صحابہ کرام ؓ کا ایمان
نماز سکھانا
حضر ت ابو مالک اَشجعی کے والدؓ فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی مسلمان ہوتا تو حضور ﷺ اسے سب سے پہلے نماز سکھاتے۔2
حضرت حَکَم بن عمیر کہتے ہیں کہ حضورﷺ ہمیں نماز سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے لگو تو پہلے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہو اور اپنے ہاتھوں کو اٹھاؤ،لیکن کانوں سے اوپر نہ لے جاؤ اور پھر یہ پڑھو:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا إِلٰـہَ غَیْرُکَ۔
اے اﷲ! تو پاک ہے، ہم تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام برکت والا ہے، تیری بزرگی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔3
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو بکرؓمنبر پر اس طرح التحیا ت سکھاتے تھے جیسے کہ استاد مکتب میں بچوں کو سکھاتا ہے۔4
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے التحیات سکھائی اور ارشاد فرمایا کہ حضورﷺ نے بھی ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں التحیات سکھائی تھی:
اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ الْمُبَارَکَاتُ لِلّٰہِ۔1
حضرت عبد الرحمن بن عبد ِقاری کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطّابؓ کو منبر پر لوگوں کو التحیات سکھاتے ہوئے سنا۔ فرمارہے تھے: اے لوگو!کہو: اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ سے لے کر آخر تک۔2
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہمیں التحیات اس طرح سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔3
حضرت ابنِ مسعودؓسے بھی ایسی ہی حدیث منقول ہے۔4
حضرت ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھے التحیات اس طرح سکھائی جس طرح مجھے آپ ﷺ قرآن کی کوئی سورت سکھایا کرتے تھے اور اس وقت میرا ہاتھ حضورﷺ کے ہاتھوں میں تھا۔ پھر اس کے بعد التحیات کو ذکر کیا۔5
حضرت ابنِ مسعو دؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ ہمیں سورتوں کا شروع والا حصہ اور قرآن سکھاتے تھے۔ چناںچہ ہمیں حضورﷺ نے نماز کا خطبہ اور نکاح وغیرہ کسی ضرورت کا خطبہ بھی سکھایا۔ پھر التحیات کا ذکر کیا۔6
حضرت اَسود کہتے ہیں کہ حضرت عبداﷲؓ ہمیں التحیات اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ اس میں ہماری الف اور واوکی غلطی بھی پکڑتے تھے۔7
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت حذیفہؓ مسجد میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے لیکن رکوع سجدہ پورا نہیں کررہا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حضرت حذیفہؓ نے اس سے پوچھا: کتنے عرصہ سے تم ایسی نماز پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا: چالیس سال سے۔ حضرت حذیفہؓ نے فرمایا: تم نے چالیس سال سے ٹھیک نماز نہیں پڑھی، اور اگر تم ایسی نماز پڑھتے ہوئے مروگے توتم اس حالت پر نہیں مروگے جس پر حضرت محمد ﷺ پیدا کیے گئے تھے۔ پھر اس کی طرف متوجہ ہوکر اسے سکھانے لگے، پھر فرمایا: آدمی کو چاہیے کہ چاہے وہ نماز میں قیام مختصر کرے لیکن رکوع سجدہ پورا کرے۔1