صحابہ کرام ؓ کا ایمان
اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر ایمان لانا
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے ایک آد می کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا۔ وہ جب بھی اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھا تا تو {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ } ضرور پڑ ھتا۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انھوں نے حضورﷺ سے اس کا تذکر ہ کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس سے پوچھو وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟ ان لوگوں نے اس سے پوچھا، تو اس نے بتایا کہ چوںکہ اس سورت میں رحمن کی صفات کا تذکرہ ہے اس لیے اس کا پڑ ھنا مجھے بہت پسند ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے بتادو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتے ہیں۔1
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیںکہ ایک یہودی عالم نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:یا محمد! یاکہا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو دوسری انگلی پر رکھا۔پہاڑوں، درختو ں، پانی اور گیلی مٹی کو تیسری انگلی پر، اور باقی ساری مخلوق کو چو تھی انگلی پر رکھا۔ اور اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو ہلاکر فرماتے ہیں کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ حضورﷺ اس یہودی عالم کی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے اتنا ہنسے کہ آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر آپ نے یہ آیت آخر تک پڑھی:
{ وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖصلیق وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌم بِیَمِیْنِہٖط سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ آیت کا نشان}1
اور (افسوس ہے کہ) ان لوگوں نے اللہ تعالی کی کچھ عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہیے تھی۔ حالاںکہ (اس کی وہ شان ہے کہ) ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان لپٹے ہوں گے اس کے داہنے ہاتھ میں، وہ پاک اور بر تر ہے ان کے شرک سے۔3
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ قیامت کے دن کافر کو کیسے منہ کے بل اٹھایا جائے گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: جس ذات نے اسے دنیا میں پاؤں کے بَل چلایا، وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ اسے قیامت کے دن منہ کے بل چلائے۔1
حضرت حذیفہ بن اُسیدکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذر ؓ نے کھڑے ہو کر (اپنی قوم سے) کہا:اے بنو غِفار! تم بات کیا کرو اور قسم نہ کھا یا کرو، کیوںکہ صادق مصدوق (یعنی جوخود بھی سچ بولتے تھے اور ان سے فرشتہ بھی سچ بات آکر کہتا تھا یعنی حضورﷺ) نے مجھے یہ بتایا ہے کہ (قیامت کے دن) لوگوںکو تین جماعتوں میں اٹھا یا جائے گا: ایک جماعت تو سوار ہو گی، اور یہ لوگ کھاتے پیتے اور کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے۔ اور ایک جماعت پیدل بھاگ رہی ہوگی۔ اور ایک جماعت کو فرشتے منہ کے بل گھسیٹ کر (جہنم کی) آگ کے پاس جمع کررہے ہوںگے۔ ان میں سے ایک آدمی نے پوچھا کہ دوجماعتوں کو تو ہم نے پہچان لیا ہے، لیکن جو لوگ پیدل بھاگ رہے ہوںگے ان کا یہ حال کیوں ہوگا؟ حضرت ابوذر ؓ نے کہا: اللہ تعالیٰ سوار ی پر آفت ڈال دیں گے اور ایک سواری بھی باقی نہ رہے گی، یہاں تک کہ ایک آدمی کے پاس ایک پسند ید ہ باغ ہوگا، وہ یہ باغ دے کر پالان والی بوڑھی اونٹنی لینا چاہے گا لیکن وہ بھی اسے نہ مل سکے گی۔2
حضرت عائشہ صدیقہؓ کے ماں جائے بھائی حضرت طفیل بن عبد اللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ نصاریٰ کی ایک جماعت سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کہا: اگر تم لوگ یہ دعویٰ نہ کرو کہ حضرت مسیح ( ؑ) اللہ کے بیٹے ہیں تو تم لوگ بہت اچھے ہو۔ انھوں نے کہا: اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ جیسے اللہ نے چاہا اور جیسے محمد (ﷺ) نے چاہا، تو تم لوگ بھی بہت اچھے ہوجاؤ۔ پھر میری یہودیوں کی ایک جماعت سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے کہا: اگر تم یہ دعویٰ نہ کرو حضرت عزیر ( ؑ)اللہ کے بیٹے ہیں تو تم لوگ بہت اچھے ہو۔ انھوں نے کہا: تم لوگ بھی تو یہ کہتے ہو کہ جیسے اللہ نے چاہا اور جیسے محمد(ﷺ) نے چاہا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ خواب سنایا۔ حضورﷺ نے فر ما یا: تم نے یہ خواب کسی کو بتا یا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ پھر حضورﷺ نے اللہ کی حمد وثنا بیان فرما کر ارشاد فر مایا: تمہارے بھائی نے وہ خواب دیکھا جس کا مضمون تم تک پہنچ چکا ہے، لہٰذا تم لوگ یہ نہ کہا کرو، بلکہ یہ کہا کرو: جیسے اللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ نے چاہا۔1
حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے خواب میں دیکھا کہ اہلِ کتاب میں سے ایک آدمی اسے ملا جس نے کہا: تم لوگ اگر شرک نہ کرتے، اور جیسے اللہ اور محمد (ﷺ) نے چاہا نہ کہتے تو تم لوگ بہت اچھے ہوتے۔ اس آدمی نے اس خواب کا ذکر حضورﷺ سے کیا۔ حضورﷺ نے فر مایا: آپ لوگوں کی یہ بات مجھے بھی پسند نہیں، اس لیے آیندہ آپ لوگ یوں کہا کر یں: جیسے اللہ نے چاہا، پھر جیسے فلاں نے چاہا۔ یعنی اللہ اور رسول دونوں کو ایک جملہ میں اکٹھا ملا کر نہ لاؤ، بلکہ الگ الگ جملوں میں لے کرآؤ۔2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی حاضرِ خدمت ہو کر حضورﷺ سے کسی کام کے بارے میں بات کرنے لگا اور بات کر تے کرتے اس نے یوں کہہ دیا: جیسے اللہ اور آپ چاہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا تم نے مجھے اللہ کے برابربنادیاہے؟ بلکہ یوں کہو:جیسے اکیلا اللہ چاہے۔3
حضرت اَوزاعیکہتے ہیں کہ ایک یہودی نے آکر حضورﷺ سے مشیّت کے بارے میں پوچھا (کہ کس کے چاہنے سے کام ہوتا ہے)۔ حضورﷺ نے فرمایا: کام تو اللہ ہی کے چا ہنے سے ہوتا ہے۔ اس یہودی نے کہا کہ میں کھڑا ہونا چاہتاہوں (تو کھڑا ہوجاتا ہوں، یعنی میرے چاہنے سے ہوا)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے بھی تمہارے کھڑے ہونے کو چاہ لیا تھا (اس لیے تم کھڑے ہو سکے)۔ پھر اس یہودی نے کہا: میں بیٹھنا چاہتا ہوں (تو بیٹھ جاتا ہوں)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ نے بھی تمہارے بیٹھنے کو چاہ لیا تھا۔ اس یہودی نے کہا: میںکھجور کے درخت کو کاٹنا چاہتاہوں (تو کاٹ لیتا ہوں)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ نے چاہ لیا تھا کہ تم اس درخت کو کاٹ لو۔ اس یہودی نے کہا: میں اس درخت کو باقی رکھنا چاہتا ہوں (تو وہ باقی رہ جاتا ہے)۔ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ نے چاہ لیا تھا کہ تم اسے باقی رکھو۔ حضرت اَوزاعی کہتے ہیں کہ پھر حضرت جبرائیل ؑ حضورﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ دلیل سُجھائی جیسے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو سُجھا ئی تھی۔ یہی مضمون لے کر قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
{مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّینَۃٍ اَوْ تَرَکْتُمُوْھَا قَآئِمَۃً عَلٰی اُصُوْلِھَا فَبِاِذْنِِ اللّٰہِ وَلِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ آیت کا نشان}1
جو کھجوروں کے درخت کے تنے تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو ان کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا ہو، سو (دونوں باتیں) اللہ ہی کے حکم (اور رضا) کے موافق ہیں اور تاکہ کافر وں کو ذلیل کرے۔2
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو آپ نے رات کے آخری حصہ میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا اور فرمایا: ہمارا پہرہ کون دے گا؟ میں نے عرض کیا: میں، میں۔ حضورﷺ نے فرمایا: تم؟ تم؟ تم تو سوتے رہ جاؤگے۔ پھر حضور ﷺ نے فرمایا: اچھا تم ہی پہرہ دو۔ چناںچہ میں پہرہ دینے لگا۔ جب صبح صادق ہونے لگی تو حضورﷺ کی بات پوری ہوگئی اور مجھے نیند آگئی اور جب سورج کی گرمی ہماری پشت پر پڑی تب ہماری آنکھ کھلی۔ چناںچہ حضورﷺ اٹھے اور ایسے موقع پر جو کیا کر تے تھے وہ کیا۔ پھر آپ نے صبح کی نماز پڑھا ئی پھرفرمایا: اگراللہ چاہتے توتم یوں سوتے نہ رہ جاتے اور تمہاری نماز قضا نہ ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ تمہارے بعد آنے والوں میں سے کوئی سوتا رہ جائے یا نماز پڑ ھنا بھول جائے تو اس کے لیے عملی نمونہ سامنے آجائے۔3
حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ ؓ وضو والے برتن کی حدیث میں اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (کہ نماز قضا ہوجانے کے موقع پر) جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تمہاری روحوں کو قبض فرمالیا اور جب چاہا واپس کردیا۔ پھر صحابہ ؓ نے سورج کی روشنی کے سفید ہونے تک (وضو استنجا وغیر ہ کی) اپنی ضرور یات پوری کیں پھر کھڑے ہوکر حضورﷺ نے نماز پڑھائی۔1
حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے آکر حضرت عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا کہ ذرا یہ تو بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ}2
اور جنت جس کی وسعت ایسی ہے جیسے سب آسمان اور زمین۔
(جب سب جگہ جنت ہوگئی) تو پھر جہنم کہاں ہے؟ حضرت عمر ؓ نے حضرت محمد ﷺ کے صحابہ ؓسے فرمایا کہ اسے جواب دو، لیکن ان میں سے کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ذرا تم یہ بتاؤ کہ جب رات آکر ساری زمین پر چھا جاتی ہے تو دن کہاںچلا جا تا ہے؟ اس یہودی نے کہا: جہاں اللہ چاہتے ہیں وہاں چلاجاتاہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: ایسے ہی جہنم بھی وہاں ہے جہاں اللہ چاہتا ہے۔ اس پر اس یہودی نے کہا کہ اے امیر المؤمنین! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے!اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں بھی اسی طرح ہے جیسے آپ نے فرمایا۔3
حضرت جعفر بن محمد اپنے والد (حضرت محمد ) سے نقل کر تے ہیں کہ حضرت علیؓکو بتایا گیا کہ یہاں ایک آدمی ہے جو مشیّت اور ارادے کے بارے میں باتیں کرتا ہے۔ تو حضرت علیؓ نے اس سے فرمایا: اے اللہ کے بندے! اللہ نے جیسے چاہا تمھیں ویسے پیدا کیا یا جیسے تم نے چاہا (تمھیں ویسے پیدا کیا)؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ جیسے اللہ نے چاہا ویسے پیداکیا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: جب وہ چاہتا ہے تمھیں بیمار کر تا ہے یا جب تم چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ جب وہ چاہتا ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: پھر جب وہ چاہتا ہے تمھیں شفادیتا ہے یا جب تم چاہتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ جب وہ چاہتا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: جہاں تم چاہتے ہو اللہ تمھیں وہاں داخل کرے گا یا جہاں وہ چاہتا ہے؟ اس نے کہا: جہا ں وہ چاہتا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تم ا س کے علاوہ کچھ اور کہتے تو میں تمہارے اس دو آنکھوں والے سر کو تلوار سے اڑا دیتا۔1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! جب ہم آپ کے پاس ہو تے ہیں تو ہماری بڑی عجیب ایمانی حالت ہوتی ہے، لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوجاتے ہیں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہارا اپنے ربّ کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا: ہم تنہا ئی میں بھی اور لوگوں کے سامنے بھی اللہ ہی کو اپنا ربّ سمجھتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرما یا: پھر یہ نفاق نہیں ہے۔2
حضر ت ابو ہریر ہ ؓ فرما تے ہیں کہ ایک دیہاتی نے آکر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا: یارسول اللہ! قیامت کے دن مخلوق کا حساب کون لے گا؟ حضورﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ۔ اس دیہاتی نے کہا: ربِّ کعبہ کی قسم! پھر تو ہم نجات پاگئے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے دیہاتی! کیسے؟ اس نے عرض کیا: کیوںکہ کریم ذات جب کسی پر قابو پالیتی ہے تو معاف کردیتی ہے۔3
حضرت سعید بن المسیّب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے حضرت معاذ ؓ کو قبیلۂ بنو کِلاب میں صدقات وصول کر نے کے لیے بھیجا۔ انھوں نے (وہاں جاکر صدقات وصول کر کے) ان ہی میں تقسیم کر دیے اور (اپنے لیے) کوئی چیز نہ چھوڑی اور اپنا جو ٹاٹ لے کرگئے تھے اسے ہی اپنی گردن پر رکھے ہوئے واپس آئے، تو ان کی بیوی نے ان سے پوچھا کہ صدقات وصول کر نے والے اپنے گھر والوں کے لیے جو ہدیے لایا کر تے ہیں اور آپ بھی وہ لائے ہیں، وہ کہاں ہیں؟ حضرت معاذؓ نے کہا: میرے ساتھ (مجھے) دباکر رکھنے والا ایک نگران تھا (اس لیے ہدیے نہیں لاسکا)۔ ان کی بیوی نے کہا: حضورﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کے ہاں تو آپ امین تھے، حضرت عمر ؓ نے آپ کے ساتھ دباکر رکھنے والا ایک نگران بھیج دیا (وہ آپ کو امین نہیں سمجھتے)۔ ان کی بیوی نے اپنے خاندان کی عورتوں میں اس کا بڑا شور مچایا اور حضرت عمرؓ کی شکایت کی۔ جب حضرت عمرؓکو یہ خبر پہنچی تو انھوں نے حضرت معاذؓکو بلاکر پوچھا: کیا میں نے تمہارے ساتھ کوئی نگران بھیجا تھا؟ حضرت معاذؓ نے کہا: مجھے اپنی بیوی سے معذرت کرنے کے لیے اور کوئی بہانہ نہ ملا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ ہنسے اور انھیں کوئی چیز دی اور فرمایا: (یہ دے کر) اسے راضی کرلو۔ ابنِ جریر کہتے ہیں کہ نگران سے حضرت معاذؓ کی مراد اللہ تعالیٰ ہیں۔1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام آواز وں کو سن لیتا ہے۔ ایک عورت اپنا جھگڑا لے کر حضورﷺ کے پاس آئی اور حضورﷺ سے باتیں کرنے لگی، حالاںکہ میں کمرے کے ایک کونے میں تھی، لیکن مجھے اس کی بات سنائی نہیں دے رہی تھی (اور اللہ تعالیٰ نے اس کی آواز سن لی)۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
{ قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا}آخر تک۔2
بے شک اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑتی تھی اور (اپنے رنج وغم) کی اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا (اور) اللہ(تو) سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔3
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: بابر کت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سن لیتی ہے۔ میں حضرت خولہ بنت ثعلبہؓ کی بات سن رہی تھی لیکن کبھی ان کی آواز مجھے آتی تھی اور کبھی نہیں آ تی تھی۔ وہ نبی کریم ﷺ سے اپنے خاوند کی شکایت یوں کررہی تھی کہ یا رسول اللہ! میرے خاوند نے میرا سارا مال کھالیا اور میری جوانی ختم کردی اور میرے پیٹ سے اس کے بہت سے بچے پیدا ہوئے، یہاں تک کہ جب میری عمر زیادہ ہوگئی اور میرے بچے ہونے بند ہو گئے تو اس نے مجھ سے ظِہار کر لیا۔ (ظہار طلاق کی ایک قسم ہے) اے اللہ! میں تجھ سے اس کی شکایت کرتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت خولہ ابھی وہاں سے اٹھی نہیں تھیں کہ حضرت جبرئیل ؑ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِھَا}والی آیت لے کر آگئے۔ حضرت خولہؓ کے خاوند حضرت اَوس بن صامت ؓ تھے۔1
حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت ابو بکر ؓ نے کہا: اے لوگو! اگر محمد ﷺ تمہارے معبود تھے جن کی تم عبادت کر تے تھے تو سن لو ان کا انتقال ہوچکا۔ اور اگر تمہارا معبود وہ ہے جو آسمان میںہے تو پھر تمہارے معبود کا انتقال نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے یہ آیت پڑھی:
{وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مَنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ}2
محمد(ﷺ) نِرے رسول ہی تو ہیں، آپ سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزرچکے ہیں۔3
صحابۂ کرامؓ کے حضرت ابو بکر صدیقؓکی خلافت پر اتفاق کے باب میں حضرت ابوبکر ؓ کا خطبہ گزرچکا ہے۔ اس میں یہ ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت محمدﷺ کو اتنی عمر عطافرمائی اور ان کو اتنا عرصہ دنیا میں باقی رکھا کہ اس عرصہ میں آپ نے اللہ کے دین کو قائم کردیا، اللہ کے حکم کو غالب کردیا، اللہ کا پیغام پہنچادیا اور اللہ کے راستہ میں جہادکیا، پھر آپ کو اللہ نے اسی حالت پر وفات دی۔ اور محمدﷺ تمھیں ایک (صاف اور کھلے) راستے پر چھوڑکر گئے ہیں، اب جو بھی ہلاک ہوگا وہ اسلام کی واضح دلیلوں اور (کفر و شرک سے) شفا دینے والے قرآن کو دیکھ کرہی ہوگا۔ جس آدمی کے ربّ اللہ تعالیٰ ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہیں جن پر موت نہیں آسکتی، اور جو حضرت محمد ﷺ کی عبادت کیا کرتاتھا اور ان کو معبود کا درجہ دیا کرتا تھا تو (وہ سن لے کہ) اس کا معبود مرگیا۔
لہٰذا اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور اپنے دین کو مضبوط پکڑلو اور اپنے ربّ پر توکل کرو، کیوںکہ اللہ کا دین موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہے، اور جو اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا اللہ اس کی مدد فرمائیں گے، اور اپنے دین کو عزت عطافرمائیںگے، اور اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمارے پاس ہے جو کہ نور اور شفا ہے۔ اس کتاب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺکو ہدایت عطافرمائی، اور اس کتاب میں اللہ کی حلال اور حرام کردہ چیزیں مذکور ہیں۔ اللہ کی قسم! اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی ہمارے اوپر لشکر لائے گا ہم اس کی پر وا نہیں کریں گے۔ بے شک اللہ کی تلواریں سُتی ہوئی ہیں اور ہم نے ابھی ان کو رکھا نہیں۔ اور جو ہماری مخالفت کرے گا ہم اس سے جہادکریں گے جیسے کہ ہم حضورﷺکے ساتھ مل کر جہاد کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث بیہقی نے حضرت عروہ بن زبیرؓ سے روایت کی ہے۔
حضرت علقمہ اپنی والدہ سے نقل کر تے ہیں کہ ایک عورت حضرت عائشہ ؓ کے گھر آئی اور حضورﷺ کے حجرے (جس میں حضورﷺ دفن ہیں اس) کے پاس نماز پڑھنے لگی، وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی۔ جب سجدے میں گئی تو اس نے سجدے سے سر نہ اٹھا یا بلکہ اسی حال میں مرگئی۔ حضرت عائشہؓ نے (اس کے یوں اچانک مرجانے پر) فرما یا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو زندہ کر تا ہے اور موت دیتا ہے، اور (میرے بھائی) عبد الرحمن بن ابی بکرؓ (کی اچانک موت) کے مسئلہ میں مجھے عورت کے اس قصہ سے بڑی عبرت ملی۔ حضرت عبد الرحمن ؓ دوپہر کو اپنی جگہ سوئے تھے جب لوگ انھیں جگانے لگے تو دیکھا کہ ان کا انتقال ہوچکا ہے (چناںچہ ان کو جلدی سے غسل دے کر دفن کردیا گیا)۔ اس سے میرے دل میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ ان کے ساتھ شرارت کی گئی اور وہ زندہ تھے، لیکن جلدی میں انھیں دفن کردیا گیا ہے۔ اب جو میں نے اس عورت کو یوں ایک دم مرتے دیکھا تو اس سے مجھے بڑی عبرت ہوئی اور حضرت عبد الرحمنؓ کے بارے میںجو میر ا غلط خیال تھا وہ جاتا رہا۔1