صحابہ کرام ؓ کا ذکر

ذکرکے آثار اور اس کی حقیقت

حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا:یا رسول اللہ! اللہ کے ولی اور دوست کون لوگ ہیں؟ حضورﷺ نے فرمایا: جنھیں دیکھنے سے اللہ یاد آجائے۔1 حضرت حنظَلَہ کاتب اُسَیْدی ؓ حضورﷺ کے کاتبوں میں سے تھے۔ وہ فرماتے ہیں: ہم لوگ حضورﷺ کے پاس تھے، حضورﷺ نے ہمارے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح فرمایاکہ گویاہم دونوں کو آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر میں اٹھ کر بیوی بچوں کے پاس چلاگیا اور ان کے ساتھ ہنسنے کھیلنے میں لگ گیا، پھر مجھے وہ حالت یاد آگئی جو (حضورﷺ کے سامنے) ہماری تھی (کہ دنیا بھولے ہوئے تھے اور جنت اور جہنم آنکھوں کے سامنے تھیں)، تو میں گھر سے نکلا۔ آگے پوری حدیث ذکر کی جس طرح کہ ’’جنت اور جہنم پر ایمان لانے‘‘ کے عنوان میں گزر چکی ہے۔ اس کے آخر میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: اے حنظلہ! تمہاری جو حالت میرے پاس ہوتی ہے، وہی حالت اگر گھر والوں کے پاس جاکر بھی رہے تو فرشتے تم سے بستروں پر اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں، لیکن حنظلہ! بات یہ ہے کہ گاہے گاہے، گاہے گاہے۔2 ایک روایت میں ہے کہ جیسے تم میرے پاس ہوتے ہو ویسے ہی گھر جاکر بھی رہوتو فرشتے تم پر پروں سے سایہ کریں۔3 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں اور دنیا کی بے رغبتی اور آخرت کی رغبت کی کیفیت بن جاتی ہے (لیکن جب ہم چلے جاتے ہیں تو پھر یہ کیفیت نہیں رہتی)۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرے پاس تمہاری جو کیفیت ہوتی ہے اگر میرے پاس سے جانے کے بعد بھی وہی رہے تو فرشتے تمہاری زیارت کرنے آئیں اور راستوں میں تم سے مصافحہ کریں۔ اگر تم گناہ نہیں کروگے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لے آئیں گے جو اتنے گناہ کریں گے کہ وہ آسمان کے بادلوں تک پہنچ جائیں گے، پھر وہ اللہ سے اِستغفار کریں گے تو ان کے جتنے گناہ ہوں گے اللہ ان سب کو معاف کردیں گے اور کوئی پروا نہیں کریں گے۔1 حضرت عروہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں: ہم لوگ طواف کررہے تھے، میں نے طواف کے دوران حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو ان کی بیٹی سے شادی کا پیغام دیا تو وہ خاموش رہے اور میرے پیغام کا کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے کہا:اگر یہ راضی ہوتے تو کوئی نہ کوئی جواب ضرور دیتے، اب اللہ کی قسم! میں ان سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کروںگا۔ اللہ کی شان وہ مجھ سے پہلے مدینہ واپس پہنچ گئے میں بعد میں مدینہ آیا۔ چناںچہ میں حضورﷺ کی مسجد میں داخل ہوا اور جاکر حضورﷺ کو سلام کیا اور آپ کی شان کے مطابق آپ کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔پھر حضرت ابنِ عمر ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے خوش آمدید کہا اور فرمایا: کب آئے ہو؟ میں نے کہا: ابھی پہنچاہوں۔ انھوں نے فرمایا: ہم لوگ طواف کررہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے کا دھیان جمارہے تھے، کیا اس وقت تم نے مجھ سے(میری بیٹی) حضرت سودہ بنت عبداللہ کا ذکر کیاتھا، حالاںکہ تم مجھ سے اس بارے میں کسی اور جگہ بھی مل سکتے تھے؟ میں نے کہا: ایساہونا مقدر تھا اس لیے ایسا ہوگیا۔ انھوں نے فرمایا: اب تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا:اب تو پہلے سے بھی زیادہ تقاضا ہے۔ چناںچہ انھوں نے دونوں بیٹوں حضرت سالم اور حضرت عبداللہ کو بلا کر میری شادی کردی۔2