صحابہ کرام ؓ کا ایمان

ایمان کی عظمت

حضرت ابوہریرہ ؓ فر ماتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ حضورﷺ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے، اور چند ساتھیوں سمیت حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حضورﷺ ہمارے درمیان میں سے اٹھ کر چلے گئے۔ آپ کو واپس آنے میں کافی دیر ہوگئی۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہوا کہ ہم حضورﷺ کے ساتھ نہیں ہیں آپ اکیلے گئے ہیں۔ کہیں اس اکیلے پن میں آپ کو کسی دشمن کی طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے۔ ا س وجہ سے ہم سب گھبرا کر کھڑے ہوگئے۔ سب سے پہلے میں گھبرا کر اٹھا اور حضورﷺ کو تلاش کرنے نکلا۔ چلتے چلتے انصار کے قبیلہ بنو نجّار کے ایک باغ کے پاس پہنچا اور میں نے اس باغ کا چکر لگایا تاکہ مجھے باغ کا کوئی دروازہ مل جائے، لیکن مجھے کوئی دروازہ نہ ملا۔ پھر مجھے ایک نالی نظر آئی جو باہر کے ایک کنویں سے باغ کے اندر جارہی تھی۔ میں سمٹ کر (اس نالی سے) اندر چلاگیا تو دیکھا کہ حضورﷺ وہاں موجود تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم ابوہریرہ ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ! حضورﷺ نے فرمایا: تمھیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے پھر اٹھ کر چلے گئے۔ پھر کافی دیر گزر گئی لیکن آپ واپس نہ آئے۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہوا کہ آپ اکیلے ہیں ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہیں، تو اس اکیلے پن میں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچادے۔ اس خیال سے ہم سب گھبرا گئے۔ سب سے پہلے میں گھبرا کر وہاں سے اٹھا اور آپ کو ڈھونڈنے لگ گیا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں اس باغ تک پہنچ گیا۔ (باغ کادروازہ مجھے ملا نہیں اس لیے) میں لومڑی کی طرح سکڑکر (نالی سے) اندر آگیا ہوں اور وہ تمام لوگ میرے پیچھے پیچھے آرہے ہیں۔ حضورﷺ نے مجھے اپنے دو جوتے (نشانی کے طور پر) دے کر فرمایا: میرے یہ دونوں جوتے لے جائو، اور اس باغ کے باہر تمھیں جویہ گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ دل سے اس پر یقین کررہاہو، ا سے جنت کی بشارت دے دینا۔ مجھے سب سے پہلے حضرت عمر ؓ ملے۔ انھوں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! یہ جوتے کیا ہیں؟ میں نے کہا: یہ دونوں جوتے حضورﷺ کے ہیں، جنھیں دے کر حضورﷺ نے مجھے بھیجا ہے کہ مجھے جو بھی یہ گواہی دیتاہوا ملے کہ اللہ کے سو ا کوئی معبود نہیں اور دل سے اس پر یقین کررہا ہو، میںاسے جنت کی بشارت دے دوں۔ حضرت عمر نے میرے سینے پر (اس زور سے) مارا کہ میں سُر ین کے بل زمین پرگرپڑا۔ اور حضرت عمر نے کہا: اے ابوہریرہ! واپس جائو۔ میں حضورﷺ کی خدمت میں واپس گیا اور روکر فریاد کر نے لگا۔ حضرت عمر میرے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمھیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: مجھے عمر باہر ملے تھے، جو بشارت دے کر آپ نے مجھے بھیجا تھا وہ میں نے انھیں سنائی تو انھوں نے میرے سینے پر اس زور سے دوہتھڑ مارا کہ میں سُرین کے بل گر گیا اور انھوںنے مجھ سے کہا: واپس چلے جائو۔ (اتنے میں حضرت عمر ؓ بھی وہاں پہنچ گئے) حضورﷺ نے حضرت عمر سے فرمایا: اے عمر! تم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں! کیا آپ نے اپنے دوجوتے دے کر حضرت ابوہریرہ کو اس لیے بھیجا ہے کہ انھیں جو آدمی اس بات کی گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ دل سے اس کا یقین کررہا ہو، تو یہ اسے جنت کی بشارت دے دیں؟ حضورﷺ نے فر مایا: ہاں۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: آپ ایسا نہ کریں، کیوںکہ مجھے اس بات کا ڈرہے کہ لوگ اس بشارت کو سن کر اسی پر بھروسہ کر لیں گے (اور مزید نیک عمل کرنے چھوڑدیں گے)، آپ لوگوں کو عمل کرنے دیں۔ اس پر حضورﷺ نے فرمایا: اچھا انھیں عمل کرنے دو۔1 حضرت ابوذرؓ فرماتے ہیں کہ ایک رات میں باہر نکلا تو دیکھا کہ حضورﷺ اکیلے جارہے ہیں آپ کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا: شاید آپ کے ساتھ چلنے سے آپ کو ناگواری ہو، اس لیے میں ذرا فاصلے سے ایسی جگہ چلنے لگا جہاں چاند کی روشنی نہیں پڑرہی تھی۔ اتنے میں حضورﷺ نے مڑکر مجھے دیکھا اور فر مایا: یہ کون ہے؟میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! میں ابوذر ہوں۔ آپ نے فرمایا:اے ابوذر! ادھر آئو۔ میں کچھ دیر آپ کے ساتھ چلا۔ پھر آپ نے فر مایا: زیادہ مال والے قیامت کے دن کم ثواب والے ہوںگے۔ البتہ جس کو اللہ نے خوب مال دیا، اور اُس نے دائیں بائیں آگے پیچھے مال خوب لٹایا اور نیکی کے کاموں میں خوب خرچ کیا، تو وہ مال دار بھی قیامت کے دن زیادہ اجر و ثواب والا ہوگا۔ پھر میں حضورﷺ کے ساتھ تھوڑی دیر اور چلا۔ اس کے بعد آپ نے مجھ سے فرمایا: تم یہاں بیٹھ جائو۔ اور حضورﷺ نے مجھے ایک وسیع ہموار میدان میں بٹھا دیا جس کے ارد گرد پتھر ہی پتھر تھے۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: میرے واپس آنے تک یہیں بیٹھے رہنا۔ یہ فرماکر حضورﷺ نے ایک پتھر یلے میدان میں چلنا شروع کر دیا ا ور چلتے چلتے اتنی دور چلے گئے کہ مجھے نظر نہیں آرہے تھے۔ پھر کافی دیر کے بعد آپ واپس آئے تو میں نے دورسے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: اگر چہ وہ زناکرے اور چوری کرے۔ جب آپ میرے پاس پہنچ گئے تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے آپ سے پوچھا: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے! آپ اس پتھر یلے میدان میں کس سے باتیں کر رہے تھے؟ مجھے تو آپ کی باتوں کا جواب دیتا ہوا کوئی سنائی نہ دیا؟ حضورﷺ نے فرمایا: یہ جبرائیل ؑ تھے جو اس پتھر یلے میدان کے کنارے میں میرے سامنے آئے تھے اور انھوں نے کہا تھا: آپ اپنی امت کو یہ خوش خبری سنادیں کہ جواس حال میں مرے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا: اے جبرائیل! اگر چہ وہ زنا کرے اورچوری کرے؟ حضرت جبرائیل ؑ نے عرض کیا: جی ہاں۔ (حضرت ابو ذر ؓ فر ماتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر چہ وہ چوری کرے اور زنا کرے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: جی ہاں، اگر چہ وہ شراب پیے۔1 ’’بخاری،مسلم اور ترمذی‘‘ کی اس جیسی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے چوتھی مرتبہ میں فرمایا: چاہے ابوذر کی ناک خاک میں مل جائے (یعنی ایسا ہی ہو گا اگر چہ ابوذر کی رائے یہ ہے کہ ایسا نہ ہو)۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک بوڑھے دیہاتی تھے جنھیں علقمہ بن عُلاثہ کہا جاتاتھا۔ انھوں نے ایک مرتبہ حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بہت بوڑھا ہوں اب اس عمر میں قرآن نہیں سیکھ سکتا، لیکن میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور مجھے اس کا پکا یقین ہے۔ جب وہ بڑے میاں چلے گئے تو حضورﷺ نے فرمایا: یہ آدمی بڑا سمجھ دار ہے۔ یا فرمایا: تمہارا یہ ساتھی بڑا سمجھ دار ہے۔2 حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ جو آدمی بھی اسے سچے دل سے کہے گا وہ آگ پر ضرور حرام ہوجائے گا۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کہا: کیا میں آپ کو بتاؤں وہ کلمہ کون سا ہے؟ یہ وہ کلمۂ اخلاص ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓکو جمائے رکھا، اور یہ وہ تقویٰ والا کلمہ ہے جس کی حضورﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کومرتے وقت بہت ترغیب دی تھی، یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں۔1 حضرت یعلیٰ بن شداد کہتے ہیں کہ میرے والد حضرت شداد ؓ نے مجھے یہ واقعہ سنایا، اس وقت حضرت عبادہ بن صامت ؓ بھی اس مجلس میں موجود تھے اور وہ میرے والد کی تصدیق کررہے تھے۔ میرے والد نے فرمایا کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم میں کوئی اجنبی یعنی اہلِ کتاب (یہود) میں سے ہے؟ ہم نے عرض کیا: نہیں، یا رسول اللہ! پھر حضورﷺ نے فرمایا: دروازہ بند کر دو۔ (ہم نے دروازہ بند کردیا) پھر حضورﷺ نے فرمایا: اپنے ہاتھ اوپر اٹھا ؤ اور لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہو۔ چناںچہ ہم نے کچھ دیر اپنے ہاتھ اٹھائے رکھے (حضورﷺ بھی ہاتھ اٹھا ئے ہوئے تھے)، پھر حضورﷺ نے اپنے ہاتھ نیچے کیے (اور ہم نے بھی نیچے کیے) پھر آپ نے فرمایا: الحمداللہ، اے اللہ! تو نے مجھے یہ کلمہ دے کر بھیجا اور اس (پر ایمان لانے) کا حکم دیا اور اس پر جنت کاتو نے وعدہ فرمایا اور تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ پھر فرمایا: غور سے سنو! تمھیں بشارت ہو کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مغفرت کردی ہے۔2 حضرت رِفاعہ جُہنی ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ واپس آرہے تھے۔ جب ہم ’’کَدِید‘‘ یا ’’قُدَید‘‘ مقام پر پہنچے تو کچھ لوگ آپ سے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کی اجازت مانگنے لگے۔ حضورﷺ ان کو اجازت دینے لگے۔ پھر کھڑے ہوکر حضورﷺ نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ ان کو درخت کا وہ حصہ جو رسول اللہ ﷺ کے قریب ہے دوسرے حصے سے زیادہ ناپسند ہے۔ بس اس بات کے سنتے ہی سب رونے لگے۔ کوئی ایسا نظر نہیں آرہا تھا جو رو نہ رہا ہو۔ ایک آدمی نے کہا: اس کے بعد جو اجازت مانگے گا وہ یقینا بڑا نادان ہوگا۔ حضورﷺ نے پھر اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور خیر کی بات کی اور فرمایا: میں اللہ کے ہاں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جو بندہ اس حال میں مرے گا کہ وہ اس بات کی سچے دل سے گواہی دے رہا ہو کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور پھر وہ ٹھیک ٹھیک چلتا رہے، تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔ اور میرے ربّ عز وجل نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری اُمت میں سے ستّر ہزار آدمی جنت میں حساب کتاب اور عذاب کے بغیر داخل کرے گا۔ اور مجھے امید ہے کہ آپ لوگ اور آپ لوگوں کے نیک ماں باپ اور نیک بیوی بچے جنت میں پہلے اپنے ٹھکانوں میں پہنچ جائیں گے، پھر وہ ستّرہزار جنت میں داخل ہوں گے۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا تھا کہ اس کے بعد آپ سے جو اجازت مانگے گا وہ یقینا بڑا نادان ہوگا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: اے فلاں! تم نے ایسے اور ایسے کیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! میں نے ایسے نہیں کیا۔ چوںکہ حضورﷺ کو معلوم تھا کہ اس نے یہ کام کیا ہے، اس لیے آپ نے اس سے کئی مرتبہ پوچھا (لیکن ہر مرتبہ وہ یہی جواب دیتارہا)۔ حضورﷺ نے فرمایا: چوںکہ تم لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکی تصدیق کررہے ہو اس وجہ سے تمہارے اس گناہ کو مٹادیاگیا۔2 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: تمہارے لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ کی تصدیق کرنے کی وجہ سے تمہارے جھوٹ کا کفارہ ہوگیا۔3 حضرت ابنِ زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے جھوٹی قسم کھائی اور یوں کہا کہ اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! تو (جھوٹی قسم کھانے کا) گناہ معاف کردیا گیا(کیوںکہ اس نے قسم کے ساتھ لَا إِلٰـہَ إِلَّا ہُوَ کے الفاظ بھی کہہ دیے تو ان الفاظ کی برکت سے وہ گناہ معاف ہو گیا)۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ حضو ر ﷺ نے فرمایا کہ جہنمی لوگ جب جہنم میں اکٹھے ہوجائیں گے اور ان کے ساتھ کچھ قبلہ کوما ننے والے یعنی کچھ مسلمان بھی ہوں گے، تو وہ کافر مسلمانوں سے کہیں گے کہ کیا تم لوگ مسلمان نہیں تھے؟ وہ مسلمان جواب دیں گے: کیوں نہیں! ہم تو مسلمان تھے۔ کفار کہیں گے: تمہارے اسلام کا تمھیں کیا فائدہ ہو ا؟ تم بھی ہمارے ساتھ جہنم میں آگئے۔ مسلمان جواب میں کہیں گے: ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی وجہ سے ہم پکڑے گئے اور جہنم میں ڈال دیے گئے۔ مسلمانوں کے اس جواب کو اللہ تعالیٰ سنیں گے اور (فرشتوں کو) حکم دیں گے۔ چناںچہ جہنم میں جتنے قبلہ کو ما ننے والے مسلمان ہوں گے وہ سب اس میں سے نکال دیے جائیں گے۔ جب جہنم میں باقی رہ جانے والے کافریہ منظر دیکھیں گے تو وہ کہیں گے: ا ے کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے، تو جیسے یہ نکل گئے ہم بھی جہنم سے نکل جاتے۔ پھر حضورﷺ نے أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ پڑھ کر یہ آیا ت پڑھیں: {الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ آیت کا نشان رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ آیت کا نشان}1 الٓرٰ۔ یہ آیتیں ہیں ایک کامل کتاب اور قرآن واضح کی۔ کافر لوگ بار بار تمنا کریں گے: کیا خوب ہوتا اگر وہ مسلمان ہوتے!2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ والوںمیں سے کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں چلے جائیں گے، تو لات اور عزیٰ(بتوں) کو ماننے والے ان سے کہیں گے کہ جب تم بھی ہمارے ساتھ جہنم کی آگ میں ہو تو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہنے کا تمھیں کیا فائد ہ ہو ا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کو مسلمانوں کے حق میں غصہ آجائے گا، تو اللہ تعالیٰ انھیں وہاں سے نکال کر نہرِ حیات میں ڈال دیں گے، جس سے ان کے جسم جہنم کی جلن سے ایسے صا ف ہوجائیں گے جیسے کہ چاند گرہن سے نکل کر صاف ہو جاتا ہے اور جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جنت میں یہ لوگ جہنمی کے نام سے پکارے جائیں گے۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ چوںکہ ان کے چہروں میں کچھ سیاہی ہوگی اس لیے یہ لوگ جنت میں جہنمی کے نام سے پکارے جائیں گے۔ وہ عرض کریں گے: اے ربّ! تو ہمارا یہ نام ختم کردے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت کی نہر میں نہانے کا حکم دیں گے۔ وہ اس نہر میں نہائیں گے تو (وہ سیاہی چلی جائے گی اور) ان کا یہ نام ختم جائے گا۔2 حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: اسلام بھی ایسے پرانا ہوجائے گا جیسے کپڑے کے نقش ونگار پر انے ہوجاتے ہیں۔ کسی کو معلوم نہ ہوگا کہ روزہ، صدقہ اور قربانی کیا چیز ہے۔ اللہ کی کتاب یعنی قرآن پر ایک رات ایسی آئے گی کہ اس کی ایک آیت بھی زمین پر باقی نہ رہے گی (فرشتہ ساری زمین سے سارا قرآن اٹھا کرلے جائے گا)۔ اور لوگوں کی مختلف جماعتیں باقی رہ جائیں گی جن کے بوڑھے مرد اور بوڑھی عورتیں کہیں گی: ہم نے اپنے آباؤاجداد کو اس کلمہلَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُپر پایا تھا، ہم بھی یہی کلمہ پڑ ھتے ہیں۔ حضرت صِلَہ (راوی) نے پوچھا کہ جب وہ لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ روزہ، صدقہ اور قربانی کیا چیز ہے، تو لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ پڑھنے سے انھیں کیا فائدہ ہوگا؟ حضرت حذیفہ نے ان سے اِعراض فرمالیا۔ حضرت صِلَہ نے دوبارہ پوچھا تو حضرت حذیفہ نے پھر اِعراض فرمالیا۔ جب تیسری مرتبہ پوچھا تو حضرت حذیفہؓ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے صِلَہ! یہ کلمہ انھیں آگ سے نجات دے گا، یہ کلمہ انھیں آگ سے نجات دے گا، یہ کلمہ انھیں آگ سے نجات دے گا۔3 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے زیادہ معاملہ صاف رکھنے والا اور اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والا وہ آدمی ہے جولَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ والوں سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا اور ان کی سب سے زیادہ تعظیم کرنے والا ہو۔4 حضرت سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء ؓ کو کسی نے بتایا کہ حضرت ابوسعد بن مُنَبِّہ نے سو غلام آزادکیے ہیں۔ حضرت ابوالدرداء نے فرمایا: ایک آدمی کے مال میں سے سو غلام بہت زیادہ ہیں، لیکن اگر تم کہو تو میں تمھیں اس سے بھی زیادہ فضیلت والے (اعمال) بتادوں؟ ایک تو وہ ایمان جودن رات ہر وقت دل سے چمٹا ہوا ہو، اور دوسرے یہ کہ ہر وقت تمہاری زبان اللہ کے ذکرسے تر رہے۔1 حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہاری روزی کو تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے اسی طرح اخلاق کو بھی تمہارے درمیان تقسیم کیا ہے۔ اور اللہ تعا لیٰ مال تو اُسے بھی دے دیتے ہیں جس سے محبت ہو اور اسے بھی دے دیتے ہیں جس سے محبت نہ ہو، لیکن ایمان صرف اسے ہی دیتے ہیں جس سے محبت ہو۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اسے ایمان دے دیتے ہیں، لہٰذا جو بخل کی وجہ سے مال نہ خرچ کرسکتا ہو اور بزدلی کی وجہ سے دشمن سے جہاد نہ کرسکتا ہو اور راتوں کو محنت نہ کرسکتا ہوں، اسے چاہیے کہ وہ لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ کثرت سے کہاکر ے۔2