صحابہ کرام ؓ کا ایمان

نبی کریم ﷺ کا مؤکدہ سنتوں کا اہتمام فرمانا

حضرت عبداﷲ بن شقیق کہتے ہیں: میںنے حضرت عائشہؓ سے حضورﷺ کی سنت نمازوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا کہ حضورﷺ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعت نماز پڑھتے، پھر باہر تشریف لے جاکر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر واپس آکر دو رکعت نماز پڑھتے۔ آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر واپس آکر دو رکعت نماز پڑھتے۔ پھر آپ لوگوں کو عِشا کی نماز پڑھاتے، پھر میرے گھر واپس آکر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر رات کو نو رکعت نماز پڑھتے جس میں وتر کی نماز بھی شامل ہوتی۔ اور رات کو کبھی بہت دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی بہت دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھتے۔ جب کھڑے ہوکر قرأت فرماتے تو کھڑے ہو کر ہی رکوع سجدہ فرماتے، اور جب بیٹھ کر قرأت فرماتے تو بیٹھ کر ہی رکوع سجدہ فرماتے۔ اور جب صبح صادق ہوجاتی اور فجر کا وقت ہوجاتا تو آپ دو رکعت نماز پڑھتے، پھر باہرتشریف لے جاتے اور لوگوں کو فجر کی نماز پڑھاتے۔1 حضرت عائشہؓفرماتی ہیںکہ نبی کریم ﷺ فجر کی دو سنتوں سے زیادہ اور کسی سنت کا اہتمام نہیں فرماتے تھے۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: میں نے حضورﷺ کو فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے لیے جتنی جلدی کرتے ہوئے دیکھا ہے خیر کے کسی کام میں اور مالِ غنیمت میں اتنی جلدی کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔3 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعت اور صبح سے پہلے دو رکعت کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔4 حضرت بلال ؓصبح کی نماز کی اطلاع دینے کے لیے حضورﷺ کے پاس آئے۔ حضرت عائشہؓ ان سے کچھ بات پوچھنے لگ گئیں جس میں دیر ہوگئی اور صبح کا چاندنا زیادہ ہوگیا۔ حضرت بلالؓ نے کھڑے ہوکر حضورﷺ کو خبر کی اور مسلسل خبر کرتے رہے، لیکن حضورﷺ فوری طور پر باہر تشریف نہ لائے، بلکہ تھوڑی دیر کے بعد باہر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ پھرحضرت بلال ؓ نے حضورﷺ کو بتایا کہ حضرت عائشہ مجھ سے کچھ پوچھنے لگ گئی تھیں جس کی وجہ سے مجھے دیر ہوگئی تھی۔ پھر میں نے آپ کو بار بار اطلاع کی لیکن آپ فوراً باہر تشریف نہ لائے بلکہ کچھ دیر میں آئے، اس کی کیا وجہ ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا:میں نے فجر کی دو رکعت سنت پڑھی تھیں اس وجہ سے مجھے باہر آنے میں دیر ہوگئی۔ حضرت بلال ؓ نے کہا: یارسول اﷲ! (آپ سنت نہ پڑھتے کیوںکہ) صبح تو بہت زیادہ روشن ہوگئی تھی۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر صبح اس سے بھی زیادہ روشن ہوجاتی تو بھی میں یہ دو رکعت نماز ضرور پڑھتا، اور بہت اچھے اور عمدہ طریقہ سے پڑھتا۔1 حضرت قابوس نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے حضرت عائشہؓ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ کس نماز کو پابندی سے پڑھنا حضورﷺ کو زیادہ پسند تھا؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: حضورﷺ ظہر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھتے تھے، اور ان میں لمبا قیام فرماتے اور رکوع سجدہ اچھی طرح کرتے۔2 حضرت عبداﷲ بن سائبؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ظہر سے پہلے اور زوال کے بعد چار رکعت نماز پڑھتے تھے، اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ ایسی گھڑی ہے جس میں آسمان کے دروازے کھلتے ہیں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس گھڑی میں میرا کوئی نیک عمل اوپر چلا جائے۔3 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے۔4 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب ظہر سے پہلے چار رکعت نماز نہ پڑھ سکتے تو انھیں ظہر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔5 حضرت ابو ایوبؓ فرماتے ہیں: جب حضورﷺ میرے مہمان بنے تو میں نے دیکھا کہ آپ ہمیشہ ظہر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جب سورج ڈھل جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ظہر تک ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ اس گھڑی میں میرے لیے خیر کا کوئی عمل اوپر چلا جائے۔6 حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھتے تھے۔ چار رکعت کے درمیان بیٹھ کر التحیات پڑھتے اور اس میں (اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَکہہ کر) مقرب فرشتوں اور مسلمانوں اور مؤمنوں پر سلام بھیجتے۔1 حضرت علیؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ عصر سے پہلے دو رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔2 حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ مغرب کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور ان میں اتنی لمبی قرأت فرماتے تھے کہ مسجد والے صحابہ (اپنی اپنی نماز پوری کرکے) ادھر ادھر بکھر جاتے تھے۔3