صحابہ کرام ؓ کا ایمان
علم کے اہتما م سے زیادہ عمل کا اہتمام ہونا چاہیے
حضرت ابوالدردا ءؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے فرمایا: تم جو چاہے سیکھو، لیکن اﷲکی طرف سے فائدہ تب ہی ہوگا جب تم سیکھے ہوئے پر عمل کروگے۔4
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: تم جتنا چاہے علم حاصل کرلو، تمھیں علم حاصل کرنے کا ثواب تب ملے گا جب اس پر عمل کروگے۔5
حضرت عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ مجھے حضورﷺ کے دس صحابہ نے یہ واقعہ بیان کیا کہ ہم مسجد ِقبا میں علم سیکھ سکھا رہے تھے کہ اتنے میں حضورﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم جتنا چاہے علم حاصل کرلو۔ اس کے بعد پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔6
حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اﷲ! کون سی چیز میری جہالت کی حجت کو ختم کرے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علم۔ پھر اس نے پوچھا: کون سی چیز علم کی حجت کو ختم کرے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عمل۔1
حضرت عمرؓنے فرمایا: اﷲ کی کتاب (قرآن) سیکھو، اس کی وجہ سے تمہاری پہچان ہوگی۔ اور اس پر عمل کرو، اس سے تم اﷲ کی کتاب والے ہوجاؤگے۔2
حضرت علیؓ نے فرمایا:علم حاصل کرو، اس سے تمہاری پہچان ہوگی۔ اور جو علم حاصل کیا ہے اس پر عمل کرو،اس سے تم علم والے ہوجاؤ گے۔ کیوںکہ تمہارے بعد ایسا زمانہ آئے گا جس میں حق کے دس حصوں میں سے نو کا انکار کردیا جائے گا، اور اس زمانے میں صرف وہ نجات پاسکے گا جو گمنام اور لوگوں سے الگ تھلک رہنے والا ہوگا۔ یہی لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہوں گے۔ یہ لوگ جلد باز، بری بات پھیلانے والے اور باتونی نہیں ہوں گے۔3
حضرت علی ؓ نے فرمایا: اے حاملینِ علم! (اے عُلَما!) علم پر عمل کرو، کیوںکہ عالم وہ ہے جو علم حاصل کرے پھر اس پر عمل کرے اور اس کا عمل اس کے علم کے مطابق ہو۔ عن قریب ایسے لوگ ہوںگے جو علم حاصل کریں گے، لیکن ان کا علم ان کی ہنسلی کی ہڈی سے آگے نہیں جائے گا(اور اﷲ کے ہاں نہیں پہنچے گا)۔ ان کا باطن ظاہر کے خلاف ہوگا اور ان کا عمل ان کے علم کے خلاف ہوگا۔ وہ اپنے اپنے حلقے میں بیٹھیں گے اور ایک دوسرے پر فخر کریں گے، اور ان کے حلقہ میں بیٹھنے والا انھیں چھوڑ کر دوسرے کے پاس اگر بیٹھے گا تو یہ اس پر ناراض ہوں گے۔ ان کی مجلسوں میں ان کے جو اعمال ہوں گے وہ اﷲ کی طرف اوپر نہیں جائیں گے۔4
حضرت عبد اﷲبن مسعودؓ نے فرمایا: اے لوگو! علم حاصل کرو اور آدمی جو علم حاصل کرے اس پر عمل بھی کرے۔1
حضرت عبد اﷲبن عُکیم کہتے ہیں کہ میں نے اس مسجد میں حضرت ابنِ مسعودؓ کو سنا کہ انھوں نے گفتگو سے پہلے قسم کھا کر فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنے ربّ سے تنہائی میں اکیلے ملے گا، جیسے کہ تم میں ہر ایک چودھویں کا چاند تنہائی میں الگ دیکھتا ہے۔ پھر اﷲ تعالیٰ فرمائیں گے: اے ابنِ آدم! تجھے کس چیز نے میرے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا (کہ میری نافرمانی کرتا رہا)؟ اے ابنِ آدم! تو نے رسولوں کو (ان کی دعوت کا) کیا جواب دیا؟ اے ابنِ آدم! تونے جو علم حاصل کیا تھا اس پر کیا عمل کیا؟
حضرت عدی بن عدی کہتے ہیں: حضرت ابنِ مسعودؓنے فرمایا: جو علم حاصل نہ کرے اس کے لیے ایک مرتبہ ہلاکت ہے اور اگر اﷲتعالیٰ چاہتے تو اسے علم عطا فرما دیتے۔ اور جو علم حاصل کرے اور اس پر عمل نہ کرے، اس کے لیے سات مرتبہ ہلاکت ہے۔2
حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: باتیں تو تمام لوگ بہت اچھی کرتے ہیں، لیکن جس کا عمل اس کے قول کے مطابق ہوگا وہی کامیاب ہوگااور جس کا فعل قول کے خلاف ہوگا وہ (قیامت کے دن) اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔3
حضرت ابنِ مسعودؓ نے فرمایا: جو (لوگوں سے مستغنی ہوکر) اﷲ (کے کام) میں مشغول ہوجائے گا تمام لوگ اس کے محتاج ہوجائیں گے۔ اور جو اس علم پر عمل کرے گا جو اﷲ نے اسے دیا ہے تو تمام لوگ اس علم کے محتاج ہوجائیں گے جو اس کے پاس ہے۔4
حضرت لقمان بن عامر کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداء ؓ فرمایا کرتے تھے: میں اپنے ربّ سے اس بات سے ڈرتا ہوں کہ قیامت کے دن مجھے تمام مخلوق کے سامنے بلا کر فرمائے: اے عُوَیمر! میں کہوں: لبیک اے میرے ربّ!پھر وہ فرمائے: تم نے جو علم حاصل کیا تھا اس پر کیا عمل کیا تھا؟1
حضرت ابو الدرداءؓ نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہے کہ قیامت کے دن مجھے یہ کہاجائے: اے عُوَیمر! کیا تم نے علم حاصل کیا تھا یا جاہل ہی رہے تھے؟ اگر میں کہوں گا کہ میں نے علم حاصل کیا تھا تو نیک کام کا حکم دینے والی ہر آیت اور برے کام سے روکنے والی ہر آیت اپنے حق کا مطالبہ کرے گی۔ حکم دینے والی آیت کہے گی: کیا تو نے میرا حکم مانا تھا؟ اور روکنے والی آیت کہے گی: کیا تو اس برے کام سے رک گیا تھا؟ میں اﷲ کی پناہ چاہتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے اور اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو سنی نہ جائے۔2
حضرت ابوالدرداء ؓ نے فرمایا: انسان اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا جب تک علم حاصل نہ کرے اور علم کے ذریعہ سے حسن و جمال تب حاصل ہوسکتاہے جب اس پر عمل کرے۔3
حضرت ابو الدرداء ؓ نے فرمایا: اﷲ کے نزدیک قیامت کے دن لوگوں میں سب سے برے مرتبے والا وہ عالم ہوگا جس نے اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھایا ہو (یعنی اس پر عمل نہ کیا ہو)۔4
حضرت معاذ ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن کسی بندے کے دونوں قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہل سکیں گے جب تک اس سے چار باتیں نہ پوچھ لی جائیں: اس نے اپنے جسم کو کن کاموں میں استعمال کیا؟ اپنی عمر کہاں لگائی؟ اور مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ اور اپنے علم پر کیا عمل کیا؟5
حضرت معاذ ؓ نے فرمایا: تم علم تو جو چاہے سیکھ لو، لیکن اﷲتمھیں علم پر اَجر تب دیں گے جب تم اس پر عمل کرو گے۔ 6
حضرت انس ؓ نے فرمایا: تم علم تو جو چاہے سیکھ لو، لیکن اﷲتعالیٰ تمھیں علم پر اَجر تب دیں گے جب تم اس پر عمل کروگے۔ عُلَما کا اصل مقصد تو علم کی حفاظت کرنا ہے (کہ اسے یاد رکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے) اور نادان لوگوں کا مقصد تو خالی آگے بیان کردینا ہے۔1