صحابہ کرام ؓ کا ایمان

کیا امامِ وقت علمی ضرورت کی وجہ سے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو اﷲ کے راستہ میں جانے سے روک سکتا ہے؟

حضرت قاسم کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓجس سفر میں تشریف لے جاتے تو اپنے پیچھے حضرت زید بن ثابتؓ کو اپنی جگہ ذمہ داربنا جاتے۔حضرت عمر نے اور لوگوں کو تمام علاقوں میں تقسیم کردیا تھا(حضرت زیدکو اپنے پاس رکھا ہوا تھا)۔ حضرت زید کو بہت ہی ضروری کام کی وجہ سے بھیجتے۔ حضرت عمر سے نام لے کرآدمیوں کے بھیجنے کا مطالبہ ہوتا اور یوں کہا جاتا کہ حضرت زید بن ثابت کو بھیج دیں، تو فرماتے: میں حضرت زید کے مرتبہ سے ناواقف نہیں ہوں، لیکن اس شہر (مدینہ) والوں کو حضرت زیدکی ضرورت ہے، کیوںکہ مدینہ والوں کو پیش آنے والے مسائل میں جیسا عمدہ جواب حضرت زیدسے ملتا ہے، ایسا کسی اور سے نہیں ملتا۔2 حضرت سالم بن عبداﷲ کہتے ہیں کہ جس دن حضرت زید بن ثابت ؓ کا انتقال ہوا اس دن ہم لوگ حضرت ابنِ عمرؓ کے ساتھ تھے۔ میں نے کہا: آج لوگوں کے بہت بڑے عالم کا انتقال ہوگیا ہے۔ حضرت ابنِ عمرؓ نے کہا: اﷲ آج ان پر رحمت نازل فرمائے! یہ تو حضرت عمرؓ کے زمانۂ خلافت میں بھی لوگوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ حضرت عمر ؓ نے لوگوں کو تمام علاقوں میں بکھیر دیا تھا اور انھیں اپنی رائے سے فتویٰ دینے سے منع کردیا تھا، لیکن حضرت زید بن ثابت مدینہ ہی میں رہے، اور مدینہ والوں کو اور باہر سے آنے والوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے۔3 حضرت ابو عبدالرحمن سُلَمی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمانؓکو قرآن پڑھ کر سنایا۔ اس پر انھوں نے مجھ سے فرمایا: اس طرح تو تم مجھے لوگوں کے کاموں کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ہٹادوگے، اس لیے تم حضرت زید بن ثابت کے پاس چلے جاؤ، کیوںکہ انھیں اس کام کے لیے مجھ سے زیادہ فرصت ہے اور انھیں پڑھ کر سناؤ۔ میری اور ان کی قرأت ایک جیسی ہے کوئی فرق نہیں ہے۔1 اور جلد اوّل صفحہ ۵۹۳ پر ابنِ سعد کی یہ روایت گذر چکی ہے کہ حضرت کعب بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت معاذؓ ملکِ شام کی طرف روانہ ہوگئے تو حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت معاذؓ کے شام جانے سے مدینے والوں کو فقہی مسائل میں اور فتویٰ لینے میں بڑی دِقّت پیش آرہی ہے، کیوںکہ حضر ت معاذؓ مدینہ میں لوگوں کو فتویٰ دیا کرتے تھے۔ میں نے حضرت ابوبکر ؓ سے (اﷲ ان پر رحمت نازل فرمائے!) یہ بات کی تھی کہ وہ حضرت معاذ کو مدینہ میں روک لیں کیوںکہ لوگوں کو (فتویٰ میں) ان کی ضرورت ہے، لیکن انھوں نے مجھے انکار کردیا اور فرمایا کہ ایک آدمی اس راستہ میں جاکر شہید ہونا چاہتا ہے تو میں اسے نہیں روک سکتا۔ آگے اور حدیث بھی ذکر کی ہے۔