنڈلیوں تک تھی۔4 حضرت ابو بردہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے ایک پیوند والی چادر اور ایک موٹی لنگی نکال کر دکھائی اور فرمایا کہ حضورﷺ کا ان دو کپڑوں میں انتقال ہوا تھا۔5 حضرت اُمّ سلمہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کو کپڑوں میں قمیض سب سے زیادہ پسند تھی۔6 حضرت اسماء بنتِ یزیدؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ کی قمیض کی آستینیں گٹوں تک تھیں۔ حضر ت جابرؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ فتحِ مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا۔ حضرت عمرو بن حریثؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضورﷺ نے سیاہ عمامہ پہن کر لوگوں میں بیان کیا۔ حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ نے لوگوں میں بیان فرمایا اور آپ کے سر پر چکنی پٹی تھی۔ حضرت نافع ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے فرمایا کہ حضورﷺ جب پگڑی باندھتے تو اس کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا لیتے۔ حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ بھی ایسا ہی کرتے۔ حضرت عبد اﷲ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم بن محمد اور حضرت سالم دونوں کو بھی ایسا کرتے دیکھا ہے۔1 کسی نے حضرت عائشہؓ سے حضورﷺ کے بستر کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ چمڑے کا بستر تھا جس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک انصاری عورت میرے پاس اندر آئی اور اس نے دیکھا کہ حضورﷺ کا بستر ایک چغہ ہے جسے دوہرا کر کے بچھایا ہوا ہے۔اس نے جا کر ایک بستر میرے پاس بھیجا جس میں اُون بھرا ہوا تھا۔ پھر حضورﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یا رسول اﷲ! فلاںانصاری عورت میرے پاس آئی، اس نے آپ کا بستر دیکھا، پھر اس نے جاکر یہ بستر میرے پاس بھیج دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے واپس کر دو۔ لیکن میں نے واپس نہ کیا کیوںکہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ یہ بستر میرے گھر میں رہے یہاں تک کہ آپ نے تین دفعہ واپس کرنے کا حکم دیا اور آخر میں فرمایا: اے عائشہ! یہ بستر واپس کر دو، اﷲ کی قسم! اگر میں چاہتا تواﷲ تعالیٰ میرے ساتھ سونے اور چاندی کے پہاڑچلا دیتے۔1 حضرت محمد ؓکہتے ہیں کہ کسی نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا کہ آپ کے گھر میں حضور ﷺ کا بستر کیا تھا؟ انھوں نے فرمایا: چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ اور کسی نے حضرت حفصہؓ سے پوچھا: آپ کے گھر میں حضورﷺ کا بستر کیا تھا؟ انھوں نے فرمایا کہ حضورﷺ کا بستر ایک ٹاٹ تھا جسے ہم دوہرا کر کے بچھا تے تھے اس پر حضور ﷺ آرام فرماتے۔ ایک رات میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر میں اسے چوہرا کر کے بچھا دوں تو زیادہ نرم ہو جائے گا۔ چناںچہ اس رات ہم نے اسے چوہرا کر کے بچھا دیا۔ صبح کو حضور ﷺ نے فرمایا: آج رات تم نے میرے لیے کیا بچھایا تھا؟ ہم نے کہا: آپ کا وہی بستر تھا بس آج ہم نے اسے چوہرا کر کے بچھایا تھا، خیال تھا کہ اس طرح آپ کا بستر زیادہ نرم ہو جائے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ اسے پہلی حالت پر کر دو، کیوںکہ اس کی نر می نے آج رات مجھے نماز سے روک دیا (یا تو اُٹھ ہی نہ سکا یا دیر سے اُٹھا)۔2 حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضورﷺ نے نئے کپڑے منگوا کر پہنے۔ جب آپ کی ہنسلی تک کُرتا پہنچا تو آپ نے یہ دعا پڑھی: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ کَسَانِيْ مَا أُوَارِيْ بِہٖ عَوْرَتِيْ وَأَتَجَمَّلُ بِہٖ فِيْ حَیَاتِيْ۔پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جو مسلمان بندہ نیا کپڑا پہنے پھر وہ یہ دعا پڑھے جو میں نے ابھی پڑھی ہے، پھر جو پرانے کپڑے اُتارے ہوں وہ کسی مسلمان فقیر کو اﷲ کے لیے دے دے، تو جب تک اس فقیر پر ان کپڑوں میں سے ایک دھاگہ بھی رہے گا یہ بندہ اﷲ کی حفاظت میں، اﷲ کی ذمہ داری اور اﷲ کی پناہ میں رہے گا۔ وہ پہنانے والا چاہے زندہ رہے یا مر جائے، چاہے زندہ رہے یامر جائے، چاہے زندہ رہے یا مر جائے۔1 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن بارش ہو رہی تھی میں بقیع کے قریب حضور ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے میں ایک عورت گدھے پر سوار گزری۔ اس پر کرایہ پر دینے والا یعنی گدھے کا مالک بھی تھا۔ وہ زمین کے نشیبی حصہ سے گزر نے لگی تو وہ گر گئی۔ حضور ﷺ نے چہرہ دوسری طرف فرما لیا۔ لوگوں نے کہا: یا رسول اﷲ! یہ تو شلوار پہنے ہوئے ہے (لہٰذا اس کا ستر ننگا نہ ہوا)۔ آپ نے فرمایا: اے اﷲ! میری اُمت کی شلوار پہننے والی عورتوں کی مغفرت فرما۔ اے لوگو! شلوار پہنا کرو، کیوںکہ شلوار سے سب سے زیادہ ستر چھپتا ہے۔ اور جب تمہاری عورتیں باہر نکلا کریں تو شلوار پہنا کر ان کی حفاظت کیا کرو۔2 حضرت دِحیہ بن خلیفہ کلبی ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے مجھے ہِرَقل (بادشاہ روم) کے پاس بھیجا۔ جب میں وہاں سے واپس آیا تو حضورﷺ نے مجھے مصر کا بنا ہوا ایک باریک سفید کپڑا دیا اور فرمایا: آدھے سے تم اپنی قمیض بنا لو اور آدھا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنالے گی۔ جب میں واپس جانے لگا تو مجھے بلایا اور فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہنا کہ وہ اس کے نیچے ایک اورکپڑا بھی اوڑھے تاکہ نیچے کا بدن نظر نہ آئے۔3 حضرت اُسامہ بن زیدؓ فرماتے ہیںکہ حضرت دِحیہ کلبی ؓ جو ہدیے لائے تھے ان میں سے ایک سفید کھردرا باریک مصری کپڑا حضورﷺ نے مجھے پہننے کو دیا۔ میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دیا۔ پھر ایک دن مجھ سے حضورﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے تم وہ مصری سفید باریک کپڑا کیوں نہیں پہنتے؟ میں نے کہا:یا رسول اﷲ! میں نے وہ کپڑا پہننے کو اپنی بیوی کو دے دیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہہ دینا کہ وہ اس کے نیچے بنیان وغیرہ پہنا کرے، کیوںکہ مجھے ڈر ہے کہ اس کپڑے میں اس کا جسم نظر آئے گا۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک دن کپڑے پہنے اور گھر میں چل رہی تھی اور اپنے دامن اور کپڑوں کو دیکھ رہی تھی (اور خوش ہو رہی تھی)۔ اتنے میں حضرت ابوبکرؓ میرے پاس اندرتشریف لائے اور فرمایا: اے عائشہ! اس وقت اللہ تعالیٰ تمھیں (رحمت کی نگاہ سے) نہیں دیکھ رہے ہیں۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نئی قمیض پہنی، میں اسے دیکھ کر خوش ہونے لگی وہ مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: کیا دیکھ رہی ہو، اس وقت اﷲ تعالیٰ تمھیں نہیں دیکھ رہے؟ میں نے کہا: کیوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ جب دنیا کی زینت کی وجہ سے بندے کے دل میں عجب کی کیفیت پیدا ہو جائے، تو جب تک وہ اس زینت کو اپنے سے دور نہیں کر دے گا اﷲ تعالیٰ اس سے ناراض رہیں گے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے قمیض اتار کر فوراً صدقہ کر دی تو حضرت ابو بکرنے فرمایا: شاید یہ صدقہ کرنا اس عجب کا کفارہ بن جائے۔3 حضرت عبد العزیز بن ابی جمیلہ انصاری ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمرؓکی قمیضکی آستین گٹوں سے آگے بڑھی ہوئی نہیں ہوتی تھی۔4 حضرت بُدَیل بن میَسْرہ ؓکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطّابؓ جمعہ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، انھوں نے سنبلان مقام کی بنی ہوئی لمبی قمیضپہنی ہوئی تھی اور اپنی تاخیر کی معذرت کرنے لگے اور فرمانے لگے: اس قمیضکی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔و ہ اپنی آستین کو کھینچتے تھے جب اسے چھوڑتے تو وہ انگلیوں کے کنارے تک پھر واپس آجاتی۔ حضرت ہشام بن خالد ؓکہتے ہیںکہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ ناف سے اُوپر لنگی باندھا کرتے تھے۔ حضرت عامر بن عبیدہ باہلی ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت انسؓ سے ریشم ملے ہوئے اُونی کپڑے کے بارے میں پوچھا۔ حضرت انس نے فرمایا: میرا دل چاہتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس کپڑے کو پیدا ہی نہ فرماتے۔ اور حضرت عمر اور حضرت ابنِ عمرؓ کے علاوہ نبی کریم ﷺ کے ہر صحابی نے اس کپڑے کو پہنا ہے۔ (یہ کپڑا حلال تھا لیکن اسے عجم کے مال دار لوگ پہنتے تھے، اس لیے حضرت انسؓ نے اسے پسند نہ کیا)۔1 حضرت مسروق ؓکہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر ؓ باہر تشریف لائے، انھوں نے سوتی جوڑا پہنا ہوا تھا۔ لوگوں نے انھیں تیز نظر سے دیکھا تو انھوں نے یہ شعر پڑھا: لَا شَيْئَ فِیْمَا تَرٰی تَبْقٰی بَشَاشَتُہٗ یَبْقَی الإِلٰہُ وَیُوْدِي الْمَالُ وَالْوَلَدُ دنیا کی جتنی چیزیں تم دیکھ رہے ہو ان میں سے کسی چیز کی چمک دمک باقی نہیں رہے گی، اﷲباقی رہیں گے مال اولاد سب ختم ہو جائیں گے۔ پھر فرمایا:آخرت کے مقابلہ میں تو دنیا خرگوش کی ایک چھلانگ کی طرح ہے۔2 حضرت شدّاد بن ہاد کے آزادکردہ غلام حضرت ابو عبد اﷲ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک جمعہ کے دن حضرت عثمان بن عفانؓکو منبر پر دیکھا انھوں نے عدن کی بنی ہوئی موٹی لنگی باندھی ہوئی تھی جس کی قیمت چار پانچ درہم تھی، اور ایک گیروے رنگ کی کوفی چادراوڑھی ہوئی تھی۔ ان کے جسم پر گوشت کم تھا، ڈاڑھی لمبی اور چہرہ خوب صورت تھا۔3 حضرت موسیٰ بن طلحہ ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓ جمعہ کے دن لاٹھی پر سہارا لے کر چلتے تھے۔ آ پ لوگوں میں سب سے زیادہ حسین وجمیل تھے۔ انھوں نے ایک زرد لنگی باندھ رکھی تھی اور دوسری زرد چادر اوڑھ رکھی تھی، وہ چلتے رہتے یہاں تک کہ آکر منبر پر بیٹھ جاتے۔4 حضرت سُلَیم ابو عامر ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ پر یمانی چادر دیکھی جس کی قیمت سو درہم تھی۔1 حضرت محمد بن ربیعہ بن حارث ؓکہتے ہیں کہ حضورﷺ کے صحابہ اپنی عورتوں کو لباس میں اتنی وسعت دیتے تھے جس سے گرمی سردی سے بچائو اور آبرو کی حفاظت اور زینت حاصل ہوسکے۔ چناںچہ میں نے حضرت عثمانؓ پر ریشم ملے ہوئے اُونی کپڑے کی ایک چادر دیکھی جس کی قیمت دو سو درہم تھی، جس کے دونوں طرف کے کنارے پر حاشیہ تھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا: یہ چادر (میری بیوی) حضرت نائلہ کی ہے، میں نے انھیں پہننے کو دی تھی اب میں انھیں خوش کرنے کے لیے خود پہن رہا ہوں۔2 حضرت زید بن وہب ؓکہتے ہیں کہ حضرت علیؓ کے پاس بصرہ والوں کا ایک وفد آیا اس میں ایک خارجی تھا جسے جعد بن نعجہ کہا جاتا تھا۔ اس نے حضرت علی کی قمیض پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: تجھے میری قمیضسے کیا؟ میری قمیضتکبرسے بہت دور اس لائق ہے کہ مسلمان میرا اقتدا کر سکے۔3 حضرت عمرو بن قیس ؓکہتے ہیں کہ کسی نے حضر ت علیؓ سے پوچھا: اے امیر المؤمنین! آپ اپنی قمیض پر پیوند کیوں لگاتے ہیں؟ حضرت علی نے فرمایا: اس سے دل میں تواضع پیدا ہوتی ہے اور مؤمن اس کی اقتدا کر لیتا ہے۔4 حضرت عطاء ابو محمد ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ پر بے دُھلے کھدر کی ایک قمیص دیکھی۔5 حضرت عبد اﷲ بن ابو ہذیل ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ پر رَی مقام کی بنی ہوئی قمیض دیکھی۔ جب حضرت علی ؓ اپنے ہاتھ کو لمبا کرتے تو آستین انگلیوں کے کناروں تک پہنچ جاتی، اور جب ہاتھ (لمبا کرنا) چھوڑ دیتے تو آدھے بازو کے قریب تک پہنچ جاتی۔1 حضرت علیؓ جب قمیض پہنا کرتے تو آستین کو لمبا کرتے اور جتنی آستین انگلیوں سے آگے بڑھ جاتی اسے کاٹ دیتے اور فرماتے: آستینوں کو ہاتھوں سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔2 حضرت ابو سعید ازدی ؓ قبیلہ ازد کے اماموں میں سے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓکو دیکھا کہ وہ بازار تشریف لے گئے اور فرمایا: کسی کے پاس ایسی قمیض ہے جس کی قیمت تین درہم ہو؟ ایک آدمی نے کہا: میرے پاس ہے۔ وہ آدمی وہ قمیضحضرت علی کے پاس لے آیا۔ حضرت علی کو وہ قمیض پسند آگئی اور فرمایا: شاید یہ تین درہم سے بہتر ہو، یعنی ان کی قیمت تین درہم سے زیادہ ہو۔ اس آدمی نے کہا: نہیں، اس کی قیمت یہی ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت علی اپنے کپڑے میں سے درہموں کی گانٹھ کھول رہے تھے، پھر کھول کر انھوں نے اسے تین درہم دیے اور وہ قمیض پہن لی تو اس کی آستین انگلیوں کے کناروں سے آگے بڑھی ہوئی تھی۔ حضرت علی ؓ کے فرمانے پر انگلیوں سے زائد حصہ کو کاٹ دیا گیا۔3 حضرت ابو غُصَین کے ایک آزادکر دہ غلام کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓکو دیکھا کہ وہ باہر تشریف لائے اور ایک کھدر بیچنے والے کے پاس گئے اور اس سے فرمایا: کیا تمہارے پاس سنبلان شہر کا بنا ہوا لمبا کُرتا ہے؟ اس کھدر والے نے ایک کُرتا نکالا جسے حضرت علی نے پہنا تو وہ ان کی آدھی پنڈلیوں تک آیا۔ پھر انھوں نے دائیں بائیں دیکھ کر فرمایا: مجھے تو یہ ٹھیک ہی لگ رہاہے، یہ کتنے کا ہے؟ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! چار درہم کا۔ حضرت علی نے لنگی میں سے کھول کر چار درہم اسے دیے اور پھر وہاں سے تشریف لے گئے۔4 حضرت سعد بن ابراہیم ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ چار پانچ سو کی چادر یا جوڑا پہنا کرتے تھے۔5 حضرت قزعہ ؓکہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ عمرؓ پر کھردرے کپڑے دیکھے۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا: اے ابو عبد الرحمن! چوںکہ آپ نے کھردرے کپڑے پہن رکھے ہیں اس لیے میں آپ کے لیے خراسان کا بنا ہوا نرم کپڑا لایا ہوں، انھیں آپ پر دیکھ کر میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ انھوںنے فرمایا:ـمجھے دکھائو میں بھی ذرا دیکھوں۔ چناںچہ انھوں نے اسے ہاتھ لگا کر دیکھا اور فرمایا: کیا یہ ریشم ہے؟ میں نے کہا: نہیں، یہ روئی ہے۔ فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ اسے پہن کر کہیں میں تکبر کرنے والااور اِترانے والا نہ بن جائوں، اور اﷲ تعالیٰ کو کوئی تکبر کرنے والا اور اِترانے والا پسند نہیں ہے۔1 حضرت عبد اﷲ بن حبیش ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عمرؓ پر معافر شہر کے بنے ہوئے دو کپڑے دیکھے اور ان کا کپڑا آدھی پنڈلی تک تھا۔2 حضرت وقدان ؓکہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابنِ عمرؓ سے پوچھاکہ میں کون سے کپڑے پہنا کروں؟ حضرت ابنِ عمر نے فرمایا: ایسے کپڑے پہنو جن میں بے وقوف لوگ تمھیں حقیر نہ سمجھیں اور عقل مند اور بردبار لوگ تم پر ناراض نہ ہوں۔ اس آدمی نے پوچھا: ایسے کپڑے کس قیمت کے ہوں گے؟ انھوں نے فرمایا: پانچ درہم سے لے کر بیس درہم تک۔3 حضرت ابو اسحاق ؓکہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عمرؓ کو آدھی پنڈلی تک لنگی باندھتے ہوئے دیکھا۔ دوسری روایت میں حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میںنے حضورﷺ کے کئی صحابہ حضرت اُسامہ بن زید، ابنِ اَرقم، حضرت براء بن عازب اور حضرت ابنِ عمر ؓ کو آدھی پنڈلیوں تک لنگی باندھتے ہوئے دیکھا۔4 حضرت عثمان بن ابی سلیمان ؓکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباسؓ نے ہزار درہم کا کپڑا خرید کر پہنا۔5 حضرت کثیر بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ میں اُمّ المؤمنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں گیا تو انھوں نے فرمایا: ذرا ٹھہرو۔ میں اپنا پھٹا ہوا کپڑا سی لو ں۔ میں نے کہا: اے اُمّ المؤمنین! اگرمیں باہر جا کر لوگوں کو بتائوں (کہ اُمّ المؤ منین حضرت عائشہؓ تو اپنا پھٹا ہوا کپڑا سی رہی ہیں) تو وہ سب آپ کے اس سینے کو کنجوسی شمار کریں (کہ آپ بڑی کنجوس ہیں اس لیے پھٹا ہوا کپڑا سی رہی ہیں)۔ حضرت عائشہ نے فرمایا: تو اپنا کام کر، جو پرانا کپڑا نہیں پہنتا اسے نیا کپڑا پہننے کا کوئی حق نہیں ( یا جو دنیا میں پرانا نہیں پہنے گا اسے آخرت میں نیاکپڑا نہیں ملے گا)۔1 حضرت ابو سعید ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عائشہؓ کے پاس اندر گیا وہ اس وقت اپنا نقاب سی رہی تھیں۔ اس آدمی نے کہا: اے اُمّ المؤمنین! کیا اﷲ تعالیٰ نے مال میں وسعت نہیں عطا فرما رکھی؟ انھوں نے فرمایا: ارے میاں! ہمیں ایسے ہی رہنے دو! جس نے پرانا کپڑا نہیں پہنا اسے نیا پہننے کا کوئی حق نہیں۔2 حضرت ہشام بن عروہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت منذربن زبیرؓ عراق سے آئے تو انھوں نے (اپنی والدہ) حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ کی خدمت میں مرو اور قوہ کے بنے ہوئے باریک اور عمدہ جوڑے بھیجے۔ یہ واقعہ ان کی بینائی کے چلے جانے کے بعد کا ہے۔ انھوں نے ان جوڑوں کو ہاتھ لگا کر دیکھا پھر فرمایا: اوہو! اس (منذر) کے جوڑے ایسے ہی واپس کر دو۔ حضرت منذر کو یہ بات بہت گراں گزری۔ انھوں نے کہا: اے اماں جان! یہ کپڑے اتنے باریک نہیں ہیں کہ ان سے جسم نظر آئے۔ حضرت اسماء نے فرمایا: اگر جسم نظر نہیں آئے گا تو جسم کی بناوٹ تو ان کپڑوں سے معلوم ہو جائے گی۔ پھر حضرت منذرنے ان کے لیے مرو اور قوہ کے عام اور سادہ کپڑے خرید کر دیے تو وہ حضرت اسماء نے قبول کر لیے اور فرمایا: ایسے کپڑے مجھے پہنایا کرو۔3 حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے آکر حضرت عمر بن خطابؓکی خدمت میں عرض کیا: اے امیر المؤ منین! میرا کرتا پھٹ گیا ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا: کیا میں تمھیں اس سے پہلے پہننے کا کپڑا نہیں دے چکا ہوں؟ اس عورت نے کہا: دیا تھا، لیکن وہ اب پھٹ گیا ہے۔ حضرت عمر نے اس عورت کے لیے ایک عمدہ جوڑا اور دھاگہ منگایا، اور اس سے فرمایا: جب روٹی یا سالن پکائو پھر تو یہ پرانا جوڑا پہنا کرو، جب کھانا پکانے سے فارغ ہو جایا کرو تو پھر یہ نیا جوڑا پہنا کرو، کیوںکہ جو پرانا کپڑا نہ پہنے اسے نیا پہننے کا حق نہیں ہے۔1 حضرت خرشہ بن حر ؓکہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس سے ایک نوجوان گزرا جس کی لنگی ٹخنے سے نیچے جا رہی تھی بلکہ وہ اسے زمین پر گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا۔ حضرت عمر نے اسے بلاکر فرمایا: کیا تمھیں حیض آتا ہے؟ اس نے کہا: کیا مرد کو بھی حیض آتا ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: پھر تمھیں کیا ہوا کہ تم نے لنگی قدموں سے نیچے لٹکا رکھی ہے؟ پھر حضرت عمر نے ایک چھری منگائی اور اس کی لنگی کا کنارہ پکڑ کر ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دیا۔ حضرت خرشہ کہتے ہیں: اب بھی وہ منظر میرے سامنے ہے اور مجھے اس کی ایڑیوں پر لنگی کے دھاگے نظر آرہے ہیں۔2 حضرت ابو عثمان نہدی ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ آذر بائیجان میں تھے۔ وہاں ہمارے پاس حضرت عتبہ بن فرقدؓ کے ذریعہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ کا خط آیا جس میں یہ مضمون تھا: اما بعد! لنگی باندھا کرو اور چادر اوڑھا کرو، اور جوتے پہنا کرو اور موزے اتار پھینکو، اور شلواریں اتار دو (ان کی جگہ لنگی باندھا کرو)۔ اور اپنے والد حضرت اسماعیل ؑ کا لباس اختیار کرو، اور ناز و نعمت کی زندگی اور عجمی لوگوں کا لباس اختیار نہ کرو۔ اور دھوپ میں بیٹھا کرو، کیوںکہ یہی عربوں کا حمام ہے۔ اور معد بن عدنان جیسی سادہ اور مشقت والی زندگی اختیار کرو۔ اور سخت کھردرے اور پرانے کپڑے پہنو۔ تیروں سے نشانہ بازی کیاکرو، گھوڑوں کی رکابیں کاٹ دو اور کود کر گھوڑوں پر سوار ہوا کرو۔ حضورﷺ نے ایک انگلی سے زیادہ ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت عمرؓ نے درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔3