صحابہ کرام ؓ کا ایمان

علمی مجلسیں اور عُلما کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا

حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اﷲ! ہمارے ساتھ بیٹھنے والوں میں سے کون سب سے بہترین ہے؟ آپ نے فرمایا: جس کے دیکھنے سے تمھیں اﷲ یاد آئے اور جس کی گفتگو سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور جس کے عمل سے تمھیں آخرت یاد آئے۔2 حضرت قُرّہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضورﷺ مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو آپ کے صحابہ آپ کے پاس کئی حلقے بنا کر بیٹھ جاتے (اور آپس میں سیکھنے سکھانے لگ جاتے اور جب ضرورت پڑتی تو حضورﷺ سے پوچھ لیتے)۔3 حضرت یزید رَقاشی کہتے ہیں کہ جب حضرت انس ؓ ہمیں حدیث سناتے تو یہ بھی فرماتے:یہ حدیث ایسے نہیں سیکھی جاتی تھی جس طرح تم اور تمہارے ساتھی کرتے ہیں کہ ایک آدمی بیٹھ جاتا ہے اور سب اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور وہ ان میں بیان کرتا ہے، بلکہ صحابۂ کرام ؓ فجر کی نماز سے فارغ ہوکر کئی حلقے بنالیتے، اور ان حلقوں میں قرآن پڑھتے اور فرائض اور سنتیں سیکھتے۔4 حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں: میں مہاجرین کی ایک جماعت میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے پاس کپڑے بہت کم تھے جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے کی اَوٹ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارے ایک قاری قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم سب اﷲ کی کتاب سن رہے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اﷲ کے لیے ہیں جس نے میری اُمّت میں ایسے لوگ بھی بنائے ہیں کہ مجھے اپنے آپ کو ان کے پاس بٹھائے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کے تشریف لانے پر گول حلقہ بن گیا اور سب نے چہرے حضورﷺ کی طرف کر لیے، لیکن آپ نے میرے علاوہ اور کسی کو نہیں پہچانا۔ پھر حضورﷺنے فرمایا: اے فُقرائے مہاجرین! تمھیں خوش خبری ہو کہ تمھیں قیامت کے دن پورا نور حاصل ہوگا اور تم ما ل داروں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور یہ آدھا دن پانچ سو برس کا ہوگا۔1 حضرت عبداﷲ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کا اپنی مسجد میں دو حلقوں پر گزر ہوا۔ ایک حلقہ والے دعا میں اور اﷲ سے راز ونیاز کی باتوں میں لگے ہوئے تھے، اور دوسرے حلقہ والے دینی علم سیکھ سکھارہے تھے۔ حضورﷺ نے فرمایا: دونوں حلقوں والے خیر پر ہیں، لیکن ایک حلقہ والے دوسرے سے بہتر ہیں۔ یہ تو اﷲ سے دعا کررہے ہیں اور اس سے راز ونیاز میں لگے ہوئے ہیں، اگر اﷲ چاہے گا تو ان کو دے گا اور اگر چاہے گا تو نہیں دے گا۔ یہ دوسرے حلقہ والے سیکھ رہے ہیں اور جسے نہیں آتا اسے سکھارہے ہیں اور مجھے تو سکھانے والا بناکر ہی بھیجا گیا ہے۔ پھر آپ آکر ان کے پاس بیٹھ گئے۔2 حضرت ابو بکر بن اَبی موسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰؓ عِشا کے بعد حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس آئے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا:کیسے آناہوا؟ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کہا: آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: اس وقت؟ حضرت ابوموسیٰؓ نے کہا:ہاں، ایک ضروری دینی مسئلہ ہے۔ چناںچہ حضرت عمرؓ ان کے پاس بیٹھ گئے اور دونوں بہت دیر تک باتیں کرتے رہے۔ جب باتوں سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو موسیٰ ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! تہجد کی نماز پڑھ لیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:ہم تو نماز میں ہی تھے۔3 حضرت جُنْدُب بن عبداﷲ بَجَلیکہتے ہیں: میں علم حاصل کرنے مدینہ آیا۔ میں حضور ﷺ کی مسجد میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ لوگ حلقے بناکر بیٹھے ہوئے ہیں اور باتیں کررہے ہیں۔ میں حلقوں کے پاس سے گزرتا رہا اور چلتے چلتے ایک حلقہ کے پاس پہنچا تو اس میں ایک صاحب تھے جن کا رنگ بدلا ہوا تھا اور ان کے جسم پر دو کپڑے تھے، ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے ابھی سفر سے آئے ہوں۔ میں نے انھیں فرماتے ہوئے سنا: ربِّ کعبہ کی قسم!لوگوں سے بیعت لینے والے بادشاہ ہلاک ہوگئے اور مجھے ان کا غم نہیں، اور یہ بات انھوں نے کئی مرتبہ کہی۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا، وہ کافی دیر تک حدیثیں بیان فرماتے رہے،اس کے بعد وہ کھڑے ہوگئے۔ ان کے کھڑے ہونے کے بعد میں نے ان کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ مسلمانوں کے سردار حضرت اُبی بن کعب ؓ ہیں۔ میں ان کے پیچھے ہولیا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئے۔ ان کا گھر بالکل پرانا سا تھا۔ اس کی شکل و صورت بوسیدہ سی تھی اور ان میں دنیا کی رغبت بالکل نہ تھی بالکل دنیا سے الگ تھلگ تھے، ان کی تمام باتیں آپس میں ملتی جلتی تھیں۔ میں نے انھیں سلام کیا،انھوں نے سلام کاجواب دیا۔ پھر مجھ سے پوچھا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا:عراق والوں میں سے۔ انھوں نے فرمایا: عراق والے تومجھ سے بہت زیادہ سوالات کرتے ہیں۔ جب انھوں نے یہ فرمایا تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے گھٹنے کے بل بیٹھ کر اپنے ہاتھ چہرے تک اٹھالیے اور قبلہ کی طرف منہ کرلیا اور میں نے دعا کرنی شروع کی: اے اﷲ! ہم تجھ سے ہی ان لوگوں کی شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے بہت مال خرچ کیا اور اپنے جسموں کو خوب تھکایا اور اپنی سواریوں کو چلایا، یہ سب کچھ ہم نے علم حاصل کرنے کے لیے کیا۔ جب ہماری ان سے ملاقات ہوئی تویہ ہمیں تُرش روئی سے ملے اور ہمیں ایسے سخت کلمات کہہ دیے۔ یہ سن کر حضرت اُبی ؓ رونے لگے اور مجھے راضی کرنے لگے اور فرمانے لگے: تیرا بھلا ہو! میرا مطلب یہ نہیں تھا، ہر گز نہیں تھا۔ پھر فرمانے لگے: اے اﷲ! اگر تونے مجھے آیندہ جمعہ تک زندہ رکھا تو میں نے جو کچھ حضورﷺ سے سن رکھا ہے وہ سب ضرور بیان کردوں گا اور کسی کی ملامت کی پروا نہیں کروں گا۔ اس کے بعد میں ان کے پاس سے واپس آگیا اور اگلے جمعہ کا انتظار کرنے لگا، لیکن جمعرات کو میں کسی کام سے باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ تمام گلیاں لوگوں سے بھری ہوئی ہیں۔ جس گلی میں جاتا ہوں وہاں لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں۔ میں نے پوچھا: ان لوگوں کو کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: ہمارا خیال ہے آپ اجنبی مسافر ہیں۔ میں نے کہا:جی ہاں۔ لوگوں نے کہا: مسلمانوں کے سردار حضرت اُبی بن کعب ؓ کا انتقال ہوگیا ہے۔ حضرت جندب کہتے ہیں: میں عراق واپس آیا تو میری ملاقات حضرت ابو موسیٰ ؓ سے ہوئی اور میں نے انھیں حضرت اُبیؓکی ساری بات بتائی۔ انھوں نے فرمایا: ہائے افسوس! کاش وہ زندہ رہ جاتے تاکہ ہمیں ان کی وہ خاص بات پہنچ جاتی۔1 حضرت ہلال یَساف کہتے ہیں: میں بصرہ آیا اور ایک مسجد میں داخل ہوا تومیں نے دیکھا ایک بڑے میاں جن کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہیں ایک ستون سے ٹیک لگا کر لوگوں میں حدیث بیان کررہے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ حضرت عمران بن حصینؓ ہیں۔2 حضرت ابو صالح کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ عباسؓ کی ایسی زبردست مجلس دیکھی ہے کہ سارے قریش والے اس پر فخر کریں تو بجا ہے۔ یہ واقعی قابل فخر مجلس ہے۔ میں نے ایک دن دیکھا کہ بہت سے لوگ ان کے گھر کے باہر راستہ پر جمع ہیں اور اتنے زیادہ ہیں کہ آنے جانے کی بالکل جگہ نہیں ہے۔ میں نے اند رجاکر حضرت ابنِ عباسؓ کو بتایا کہ دروازے پر بہت سے لوگ آئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے فرمایا: میرے لیے وضو کا پانی رکھو۔ چناںچہ وہ وضو کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا: باہر جاؤ اور لوگوں میں اعلان کرو کہ جو قرآن اور اس کے حروف اور اس کی کسی چیز کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہے وہ اندر آجائے۔ چناں چہ میں نے باہر جا کر یہ اعلان کیا تو ایک بہت بڑی تعداد اندر آئی جس سے سارا گھر اور حجر ہ بھر گیا، اور انھوں نے جو بات بھی پوچھی حضرت ابنِ عباس نے اس کا جوب دیا اور جتنا انھوں نے پوچھا اتنا بلکہ اس سے کہیں زیادہ اپنے پاس سے انھیں بتایا۔ پھر فرمایا: اب اپنے دوسرے بھائیوں کو اند ر آنے کا موقع دے دو۔چناںچہ وہ لوگ باہر چلے گئے۔ پھر مجھ سے فرمایا:باہر جا کر اب یہ اعلان کرو کہ جو قرآن کی تفسیر اور شرح کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہے وہ اندر آجائے۔ چناںچہ میں نے باہر جا کر یہ اعلان کیا تو ایک بہت بڑی تعداد اند ر آئی جس سے سارا گھر اور حجر ہ بھر گیا، اور انھوں نے جو بات بھی پوچھی حضرت ابنِ عباس نے اس کا جواب دیا اور جتنا ان لوگوں نے پوچھا اتنا بلکہ اس سے بھی زیادہ اپنے پاس سے بیان کردیا۔ پھر فرمایا: اب اپنے دوسرے بھائیوں کو اندر آنے کا موقع دے دو۔ چناںچہ وہ لوگ چلے گئے۔ پھر مجھ سے فرمایا: باہر جاکر اعلان کردو کہ جو حلال حرام اور فقہی مسائل پوچھنا چاہتا ہے وہ اندر آجائے۔ چناںچہ میں نے باہر جاکر یہ اعلان کردیا تو بہت بڑی تعداد اند ر آئی جس سے سارا گھر اور حجرہ بھر گیا، اور ان لوگوں نے جو بھی پوچھا اس کا انھیں جواب دیا اور اتنا ہی اور اپنے پاس سے بیان کردیا۔ پھر ان سے فرمایا: اب اپنے دوسرے بھائیوں کو موقع دے دو۔ چناںچہ یہ لوگ باہر چلے گئے۔ پھر مجھ سے فرمایا: باہر جاکر یہ اعلان کردو کہ جو میراث وغیرہ جیسے مسائل پوچھنا چاہتا ہے وہ اندر آجائے۔چناںچہ میں نے باہر جاکر یہ اعلان کردیا تو بہت بڑی تعداد اندر آئی جس سے سارا گھر اور حجرہ بھر گیا، اور ان لوگوں نے جو بھی پوچھا حضرت ابنِ عباس ؓنے اس کا جواب دیا، اور اتنا ہی اور اپنے پاس سے بیان کردیا۔ پھر فرمایا: اب اپنے دوسرے بھائیوں کو موقع دے دو۔ چناںچہ وہ لوگ باہر چلے گئے۔ پھر مجھ سے فرمایا: باہر جاکر اعلان کردو کہ جو عربی لغت، اَشعار اور اَنوکھے کلام کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہے وہ اند ر آجائے۔ میں نے باہر جاکر یہ اعلان کردیا، جس پر ایک بہت بڑی تعداد اندر داخل ہوئی جس سے سارا گھر اور حجرہ بھر گیا، اور ان لوگوں نے جو بات بھی پوچھی اس کا حضرت ابنِ عباسؓ نے جواب دیا اور اتنا ہی اور اپنے پاس سے بیان کردیا۔ اگر سارے قریش حضرت ابنِ عباس ؓکی اس مجلس پر فخر کریں تو انھیں فخر کرنے کا حق پہنچتا ہے، اور میں نے اس جیسا منظر اور کسی کے ہاں نہیں دیکھا۔1 حضرت ابنِ مسعود ؓ نے فرمایا: بہترین مجلس وہ ہے جس میں حکمت کی باتیں بیان کی جائیں۔1 دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ بہترین مجلس وہ ہے جس میں خوب حکمت کے موتی بکھیرے جائیں اور رحمتِ خداوندی کی پوری اُمید ہو (کیوںکہ اس میں ایسے اعمال کیے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اﷲ کی رحمت نازل ہوتی ہے)۔ 2 حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں: متقی لوگ سردار ہیں، اور فقیہ لوگ اُمّت کے رہنما ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے (ایمان و علم میں) اضافہ ہوتا ہے۔3 حضرت ابو جُحیفہ ؓ نے فرمایا کہ قیمتی اور کار آمد نصیحت کے طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ بڑی عمر والوں کے پاس بیٹھا کرو اور عُلما سے دوستی لگاؤ اور حکمت والے سمجھ دار لوگوں سے میل جول رکھو۔ حضرت ابو درداء ؓ فرماتے ہیں کہ آدمی کے دینی سمجھ رکھنے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اس کا چلنا اور آنا جانا علم والوں کے پاس ہو۔4 ایک روایت میں مزید یہ الفاظ بھی ہیں: اور اس کا بیٹھنا بھی ان کے ساتھ ہو۔5