صحابہ کرام ؓ کا ایمان
نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرامؓ کا تہجد کی نماز کا اہتمام کرنا
حضرت عبداﷲ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ عائشہؓنے فرمایا: تہجد کی نماز نہ چھوڑنا، کیوںکہ حضورﷺ کبھی تہجد کی نماز نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ اور حضورﷺ جب بیمار ہوتے یا تھکے ہوتے تو بیٹھ کر تہجد پڑھ لیتے۔6
حضرت جابرؓفرماتے ہیں کہ جب
{یٰٓـاَیُّھَا الْمُزَّمِّلُ آیت کا نشان قُمِ اللَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلاً آیت کا نشان}7
اے کپڑوں میں لپٹنے والے! رات کو(نماز میں) کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی سی رات۔
نازل ہوئی تو تہجد کی نمازہم پر فرض ہوگئی اور ہم رات کو اتنی تہجد پڑھتے کہ ہمارے پاؤں سوج جاتے۔ پھر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر رخصت عنایت فرمادی:
{عَلِمَ اَنْ سَیَکُوْنُ مِنْکُمْ مَّرْضٰی}1 سے لے کر آخر تک۔
اس کو (یہ بھی) معلوم ہے کہ بعضے آدمی تم میں بیمار ہوں گے۔
(اس آیت کے نازل ہونے پر تہجد کی فرضیت ختم ہوگئی، لیکن نفل نمازوں میں سب سے افضل ہونا باقی رہا)۔2
حضرت سعد بن ہشام نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اور پھر مدینہ منورہ گئے تاکہ وہاں کی اپنی ساری جائیداد بیچ کر گھوڑے اور اسلحہ خرید لیں، اور مرتے دم تک روم والوں سے جہاد کرتے رہیں۔ راستہ میں ان کی اپنی قوم کے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی جنھوںنے انھیں بتایا کہ حضورﷺ کے زمانہ میں ان کی قوم کے کچھ آدمیوں نے بھی ایسا کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن حضورﷺ نے ان سے فرمایا تھا: کیا آپ لوگ میرے طریقے پر نہیں چلتے؟ اور انھیں ایسا کرنے سے منع فرمادیا تھا۔ اس پر حضرت سعد نے اپنی بیوی سے رجوع کرلیا اور ان لوگوںکو اپنے اس رجوع پر گواہ بنایا، پھر ہمارے پاس واپس آئے۔ اور حضرت سعدنے ہمیں بتایا کہ میں حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس گیا تھا اور ان سے وتر کے بارے میں پوچھا تھا، تو حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسا آدمی نہ بتاؤں جو تمام روئے زمین والوں میں حضور ﷺ کے وتر کو سب سے زیادہ جاننے والاہے؟ میں نے کہا: ضرور بتائیں۔ حضرت ابنِ عباسؓ نے کہا: حضرت عائشہؓ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو اور وہ جو جواب دیں وہ واپس آکر مجھے بھی بتانا۔ چناںچہ میں حضرت حکیم بن اَفلح ؓ کے پاس گیا اور میں نے ان سے عرض کیا کہ وہ میرے ساتھ حضرت عائشہؓ کے پاس چلیں۔ حضرت حکیم ؓ نے کہا: نہیں، میں تو ان کے قریب بھی نہیں جاؤں گا، کیوںکہ میں نے انھیں (حضرت علی اور حضرت معاویہؓکی) ان دو جماعتوں کے بارے میں کچھ فرمانے سے منع کیا تھا، لیکن وہ نہ مانیں اور اس بارے میں بہت کچھ کر گذریں۔
حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حکیم کو قسم دی تو وہ میرے ساتھ چل پڑے۔ چناںچہ ہم دونوں حضرت عائشہؓکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عائشہؓ نے حضرت حکیم ؓ کو پہچان لیا اور فرمایا: کیا تم حکیم ہو؟ حضرت حکیم نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عائشہ ؓ نے پوچھا: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ حضرت حکیمؓ نے کہا:یہ سعد بن ہشام ہیں۔ حضرت عائشہؓنے پوچھا: ان کے والد کون سے ہشام ہیں؟ حضرت حکیم نے کہا: وہ ابنِ عامر ہیں۔ اس پر حضرت عائشہؓ نے حضرت عامر کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا: عامر تو بہت اچھے آدمی تھے۔ پھر میں نے کہا: اے اُمّ المؤمنین! حضورﷺ کے اخلاق کے بارے میں آپ مجھے بتائیں۔ حضرت عائشہؓنے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہا ں پڑھتاہوں۔ حضرت عائشہؓنے فرمایا: حضورﷺ کے اخلاق قرآن کے مطابق تھے۔ یہ جواب سن کر میں نے مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن پھر خیال آیا کہ حضور ﷺ کے رات کے قیام کے بارے میں بھی پوچھ لوں، تو میں نے عرض کیا: اے اُمّ المؤمنین!آپ مجھے حضور ﷺ کے رات کے قیام کے بارے میںبھی بتائیں۔ حضرت عائشہؓنے فرمایا: کیا تم سورۂ مزمل نہیں پڑھتے ہو؟میں نے کہا: جی ہاں پڑھتا ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: اس سورت کے شروع میں اﷲ تعالیٰ نے رات کا قیام فرض کیا تھا۔ چناںچہ حضورﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ سال بھر مسلسل رات کو اتنا لمبا قیا م کرتے رہے کہ ان کے پاؤں سوج گئے۔ اور اللہ تعالی نے بارہ مہینے تک اس سورت کی آخری آیت کو آسمان میں روکے رکھا، پھر اﷲ تعالیٰ نے آخری حصہ کو نازل فرما کر رات کے قیام میں تخفیف کردی۔ چناںچہ رات کا قیام پہلے فرض تھا پھربعد میں نفل ہوگیا۔
یہ جواب سن کر میںنے اٹھنے کا ارادہ کیا لیکن پھر خیال آیا کہ حضورﷺ کے وتر کے بارے میں بھی پوچھ لوں، تو میں نے کہا: اے اُمّ المؤمنین! آپ مجھے حضورﷺ کے وتر کے بارے میں بھی بتائیں۔ حضرت عائشہؓنے فرمایا: ہم حضورﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیا ر کرکے رکھ دیتے تھے، تو پھر رات کو جب اﷲ آپ کو اٹھاتے تو آپ مسواک کرکے وضو کرتے، پھر آٹھ رکعت پڑھتے اور ان میں صرف آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھتے، اور بیٹھ کرذکر و دعا کرتے، اور سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے۔ اس کے بعد بیٹھ کر (التحیات میں) ذکر ودعا کرتے اور پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے جو ہمیں سنائی دیتا، پھر سلام کے بعد بیٹھ کر دو رکعت نماز پڑھتے۔ اس طرح اے میرے بیٹے! حضورﷺکی گیارہ رکعت ہوجاتیں۔ پھر جب حضورﷺکی عمر ذرا زیادہ ہوگئی اور آپ کا جسم بھاری ہوگیا، تو آپ سات رکعت پڑھ کر سلام پھیرتے اور پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔ اے میرے بیٹے! اس طرح یہ کل نو رکعت ہوجاتیں۔ حضورﷺ جب کوئی نمازشروع فرماتے تو آپ کو یہ پسند تھا کہ اسے پابندی سے پڑھیں، اس لیے اگر نیند کی زیادتی یا درد یا کسی بیماری کی وجہ سے آپ کا رات کا قیام رہ جاتا تو آپ دن میں بارہ رکعت پڑھتے۔ اور مجھے یہ معلوم نہیں ہے کہ حضورﷺنے کبھی ساری رات فجر تک قرآن پڑھا ہو یا رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے سارے روزے رکھے ہوں۔
حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں پھر حضر ت ابنِ عباسؓکی خدمت میں گیا اور انھیں حضرت عائشہؓکی ساری حدیث سنائی، تو انھوں نے فرمایا کہ حضرت عائشہؓنے ٹھیک فرمایا۔ اگر میرا ان کے ہاں آنا جانا ہوتا تو میں خود جاکر ان سے براہِ راست یہ حدیث سنتا۔1
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: جب سورۂ مزمل کا شروع کا حصہ نازل ہوا تو صحابۂ کرام ؓ رات کو اتنی نماز پڑھتے جتنی رمضان کے مہینے میں رات کو پڑھا کرتے تھے، اور اس سورت کے شروع کے حصے کے اور آخری حصہ کے نازل ہونے میں ایک سال کا وقفہ تھا۔2
حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓرات کے شروع میں وتر پڑھ لیتے تھے، اور پھر جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو دو دو رکعت نماز پڑھتے۔3
حضرت اسلم کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ جتنی دیر اﷲ تعالیٰ چاہتے رات کو نماز پڑھتے رہتے۔ جب آدھی رات ہوجاتی تو اپنے گھر والوں کو نماز کے لیے اٹھاتے اور فرماتے: نماز۔ اوریہ آیت پڑھتے:
{ وَاْمُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ }سے لے کر{ وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی آیت کا نشان} تک۔1
اور اپنے متعلقین کو (یعنی اہلِ خاندان کو یا مؤمنین کو) بھی نماز کا حکم کرتے رہیے اور خود بھی اس کے پابند رہیے۔ ہم آپ سے (اور دوسروں سے) معاش (کموانا) نہیں چاہتے۔ معاش تو آپ کو ہم دیں گے اور بہتر انجام تو پرہیز گاری ہی کا ہے۔2
حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت عثمان بن ابی العاصؓ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ (کے انتقال کے بعد ان) کی ایک بیوی سے شادی کی اور شادی کے موقع پر انھوں نے کہا: میں نے ان سے شادی مال اور اولاد کے شوق میں نہیں کی، بلکہ اس وجہ سے کی ہے کہ وہ مجھے حضرت عمرؓکی رات (کے معمولات) کے بارے میں بتائیں۔ چناںچہ شادی کے بعد ان سے پوچھا کہ حضرت عمرکی رات کی نماز کس طرح ہوتی تھی؟ انھوں نے کہا: وہ عِشا کی نماز پڑھا کرتے اور ہمیں اس بات کا حکم دیتے کہ ان کے سر کے پاس پانی کا برتن رکھ کر ڈھک دیں۔ (چناںچہ ہم ایسا کرتے) وہ رات کو اٹھتے، اور پانی میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر پھیرتے، پھر اﷲ کا ذکر کرتے (پھر سو جاتے)۔ اس طرح بار بار اٹھتے اور اﷲ کا کچھ ذکر کرتے، یہاں تک کہ ان کی تہجد کی نماز کا وقت ہوجاتا۔ حضرت ابنِ بُریدہ(راوی) نے (حضرت حسنؓسے) پوچھا: آپ کو یہ واقعہ کس نے سنایا؟ انھوں نے کہا: حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کی صاحب زادی نے۔ حضرت ابنِ بریدہ نے کہا: وہ تو قابلِ اعتماد ہیں۔3
حضرت سعید بن مسیّب کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّابؓآدھی رات کو نماز پڑھنا پسند کرتے۔4
حضرت نافع کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ رات کو کافی دیر تک نماز پڑھتے، پھر پوچھتے: اے نافع! کیا رات کا آخری حصہ آگیا؟ میں کہتا: نہیں۔ تو پھر نماز پڑھنے لگتے، پھر کہتے: اے نافع! کیا رات کا آخری حصہ آگیا؟ میں کہتا: جی ہاں۔ تو بیٹھ کر صبح صادق تک دعا واستغفار میں لگے رہتے۔1
حضرت محمدکہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓ جب بھی رات کو اٹھتے تو نماز شروع کردیتے۔2
حضرت ابو غالب کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓمکہ میں ہمارے ہاں ٹھہرا کرتے اور رات کو تہجد پڑھا کرتے۔ ایک رات صبح صادق سے کچھ دیر پہلے مجھ سے فرمایا: اے ابو غالب! کیا تم کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھتے؟ کیا ہی اچھا ہو اگر تم تہائی قرآن پڑھ لو؟ میں نے کہا: صبح ہونے والی ہے میں اتنی دیر میں تہائی قرآن کیسے پڑھ سکتا ہوں؟ انھوں نے فرمایا: سورہ ٔاخلاص {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ }3 تہائی قرآن کے برابر ہے۔ 4
حضرت علقمہ بن قیس کہتے ہیں: میں حضرت نے ابنِ مسعودؓ کے ساتھ ایک رات گزاری۔ شروع رات میں وہ سو گئے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، اور قرآن ترتیل سے ایسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے جیسے کہ محلّہ کی مسجد میں امام پڑھتا ہے اور گانے جیسی آواز نہ تھی، اور اتنی اونچی آواز سے پڑھ رہے تھے کہ آس پاس والے سن لیں اور آواز کو گلے میں گھما نہیں رہے تھے۔ جب صبح صادق میں اتنا وقت رہ گیا جتنا مغرب کی اذان سے لے کر نمازِ مغرب کے ختم ہونے تک کا ہوتا ہے تو پھر انھوں نے وتر پڑھے۔ 5
حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمانؓکے ہاں ایک رات یہ دیکھنے کے لیے گزاری کہ وہ رات کو عبادت میں کتنی محنت کرتے ہیں۔ تو یہی دیکھا کہ انھوں نے رات کے آخری حصے میں تہجد کی نماز پڑھی اور جیسا ان کے بارے میں گمان تھا ویسا نظر نہ آیا۔ آخر میں نے یہ بات خود ان سے ذکر کی تو فرمانے لگے کہ ان پانچ نمازوں کی پابند کرو، کیوںکہ یہ پانچ نمازیں ان چھوٹے موٹے زخموں(یعنی صغیرہ گناہوں) کو مٹادیتی ہیں بشرطیکہ کوئی جان لیوا زخم (یعنی گناہ کبیرہ)نہ ہو۔ جب لوگ عِشا کی نماز پڑھ لیتے ہیں تو تین حصوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں: کچھ لوگ تو وہ ہیں جن کے لیے یہ رات وبال ہے رحمت نہیں، اور کچھ لوگ وہ ہیں جن کے لیے رحمت ہے وبال نہیں، اور کچھ لوگ وہ ہیں جن کے لیے نہ وبال ہے نہ رحمت۔ جو لوگ رات کی تاریکی اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت سمجھ کر بے دھڑک گناہوں میں لگ جاتے ہیں ان کے لیے یہ رات وبال ہے رحمت نہیں۔ اور جن کے لیے یہ رات رحمت ہے وبال نہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو رات کی تاریکی اور لوگوں کی غفلت کو غنیمت سمجھ کر کھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگ جاتے ہیں۔ یہ رات ان کے لیے رحمت ہے وبال نہیں۔ اور جن کے لیے نہ رحمت ہے اور نہ وبال، یہ وہ لوگ ہیں جو عِشا پڑھ کر سوجاتے ہیں، ان کے لیے نہ رحمت ہے اور نہ وبال۔ تم تیز رفتاری سے بچو اور میانہ روی اختیار کرو اور جتنا کرو اسے پابندی سے کرو۔1