صحابہ کرام ؓ کا ایمان

حضورﷺ کے صحابۂ کرام ؓ کا نماز کی ترغیب دینا

حضرت ابوبکر ؓ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھنے سے انسان زمین پر اللہ کی حفظ وامان میں آجاتا ہے۔ 4 حضرت ابوالملیحکہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطّابؓکو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جونماز نہ پڑھے اس کا کوئی اسلام نہیں۔5 حضرت زید بن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ آدمی کا اپنے گھر میں (نفل) نماز پڑھنا نور ہے۔ اور جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس کے اوپر لٹکا دیے جاتے ہیں اور وہ جب بھی سجدہ کرتا ہے تو اس سجدے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں مٹادیتے ہیں۔6 حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ بندہ جب وضو کرتا ہے او راچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر نماز کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ ہوکر اس سے سر گوشی کرتے ہیں۔ اور جب تک بندہ دوسری طرف متوجہ نہ ہواور دائیں بائیں نہ دیکھے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔1 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ نماز بہت بڑی نیکی ہے اور مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ میرے ساتھ نماز میں کون شریک ہوا۔2 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ جو بھی مسلمان کسی اونچی زمین میں جاکر یا پتھروں سے بنی ہوئی مسجد میں جاکر نماز پڑھتا ہے، تو زمین یہ کہتی ہے کہ اس مسلمان نے اللہ کی زمین پر اللہ کے لیے نماز پڑھی۔ (اے بندے!) جس دن تو اللہ سے ملاقات کرے گا اس دن میں تیرے حق میں گواہی دوں گی۔3 حضرت ابنِ عمروؓ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کی گردن میں پھوڑا نکل آیا۔ انھوںنے نماز پڑھی تو وہ پھوڑا نیچے اتر کر سینے پر آگیا۔ حضرت آدم ؑ نے پھر نماز پڑھی وہ کَوکھ میں آگیا۔ انھوں نے پھر نماز پڑھی تو وہ ٹخنے میں آگیا۔ انھوںنے پھر نماز پڑھی تو انگوٹھے میں آگیا۔ انھوں نے پھر نماز پڑھی تووہ چلاگیا۔ 4 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب تک تم نماز میں ہوتے ہوبادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہو۔ اور جو بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اس کے لیے دروازہ ضرور کھلتا ہے۔ 5 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: اپنی ضرور تیں فرض نمازوں پر اُٹھا رکھو، یعنی فرض نمازوں کے بعد اپنی ضرورتیں اللہ سے مانگو۔6 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: جب تک آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے گا، اس وقت تک ایک نماز سے لے کر دوسری نماز تک کے درمیان جتنے گناہ کیے ہوں گے وہ سارے گناہ اگلی نماز سے معاف ہوجائیں گے۔1 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نمازیں بعد والے گناہوں کے لیے کفارہ ہوتی ہیں۔ حضرت آدم ؑ کے پاؤں کے انگوٹھے میں ایک پھوڑا نکل آیا تھا۔ پھر وہ پھوڑا چڑھ کرپاؤں کی جڑ یعنی ایڑی میں آگیا، پھر چڑھ کر گھٹنوں میں آگیا، پھر کوکھ میں آگیا، پھر چڑھ کر گردن کی جڑ میں آ گیا۔ پھر حضرت آدم ؑ نے کھڑے ہوکر نماز پڑھی تو وہ پھوڑا کندھوں سے نیچے آگیا۔ انھوں نے پھر نماز پڑھی تو وہ اتر کر ان کی کوکھ میں آگیا۔ پھر نماز پڑھی تو اتر کر گھٹنوں میں آگیا۔ پھر نماز پڑھی تو اتر کر قدموں میں آگیا۔ پھر نماز پڑھی تووہ پھوڑا ختم ہوگیا۔2 حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ بندہ جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی خطائیں اس کے سر پر رکھ دی جاتی ہیں۔ اورجب نماز سے فارغ ہوتا ہے تو اس کی خطائیں اس سے ایسے جدا ہوچکی ہوتی ہیں جیسے کھجور کی ٹہنیاں دائیں بائیں گر کر درخت سے جدا ہوجاتی ہیں۔3 حضرت سلمان ؓ فرماتے ہیں کہ جب بندہ نماز پڑھنے لگتا ہے تو اس کے گناہ اس کے سر کے اوپر جمع ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ سجدہ کرتا ہے تو وہ گناہ درخت کے پتوں کی طرح گرنے لگ جاتے ہیں۔4 حضرت طارق بن شہاب نے حضرت سلمان ؓکی عبادت میں محنت کودیکھنے کے لیے ان کے پاس ایک رات گزاری، تو انھوں نے یہ دیکھا کہ (حضرت سلمان ؓ رات بھر سوتے رہے اور) رات کے آخری حصے میں انھوں نے کھڑے ہوکر تہجد کی نمازپڑھی۔ حضرت سلمانؓ کی کثرت عبادت کا جیسا خیال حضرت طارق کا تھا ویسا انھوں نے نہ دیکھا تو انھوں نے حضرت سلمان ؓ سے اس کا تذکرہ کیا۔ حضرت سلمان ؓ نے فرمایا: پانچ نمازوں کی پابندی کرو، کیوںکہ جب تک آدمی قتل کردینے والے گناہ یعنی کبیرہ گناہ نہیں کرتا اس وقت تک یہ نمازیں تمام گناہوں کے لیے کفارہ ہوتی ہیں۔ جب رات ہوتی ہے تو لوگ تین جماعتوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں: ایک جماعت تو وہ ہے جس کے لیے یہ رات رحمت ہے وبال نہیں ہے۔ دوسری جماعت وہ ہے جس کے لیے یہ رات وبال ہے رحمت نہیں ہے۔ تیسری جماعت وہ ہے جس کے لیے یہ رات نہ رحمت ہے اور نہ وبال۔ جس آدمی نے رات کے اندھیرے اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت سمجھا اور کھڑے ہوکر ساری رات نماز پڑھتارہا، اس کے لیے تو یہ رات رحمت ہے وبال نہیں ہے۔ اور جس آدمی نے لوگوں کی غفلت اور رات کے اندھیرے کو غنیمت سمجھا اوربے سوچے سمجھے گناہوں میں مشغول رہا، اس کے لیے یہ رات وبال ہے رحمت نہیںہے۔ اور جو آدمی عشا پڑھ کر سوگیا، اس کے لیے یہ رات نہ رحمت ہے اور نہ وبال۔ عبادت میں ایسی رفتار سے بچوجو تمھیں تھکا دے اور پھر تم اسے نباہ نہ سکو۔ اعتدال اور میانہ روی اختیار کرو اور نیک عمل پابندی سے کرو۔1 حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم (گناہوں کی بدولت) اپنی جانوں پر آگ جلا لیتے ہیں، پھر جب ہم فرض نماز پڑھ لیتے ہیں تووہ نماز پہلے کے تمام گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہے۔ پھر ہم اپنی جانوں پر آگ جلالیتے ہیں، پھر ہم جب نماز پڑھ لیتے ہیں تو وہ نماز پہلے کے تمام گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہے۔2