صحابہ کرام ؓ کا ایمان
مسجدیں بنانا
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام ؓ مسجد بنانے کے لیے کچی اینٹیں اٹھا کر لارہے تھے اور حضورﷺ بھی اُن کے ساتھ تھے۔ (یہ غزوۂ خیبر کے بعد کا واقعہ ہے جب کہ مسجدِنبوی کی دوسری مرتبہ تعمیر ہوئی) حضورﷺ اپنے پیٹ پر ایک اینٹ چوڑائی میں رکھے ہوئے لارہے تھے۔ سامنے سے میں آیا تو میں سمجھا کہ اس اینٹ اٹھانے میں آپ کو دشواری ہورہی ہے، اس لیے میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! یہ اینٹ مجھے دے دیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا:اے ابوہریرہ! تم کوئی اور اینٹ لے لو، کیوںکہ اصل زندگی تو آخرت کی ہے۔1
حضرت طَلَق بن علی (یمامی) ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کے ساتھ مسجد بنائی۔ حضورﷺ (میرے بارے میں کسی صحابی سے) فرمارہے تھے کہ اس یمامی کو گارے کی طرف بڑھاؤ، کیوںکہ اسے تم سب سے زیادہ اچھی طرح گارا مِلانا آتا ہے اور اس کے کندھے بھی تم سب سے زیادہ مضبوط ہیں یعنی تم سب سے زیادہ طاقت ور بھی ہے۔2
حضرت طَلَق بن علیؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت حضورﷺ کے صحابہ مسجد بنارہے تھے۔ حضورﷺ کو صحابہ کا یہ کام کچھ پسند نہیں آرہا تھا۔ میں پھاوڑا لے کر اس سے گارا ملانے لگ گیا۔ حضورﷺ کو میرا پھاوڑا لے کر اس سے گارا ملانا پسند آیا تو فرمایا: اس حنفی (قبیلہ بنو حنیفہ کے آدمی) کو گارا بنانے میں لگا رہنے دو،کیوںکہ یہ تم سے زیادہ اچھا گارا بنانے والا ہے۔3
جب حضرت ابنِ ابی اَوفیٰؓ کی بیوی کا انتقال ہوا تو وہ فرمانے لگے کہ اس کا جنازہ اٹھاؤ اور خوب شوق سے اٹھاؤ ،کیوںکہ یہ اور اس کی رشتہ دار عورتیں رات کو اس مسجد کے پتھر اٹھاتی تھیں جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے اور ہم (مرد) دن میں دو دو پتھر اٹھاتے تھے۔4
حضرت عُبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ انصارنے آپس میں کہا کہ کب تک حضور ﷺ کھجور کی ٹہنیوں (سے بنی ہوئی مسجد) میں نماز پڑھتے رہیں گے؟ اس پر انصار نے حضور ﷺ کے لیے بہت سے دینار جمع کیے، اور وہ لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آئے، اور عرض کیا کہ ہم اس مسجد کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اور اسے مزیّن بنانا چاہتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں اپنے بھائی موسیٰ ؑ کے طرز سے ہٹنا نہیں چاہتا، میری مسجد کا چھپر ایسا ہو جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ کا تھا۔1
حضرت عُبادہ بن صامتؓ فرماتے ہیں کہ انصار نے بہت سا مال جمع کیا اور اسے لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس مال سے مسجد بنائیں اور اسے بہت زیب وزینت والی بنائیں، ہم کب تک کھجور کی ٹہنیوں کے نیچے نماز پڑھتے رہیں گے؟ حضور ﷺ نے فرمایا: میں اپنے بھائی موسیٰ ؑ کے طرز سے نہیں ہٹ سکتا، ایسا چھپر ہو جیسا موسی ؑ کا تھا۔ 2
حضرت حسنکہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑکا چھپر اتنا اونچا تھا کہ جب وہ اپنا ہاتھ اٹھاتے تو چھپر کو لگ جاتا تھا۔ حضرت ابنِ شہاب کہتے ہیں کہ حضورﷺ کے زمانے میں مسجد کے ستون کھجور کے تنے تھے، اور اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں کی تھی، اور چھت پر کوئی خاص مٹی بھی نہیں تھی۔ جب بارش ہوا کرتی تھی تو ساری مسجد کیچڑ سے بھر جاتی تھی اور آپ ﷺ کی مسجد تو بس چھپر جیسی ہی تھی۔3
’’بخاری‘‘ میں لیلۃ القدر کی حدیث میں ہے کہ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ مجھے خواب میں (لیلۃ القدر کی) یہ نشانی دکھائی گئی ہے کہ میں کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں۔ لہٰذا جس نے اﷲ کے رسول ﷺ کے ساتھ اعتکاف کیا تھا وہ اب پھر اعتکاف کرے۔ چناںچہ ہم نے دوبارہ اعتکاف شروع کردیا۔ اس وقت ہمیں آسمان میں بادل کا کوئی ٹکڑا نظر نہیں آرہا تھا، لیکن تھوڑی دیر کے بعد ایک بادل آیا اور بارش ہوئی اور اتنی ہوئی کہ مسجد کی چھت خوب ٹپکی۔ مسجد کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی۔ اور نماز کھڑی ہوگئی تو میں نے دیکھا کہ حضورﷺ کیچڑ میں سجدہ کررہے ہیں یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کی پیشانی پر کیچڑکا اثر دیکھا۔1
حضرت خالد بن معدان ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن رواحہ اور حضرت ابو درداء ؓ کے پاس ایک بانس تھا جس سے وہ مسجد کی پیمایش کررہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ ان کے پاس باہر تشریف لائے اور ان سے فرمایا: تم دونوں کیا کررہے رہو؟ ان دونوں نے عرض کیا: ہم رسول اللہﷺ کی مسجد ملکِ شام کے طرز پر بنانا چاہتے ہیں اور اس کا جتنا خرچہ ہوگا وہ انصار پر تقسیم کردیا جائے گا۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ بانس مجھے دو۔ آپ ﷺ نے ان دونوں سے وہ بانس لیا پھر چل پڑے اور دروازے پر پہنچ کر آپ نے وہ بانس پھینک دیا اور فرمایا: ہر گز نہیں، (ملکِ شام کی طرح مسجد کی شان دار عمارت نہیں بنانی) بس گھاس پھوس اور چھوٹی چھوٹی لکڑیاں اور حضرت موسیٰ ؑ جیسا سائبان ہو، اور (موت کا) معاملہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔ کسی نے پوچھا: حضرت موسیٰ ؑ کا سائبان کیساتھا؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ جب کھڑے ہوتے تو ان کا سر چھت کو لگ جاتا۔2
حضر ت نافع کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ستون سے لے کر مقصورہ (امام کے لیے بنائے جانے والے کمرہ) تک مسجد میں اضافہ کیا اور فرمایا: اگر میں نے حضورﷺ کا یہ ارشاد نہ سنا ہوتا کہ ہمیں اپنی مسجد کو بڑھانا چاہیے تو میں ہر گز نہ بڑھاتا۔3
حضر ت نافع کہتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمر ؓ نے انھیں بتایا کہ مسجد حضور ﷺ کے زمانے میں کچی اینٹ سے بنی ہوئی تھی۔ اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں کی تھی اور اس کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے مسجد میں کوئی اضافہ نہ کیا۔ البتہ حضرت عمر ؓ نے اس میں اضافہ کیا، اور حضورﷺ کے زمانے میں جیسی کچی اینٹ اور کھجور کی ٹہنیوں سے بنی ہوئی تھی ویسی ہی بنائی اور اس کے ستون لکڑی کے ہی بنائے۔ پھر حضرت عثمان ؓ نے اسے بدل دیا، اور اس میںبہت زیادہ اضافہ کیا، اور اس کی دیواریں منقّش پتھروں اور چونے سے بنائیں، اور اس کے ستون منقّش پتھروں کے اور اس کی چھت ساکھو کی لکڑی کی بنائی۔1
حضرت ابنِ عمرؓفرماتے ہیں کہ حضورﷺکے زمانے میں آپ کی مسجد کے ستون کھجور کے تنوں کے تھے اور مسجد پر کھجور کی ٹہنیوں سے سایہ کیا ہوا تھا۔ پھر حضرت ابوبکر ؓ کے زمانۂ خلافت میں یہ کھجور کے تنے اور ٹہنیاں بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہونے لگیں، تو انھیں ہٹا کر حضرت ابو بکرؓ نے نئے کھجور کے تنے اور نئی ٹہنیاں لگادیں۔ پھر یہ ستون حضرت عثمان ؓ کے زمانۂ خلافت میں بوسیدہ ہوگئے، تو انھیں ہٹا کر حضرت عثمانؓ نے ان کی جگہ پکی اینٹیں لگادیں جو اَب تک لگی ہوئی ہیں۔2
’’مسلم‘‘ میں یہ روایت ہے کہ حضرت محمود بن لبید کہتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفّانؓ نے مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اسے پسند نہ کیا، کیوںکہ وہ چاہتے تھے کہ مسجد کو اسی حالت پر رہنے دیں۔ تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اﷲکے لیے مسجد بنائے گا، اﷲتعالیٰ اس کے لیے اسی جیسا محل جنت میں بنائے گا۔
حضرت مطّلب بن عبداﷲ بن حنطبکہتے ہیں کہ جب ۲۴ھ میں حضرت عثمان بن عفّانؓ خلیفہ بنے، تو لوگوں نے ان سے مسجد بڑھانے کی بات کی اور یہ شکایت کی کہ جمعہ کے دن جگہ بہت تنگ ہوجاتی ہے، حتیٰ کہ انھیں مسجد سے باہر میدان میں نماز پڑھنی پڑتی ہے۔ حضرت عثمانؓ نے اس بارے میں حضورﷺ کے اہل الرائے صحابہؓ سے مشورہ کیا تو سب کا اس پر اتفاق ہوا کہ پرانی مسجد کو گرا کر اس میں اضافہ کردیا جائے۔ چناںچہ حضرت عثمان ؓ نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف فرما ہوکر پہلے اﷲکی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا:
اے لوگوں! میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا ہے کہ میں حضورﷺ کی مسجد کو گرا کر اس میں اضافہ کردوں اور میں گواہی دیتا ہوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اﷲ کے لیے مسجد بنائے گا اﷲ اس کے لیے جنت میں محل بنائیںگے اور یہ کام مجھ سے پہلے ایک بہت بڑی شخصیت بھی کرچکی ہے۔ حضرت عمر بن خطّابؓ نے مسجد کو بڑھایا بھی تھا اور اسے نئے سرے سے بنایا بھی تھا، اور میں اس بارے میں حضورﷺ کے اہل الرائے صحابہ سے مشورہ بھی کرچکا ہوں۔ ان سب کا اس پر اتفاق ہے کہ مسجد کو گرا کر نئے سرے سے بنایا جائے اور اس میں توسیع بھی کردی جائے۔ تو لوگوں نے اس بات کی خوب تحسین کی اور ان کے لیے دعا بھی کی۔ اگلے دن صبح کو حضرت عثمان ؓ نے کام کرنے والوں کو بلایا (اور انھیں کام میں لگایا) اور خود بھی اس کام میں لگے، حالاںکہ حضرت عثمان ؓ ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے اور رات بھر نماز پڑھا کرتے تھے اور مسجد سے باہر نہیں جایا کرتے تھے۔ اور آپ نے حکم دیا کہ بطنِ نخل میں چھنا ہوا چونا تیار کیا جائے۔ حضرت عثمانؓ نے ربیع الاول ۲۹ھ میں مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا جو محرم ۳۰ھ میں ختم ہوا۔ یو ںدس ماہ میں کام پورا ہوا۔1
حضرت جابر بن اسامہ جُہنیؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ بازار میں تھے۔ میری آپ سے ملاقات ہوئی۔ میں نے پوچھا: حضور کہاں جانے کا ارادہ فرمارہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ حضورﷺ تمہاری قوم کے لیے مسجد کی جگہ کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں۔ چناںچہ میں جب وہاں پہنچا تو حضورﷺ مسجد کی جگہ کی نشاندہی کرچکے تھے اور آپ ﷺ نے قبلہ کی نشانی کے لیے ایک لکڑی زمین میں گاڑی ہوئی تھی۔2
حضرت عثمان بن عطاء کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطّابؓ نے بہت سے شہر فتح کر لیے تو ان شہروں کے گورنروں کو خط لکھے۔ چناںچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بصرہ کے گورنر تھے، انھیں خط میں یہ لکھا کہ سارے شہر کے لیے جمعہ کی نماز کے لیے ایک جامع مسجد بنائیں اور ہر قبیلہ کے لیے الگ الگ مسجد بنائیں۔ (ہر قبیلہ والے پانچوں نمازیں اپنی مسجد میں پڑھا کریں، لیکن) جمعہ کے دن سب جامع مسجد میں آکر جمعہ پڑھا کریں۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کوفہ کے گورنر تھے انھیںبھی حضرت عمر ؓ نے یہی لکھا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ مصر کے گورنر تھے انھیں بھی یہی لکھا۔ اور لشکروں کے امیروں کو یہ لکھا کہ دیہات میں رہایش نہ رکھیں بلکہ شہروں میں رہیں اور ہر شہر میں ایک ہی مسجد بنائیں، اور جیسے کوفہ، بصرہ اور مصر والوں نے مسجدیں بنائی ہیں اس طرح ہر قبیلے والے اپنی اپنی مسجد نہ بنائیں۔ چناںچہ لوگ حضرت عمرؓ کے اس فرمان کے پابند ہوگئے۔1