صحابہ کرام ؓ کا ایمان
علما اور طلبہ کے آداب
حضرت ابواُمامہؓ فرماتے ہیں کہ قریش کا ایک جوان حضورﷺ کی خدمت میںآکر کہنے لگا: یا رسول ﷲ! مجھے زنا کی اجازت دے دیں۔ تمام لوگ اس کی طرف متوجہ ہوگئے اور اسے ڈانٹنے لگے اور کہنے لگے: ایسی بات نہ کہو، ایسی بات نہ کہو۔حضورﷺ نے فرمایا: ذرا قریب آجاؤ۔ وہ حضورﷺ کے قریب آگیا۔ حضورﷺنے فرمایا: کیا تم زنا کو اپنی ماں کے لیے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: بالکل نہیں، اﷲ کی قسم! اﷲ مجھے آپ پر قربان کرے! حضور ﷺ نے فرمایا: نہ ہی دوسرے لوگ اسے اپنی ماں کے لیے پسند کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اسے اپنی بیٹی کے لیے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: بالکل نہیں، اﷲ کی قسم! یا رسول اﷲ! اﷲ مجھے آپ پر قربان کرے! حضورﷺنے فرمایا: اور نہ ہی اور لوگ اسے اپنی بیٹیوں کے لیے پسند کرتے ہیں؟ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم اسے اپنی بہن کے لیے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا:بالکل نہیں، اﷲ کی قسم! یا رسول اﷲ! اﷲ مجھے آپ پر قربان کرے! حضورﷺ نے فرمایا: نہ ہی دوسرے لوگ اسے اپنی بہنوں کے لیے پسند کرتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا تم اسے اپنی پھوپھی کے لیے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا: بالکل نہیں، اﷲ کی قسم! یا رسول ا ﷲ!اﷲمجھے آپ پر قربان کرے! حضورﷺنے فرمایا: اور نہ ہی دوسرے لوگ اسے اپنی پھوپھیوں کے لیے پسند کرتے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اسے اپنی خالہ کے لیے پسند کرتے ہو؟ اس نے کہا:بالکل نہیں، اﷲ کی قسم! یا رسول اﷲ!ا ﷲ مجھے آپ پر قربان کرے! حضورﷺ نے فرمایا: اور نہ ہی دوسرے لوگ اسے اپنی خالاؤں کے لیے پسند کرتے ہیں۔ پھر حضورﷺ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھ کر یہ دعا مانگی: اے اﷲ!اس کے گناہ معاف فرما اور اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرم گاہ کی حفاظت فرما۔ حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کے سمجھانے اور دعا فرمانے کے بعد اس جوان کی توجہ اس طرف سے بالکل ہٹ گئی۔1
حضرت ابو اُمامہؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کوئی بات ارشاد فرماتے تو اسے تین مرتبہ کہتے تاکہ سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں۔2
حضرت شعبی کہتے ہیں: حضرت عائشہؓ نے مدینہ والوں کے واعظ حضرت ابنِ اَبی سائب سے فرمایا:تین کاموں میں میری بات مانو ورنہ میں تم سے سخت لڑائی کروں گی۔ حضرت ابنِ اَبی سائب نے عرض کیا: وہ تین کام کیا ہیں؟ اے اُمُّ المؤمنین! میںآپ کی بات ضرور مانوں گا۔ حضرت عائشہؓنے فرمایا: پہلی بات یہ ہے کہ تم دعا میں بتکلف قافیہ بند ی سے بچو، کیوںکہ حضورﷺ اور آپ کے صحابہؓ اس طرح قصداً نہیں کیا کرتے تھے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہفتہ میں ایک دفعہ لوگوں میں بیان کیا کرو اور زیادہ کرنا چاہو تو دو دفعہ ورنہ زیاد ہ سے زیادہ تین دفعہ کیا کرو، اس سے زیادہ نہ کرو ورنہ لوگ (اﷲکی) اس کتاب سے اُکتا جائیں گے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ ایسا ہرگز نہ کرنا کہ تم کسی جگہ جاؤ اور وہاں والے آپس میںبات کررہے ہوں اور تم ان کی بات کاٹ کر اپنا بیان شروع کردو، بلکہ انھیں اپنی بات کرنے دو، اور جب وہ تمھیں موقع دیں اور کہیں تو پھر ان میں بیان کرو۔3
حضرت شقیق بن سلمہ کہتے ہیں: حضرت عبد اﷲ بن مسعودؓ ایک دن ہمارے پاس باہر تشریف لائے اور فرمایا: مجھے خبر مل جاتی ہے کہ آپ لوگ باہر بیٹھے ہیں، لیکن بعض دفعہ میں جان بوجھ کر آپ لوگوں کے پاس باہر نہیں آتا تاکہ میرے زیادہ بیانات اور زیادہ حدیثیں سنانے کی وجہ سے آپ لوگ اُکتا نہ جائیں، کیوںکہ حضورﷺ وعظ اور بیان میں ہمارا خیال فرماتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔ 1
حضرت اَعمشکہتے ہیں کہ حضرت ابنِ مسعودؓ کا ایک آدمی پر گزر ہوا جو ایک قوم میں وعظ کہہ رہا تھا۔ حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: اے وعظ و نصیحت کرنے والے! لوگوں کو (اﷲکی رحمت سے)نا اُمید نہ کرنا۔2
حضرت علیؓ نے فرمایا: کیا میں تمھیں دین کی سمجھ رکھنے والا حقیقی عالم نہ بتاؤں؟ یہ وہ عالم ہے جو لوگوں کو اﷲ کی رحمت سے نااُمید نہ کرے، اور نہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کی انھیں کھلی چھٹی دے، اور نہ انھیں اﷲ کی پکڑ سے بے خوف اور بے فکر ہونے دے، اور نہ قرآن کے علاوہ کسی اور چیز میں ایسا لگے کہ قرآن چھوٹ جائے۔ اس عبادت میں خیر نہیں ہے جس میں دینی علم نہ ہو اور اس دینی علم میں خیر نہیں ہے جسے آدمی سمجھا نہ ہو، یا جس کے ساتھ پرہیز گاری نہ ہو۔ اور قرآن کی اس تلاوت میں کوئی خیر نہیں جس میں انسان قرآن کے معنی اور مطلب میں غور و فکر نہ کرے۔3
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو موسیٰ ؓ کو یمن بھیجا تو ان دونوں کو یہ ہدایات دیں کہ آپس میںایک دوسرے سے تعاون کرنا اور ایک دوسرے کی بات ماننا اور لوگوں کو خوش خبریاں سنانا اور لوگوں کو مت بھگانا۔ چناںچہ (یمن جاکر) حضرت معاذ ؓ نے لوگوں میں بیان فرمایا، اور انھیں اسلام لانے کی اور دینی سمجھ حاصل کرنے کی اور قرآن پڑھنے کی ترغیب دی، اور فرمایا: میں تمھیں جنت والے اور دوزخ والے بتادیتا ہوں۔ جب کسی آدمی کا بھلائی کے ساتھ ذکر ہو تو سمجھ لو کہ وہ جنت والوں میں سے ہے، اور جب کسی کا برائی کے ساتھ ذکر ہو تو سمجھ لو وہ دوزخ والوں میں سے ہے۔1
حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ جب آپس میں بیٹھا کرتے تھے تو ان کی باتیں دینی امو ر کے بارے میں ہی ہوتی تھیں، یا پھر خود کوئی سورت پڑھتے یا کسی کو پڑھاتے۔2
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ آدمی علم کے اَعلیٰ مرتبہ پر اس وقت ہوگا جب اپنے سے اوپر والے سے حسد نہ کرے اور اپنے سے نیچے والے کو حقیر نہ سمجھے اور علم کے بدلہ میں کوئی قیمت نہ چاہے۔3
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: خود علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، اور علم کے لیے وقار اور سکون و اطمینان سیکھو، اور جس سے علم سیکھو اس کے سامنے بھی تواضع اختیار کرو اور جسے علم سکھاؤ اس کے سامنے بھی تواضع اختیار کرو اور متکبر عالم نہ بنو، اس طرح تمہارا جہل تمہارے علم کے سامنے نہیں ٹھہر سکے گا بلکہ ختم ہو جائے گا۔4
حضرت علیؓنے فرمایا: (تمھیں سکھانے والے) عالم کا یہ حق ہے کہ تم اس سے سوال زیادہ نہ کرو اور اسے جواب دینے کی مشقت میں نہ ڈالو،یعنی اسے مجبور نہ کرو۔ اور جب وہ تم سے منہ دوسری طرف پھیر لے تو پھر اس پر اِصرار نہ کرو، اور جب وہ تھک جائے تو اس کے کپڑے نہ پکڑو، اور نہ ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کرو اور نہ آنکھوں سے۔ اور اس کی مجلس کا کچھ نہ پوچھو اور اس کی لغزشیں تلاش نہ کرو۔ اور اگر اس سے کوئی لغزش ہوجائے تو تم اس کا لغزش سے رجوع کا انتظار کرو، اور جب وہ رجو ع کرلے تو تم اسے قبول کرلو اور یہ بھی نہ کہو کہ فلاں نے آپ کی بات کے خلاف بات کہی ہے۔ اور اس کے کسی راز کا اِفشا نہ کرو اور اس کے پاس کسی کی غیبت نہ کرو۔ اس کے سامنے اور اس کے پیٹھ پیچھے دونوں حالتوں میں اس کے حق کا خیال کرو۔ اور تمام لوگوں کو سلام کرو لیکن اسے بھی خاص طور سے کرو اور اس کے سامنے بیٹھو۔ اگر اسے کوئی ضرورت ہو تو دوسروں سے آگے بڑھ کر اس کی خدمت کرو اور اس کے پاس جتنا وقت بھی تمہارا گزرجائے تنگ دل نہ ہونا، کیوںکہ یہ عالم کھجور کے درخت کی طرح ہے جس سے ہر وقت کسی نہ کسی فائدے کے حاصل ہونے کا انتظار رہتا ہے۔ اور یہ عالم اس روزہ دار کے درجہ میں ہے جو اﷲ کے راستہ میں جہاد کررہا ہو۔ جب ایسا عالم مرجاتا ہے تو اسلام میں ایسا شگاف پڑجاتا ہے جو قیامت تک پُر نہیں ہوسکتا اور آسمان کے ستّر ہزار مقر ّب فرشتے طالب علم کے ساتھ (اِکرام کے لیے) چلتے ہیں۔1
حضرت انس بن مالک ؓکی اُمِ ولد باندی حضرت جمیلہ ؓ کہتی ہیں کہ جب حضرت ثابت بنانی حضرت انسؓکی خدمت میں آتے توحضرت انس ؓ فرماتے: اے لونڈیا! ذرا خوشبو لانا تاکہ میں اپنے ہاتھوں کو لگالوں۔ یہ ثابت کی ماں کا بیٹا یعنی خود حضرت ثابت، جب تک میرے دونوں ہاتھوں کو چوم نہیں لے گا اس وقت تک راضی نہیں ہوگا۔2
حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: میں حضرت عمر بن خطابؓسے ایک بات پوچھنا چاہتا تھا، لیکن ان کے رعب اور ہیبت کی وجہ سے میں ان سے دوسال تک نہ پوچھ سکا، یہاں تک کہ کسی سفرِ حج یا عمرہ میں حضرت عمرؓ کسی ضرورت کے لیے مَرُّالظہران کی وادی میں اَراک مقام پر اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گئے اور مجھے تنہائی کا موقع مل گیا تو میں نے کہا:اے امیر المؤمنین! میں آپ سے دو سال سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں لیکن صرف آپ کی ہیبت کی وجہ سے نہ پوچھ سکا۔ انھوں نے فرمایا: ایسا مت کرو، جب کسی بات کے مجھ سے پوچھنے کا ارادہ ہوا کرے تو فوراً پوچھ لیا کرو، اگر مجھے وہ بات معلوم ہوگی تو میں تمھیں بتادوں گا ورنہ کہہ دوں گا کہ مجھے معلوم نہیں۔ پھر تم اس آدمی سے پوچھ لینا جو اسے جانتا ہو۔ میں نے کہا: دو عورتیں کون ہیں جن کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے (سورۂ تحریم میں) فرمایا ہے کہ وہ دونوں حضورﷺ کے مقابلہ میں ایک دوسرے کی مددگار بنی تھیں۔ حضرت عمرؓنے فرمایا: وہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہؓ تھیں۔ اس کے بعد اور لمبی حدیث ذکر کی۔1
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں: میں نے حضرت سعد بن مالک ؓ سے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن آپ سے ڈر بھی لگتا ہے۔ حضرت سعدؓ نے کہا: اے میرے بھتیجے! مجھ سے نہ ڈرو، جب تمھیں معلوم ہو کہ وہ چیز مجھے معلوم ہے تو تم مجھ سے ضرور پوچھ لو۔ میں نے عرض کیا: جب غزوۂ تبوک میں حضورﷺ اپنے پیچھے حضرت علیؓ کو چھوڑ کر گئے تھے تو ان سے کیا فرمایا تھا؟
حضرت سعد ؓ نے کہا: حضورﷺ نے فرمایا تھا:اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیںہو کہ تم میرے لیے ایسے ہوجاؤ جیسے کہ حضرت ہارون ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے لیے تھے (کوہِ طور پر جاتے وقت حضرت موسیٰ ؑ حضرت ہارون ؑکو پیچھے چھوڑ گئے تھے)۔2
حضرت عثمان بن عبد اﷲ بن مَوہب کہتے ہیں: حضرت جُبیر بن مُطِعمؓ کا پانی کے ایک چشمہ پر گذر ہوا۔ اس چشمہ والوں نے ان سے میراث کے بارے میں پوچھا تو حضرت جبیر نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں، لیکن تم لوگ میرے ساتھ کسی کو بھیج دو، میں معلوم کرکے اسے جواب بتادوں گا۔ چناںچہ چشمہ والوں نے ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیا۔ حضرت جبیر نے جاکر حضرت عمرؓ سے اس کے بارے میں پوچھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: جو عالم اور فقیہ بننا چاہتا ہے اسے ایسے ہی کرنا چاہیے جیسے کہ حضرت جُبیر بن مطعم نے کیا۔ ان سے ایسی بات پوچھی گئی جو انھیں معلوم نہیں تھی تو یوں کہہ دیا: اَللّٰہُ أَعْلَمُاﷲ جانتے ہیں(میں نہیں جانتا)۔ 3
حضرت مجاہدکہتے ہیں کہ کسی نے حضرت ابنِ عمرؓ سے اولاد کی میراث کے بارے میں پوچھا۔ حضرت ابنِ عمرؓ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ کسی نے ان سے کہا:آپ اس کا جوا ب کیوں نہیں دیتے؟ انھوں نے فرمایا: ابنِ عمر سے وہ چیز پوچھی گئی جو اُسے معلوم نہیں، اس نے کہہ دیا: میں نہیں جانتا (ٹھیک تو کیا)۔1
حضرت عروہ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمرؓ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ جب وہ پوچھنے والا پشت پھیر کر چل پڑا تو حضرت ابنِ عمر ؓ نے اپنے آپ سے کہا: ابنِ عمر سے ایسی چیز پوچھی گئی جو اسے معلوم نہیں تو اس نے کہہ دیا: مجھے معلوم نہیں۔ 2
حضرت عُقبہ بن مسلمکہتے ہیں کہ میں مسلسل چونتیس مہینے حضرت ابنِ عمرؓ کی صحبت میں رہا۔ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ آپ سے کوئی چیز پوچھی جاتی تو آپ کہہ دیتے: میں نہیں جانتا۔ اور پھر میری طرف متوجہ ہوکر فرماتے: کیا تم جانتے ہو یہ لوگ کیاچاہتے ہیں؟یہ لوگ ہماری پشتوں کو جہنم تک جانے کے لیے پُل بنانا چاہتے ہیں۔3
حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمرؓ سے کسی نے ایک مسئلہ پوچھا، حضرت ابنِ عمرؓ نے اپنا سر جھکالیا اور کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ لوگ یہ سمجھے کہ حضرت ابنِ عمرؓ نے اس کا سوال ہی نہیں سنا۔ اس لیے اس آدمی نے کہا: اﷲ آپ پر رحم فرمائے! کیا آپ نے میرا سوال نہیں سنا؟ انھوں نے فرمایا:سنا ہے، لیکن شاید آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ لوگ ہم سے جو کچھ پوچھ رہے ہیں اﷲہم سے اس کے بارے میں باز پُرس نہیں کرے گا۔ اﷲ تم پر رحم کرے! ہمیں ذرا مہلت دو، تاکہ ہم تمہارے سوال کے بارے میں سوچ لیں۔ اگر ہمیں اس کا کوئی جواب سمجھ میںآگیا تو ہم تمھیں بتادیں گے، اور اگر نہ آیا تو تمھیں بتادیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں۔4
حضرت ابنِ مسعودؓنے فرمایا: اے لوگو! جس آدمی سے ایسی بات پوچھی جائے جو اسے معلوم ہے تو وہ بتادے، اور جسے معلوم نہیں وہ کہہ دے: اﷲ زیادہ جانتا ہے (میں نہیں جانتا)، کیوںکہ یہ بھی علم میں سے ہے کہ جس بات کو آدمی نہیں جانتا اس کے بارے میں کہہ دے کہ اﷲ زیادہ جانتا ہے۔ خود اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرمایا ہے:
{قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَآیت کا نشان}1
آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس قرآن (کی تبلیغ) پر نہ کچھ معاوضہ چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۔2
حضرت عبد اﷲ بن بشیر کہتے ہیں کہ حضرت علی بن اَبی طالبؓ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں۔ پھر فرمایا: اس بول سے میرے جگر کو بہت زیادہ ٹھنڈک پہنچی ہے کہ مجھ سے ایسی بات پوچھی گئی جو مجھے معلوم نہیںاور میں نے کہہ دیا: مجھے معلوم نہیں۔3
حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباسؓ نے فرمایا: جب کوئی عالم ’’میں نہیں جانتا‘‘ کہنا چھوڑ دیتا ہے تو سمجھ لو کہ وہ اپنی ہلاکت کی جگہ پر پہنچ گیا ہے۔ حضرت مالک کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباسؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب کوئی عالم ’’میں نہیں جانتا‘‘ کہنے سے چُوک جائے تو سمجھ لو کہ وہ اپنی ہلاکت کی جگہ پر پہنچ گیا ہے۔4
حضرت مکحول کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ لوگوں کو حدیثیں سناتے، اور جب دیکھتے کہ یہ تھک گئے ہیں اور اُکتا گئے ہیں تو انھیں پودے لگانے میں مشغول کردیتے۔5
حضرت عبداﷲ بن مصعب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عمر بن خطّابؓ نے فرمایا: عورتوں کا مہر چالیس اُوقیہ (ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے) سے زیادہ مقرر نہ کرو، چاہے ذی الغُصّہ قیس بن حصین حارثی (جیسے سردار) کی بیٹی کیوں نہ ہو۔ جو اس سے زیادہ مقرر کرے گا وہ زائد رقم لے کر بیت المال میں جمع کردوں گا۔ اس پر عورتوں کی صف میں سے ایک عورت کھڑی ہوئی جس کا قد لمبا تھا اور ناک چپٹی تھی، اور اس نے کہا: آپ کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا:کیوں؟ اس عورت نے کہا: کیوںکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{وَاٰتَیْتُمْ اِحْدٰھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْئًا}1
اور تم اس ایک کو انبار کا انبار مال دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ بھی مت لو۔
تو حضرت عمرؓنے فوراً کہا: عورت نے ٹھیک کہامرد نے غلطی کی، یعنی عمر نے۔2
حضرت محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت علیؓ سے کوئی مسئلہ پوچھا، حضرت علیؓنے اس کا کچھ جواب دیا۔ اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! مسئلہ اس طرح نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے۔ حضرت علیؓنے فوراً کہا:تم نے ٹھیک کہا میری بات غلط تھی۔
{وَفَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ آیت کا نشان}3
اور ہر جاننے والے کے اوپر اس سے زیادہ جاننے والا ہوتا ہے۔4
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ بعض دفعہ حضرت عمر بن خطّاب اور حضرت عثمان بن عفانؓ کا آپس میں کسی مسئلہ میں اتنا جھگڑا ہوجاتا تھا کہ دیکھنے والا یوں سمجھتا تھا کہ اب شاید یہ دونوں کبھی آپس میں اکٹھے نہیں ہوں گے، لیکن وہ دونوں جب اس مجلس سے اٹھتے تو ایسے لگتا کہ کوئی بات ہوئی ہی نہیں تھی بالکل ٹھیک ٹھاک ہوتے۔5