صحابہ کرام ؓ کا ایمان

نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کا علم کی ترغیب دینا

حضرت ابوطفیل کہتے ہیں: حضرت علیؓ فرماتے تھے: اَنبیا ؑ کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہے جو اُن کے لائے ہوئے دین کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ پھر یہ آیت پڑھاکرتے تھے: {اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ وَھٰذَا النَّبِیُّ}2 بلاشبہ سب آدمیوں میں زیادہ خصوصیت رکھنے والے (حضرت) ابراہیم ( ؑ) کے ساتھ البتہ وہ لوگ تھے جنھوں نے ان کا اِتباع کیا تھا اور یہ نبی (ﷺ) ہیں۔ یعنی حضرت محمد ﷺ اور ان کا اِتباع کرنے والے صحابہ، اس لیے تم اس کو تبدیل نہ کرو۔ لہٰذامحمدﷺ کا دوست وہ ہے جو اﷲکی اطاعت کرے اور محمد ﷺ کا دشمن وہ ہے جو اﷲ کی نافرمانی کرے اگرچہ وہ حضورﷺ کا قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔3 حضرت کُمیل بن زیاد کہتے ہیں: حضرت علیؓمیرا ہاتھ پکڑ کر مجھے صحرا کی طرف لے چلے۔ جب ہم صحرا میں پہنچ گئے تو حضرت علیؓبیٹھ گئے اور ایک لمبا سانس لے کر فرمایا: اے کُمیل بن زیاد! دل برتن ہیں، اِن میں سے بہترین برتن وہ ہے جو (اپنے اند رکی چیز کو) زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو۔ میں تمھیں جو بات کہہ رہا ہوں وہ یاد رکھنا۔ انسان تین قسم کے ہیں: ایک عالمِ ربّانی، دوسرا وہ علم حاصل کرنے والاجو نجات کے راستے پر چل رہاہے، تیسرے وہ کمینے اور رَذیل لوگ جو ہر شور مچانے والے کے پیچھے چل پڑتے ہیں، اور جدھر کی ہوا چلے اُدھر کو ہی رخ کرلیتے ہیں، نہ تو علم کے نور سے کچھ روشنی حاصل کی اور نہ کسی مضبوط مددگار کی پناہ حاصل کی۔ علم مال سے بہتر ہے۔ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے اور مال کی حفاظت تمھیں کرنی پڑتی ہے۔ علم عمل کرنے سے بڑھتا ہے اور مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے۔ عالم کی محبت دین ہے جس کا اﷲ کے ہاں سے بدلہ ملے گا۔ علم کی وجہ سے عالم کی زندگی میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کا اچھائی سے تذکرہ کیا جاتا ہے۔ جب مال چلا جاتا ہے تو مال کی کاریگری اور مال کی بنیاد پر چلنے والے کام بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ مال کے خزانے جمع کرنے والے زندہ بھی ہوںتو بھی وہ (روح اور دل کے اعتبار سے) مردہ شمار ہوتے ہیں۔ اور عُلَما(مرنے کے بعد بھی) جب تک زمانہ رہے گا باقی رہیں گے(ان کا ذکر ِخیر ہوتا رہے گا)۔ ان کے جسم دنیا سے چلے جائیں گے، لیکن ان کی عظمت کے نقوش دلوں میں باقی رہیں گے۔ اور یہ بات غور سے سنواور سینے کی طرف اشارہ کرکے حضرت علیؓ نے فرمایا: اس جگہ ایک زبردست علم ہے۔ کاش! اس علم کو اٹھانے والے مجھے مل جاتے۔ اب یا تو ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی سمجھ تو تیز ہے لیکن (تقویٰ اور طہارت کے نہ ہونے کی وجہ سے) ان پر اطمینان نہیں۔ یہ دین کے اسباب کو دنیا کے لیے استعمال کرتے ہیں اور قرآن میں اﷲ تعالیٰ نے جو دلائل بیان کیے ہیں ان سے قرآن کے خلاف ہی ثابت کرتے ہیں (کیوںکہ علم کانور انھیں حاصل نہیں ہے) اور اﷲکی نعمتوں کو اس کے بندوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ یاپھر ایسے لوگ ملتے ہیں جو اہلِ حق کے فرماں بردار تو ہیں، لیکن انھیں دین کے زندہ کرنے کی کوئی سمجھ نہیں ہے اور معمولی سا شبہ پیش آتے ہی ان کے دل میں شک پیدا ہوجاتا ہے۔ نہ اِس طرف طبیعت جمتی ہے اور نہ اُس طرف۔ یا پھر ایسے لوگ ملتے ہیں جو لذتوں میں پڑے ہوئے ہیں اور آسانی سے خواہشات کی بات مان لیتے ہیں۔ یا پھر ایسے لوگ ملتے ہیں جو مال جمع کرنے اور ذخیرہ کرنے کا ہی جذبہ رکھتے ہیں، اور یہ آخری دو قسم کے انسان دین کے داعی بھی نہیں ہیں (پہلے دو دین کے داعی تو تھے، لیکن ان میں اور خرابیاں تھیں) اور چرنے والے جانور ان دونوں کے زیادہ مشابہ ہیں۔ اور علم والوں کے مرنے سے علم بھی ختم ہو جائے گا، لیکن یہ بات بھی ہے کہ زمین کبھی بھی اﷲ کے ایسے بندوں سے خالی نہیں ہوتی جو اس لیے دلائل لے کر کھڑے ہوتے ہیں تاکہ اﷲ کے دلائل اور واضح اَحکام بے کار اور معطل نہ قرار دیے جائیں۔ ان بندوں کی تعداد چاہے بہت کم ہو، لیکن اﷲ کے ہاں ان کا درجہ سب سے بڑاہے۔ اور اﷲ کی حجتوں یعنی قرآنی آیات پر جو غلط اعتراضات کیے جاتے ہیں،ان کو اﷲ تعالیٰ ان بندوں کے ذریعے دور فرماتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ان حجتوں کو اپنے جیسے بندوں تک پہنچا کر ان کے دلوں میں اتار دیتے ہیں اور کمالِ علم کی وجہ سے ہر اَمر کی حقیقت ان پر واضح ہوجاتی ہے۔ اور جس اَمر کی حقیقت عیش وعشرت والوں کو دشوار نظر آتی ہے وہ ان کے لیے بہت آسان ہوتی ہے۔ اور جن کاموں سے جاہل لوگ گھبراتے ہیں اور وحشت محسوس کرتے ہیں ان میں ان کا دل لگتا ہے۔ یہ لوگ اپنے بدن سے تو دنیامیں رہتے ہیں لیکن ان کی روحوں کا تعلق منظرِ اَعلیٰ یعنی آخرت سے ہوتا ہے۔ یہی لوگ اﷲ کی زمین پر اس کے خلیفہ ہیں اور اس کے دین کے داعی ہیں۔ ہائے! ہائے! مجھے ان لوگوں کو دیکھنے کا کتنا شوق ہے! میں اپنے لیے اور تمہارے لیے اﷲ سے اِستغفار کرتا ہوں، اب اگر تم چاہو تو جاسکتے ہو۔1 حضرت معاذ بن جبلؓ فرماتے ہیں: علم سیکھو کیوںکہ اﷲ کے لیے علم سیکھنا اﷲ سے ڈرنا ہے۔ علم کو تلاش کرنا عبادت ہے اور اس کا آپس میں مذاکرہ کرنا تسبیح (کا ثواب دلاتا) ہے اور(سمجھنے کے لیے) اس میں بحث کرنا جہاد ہے اور نہ جاننے والے کو سکھانا صدقہ ہے۔ اور جو لوگ علم کے اہل ہیں ان پر علم خرچ کرنا اﷲکے تقرب کا ذریعہ ہے، کیوںکہ علم کے ذریعہ سے حلال و حرام معلوم ہوتا ہے۔ اور علم جنت والوں کے لیے (جنت کے راستے کا)مینار ہے اور وحشت میں اُنس کا ذریعہ ہے۔ مسافری میں ساتھی، تنہائی میں بات کرنے والا، نفع و خوشی کے نقصان اور غم کے کاموں کو بتانے والا، دشمنوں کے خلاف ہتھیار اور دوستوں کے نزدیک انسان کی زینت کا ذریعہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ اس کے ذریعے کچھ لوگوں کو بلند مرتبہ کرتے ہیں، اور ان کو خیر کے کاموں میں پیش رُو اور امام بناتے ہیں۔ ان کے طریقوں کو لوگ اختیار کرتے ہیں، اور ان کے کاموں میں ان کی اِتباع کرتے ہیں، اور ان کی رائے اور فیصلہ پر سب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ فرشتے ان کی دوستی اور ان کے ساتھ رہنے کا شوق رکھتے ہیں، اور اپنے پَروں کو ان پر مَلتے ہیں اور ہر طرح کی مخلوق ان کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے، یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور دوسرے جانور، اور خشکی کے درندے اور جانور بھی ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، کیوںکہ علم دلوں کو جہالت سے نکال کر زندگی بخشتا ہے اور اندھیرے میں نگاہ کو بصیرت عطاکرتا ہے۔ انسان علم کے ذریعہ سے بہترین لوگوں کے مرتبے کو اور دنیا و آخرت کے بلند درجوں کو پالیتا ہے۔ اس میں غور و فکر کرنے سے روزہ رکھنے کا اور اسے پڑھنے پڑھانے سے راتوں کو عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ علم کی وجہ سے انسان صلہ رحمی کرتا ہے، اور حلال اور حرام کا فرق جانتا ہے۔ علم عمل کا امام ہے، عمل اس کے تابع ہے۔ خوش قسمت لوگوں کے دلوں میں علم کااِلہام ہوتا ہے اور بدقسمت لوگ علم سے محروم رہتے ہیں۔1 حضرت ہارون بن رِئاب کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: تم صبح اِس حال میں کرو کہ یا تو(سکھانے والے)عالم ہو یا سیکھنے والے ہو، اس کے علاوہ کچھ اور نہ ہو، کیوں کہ اس کے علاوہ تو آدمی جاہل ہوتا ہے۔ اور جو آدمی علم حاصل کرنے کی حا لت میں صبح کرتا ہے، اس کے اس عمل کو پسندیدہ سمجھنے کی وجہ سے فرشتے اس کے لیے اپنے پَر کھول دیتے ہیں۔2 حضرت زید کہتے ہیں: حضرت عبداﷲؓنے فرمایا: تم اس حال میں صبح کرو کہ یا تو تم (سکھانے والے) عالم ہو یا سیکھنے والے ہو۔ اور ایسے آدمی نہ بنو جس کی اپنی کوئی رائے نہ ہو اور وہ ہر ایک کے پیچھے چل پڑے۔3 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: اے لوگو! علم اٹھنے سے پہلے علم حاصل کرلو۔ اور اس کے اٹھنے کی صورت یہ ہوگی کہ علم والے دنیا سے چلے جائیں گے۔ اور تم لوگ علم حاصل کرو، کیوںکہ تمھیں معلوم نہیں ہے کہ تمھیں اپنے علم کی کب ضرورت پڑجائے۔ اور علم حاصل کرو، لیکن علم میں مبالغہ اور غلو سے بچو، اور پرانا طرز اختیار کرو(جو صحابۂ کرام ؓمیںتھا)، کیوںکہ عن قریب ایسے لوگ آئیں گے جو اﷲ کی کتاب کو تو پڑھیں گے لیکن اسے اپنی پشت کے پیچھے پھینک دیں گے (اس پر عمل نہیں کریں گے)۔1 حضرت ابوالاحوص کہتے ہیں: حضرت عبداﷲؓنے فرمایا: آدمی عالم بن کر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ علم تو سیکھنے سے آتا ہے۔ 2 حضرت عبد اللہ ؓفرماتے ہیں: تم عالم بنو یا علم سیکھنے والے بنو، ان دو کے علاوہ کچھ نہ بنو۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے تو عُلَما سے محبت کرو، ان سے بغض نہ رکھو۔3 حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا:یا تو (سکھانے والے) عالم بنو یا طالب علم بنو یا عُلما سے محبت کرنے والے اور ان کا اِتباع کرنے والے بنو، (ان چار کے علاوہ) پانچویں قسم کے مت بنو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ راوی حضرت حُمید کہتے ہیں: میں نے حضرت حسن سے پوچھا: پانچویں قسم سے کون مراد ہے؟ انھوں نے کہا:اپنی طرف سے دین میں نئی باتیں ایجاد کرنے والا۔4 حضرت ضحّاک کہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: اے دِمَشْق والو! تم لوگ میرے دینی بھائی ہو، علاقے کے پڑوسی ہو اور دشمنوں کے خلاف میرے مددگار ہو، لیکن تم مجھ سے دوستی کیوں نہیں رکھتے حالاںکہ میرا خرچہ بھی تمہارے ذمہ نہیں ہے دوسروں پر ہے؟ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے عُلما جارہے ہیں اور تمہارے جاہل لوگ ان سے علم نہیں سیکھ رہے۔ اور میں دیکھ رہا ہوں کہ اللہ نے جس روز ی کی ذمہ داری لے رکھی ہے تم اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہو اور اللہ نے تمھیں جن کاموں کا حکم دیا ہے انھیں چھوڑ رکھا ہے۔ غور سے سنو! کچھ لوگوں نے بڑی مضبوط عمارتیں بنائیں اور بہت مال جمع کیا اور بڑی دور کی اُمیدیں لگائیں، لیکن پھر ان کی عمارتیں گر کر قبرستان بن گئیںاور ان کی اُمیدیں دھوکہ ثابت ہوئیں اور ایسے لوگ خود ہی ہلاک ہوگئے۔ غور سے سنو! علم سیکھو اور سکھاؤ، کیوںکہ علم سیکھنے والا اور سکھانے والا دونوں اجر میں برابر ہیں۔ اگر یہ دونوں نہ ہوں تو پھر لوگوں میں کوئی خیر نہیں۔1 حضرت حسّانکہتے ہیں کہ حضرت ابوالدرداء ؓ نے دِمَشْق والوں سے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی ہوگئے کہ سالہا سال گندم کی روٹی پیٹ بھر کر کھاتے رہو؟ تمہاری مجلسوں میں اﷲ کا نام نہیں لیا جاتا۔ تمھیں کیا ہوگیا تمہارے عُلما جارہے ہیں، لیکن تمہارے جاہل علم حاصل نہیں کررہے؟ اگر تمہارے عُلما چاہتے تو ان کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا تھا۔ اگر تمہارے جاہل علم کو تلاش کرتے تو وہ اسے ضرور پالیتے۔ نقصان دینے والی چیزوں کے بجائے اپنے فائدے والی چیزیں اختیار کرو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! جو اُمّت بھی ہلاک ہوئی ہے اس کی ہلاکت کے دو ہی اسباب تھے: ایک تو وہ اپنی خواہشات پر چل رہے تھے اور دوسرے وہ اپنی تعریف کیا کرتے تھے۔2 حضرت ابو الدرداء ؓفرماتے ہیں: علم کے اٹھنے سے پہلے اسے حاصل کرلو اور علم کے اٹھنے کی صورت یہ ہوگی کہ عُلما دنیا سے چلے جائیں گے۔ اور علم سکھانے والے اور سیکھنے والے دونوں اجر میں برابر ہیں۔ انسان کہلانے کے مستحق دو ہی آدمی ہیں: علم سکھانے والا عالم یا علم سیکھنے والا۔ ان دو کے علاوہ باقی انسانوں میں کوئی خیر نہیں۔3 حضرت ابوالدردا ء ؓ فرماتے ہیں: جو بھی صبح سویرے مسجد کو کوئی خیر کی بات سیکھنے یا سکھانے جاتا ہے، اس کے لیے اس مجاہد کا اجر لکھا جاتا ہے جو مالِ غنیمت لے کر واپس آتا ہے۔1 حضرت ابو الدردا ء ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی یہ سمجھے کہ صبح اور شام علم کے لیے جانا جہاد نہیں ہے وہ کم عقل ہے، وہ کم عقل اور ناقص رائے والا ہے۔2 حضرت ابوالدردا ء ؓ فرماتے ہیں کہ علم سیکھنے سے ہی حاصل ہوتا ہے۔3 حضرت ابو ذر اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آدمی کا علم کا ایک باب سیکھ لینا ہمیں اس کے ہزار رکعت نفل پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے۔ اور حضورﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: جو طالبِ علم طالبِ علمی کی حالت میں مرے گا وہ شہید ہوگا۔4 ایک روایت میں ان دونوں حضرات کا یہ ارشاد نقل ہے کہ علم کا ایک باب سکھانا ہمیں سو رکعت نفل سے زیادہ محبوب ہے چاہے اس پر عمل ہورہا ہو یا نہ ہورہا ہو۔ حضرت علی اَزْدی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عباس ؓسے جہاد کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: کیا میں تمھیں ایسا عمل نہ بتادوں جو تمہارے لیے جہاد سے بہتر ہے؟ تم کسی مسجد میں جا کر قرآن، فقہ یا سنت سکھاؤ۔5 حضرت علی اَزْدی کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ عباس ؓ سے جہاد کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: کیامیں تمھیں وہ عمل نہ بتادوں جو تمہارے لیے جہاد سے بہتر ہے؟ تم ایک مسجد بناؤ اور اس میں قرآن، نبی کریم ﷺ کی سنتیں اور دین کے فقہی مسائل سکھاؤ۔6 حضرت ابنِ عباس ؓفرماتے ہیں: لوگوں کو خیر سکھانے والے کے لیے ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے، حتیٰ کہ سمندر میں مچھلیاں بھی اس کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہیں۔7 حضرت زِرّ بن حُبَیشکہتے ہیں: میں حضرت صَفوان بن عَسَّال مُرادی ؓکی خدمت میں صبح صبح گیا تو انھوں نے پوچھا: اے زِرّ! تم صبح صبح کس لیے آئے ہو؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں۔ فرمایا: یا تو علم سکھانے والے عالم بنو یا سیکھنے والے بنو، ان دو کے علاوہ اور کچھ نہ بنو۔1 حضرت صفوان ؓ فرماتے ہیں: جو اپنے گھر سے علم حاصل کرنے نکلتا ہے تو فرشتے اس علم سیکھنے والے اور اس کے علم سکھانے والے کے لیے اپنے پَر بچھاتے ہیں۔ 2