صحابہ کرام ؓ کا ایمان

مسجدیں کیوں بنائی گئیں اور صحابۂ کرامؓان میں کون سے اعمال کرتے تھے

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم لوگ حضورﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور کھڑے ہوکر مسجد میں پیشاب کرنے لگا تو حضور ﷺ کے صحابہ نے کہا: ارے ارے! ٹھہرو ٹھہرو۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے پیشاب سے نہ روکو اسے چھوڑ دو۔ چناںچہ صحابہ نے اسے چھوڑ دیا اور اس نے پیشاب پورا کرلیا۔ پھر حضور ﷺ نے اسے بلا کر فرمایا: ان مسجدوں میں پیشاب یا گندگی والا کوئی کام کرنا کسی طرح ٹھیک نہیں ہے۔ یہ مسجد یں تو اﷲ کے ذکر، نمازاور قرآن پڑھنے کے لیے بنی ہیں۔ یا جیسے حضورﷺ نے فرمایا۔ پھر حضور ﷺ نے لوگو ں میں سے ایک آدمی کو حکم دیا، اس نے پانی کا ڈول لاکر اس پیشاب پر بہادیا۔ 4 حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ ؓ ایک مرتبہ گھر سے باہر آئے اور مسجد میں گئے تو وہاں ایک حلقہ لگا ہوا تھا۔ حضرت معاویہ ؓ نے ان سے پوچھا:آپ لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: ہم بیٹھے ہوئے اﷲ کا ذکر کررہے ہیں۔ حضرت معاویہ ؓ نے کہا: کیا اﷲ کی قسم! آپ لوگ صرف اس وجہ سے بیٹھے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا: واقعی ہم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں۔ حضرت معاو یہ ؓ نے کہا: میں نے کسی بدگمانی کی وجہ سے تم لوگوں کو قسم نہیں دی(بلکہ اس وجہ سے قسم دی جو آگے حدیث میں آرہی ہے) اور کوئی صحابی ایسا نہیں ہے جس کا حضورﷺ سے میرے جیسا خاص تعلق ہو اور وہ حضورﷺ کی طرف سے حدیثیں مجھ سے کم بیان کرتا ہو۔ (یعنی میرا حضورِ ﷺ سے تعلق بھی خاص تھا، لیکن میری عادت حضورﷺ کی طر ف سے حدیثیں بہت کم بیان کرنے کی ہے، پھر بھی اس موقع کی ایک حدیث تم لوگوں کو سنادیتا ہوں)۔ ایک مرتبہ حضورﷺ مسجد میں باہر تشریف لائے اور مسجد میں صحابۂ کرام حلقہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ حضورﷺ نے پوچھا: آپ لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ انھوں نے عرض کیا کہ ہم بیٹھ کر اﷲ کا ذکر کررہے ہیں، اور اس بات پر اﷲ کی تعریف کررہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کی ہدایت دی اور اسلام کی دولت سے ہمیں نوازا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کیا اﷲ کی قسم! صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہو؟ انھوں نے عرض کیا:اﷲ کی قسم ہم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: میں نے کسی بدگمانی کی وجہ سے تمھیں قسم نہیں دی، بلکہ ابھی جبرائیل ؑ میرے پاس آئے تھے اور یہ خبر سنا گئے کہ اﷲ تعالی تم لوگوں کی وجہ سے ملائکہ پر فخر فرمارہے ہیں۔1 حضرت ابو واقد حارث بن عو ف ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ تھے کہ اتنے میں تین آدمی آئے۔ ان میں سے دو توآپ کی طرف چلے اور ایک چلا گیا۔ وہ دونوں جاکر حضورﷺ کے پاس کھڑے ہوگئے۔ ان میں سے ایک کو حلقہ میں خالی جگہ نظر آئی وہ جاکر اس جگہ بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا اور تیسرا پشت پھیر کر چلاگیا۔ جب آپ حلقہ سے فارغ ہوئے توآپ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ان تین آدمیوں کے بارے میں نہ بتلاؤں؟ ایک نے اﷲکے پاس اپنی جگہ بنائی تو اﷲنے اسے (اپنی رحمت میں) جگہ دے دی اور دوسرا شرما گیا تو اﷲ نے بھی اس کے ساتھ حیا کا معاملہ کیا (اپنی رحمت سے محروم نہ فرمایا) اور تیسرے نے (اﷲسے) اِعراض کیا تو اﷲ نے بھی اس سے اِعراض فرما لیا۔1 حضرت ابو القمراء ؓ فرماتے ہیںکہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں مختلف حلقوں میں بیٹھے ہوئے آپس میں حدیثوں کا مذاکرہ کررہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺاپنے ایک حجرے سے باہر مسجد میں تشریف لائے اور تمام حلقوں پر نظر ڈالی اور پھر قرآن والوں کے ساتھ بیٹھ گئے (جو قرآن سیکھ سکھارہے تھے) اور فرمایا: مجھے اس مجلس (میں بیٹھنے) کا حکم دیا گیا ہے۔2 حضرت کُلیب بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ نے مسجد میں بہت زیادہ شور کی آوازیں سنیں لوگ قرآن پڑھ پڑھا رہے تھے۔ تو حضرت علیؓ نے فرمایا: ان لوگوں کو خوش خبری ہو! یہی لوگ حضور ﷺکو تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھے۔3 حضرت کُلیبکہتے ہیں کہ حضرت علیؓکوفہ کی مسجد میں تھے، انھوں نے وہاں بہت زیادہ شور کی آوازیں سنیں۔ تو انھوں نے پوچھا: یہ لوگ کون ہیں؟ تو ساتھیوں نے بتایا کہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے قرآن سیکھ رہے ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: غور سے سنو! ان ہی لوگوں سے حضورﷺ کو سب سے زیادہ محبت تھی۔ 4 حضرت ابو ہریرہؓ ایک مرتبہ مدینہ کے بازار سے گزرے تو کھڑے ہوکر بلند آواز سے کہا: اے بازار والو! تم لوگ کتنے زیادہ عاجز ہو۔ بازار والوں نے کہا: اے ابو ہریرہ! کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: بات یہ ہے کہ حضورﷺ کی میراث تقسیم ہورہی ہے اور تم لوگ یہاں بیٹھے ہو، تو کیا تم لوگ جاکر اس میں سے اپنا حصہ نہیں لے لیتے؟ لوگوں نے پوچھا: کہاں تقسیم ہو رہی ہے؟ انھوں نے فرمایا: مسجد میں۔ چناںچہ وہ بازار والے بہت تیزی سے مسجد گئے اور حضرت ابو ہریرہ ؓ وہاں ٹھہرے رہے۔ تھوڑی دیر میں وہ لوگ واپس آگئے تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے ان سے پوچھا: تمھیں کیا ہوا (کہ جلدی سے واپس آگئے)؟ انھوں نے کہا:اے ابو ہریرہ! ہم مسجد گئے تھے، ہم نے اندر جا کر دیکھا تو ہمیں وہاں کوئی چیز تقسیم ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی۔ حضرت ابوہریرہؓ نے ان سے پوچھا:کیا تم نے مسجد میں کوئی آدمی نہیں دیکھا؟ انھوں نے کہا: ہم نے بہت سے آدمی دیکھے، کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، اور کچھ لوگ قرآن پڑھ رہے تھے، اور کچھ لوگ حلال اور حرام کا مذاکرہ کررہے تھے۔ ان سے حضر ت ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: تمہارا بھلا ہو یہی اعمالِ مسجد تو حضرت محمد ﷺ کی میراث ہیں۔ 1 حضرت ابنِ معاویہ کندی کہتے ہیں کہ ملکِ شام میں میں حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے مجھ سے لوگوں کے بارے میں پوچھا کہ شاید ایسے ہوتا ہوگا کہ آدمی بِدکے ہوئے اونٹ کی طرح مسجد میں آتا ہوگا، اگر اسے اپنی قوم کی مجلس نظر آتی ہوگی اور جان پہچان والے لوگ نظر آتے ہوں گے، تو ان کے پاس بیٹھ جاتا ہوگا ورنہ نہیں۔ میں نے کہا: نہیں ایسے نہیں ہے، بلکہ مختلف مجلسیں مسجد میں ہوتی ہیں (اور ہر مجلس میں مختلف قوموں کے لوگ ہوتے ہیں)، اور لوگ ان میں بیٹھ کر خیر کے اعمال سیکھتے ہیںاور ان کے بارے میں مذاکرہ کرتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: جب تک تم ایسے رہو گے خیر پر رہوگے۔2 حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: آؤ یہود کے پاس چلیں۔ چناںچہ (آپ صحابہ ؓ کو لے کر ان کے پاس گئے اور) ان سے فرمایا: اسلام لے آؤ سلامتی پالو گے۔ ان یہودیوں نے کہا: آپ(ﷺ) نے (اﷲکا پیغام) پہنچادیا۔ آپ نے فرمایا: میں بھی یہی چاہتا ہوں، لیکن پھر بھی تم لوگ اسلام لے آؤ سلامتی میں رہو گے۔ انھوں نے پھر کہا: آپ (ﷺ) نے پیغام پہنچادیا۔ آپ نے فرمایا: میں بھی یہی چاہتا ہوں، لیکن پھر بھی تم لوگ اسلام لے آؤ سلامتی میں رہو گے۔ پھر آپ نے فرمایا: اچھی طرح سمجھ لو! زمین اﷲاور اس کے رسول (ﷺ) کی ہے۔ اب میں تمھیں اس سر زمین سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں، لہٰذا تم میں سے جس کی جو چیز بِک سکتی ہے وہ اسے بیچ دے، ورنہ اچھی طرح سمجھ لو! یہ زمین اﷲ اور اس کے رسول (ﷺ) کی ہے۔1 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ غزوۂ خندق کے دن حضرت سعدؓ زخمی ہوئے۔ ان کو قریش کے حِبّان بن عَرقہ نامی کافر نے تیر مارا تھا جو ان کے بازو کی اَکْحل نامی رگ میں لگا تھا۔ حضور ﷺ نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا تھا تاکہ وہ حضورﷺ کے قریب رہیں اور ان کی عیادت کے لیے بار بار جانے میں سہولت رہے۔ جب حضور ﷺ غزوۂ خندق سے واپس آئے تو آپ نے ہتھیار رکھ دیے اور غسل فرمایا۔ پھر حضرت جبرئیل ؑ اپنے سر سے غبار جھاڑ تے ہوئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ نے تو ہتھیار رکھ دیے، لیکن اﷲکی قسم! میں نے تو ابھی نہیں رکھے۔ آپ ان کی طرف تشریف لے چلیں۔ حضور ﷺ نے پوچھا: کہاں؟ تو جواب میں حضرت جبرئیل ؑ نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ چناںچہ حضورﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تو وہ آپ کے فیصلہ پر رضامند ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ان کا فیصلہ حضرت سعد ؓ کے ذمہ لگادیا، تو حضرت سعد ؓ نے کہا: ان کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جو لڑنے کے قابل ہیں ان کو قتل کردیا جائے، اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قید ی بنالیا جائے، اور ان کے سارے مال کو (مسلمانوں میں بطورِ مال غنیمت کے) تقسیم کردیا جائے۔ حضرت ہشام راوی کہتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے حضرت عائشہؓکی طرف سے نقل کرتے ہوئے یہ بتایا کہ حضرت سعد ؓ نے یہ دعا مانگی: اے اﷲ! تجھے معلوم ہے کہ مجھے اس قوم سے جہاد کرنے سے کسی اور سے جہاد کرنا زیادہ محبوب نہیں ہے جس قوم نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انھیں (ان کے وطن مکہ سے) نکالا (اس سے مراد قبیلہ قریش ہے)۔ اے اﷲ! اب میرا خیال تو یہ ہے کہ تُو نے ہمارے اور اس قوم کے درمیان جنگ ختم کردی ہے، یعنی اس غزوۂ خندق کے بعد اب ان سے جنگ نہیں ہوگی، لیکن اگر قریش سے کوئی جنگ ابھی ہونے والی ہے تو پھر تو تُو مجھے ان کے لیے زندہ رکھ تاکہ تیر ی رضا کی خاطر میں ان سے لڑوں۔ اوراگر تونے ان سے لڑائی ختم کردی ہے، تو میرے اس رگ کے زخم کو جاری کر اور اسی کی وجہ سے مجھے موت نصیب فرما۔ چناںچہ ان کے سینے کے زخم سے پھر خون بہنے لگا اور مسجد میں بنو غفار کا بھی خیمہ لگا ہوا تھا، یہ خون بہہ کر ان کے خیمہ تک پہنچ گیا جس سے وہ لوگ گھبرا گئے، تو اس خیمہ والوں نے کہا: اے خیمہ والو! یہ خون کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہماری طرف آرہا ہے؟ جاکر دیکھا تو حضرت سعدؓ کے زخم میں سے خون بہہ رہا تھا جس سے ان کا انتقال ہوگیا۔1 حضرت زید بن عبداﷲ بن قُسَیطؓ فرماتے ہیں کہ اہلِ صُفّہ حضورﷺ کے وہ صحابی تھے جن کا (مدینہ میں) کوئی گھر نہیں تھا، اس لیے وہ حضورﷺ کے زمانے میں مسجد میں سویا کرتے تھے اور دن بھر اسی میں رہتے تھے۔ ان کا مسجد کے علاوہ اور کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ رات کوجب کھانے کا وقت آتا تو حضورﷺ انھیں بلا کر اپنے صحابہ میں تقسیم فرمادیتے، پھر بھی ان میں سے کچھ لوگ حضورﷺ کے ساتھ رات کا کھانا کھاتے۔ یہ سلسلہ یوںہی چلتا رہا یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ نے وسعت عطا فرمادی۔2 حضرت اسماء بنت یزید ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو ذر غِفاری ؓ حضور ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ وہ جب حضورﷺ کی خدمت سے فارغ ہوتے تو جاکر مسجد میں ٹھہرجاتے۔ اور یہ مسجد ہی ان کا گھر تھا اسی میں لیٹا کرتے تھے۔ ایک رات حضورﷺ مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت ابو ذر ؓکو مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے پایا۔ آپ ﷺ نے انھیں پاؤں مبارک سے ذرا ہلایا۔ وہ اٹھ کر سیدھے بیٹھ گئے تو حضورﷺ نے ان سے فرمایا: کیا میں تمھیں (مسجد میں) سوتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہوں؟ حضرت ابو ذرؓ نے عرض کیا: یارسول اﷲ! پھر میں کہاں سوؤں؟ کیا میرا مسجد کے علاوہ کوئی گھر ہے؟ آگے حدیث امرِ خلافت کے بارے میں ذکر کی۔1 حضرت ابو ذر ؓ حضورﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ اور جب حضورﷺ کی خدمت سے فارغ ہوجاتے تو آکر مسجد میں لیٹ جاتے۔ 2 اور اﷲ کے راستہ کے مہمانوں کی ضیافت کے باب میں مسجد میں سونے کے بارے میں حضرت ابو ذر ؓ اور دیگر صحابہ کے قصے گذر چکے ہیں۔ حضرت حسن ؓ سے مسجد میں دوپہر کو آرام کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: میں نے حضرت عثمان بن عفّانؓکو زمانۂ خلافت میں مسجد میں دوپہر کو آرام کرتے ہوئے دیکھا۔3 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم چند نوجوان حضورﷺ کے زمانے میں مسجد میں رات کو سویا کرتے تھے۔4 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس آتے اور پھر دوپہر کو آرام کیا کرتے۔5 حضرت زہری کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے فرمایا: جب کوئی آدمی زیادہ دیر تک مسجد میں بیٹھے تو اس کے لیے کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیوںکہ اس طرح لیٹنے سے اس کا دل نہیں اُکتائے گا۔6 حضرت خُلَید ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عباسؓ سے مسجد میں سونے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اگر تم نماز اور طواف کی وجہ سے سونا چاہتے ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔1 حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ جب کسی رات کو تیز ہوا اور آندھی چلاکرتی تو حضورﷺ گھبرا کر ایک دم مسجد تشریف لے جاتے اور آندھی ختم ہونے تک وہاں ہی رہا کرتے۔ اور جب آسمان میں سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا تو آپ ﷺ گھبرا کر نمازپڑھنے کی جگہ یا عید گاہ تشریف لے جاتے۔2 حضرت عطاء کہتے ہیں کہ حضرت یعلیٰ بن اُمیّہؓکو حضورﷺ کی صحبت حاصل تھی، وہ جب تھوڑی دیر کے لیے بھی مسجد میں بیٹھا کرتے تو اعتکاف کی نیت کرلیا کرتے۔3 حضرت عطیّہ بن سفیان بن عبداﷲ ؓفرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا وفد رمضان میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا تو حضورﷺ نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوایا۔ پھر جب وہ مسلمان ہوگئے تو انھوں نے حضورﷺ کے ساتھ روزے رکھنے شروع کردیے۔4 حضرت عثمان بن ابی العاص ؓ فرماتے ہیں کہ قبیلہ ثقیف کا وفد حضورﷺ کی خدمت میں آیا تو حضورﷺ نے انھیں مسجد میں ٹھہرایا تاکہ اس سے ان کے دل زیادہ نرم ہوں۔ اس سے آگے اور حدیث ذکر کی جیسے ’’اﷲ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دینے‘‘ کے باب میں قبیلہ ثقیف کے اسلام لانے کے قصہ میں گذر چکا ہے۔ حضرت عبداﷲ بن زبیرؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نے مسجد میں حضورﷺ کے ساتھ بھنا ہوا گوشت کھایا۔ پھر نماز کھڑی ہوگئی تو ہم نے صرف کنکریوں سے ہاتھ پونچھے (اور کچھ نہیں کیا اور نماز میں شامل ہوگئے)۔5 حضرت ابنِ عمر ؓفرماتے ہیں کہ مسجد ِ فضیخ میں حضورﷺ کی خدمت میں فضیخ لایا گیا جسے آپ ﷺ نے نوش فرمایا۔ اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد ِفضیخ پڑگیا۔ فضیخ نیم پختہ کھجور کے شربت کو کہا جاتا ہے۔1 حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ مسجد ِفضیخ میں حضورﷺ کی خدمت میں نیم پختہ کھجور کے شربت فضیخ کے مٹکے لائے گئے۔ آپ نے اس شربت کو نوش کیا اور اسی وجہ سے اس کا نام مسجد ِفضیخ رکھا گیا۔2 اور اس سے پہلے مسجد میں مختلف اعمال کے قصّے گذر چکے ہیں۔ ’’مال خرچ کرنے‘‘ کے باب میں کھانا اور مال تقسیم کرنے کے قصّے، اور ’’بیعت‘‘ کے باب میں مسجد میں حضرت عثمان ؓ کی بیعت کا قصہ، اور ’’صحابہؓ کے باہمی اتحاد اور اتفاقِ رائے‘‘ کے باب میں مسجد میں حضرت ابو بکرؓ کی بیعت کا قصہ، اور ’’اﷲ کی طرف دعوت دینے‘‘ کے باب میں حضرت ضِمام ؓ کو مسجد میں دعوت دینے اور ان کے اسلام لانے کا قصہ اور مسجد میں حضرت کعب بن زُہیر ؓ کے اسلام لانے اور مشہور قصیدہ پڑھنے کا قصہ، اور ’’صحابہ کے باہمی اتحاد اور اتفاقِ رائے‘‘ کے باب میں اہلِ شوریٰ کے مشورہ کے لیے بیٹھنے کا قصہ، اور ’’مال خرچ کرنے‘‘ کے باب میں صبح کے وقت مسجد میں صحابہؓ کا حضورﷺ کے ساتھ بیٹھنے کا قصہ، اور ’’دنیا کی وسعت اور کثرت سے ڈرنے‘‘ کے باب میں مسجد میں نماز وں کے بعد لوگوں کی ضرورت کے لیے حضرت عمرؓ کے بیٹھنے کا قصہ، اور ’’اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو مضبوطی سے پکڑلینے‘‘ کے باب میں مسجد میں حضرت ابوبکر اور دوسرے صحابہؓ کے رونے کا قصہ۔