صحابہ کرام ؓ کا ایمان
تقدیر پر ایمان لانا
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلا یا گیا۔ میں نے کہا: اس بچے کو خوش خبری ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اور اس نے کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ گناہ کا زمانہ اس نے پایا (یعنی بالغ نہیں ہو ا)۔ حضورﷺ نے فر مایا: اے عائشہ! تم جو کچھ کہہ رہی ہو حق اس کے علاوہ کچھ اور ہے۔ اللہ نے جنت کو پیدا فر مایا اور جنت کے لیے کچھ لوگ پید ا فر ما ئے، اور ان کے جنت میں جانے کا فیصلہ اللہ نے اس وقت کیا جب کہ وہ اپنے باپ کی پشتوں میں تھے۔ اور اللہ نے جہنم کی آگ کو پیدا کیا اور اس میں جانے کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا، اور اللہ نے ان کے لیے جہنم کا فیصلہ اس وقت کیا جب کہ وہ اپنے باپ کی پشتوں میں تھے۔1
حضرت ولید بن عُبادہ کہتے ہیں کہ میں (اپنے والد) حضرت عبادہؓکی خدمت میں گیا وہ بیمار تھے۔ میرا انداز ہ یہ تھا کہ ان کا اس بیماری میں انتقال ہوجائے گا۔ میں نے عرض کیا: اے اباجان! ذراکو شش فرماکر مجھے وصیت فرما دیں۔ انھوں نے فرمایا: مجھے بٹھا دو۔ جب لوگوں نے انھیں بٹھا دیا تو انھوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! تم ایمان کا ذ ائقہ اس وقت چکھ سکوگے اور اللہ کے علم کی حقیقت کے حق تک اس وقت پہنچ سکوگے، جب تم اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آؤگے۔ میں نے عرض کیا: اے اباجان! مجھے یہ کیسے پتا چلے گا کہ کون سی تقدیر اچھی ہے اور کون سی بری ہے؟ انھوں نے فرمایا: تم یہ سمجھ لو کہ جو اچھا ئی یا برائی تمھیں نہیں پہنچی وہ تمھیں پہنچنے والی نہیں تھی اور جو تمھیں پہنچی ہے وہ تمھیں چھوڑنے والی نہیں تھی۔ اے میرے بیٹے! میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم پیدا فرمایا، پھر اس سے فرما یا: لکھ۔ چناںچہ اس نے اسی وقت وہ سب کچھ لکھ دیا جو قیامت تک ہونے والا ہے۔ اے میرے بیٹے! اگر تم اس حال پر مرے کہ تمہارے دل میں یہ یقین نہ ہوا تو تم جہنم کی آگ میں داخل ہو جاؤگے۔2
حضرت ابو نضرہ کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی جن کو ابو عبد اللہ (ؓ)کہا جاتا تھا۔ وہ بیمار تھے، ان کے ساتھی ان کی عیادت کرنے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں۔ ساتھیوں نے ان سے پوچھا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا آپ سے نبی کر یمﷺ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اپنی مونچھوں کو کترواؤ اور پھر اسی پر جمے رہو یہا ں تک کہ تم مجھ سے (قیامت کے دن) آملو؟ اس میں آپ کے ایمان پر خاتمہ کی اور قیامت کے دن حضورﷺ سے ملاقات کی بشارت ہے)۔ انھوں نے کہا: ہاں، حضورﷺ نے یہ فرمایاتھا، لیکن میں نے حضورﷺکو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (انسانوں کی) ایک مٹھی دائیں ہا تھ میں لی اور دوسری مٹھی دوسرے ہاتھ میں لی اور فر مایا کہ اس (داہنی) مٹھی والے اس (جنت) کے لیے ہیں اور اس (دوسری مٹھی) والے اس (جہنم) کے لیے ہیں اور مجھے کوئی پروا نہیں (کہ کون کس مٹھی میں ہے اور وہ کہاں جائے گا)۔ تو مجھے معلوم نہیں کہ میں کون سی مٹھی میں ہوں (اللہ کی ذات تو بہت بے نیاز ہے اس پر کسی کا زور نہیں چلتا)۔1
حضرت معاذ بن جبل ؓ کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو وہ رونے لگے، تو ان سے کسی نے پوچھا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ حضرت معاذ ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! نہ تو میں موت سے گھبرا کر رو رہا ہوں اور نہ ہی دنیاکو پیچھے چھوڑکر جانے کے غم میں رورہا ہو ں، بلکہ اس وجہ سے رورہا ہوں کہ میں نے حضورﷺکو فرما تے ہوئے سنا ہے کہ (انسانوں کی) دومٹھیاں ہیں۔ ایک مٹھی جہنم کی آگ میں جائے گی اوردوسری جنت میں، اور مجھے معلوم نہیں میں ان دونوں مٹھیوں میں سے کس میں ہوں۔2
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کسی آدمی نے کہا کہ ایک آدمی ہمارے پاس آیا ہے جو تقدیر کو جھٹلا تا ہے۔ حضرت ابنِ عباس اس وقت نابینا ہوچکے تھے، انھوں نے فرمایا: مجھے اس کے پاس لے جاؤ۔ لوگوں نے کہا: اے ابنِ عباس! آپ اس کے ساتھ کیا کریں گے؟ انھوں نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگروہ میرے قابو آگیا تو میں اس کی ناک دانتوں سے ایسے کاٹوں گا کہ وہ کٹ کر الگ ہوجائے، اور اگر اس کی گردن میرے قابو میں آگئی تومیں اسے کچل دوںگا، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرما تے ہوئے سنا ہے کہ گویا کہ میںبنو فِہر کی مشرک عورتوں کو خزرج کا طواف کر تے ہوئے اور ان کے سُرین ہلتے ہوئے دیکھ رہاہوں، اور یہ (تقدیر کو جھٹلا نا) اس امت کا پہلا شرک ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! پہلے تو یہ کہیں گے کہ شراللہ کے مقدر کرنے سے نہیں ہے۔ پھر ان کا یہ بر ا اور غلط خیال انھیں اس پر لے آئے گاکہ خیر بھی اللہ کے مقدر کرنے سے نہیں ہے۔1
حضرت عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں حضرت ابنِ عباسؓ کی خدمت میں آیا۔ وہ زمزم (کے کنویں) سے پانی نکال رہے تھے جس سے ان کے کپڑوں کا نچلا حصہ گیلا ہوچکا تھا۔ میں نے ان سے کہا: کچھ لوگوں نے تقدیر پر اعتراض کیا ہے۔ انھوں نے فرمایا: اچھا، کیا لوگوں نے ایسا کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا: تقدیر پر اعتراض کر نے والوں کے بارے میں ہی یہ آیات نازل ہوئی ہیں: { ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ آیت کا نشان اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍآیت کا نشان}2
تو اُن سے کہا جائے گا کہ دوزخ (کی آگ) کے لگنے کا مزہ چکھو۔ ہم نے ہر چیز کو انداز ے سے پیدا کیا۔
یہی لوگ اس اُمت میں سب سے برے ہیں۔ نہ تو ان کے بیمار وں کی عیادت کرو اور نہ ان کے مُردوں کی نمازِ جنازہ پڑھو۔ اگر مجھے ان میں سے کوئی نظر آگیا تو میں اپنی ان دو انگلیوں سے اس کی دونوں آنکھیں پھوڑ دوںگا۔3
حضرت ابنِ عباسؓ فرما تے ہیں کہ میرا دل یہ چاہتا ہے کہ اگر تقدیر کے انکا رکرنے والوں میں سے کوئی میرے پاس آجا ئے تو میں اس کے سر کو کچل دوں۔ لوگوں نے پوچھا:کیوں؟ انھوں نے فرمایا: اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ کو ایک سفید موتی سے پید ا کیا ہے۔ اس لوحِ محفوظ کے دونوں طرف کے پٹے سرخ یا قوت کے ہیں۔ اس کا قلم نور ہے، اس کی کتاب نور ہے، اس کی چوڑائی آسمان اور زمین کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے۔ روزانہ اللہ تعا لیٰ اسے تین سو ساٹھ مرتبہ دیکھتے ہیں او ر ہر دفعہ دیکھنے پر (نہ معلوم کتنی مخلوق کو) پیدا کر تے ہیں، زندہ کرتے ہیں اور موت دیتے ہیں۔ عزت دیتے ہیں اور ذلت دیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں کر تے ہیں۔4
حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ کا ایک دوست شام کا رہنے والا تھا جس سے ان کی خط و کتابت رہتی تھی۔ ایک دفعہ حضرت ابنِ عمرؓ نے اسے لکھا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم تقدیر کے بارے میں کچھ اعتراض کر نے لگ گئے ہو۔ خبردار! آیندہ مجھے کبھی خط نہ لکھنا، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو تقدیر کو جھٹلائیں گے۔1
حضرت نز ّال بن سَبُرہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علیؓ سے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین! یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ جو کام آیندہ ہونے والا ہے اس کا پتا اللہ کو اس وقت چلتا ہے جب وہ کام ہوجاتا ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا: ان کی مائیں ان کو گم کریں، یعنی یہ مر جائیں، یہ لوگ یہ بات کہاں سے کہہ رہے ہیں؟ تو لوگوں نے بتایا کہ وہ قرآن کی اس آیت سے یہ بات نکالتے ہیں:
{وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ حَتیّٰ نَعْلَمَ الْمُجٰھِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَلا وَنَبْلُوَاْ اَخْبَارَکُمْ آیت کا نشان}2
اور ہم ضرور تم سب کے اعمال کی آزمایش کر یں گے تاکہ ہم ان لوگوں کو معلوم کر لیں جو تم میںجہاد کر نے والے ہیں اور جو ثابت قدم رہنے والے ہیں اور تاکہ تمہاری حالتوں کی جانچ کرلیں۔
(یوں کہتے ہیں کہ اللہ کو معلوم نہیں ہے آزمانے سے اللہ کو معلوم ہوگا۔ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِکَ) حضرت علیؓ نے فرمایا: جو علم حاصل نہ کر ے وہ ہلاک ہو جائے گا۔
پھر حضرت علیؓ منبر پر تشریف فرما ہو ئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! علم حاصل کر و اور اس پر عمل کرو اور وہ علم دوسروں کو سکھاؤ اور جسے اللہ کی کتاب میں سے کوئی بات سمجھ میں نہ آئے وہ مجھ سے پوچھ لے۔ مجھے یہ پتا چلا ہے کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو کام آیندہ ہونے والا ہے اس کا پتا اللہ کو اس وقت چلتا ہے جب وہ ہو جاتا ہے، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰھِدِیْنَ}
اور ہم ضرور تم سب کے اعمال کی آزمایش کر یں گے تاکہ ہم ان لوگوں کو معلوم کر لیں جو تم میںجہاد کر نے والے ہیں۔
حالاںکہ اللہ کے فرمان ’’ ہم معلوم کر لیں ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ہم دیکھ لیں کہ جن لوگوں پر جہاد کرنا اور ثابت قدم رہنا فرض کیا گیا ہے، کیا انھوں نے جہاد کیا ہے؟ اور میں نے ان کے بارے میں جن مصائب اور حوادث کے آنے کا فیصلہ کیا تھا، کیا انھوں نے ان پر صبر کیا ہے؟1
توکل کے باب میں حضرت علی ؓ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ زمین پر اس وقت تک کوئی چیز نہیں ہو سکتی جب تک آسمان میں اس کے ہو نے کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ اور ہر انسان پر دوفرشتے مقرر ہیں جو ہر بلا کو اس سے دور کر تے رہتے ہیں اور اس کی حفاظت کر تے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اس کی تقدیر کا لکھا فیصلہ آجا ئے۔ اور جب تقدیر کا فیصلہ آجاتا ہے تو یہ دونوں فرشتے اس کے اور تقدیر کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے میری حفاظت کا بڑا مضبوط انتظام ہے، جب میری موت کا وقت آجائے گا تو وہ انتظام مجھ سے ہٹ جائے گا۔ اور آدمی کو ایمان کی حلاوت اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک کہ اس کو یہ یقین نہ ہو جائے کہ جو کچھ اچھا یا برا اُسے پہنچا ہے وہ اس سے ٹلنے والا نہیں تھا، اور جو اس سے ٹل گیا ہے وہ اسے پہنچنے والا نہیں تھا۔ ابوداؤد نے اسے ’’تقدیر‘‘ میںروایت کیا ہے۔
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ منبر پر بیان فرماتے ہوئے یہ اشعار بہت پڑ ھا کر تے تھے:
خَفِّضْ عَلَیْکَ فَإِنَّ الْأُمُُوْرَ
بِکَفِّ الإِلٰہِ مَقَادِیرُھَا
اپنے ساتھ آسانی کا معاملہ کرو (اور گھبراؤ مت)، کیوںکہ تمام کاموں کی تقدیر یں اللہ تعالیٰ کی ہتھیلی میں ہیں۔
فَلَیْسَ یَأْتِیْکَ مَنْھِیُّھَا
وَلَا قَاصِرٌ عَنْکَ مَأْمُوْرُھَا
جس کام کو اللہ نے منع کردیا وہ تمہارے پاس آ نہیں سکتا، اور جس کے ہو نے کا حکم دے دیا وہ تم سے ٹل نہیں سکتا۔2