صحابہ کرام ؓ کا ایمان
نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرامؓ کے علوم
حضرت ابوذرؓفرماتے ہیں کہ حضورﷺہمیں اس حال میں چھوڑ کر گئے کہ آسمان میں جو بھی پرندہ اپنے دونوں پروں کو ہلاتا ہے اس سے ہمیں (حضورﷺ کا سکھایا ہوا) کوئی نہ کوئی علم یاد آجاتا ہے۔ ’’طبرانی‘‘ کی روایت میں اس کے بعد یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: جو چیز بھی جنت کے قریب کرنے والی اور دوزخ کی آگ سے دور کرنے والی ہے۔ وہ تمہارے لیے بیان کردی گئی ہے۔3
حضرت عمر وبن عاصؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے ایک ہزار مثالیں (کہاوتیں) سمجھی ہیں۔1
حضرت عائشہ ؓ نے ایک حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی فرمایا کہ (حضور ﷺ کی وفات کے موقع پر)جس چیز کے بارے میں صحابۂ کرامؓمیں اختلاف ہوجاتا تو میرے والد (حضرت ابو بکرؓ)ایسی حدیث سناتے جسے سن کر سب مطمئن ہوجاتے اور فیصلہ کُن بات سامنے آجاتی۔ صحابہ نے یہ سوال کیا کہ حضورﷺ کو کہاں دفن کیا جائے؟ تو اس بارے میں ہمیں کسی کے پاس کوئی علم (قرآن یا حدیث کا) نہ مل سکا، لیکن حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کی جس جگہ روح قبض کی جاتی ہے اسی جگہ اسے دفن کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی حضورﷺ کی میراث کے بارے میں صحابہ میںاختلاف ہوا تو ہمیں اس بارے میں کسی کے پاس کوئی علم نہ مل سکا، لیکن حضرت ابو بکر ؓ نے فرمایا: میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہم اَنبیاکی جماعت کسی کو وارث نہیں بناتے اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوا کرتا ہے۔2
حضرت ابووائل کہتے ہیں کہ حضرت عبدا ﷲؓنے فرمایا کہ اگر حضرت عمرؓ کے علم کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور تمام زمین والوں کے علم کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو حضرت عمرؓکے علم والا پلڑا جھک جائے گا۔ حضرت اَعمشکہتے ہیں: میرے دل نے اس بات کو قبول نہ کیا۔ میں نے جاکر حضرت ابراہیم سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا:تم اسے نہیں مان رہے ہو اور اﷲکی قسم! حضرت عبداﷲؓنے تو اس سے آگے کی بھی بات کہہ رکھی ہے۔ انھوں نے فرمایا ہے کہ جس دن حضرت عمر ؓ دنیا سے گئے اس دن علم کے دس حصوں میں سے نو حصہ چلے گئے۔3
حضرت عمرؓکی وفات کے بارے میں ایک لمبی حدیث میں حضرت عبد اﷲبن مسعود ؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ حضرت عمر ہم میں اﷲکو سب سے زیادہ جاننے والے، اﷲکی کتاب کو ہم سب سے زیادہ پڑھنے والے اور اﷲکے دین کی ہم سب سے زیادہ سمجھ رکھنے والے تھے۔1
حضرت حذیفہؓ فرماتے ہیں: حضرت عمرؓ کا علم اتنا زیادہ تھا کہ اس کے سامنے تمام لوگوں کا علم اتنا کم لگتا تھا کہ جیسے وہ کسی سوراخ میں چھپا کر رکھا ہوا ہو۔2
مدینہ کے ایک صاحب کہتے ہیں: میں حضرت عمرؓ کے پاس گیا تو مجھے ان کے سامنے فُقَہا بچوں کی طرح نظر آئے۔ وہ دینی سمجھ اور علم کی وجہ سے تمام فُقَہا پر حاوی تھے۔3
حضرت ابو اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ سے شادی کی تو حضرت فاطمہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ نے میری ان سے شادی کردی ہے ان کی آنکھیں کمزور ہیں پیٹ بڑا ہے(شکل و صورت اچھی نہیں)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری جن سے شادی کی ہے ان کے فضائل یہ ہیں کہ یہ میرے صحابہ میں سب سے پہلے اسلام لائے اور ان کا علم ان سب سے زیادہ ہے اور یہ ان میں سب سے زیادہ بُردبار ہیں(اے فاطمہ! صورت نہ دیکھو سیرت دیکھو)۔4
حضرت معقل بن یسارؓکی روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: (اے فاطمہ!) کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں نے تمہاری شادی ایسے آدمی سے کی ہے جو میری اُمت میں سب سے پرانے اسلام لانے والے، سب سے زیادہ علم والے اور سب سے زیادہ بردبار ہیں۔
حضرت علیؓفرماتے ہیں کہ اﷲکی قسم! جو آیت بھی نازل ہوئی اس کے بارے میں مجھے معلوم ہے کہ کس معاملہ میں نازل ہوئی؟ اور کہا ں نازل ہوئی؟ اور کن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ میرے ربّ نے مجھے سمجھ دار دل اور خوب بولنے والی فصیح زبان دی ہے۔5
حضرت سعید بن مسیّب نے فرمایا: حضرت عمرؓاس مشکل مسئلہ سے اﷲکی پناہ مانگتے تھے جس کے حل کے لیے حضرت ابو حسن یعنی حضرت علیؓموجود نہ ہوں۔1
حضرت مسروق کہتے ہیں: حضرت عبداﷲؓ نے فرمایا:جو سورت بھی نازل ہوئی مجھے معلوم ہے کہ وہ کس بارے میں نازل ہوئی؟ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کوئی آدمی مجھ سے زیادہ اﷲکی کتاب کو جاننے والا ہے، اور اونٹ اور سواریاں مجھے اس تک پہنچاسکتی ہیں تو میں اس کے پاس ضرورجاؤں گا۔2
حضرت مسروقکہتے ہیں کہ میں حضرت محمد ﷺ کے صحابہؓکی مجلسوںمیں بہت بیٹھا ہوں۔ میں نے انھیں (دینی فیضان میں) تالاب کی طرح پایا۔ کسی تالاب سے ایک آدمی سیراب ہوتا ہے اور کسی تالاب سے دو اور کسی سے دس آدمی اور کسی سے سو آدمی سیراب ہوتے ہیں، اور بعض تالاب اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ساری زمین والے اس سے سیراب ہوجائیں۔ میں نے حضرت عبد اﷲبن مسعود ؓکو اسی بڑے تالاب کی طرح پایا (ان سے ساری دنیا سیراب ہوتی تھی)۔3
حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر ؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ سامنے سے حضرت عبداﷲؓ آئے۔ جب حضرت عمر نے انھیں آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: یہ دین کی سمجھ اور علم سے بھری ہوئی کوٹھی ہیں۔ حضرت اسد بن وَدَاعہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر نے حضرت ابنِ مسعود کا ذکر فرمایا اور فرمایا: یہ تو علم سے بھری ہوئی کوٹھی ہیں اور انھیں قادسیہ بھیج کر میں نے قادسیہ والوں کو اپنے پر ترجیح دی ہے۔4
حضرت ابوالبختری کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت علی ؓکی خدمت میں گئے اور ہم ان سے حضرت محمد ﷺ کے صحابہؓکے بارے میں پوچھنے لگے۔ انھوں نے فرمایا: کس صحابی کے بارے میں پوچھتے ہو؟ ہم نے کہا: حضرت عبداﷲبن مسعودؓ کے بارے میں ہمیں کچھ بتادیں۔ انھوں نے فرمایا: انھوں نے قرآن و حدیث کا علم حاصل کیا اور علم کی انتہا کو پہنچ گئے اور یہی بات ان کے زیادہ علم والا ہونے کے لیے کافی ہے۔ پھر ہم نے عرض کیا: حضرت ابوموسیٰؓ کے بارے میں کچھ فرمادیں۔ فرمایا: انھیں علم میں اچھی طرح رنگا گیا، پھر اچھی طرح رنگ ہوکر باہر نکلے۔ پھر ہم نے عرض کیا: حضرت عمار بن یاسرؓ کے بارے میں کچھ بتادیں۔ فرمایا: وہ ایسے مؤمن ہیں جو بھول گئے تھے اور جب انھیں یاد دلایا گیا تو انھیں یاد آگیاتھا۔پھر ہم نے عرض کیا:ہمیں حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں کچھ فرمادیں۔ فرمایا: وہ حضرت محمدﷺ کے صحابہ میں منافقوں کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ پھر ہم نے عرض کیا: حضرت ابوذرؓ کے بارے میں کچھ بتادیں۔ فرمایا: انھوں نے علم تو خوب اچھی طرح حاصل کیا تھا اورخوب یاد تھا، لیکن پھر اس کے پھیلانے میں کامیاب نہ ہوسکے(آخر میں طبیعت میں سختی زیادہ ہوگئی تھی)۔ پھر ہم نے عرض کیا: حضرت سلمان فارسیؓ کے بارے میں کچھ بتائیں۔ فرمایا: انھوں نے پہلا علم بھی حاصل کیا تھا (جو پہلے نبی لے کر آئے تھے) اور بعد والا علم بھی حاصل کیا(جو حضورﷺ لے کر آئے تھے)۔ وہ علم کا ایسا سمندر ہیں جس کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اور وہ ہمارے گھرانے میں سے ہیں۔ پھر ہم نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! اب آپ اپنے بارے میں کچھ بتادیں۔ فرمایا: تم لوگ اصل میں یہ بات پوچھنا چاہتے تھے۔ میں جب حضورﷺ سے کچھ پوچھتا تو آپ اس کا جواب ارشاد فرمادیتے اور جب میں خاموش ہوجاتا تو آپ ﷺ اَزخود گفتگو کی اِبتدا فرماتے۔ 1
حضرت ابنِ مسعود ؓنے فرمایا: حضرت معاذ بن جبل ؓ مقتدا تھے اور اﷲکے فرماں بردار تھے اور سب طرف سے یکسو ہوکر ایک اﷲکے ہوگئے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ (حضرت فروہ بن نوفل اَشجعی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا: ابو عبدالرحمن، یعنی حضرت ابنِ مسعودسے غلطی ہوگئی ہے۔ یہ الفاظ تو اﷲتعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں استعمال فرمائے ہیں:
{اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِلّٰہِ حَنِیْفًا ط وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ آیت کا نشان}2
بے شک ابراہیم ( ؑ) بڑے مقتدا تھے، اﷲتعالیٰ کے فرما ں بردار تھے، بالکل ایک طرف کے ہورہے تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔
حضرت ابنِ مسعودؓ نے دوبارہ ارشاد فرمایا: حضرت معاذ بن جبل مقتدا تھے اور اﷲ کے فرماں بردار تھے اور سب طرف سے یکسو ہوکر ایک اﷲ کے ہوگئے تھے اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ اس پر میں سمجھا کہ وہ حضرت معاذ ؓ کے بارے میں یہ الفاظ جان بوجھ کر استعمال کررہے ہیں۔ اس پر میں خاموش ہوگیا۔ پھر انھوں نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو لفظ اُمت کا کیا مطلب ہے؟ لفظ قانِت کا کیا مطلب ہے؟ میں نے کہا: اﷲہی جانتے ہیں (میں نہیں جانتا)۔ فرمایا: اُمت وہ انسان ہے جو لوگوں کو بھلائی اور خیر سکھائے، اور قانت وہ ہے جو اﷲ ورسول ﷺ کا فرماں بردار ہو، تو حضرت معاذ ؓ لوگوں کو خیر سکھایا کرتے تھے اور اﷲ ورسول ﷺ کے فرماں بردار تھے۔1
حضرت مسروق کہتے ہیں: میں نے حضورﷺ کے صحابہ کو غور سے دیکھا تو میں نے دیکھا کہ صحابہ کا علم چھ حضرات پر پہنچ کر ختم ہوگیا: حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداﷲ، حضرت معاذ، حضرت ابوالدرداء اور حضرت زید بن ثابت ؓ۔ پھر میں نے ان چھ حضرات کو غور سے دیکھا تو ان کا علم حضرت علی اور حضرت عبداﷲؓ پر پہنچ کر ختم ہوگیا۔2
حضرت مسروق کہتے ہیں: میں مدینہ گیا اور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے بارے میں پوچھا تو مجھے حضرت زید بن ثابت ؓمضبوط علم والوں میں سے نظر آئے۔3
حضرت مسروق کہتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲؓنے فرمایا: اگر حضرت ابنِ عباس ؓ (چھوٹی عمر کے نہ ہوتے اور) ہماری عمر کو پالیتے تو ہم میں سے کوئی آدمی ان کے (علم کے) دسویں حصے کو نہ پاسکتا۔ اس روایت میں حضرت نضر راوی نے یہ بھی بڑھایا ہے کہ حضرت ابنِ عباس ؓ قرآن کے بہترین ترجمان تھے۔4
حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ زیادہ علم کی وجہ سے حضرت ابنِ عباس ؓ کو سمندر کہا جاتا تھا۔ 5
حضرت لیث بن اَبی سُلَیم کہتے ہیں: میں نے حضرت طاؤس سے کہا: اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ حضورﷺ کے اَکابر صحابہ ؓکو چھوڑ کر ان نو عمر (صحابی) یعنی حضرت ابنِ عباس ؓ کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں؟ انھوں نے کہا میں نے حضورﷺ کے ستّر صحابہ کو دیکھا کہ جب ان میں کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہوجاتا تو وہ حضرت ابنِ عباس کے قول کی طرف رجوع کرتے۔1
حضرت عامر بن سعد بن اَبی وقاص کہتے ہیں: میں نے اپنے والد (حضرت سعد بن اَبی وقاص ؓ)کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابنِ عباس ؓ سے زیادہ حاضر دماغ، زیادہ سمجھ دار، زیادہ علم والا اور زیادہ بُردبار کوئی نہیں دیکھا۔ اور میں نے دیکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ انھیں مشکل مسائل کے لیے بلایا کرتے اور ان سے فرماتے:تیار ہوجاؤ یہ مشکل مسئلہ تمہارے پاس آیا ہے (اور ان کے سامنے وہ مشکل مسئلہ رکھتے)، پھر حضرت عمر ؓ ان ہی کے قول پر فیصلہ کردیتے حالاںکہ ان کے اردگرد بہت سے بدری، مہاجر اور انصاری صحابہ بیٹھے ہوئے ہوتے۔2
حضرت ابو زِناد کہتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابنِ عباس ؓ کو بخار ہوگیا تو حضرت عمر بن خطّاب ؓ ان کے پاس عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور فرمایا: تمہاری بیماری کی وجہ سے ہمارا بڑا نقصان ہورہا ہے اﷲہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔3
حضرت طلحہ بن عبید ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس ؓ کو (اﷲکی طرف سے) بڑی سمجھ، عقل اور بہت علم دیا گیا تھا۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے کسی (کی رائے) کو ان (کی رائے) پر ترجیح دی ہو۔4
حضرت محمد بن اُبی بن کعب کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس ؓ حضرت اُبی بن کعب ؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، پھر حضرت ابنِ عباس اٹھ کر چلے گئے تو میں نے حضرت اُبی بن کعب ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ اس اُمت کے بہت بڑے عالم بن جائیں گے، کیوںکہ انھیں (اﷲ کی طرف سے) عقل اور سمجھ بھی خوب ملی ہے، اور حضور ﷺ نے ان کے لیے یہ دعا فرمائی ہے کہ اﷲانھیں دین کی سمجھ عطافرمائے۔1
حضرت طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عبا سؓ تمام لوگوں میں علم کے اعتبار سے ایسے اونچے تھے جیسے کھجور کے چھوٹے درختوں میں لمبا درخت ہوتا ہے۔2
حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ میںاور میراایک ساتھی حج پر گئے، حضرت ابنِ عباس ؓ حج کے امیر تھے۔ وہ سورۂ نور پڑھنے لگے اور ساتھ کے ساتھ اس کی تفسیر کرنے لگے جسے سن کر میرے ساتھی نے کہا: سبحان اﷲ! اس آدمی کے سر سے کیا کچھ نکل رہا ہے؟ اگر تُرک لوگ اسے سن لیں مسلمان ہوجائیں۔3
دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابووائل کہتے ہیں: (تفسیر سن کر) میں نے کہا: ان جیسی باتیں نہ تو میں نے کسی آدمی سے سنی ہیں اور نہ کہیں دیکھی ہیں۔ اگر فارس اور روم والے یہ سن لیتے تو مسلمان ہوجاتے۔
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عمر بن خطّابؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے مجھ سے ایک مسئلہ پوچھا جو انھیں یمن سے حضرت یعلیٰ بن اُمیّہ ؓ نے لکھا تھا۔ میں نے انھیں اس کا جواب دیا تو فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم نبوت کے گھرانے سے بولتے ہو۔4
حضرت عطاء کہتے ہیں: کچھ لوگ حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس اشعار کے لیے آتے، کچھ لوگ نسب اور کچھ لوگ عرب کے واقعات معلوم کرنے آتے، وہ ہر طرح کے لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور جس طرح چاہتے خوب گفتگو کرتے۔5
حضرت عبید اﷲبن عبداﷲبن عتبہ کہتے ہیں: کئی عمدہ صفات کی وجہ سے حضرت ابنِ عباس ؓ تمام لوگوں پر فوقیت رکھتے تھے۔ وہ گذشتہ علوم کو خوب جانتے تھے، اور جب ان کے مشورے کی ضرورت ہوتی تو بہت سمجھ داری کا مشورہ دیتے، اور بُردباری اور جود وسخا ان میںکوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ میں نے کوئی آدمی ایسا نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ حضورﷺ کی حدیثوں کو، اور حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمانؓ کے فیصلوں کو جاننے والا ہو، اور ان سے زیادہ سمجھ داری کی رائے والا ہو۔ اور اشعار کو، عربی لغت کو، قرآن کی تفسیر کو، حساب اور میراث کو، اور گذشتہ واقعات کو ان سے زیادہ جاننے والا ہو، اور ان سے زیادہ درست رائے والا ہو۔ کسی دن وہ اپنی مجلس میں بیٹھتے تو صرف دین کی سمجھ کے بارے میں بات کرتے، اور کسی دن صرف قرآن کی تفسیر کے بارے میں بات کرتے، اور کسی دن صرف حضورﷺ کے غزوات کے بارے میں بات کرتے، اور کسی دن اشعار کے بارے میں اور کسی دن عرب کی لڑائیوں کے بارے میں بات کرتے۔ اور میں نے یہی دیکھا کہ جو عالم بھی ان کی مجلس میںآیا وہ آخر کار ان (کی علمی عظمت) کے سامنے ضرور جھک گیااور جو بھی ان سے کچھ پوچھنے آیا اسے اپنے سوال کا جواب ضرور ملا۔ 1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کے مہاجر اور انصاری بڑے بڑے صحابہ ؓ کے ساتھ ہر وقت رہا کرتا تھا، اور میں ان سے حضورﷺ کے غزوات کے بارے میں اور ان غزوات کے متعلق اُترنے والے قرآن کے بارے میں خوب سوالات کرتا تھا۔ اور میں ان میں سے جس کے پاس جاتا وہ میرے آنے سے بہت خوش ہوتا، کیوںکہ میں حضور ﷺ کا رشتہ دار (چچا زاد بھائی) تھا۔ حضرت اُبی بن کعب ؓ مضبوط اور پختہ علم والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے ایک دن مدینہ میںنازل ہونے والی سورتوں کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: مدینہ میں ستائیس سورتیں نازل ہوئیں اور باقی مکہ میں۔2
حضرت عِکرِمہکہتے ہیں: میں نے حضرت عبداﷲبن عمرو بن عاصؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت ابنِ عباسؓگزرے ہوئے علوم اور واقعات کو ہم سب سے زیادہ جاننے والے ہیں، اور جو نیا مسئلہ پیش آجائے اور اس کے بارے میں قرآن و حدیث میں کچھ نہ آیا ہو، اس کے متعلق وہ سب سے زیادہ دینی سمجھ رکھنے والے ہیں۔ حضرت عکرمہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات حضرت ابنِ عباس کو بتائی تو انھوں نے فرمایا: حضرت عبداﷲبن عمروؓ کے پاس بہت علم ہے، کیوںکہ وہ حضورﷺسے حلال و حرام کے بارے میں خوب پوچھا کرتے تھے (یعنی حضرت ابنِ عباس ان کے فضائل کا اعتراف فرمارہے ہیں)۔1
حضرت عائشہ ؓ نے حج کی راتوں میں دیکھا کہ حضرت ابنِ عباسؓ کے اردگرد بہت سے حلقے ہیں اور ان سے مناسکِ حج کے بارے میں لوگ خوب پوچھ رہے ہیں، تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: اب جتنے صحابہ باقی رہ گئے ہیں یہ ان میں سے سب سے زیادہ مناسکِ حج کو جاننے والے ہیں۔2
حضرت یعقوب بن زیداپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت جابر بن عبد اﷲ ؓ کو حضرت ابنِ عباس ؓ کے انتقال کی خبر ملی تو انھوں نے ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ علم والے اور سب سے زیادہ بُردبار انسان کا انتقال ہوگیا ہے، اور ان کے انتقال سے اس اُمّت کا ایسا نقصان ہوا ہے جس کی تلافی کبھی نہیں ہوسکے گی۔3
حضرت ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزمکہتے ہیں: جب حضرت ابنِ عباسؓ کا انتقال ہوا تو حضرت رافع بن خَدیج ؓ نے فرمایا: آج اس شخصیت کا انتقال ہوگیا جس کے علم کے مشرق سے لے کر مغرب تک کے تمام لوگ محتاج تھے۔4
حضرت ابو کلثوم کہتے ہیں: حضرت ابنِ عباس ؓ دفن ہوگئے تو حضرت ابنِ حنفیّہ نے کہا: اس اُمّت کے عالمِ ربانی کا انتقال ہوگیا۔5
حضرت عمروبن دینار کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمرؓ نو عمر فُقَہا میں شمار کیے جاتے تھے۔6
حضرت خالد بن مَعدان کہتے ہیں کہ اب ملکِ شام میں حضورﷺ کے صحابہ میں سے کوئی صحابی حضرت عُبادہ بن صامت اور حضرت شدّاد بن اَوس ؓ سے زیادہ قابلِ اعتماد، زیادہ دینی سمجھ رکھنے والا اور ان سے زیادہ پسند یدہ باقی نہیں رہا۔1
حضرت حنظلہ بن اَبی سفیان اپنے اساتذہ سے یہ نقل کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے نو عمر صحابہ میں سے کوئی صحابی حضرت ابو سعید خدریؓ سے زیادہ دین کی سمجھ رکھنے والا نہیں ہے۔2
مروان بن حَکَم کے منشی ابو زُعَیزِعہ کہتے ہیں کہ مروان نے حضرت ابو ہریرہ ؓکو بلایا اور مجھے تخت کے پیچھے بٹھایا۔ مروان ان سے پوچھنے لگا اور میں ان کے جواب لکھنے لگا۔ جب ایک سال ہوگیا تو مروان نے انھیں بلاکر پردے کے پیچھے بٹھایا اور ان سے وہی پچھلے سال والے سوالات کیے۔ انھوں نے بعینہٖ وہی پچھلے سال والے جواب دیے، نہ کوئی حرف کم کیا اور نہ زیادہ، اور نہ آگے کیا اور نہ پیچھے۔3
حضرت ابو موسیٰ ؓ فرماتے ہیں: جب بھی حضورﷺ کے صحابہ ؓکو کسی چیز میں شک ہوا اور انھوں نے اس کے بارے میں حضرت عائشہؓسے پوچھا،تو انھیں ان کے پاس اس چیز کا علم ضرور ملا۔4
حضرت قَبِیصہ بن ذُؤیبؓ فرماتے ہیں: حضرت عائشہؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی تھیں۔ حضورﷺ کے اکابر صحابہؓ ان سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔5
حضرت ابو سَلَمہؓ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عائشہؓ سے زیادہ حضورﷺ کی سنتوں کو جاننے والا اور بوقتِ ضرورت ان سے زیادہ سمجھ داری کی رائے والا، آیت کے شانِ نزول کو اور میراث کوان سے زیادہ جاننے والا نہیں دیکھا۔6
حضرت مسروق سے پوچھا گیا: کیا حضرت عائشہؓ علمِ میراث کو اچھی طرح جانتی تھیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! میں نے حضورﷺ کے بزرگ اَکابر صحابہؓ کو دیکھا کہ وہ حضرت عائشہؓسے میراث کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔1
حضرت محمود بن لَبیدکہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی تمام ازواجِ مطہّرات کو حضور ﷺ کی بہت سی حدیثیں یاد تھیں، لیکن حضرت عائشہ اور حضرت اُمِّ سَلَمہ ؓ جیسی کوئی نہ تھی۔ اور حضرت عائشہ ؓ حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں فتویٰ دیا کرتی تھیں،اور پھر انتقال تک ان کا یہ مشغلہ رہا۔ اﷲ ان پر رحمت نازل فرمائے! اور حضورﷺ کے اکابر صحابہ حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ حضور ﷺ کے بعد ان کے پاس آدمی بھیج کر سنتیں پوچھا کرتے تھے۔2
حضرت معاویہ ؓ فرماتے ہیں: اﷲکی قسم! میں نے عائشہؓ سے زیادہ فصیح بلیغ اور ان سے زیادہ عقل مند کوئی خطیب نہیں دیکھا۔3
حضرت عروہ فرماتے ہیں: میں نے کوئی عورت ایسی نہیں دیکھی جو حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ طب، فقہ اور اشعار کو جاننے والی ہو۔4
حضرت عروہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عائشہؓکی خدمت میں عرض کیا: میں آپ کے معاملہ میں جتنا سوچتا ہوں اتنا ہی مجھے تعجب ہوتا ہے۔ آپ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ دین کی سمجھ رکھنے والی نظر آتی ہیں تو میں کہتا ہوں: اس میں کیا بات ہے؟ آپ حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں اور حضرت ابو بکر ؓ کی صاحب زادی ہیں(آپ کو دین کی سب سے زیادہ سمجھ والا ہونا ہی چاہیے)۔ آپ مجھے عرب کی لڑائیوں کو، ان کے نسب ناموں کو اور ان کے اشعار کو جاننے والی نظر آتی ہیں تو میں کہتا ہوں: اس میں کیا بات ہے؟ آپ کے والد (حضرت ابوبکر ؓ) قریش کے بہت بڑے عالم تھے(لہٰذا ان کی بیٹی کو ایسا ہونا ہی چاہیے)، لیکن مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ آپ طب بھی جانتی ہیں یہ آپ نے کہا ںسے سیکھ لی؟ انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر (پیارسے نام بدل کر) کہا: اے عُریّہ! جب حضورﷺ کی بیماریاں زیادہ ہوگئیں تو عرب و عجم کے اَطبّا ان کے پاس دوائیاں بھیجنے لگے۔ اس طرح میں نے علمِ طب سیکھ لیا۔ احمد کی روایت میں یہ ہے کہ میں ان دوائیوں سے حضورﷺ کا علاج کیا کرتی تھی یہاں سے میں نے طب سیکھی (حضرت عروہ حضرت عائشہؓ کے بھانجے تھے)۔1