صحابۂ کرام ؓ کا مختلف قبائل اور اقوامِ عرب کو دعوت دینا

حضرت عمرو بن مُرّہ جُہنی ؓ کا اپنی قوم کو دعوت دینا

حضرت عمرو بن مرّہ جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ زمانۂ جاہلیت میں ہم لوگ اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ حج کرنے گئے تو میں نے مکہ میں خواب میں ایک چمکتا ہوا نور دیکھا جو کعبہ سے نکل رہا تھا اور اس کی روشنی سے یثرِب کا پہاڑ اور جہینہ کا اشعر پہاڑ روشن ہوگیا۔ اور مجھے اس نور میں یہ آواز سنائی دی کہ تاریکی چھٹ گئی اور روشنی بلند ہوکر پھیل گئی اور خاتم الانبیاء کی بعثت ہوگئی۔ وہ نور میرے سامنے دوبارہ چمکا یہاں تک کہ میں نے حِیْرہ شہر کے محلات اور مدائن شہر کا سفید محل اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اور اس نور میں یہ آواز سنائی دی کہ اِسلام کا ظہور ہوچکا اور بت توڑ دیے گئے اور رشتے جوڑ دیے گئے۔ میں گھبرا کر اٹھا اور اپنی قوم سے کہا: اللہ کی قسم! قریش کے اس قبیلہ میں کوئی بڑا واقعہ پیش آنے والا ہے اور میں نے اُن کو اپنا خواب سنایا ۔ جب میں اپنے علاقہ میں پہنچا تو وہاں یہ خبر پہنچی کہ احمد ﷺ نامی ایک آدمی پیغمبر بناکر بھیجے گئے ہیں۔ چناںچہ میں وہاں سے چل کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اپنا خواب سنایا۔ آپ نے فرمایا: اے عمرو بن مرّہ! میں وہ نبی ہوںجس کو تمام بندوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ میں سب کو اِسلام کی دعوت دیتا ہوں، اور میں اُن کو اس بات کا حکم دیتا ہوںکہ وہ خون کی حفاظت کریں اور صلہ رحمی کریں اور ایک اللہ کی عبادت کریں اور بتوں کو چھوڑ دیں اور حج بیت اللہ کریں اور بارہ مہینوں میں سے رمضان کے ایک مہینے کے روزے رکھیں۔ جو میری بات مانے گا اسے جنت ملے گی اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ دوزخ کی آگ میں جائے گا۔ اے عمرو! ایمان لے آؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم کی ہولناکی سے اَمن دے گا۔ میں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں آپ اللہ کے رسول ہیں، اور آپ جو حلال اور حرام لے کر آئے ہیں میں اس سب پر ایمان لے آیا اگرچہ یہ بات بہت سی قوموں کو بری لگے گی۔ پھر میں نے آپ کو وہ چند اَشعار پڑھ کر سنائے جو میں نے آپ کی بعثت کی خبر سن کر کہے تھے۔ ہمارا ایک بُت تھا اور میرے والد اس کے خادم تھے، میں نے کھڑے ہوکر اس بت کو توڑ دیا۔ پھر میں حضور ﷺ کی طرف چل دیا اور میں یہ اشعار پڑھ رہا تھا : شَہِدْتُّ بِأَنَّ اللّٰہَ حَقٌّ وَّإِنَّنِيْ لِاٰلِہَۃِ الْأَحْجَارِ أَوَّلُ تَارِکٖ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ حق ہے اور میں پتھروں سے بنے ہوئے بتوں کو سب سے پہلے چھوڑ نے والا ہوں۔ وَشَمَّرْتُ عَنْ سَاقِي الإِ زَارَ مُہَاجِرًا أجُوْبُ إِلَیْکَ الْوَعْثَ بَعْدَ الدَّکَادِکٖ اور میں نے اپنی پنڈلی سے لنگی کو اوپر چڑھالیا، اور میں ہجرت کرتا ہوا جارہا ہوں (یا رسول اللہ!) آپ تک پہنچنے کے لیے دشوار گزرا راستوں کو اور سخت زمینوں کو طے کررہا ہوں ۔ لِأَصْحَبَ خَیْرَ النَّاسِ نَفْسًا وَّوَالِدًا رَسُوْلَ مَلِیْکِ النَّاسِ فَوْقَ الْحَبَائِکٖ (میںیہ ساری مشقت اس لیے اٹھارہا ہوں) تاکہ میں اس ذات کی صحبت میں رہا کروں جو خود بھی لوگوں میں سب سے بہتر ہیں اور ان کا خاندان بھی، اور جو اس اللہ کے رسول ہیں جو تمام انسانوں کابادشاہ ہے اور آسمانوں کے اُوپر ہے۔ حضورﷺ نے (اَشعار سن کر) کہا: شاباش اے عمر و بن مرّہ! پھر میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ مجھے میری قوم کی طرف بھیج دیں، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر بھی میرے ذریعہ سے فضل فرمادے جیسے آپ کے ذریعے سے مجھ پر فضل فرمایا۔چناںچہ آپ نے مجھے بھیج دیا اور یہ ہدایات دیں کہ نرمی سے پیش آنا اور صحیح اور سیدھی بات کہنا، سخت کلامی اور بدخلقی سے پیش نہ آنا، اور تکبر اور حسد نہ کرنا۔ میں اپنی قوم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے بنی رِفاعہ! بلکہ اے قبیلہ جُہَیْنہ! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول (ﷺ) کا قاصد ہوں، اور تمہیں اِسلام کی دعوت دیتا ہوں، اور میں تمہیں اس بات کا حکم دیتا ہوں کہ تم خون کی حفاظت کرو اور صلہ رحمی کرو اور ایک اللہ کی عبادت کرو اور بتوں کو چھوڑ دو اور بیت اللہ کا حج کرو اور بارہ مہینوں میںسے رمضان کے ایک مہینہ کے روزے رکھو۔ جو مان لے گا اسے جنت ملے گی جو نافرمانی کرے گا وہ دوزخ کی آگ میںجائے گا۔ اے قبیلہ جُہَیْنہ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں عربوں میں سے بہترین قبیلہ بنایا ہے، اور جو بری باتیں عرب کے دوسرے قبیلوں کو اچھی لگتی تھیں اللہ تعالیٰ نے زمانۂ جاہلیت میں بھی تمہارے دلوں میں اُن کی نفرت ڈالی ہوئی تھی، کیوں کہ وہ دوسرے قبیلے دو بہنوں سے اکٹھی شادی کرلیتے تھے، اور شہر حرام میں جنگ کرلیتے تھے، اور اپنے باپ کی بیوی سے بعد میں نکاح کرلیتے تھے۔ بنی لُؤی بن غالب! اللہ کے بھیجے ہوئے اس نبی کی بات مان لو، دنیا کی شرافت اور آخرت کی بزرگی ملے گی۔ حضرت عمرو فرماتے ہیں: میری قوم میں سے کوئی میرے پاس نہ آیا، صرف ایک آدمی نے آکر یہ کہا: اے عمرو بن مرّہ! اللہ تیری زندگی کو تلخ کرے، کیا تم ہمیں اس بات کا حکم دیتے ہو کہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں، اور ہم اپنا شیرازہ بکھیردیں، اور ہم اپنے ان آباء واَجداد کے دین کی مخالفت کریںجو عمدہ اور بلند اخلاق والے تھے؟ یہ تہامہ کا رہنے والا قریشی ( ؑ) ہمیں کس چیز کی دعوت دیتا ہے؟ نہ ہمیں اس سے محبت ہے اور نہ ہم اس کی بزرگی کو تسلیم کرتے ہیں۔ پھر وہ خبیث یہ شعر (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ) پڑھنے لگا : إِنَّ ابْنَ مُرَّۃَ قَدْ أَتٰی بِمَقَالَۃٍ لَیْسَتْ مَقَالَۃَ مَنْ یُّرِیْدُ صَلَاحًا ابنِ مرّہ ایسی بات لے کر آیا ہے جو اس آدمی کی بات نہیں ہوسکتی ہے جو چاہتا ہے کہ حالات درست ہوجائیں ۔ إِنِّيْ لَأَحْسَبُ قَوْلَہٗ وَفَعَالَہٗ یَوْمًا وَإِنْ طَالَ الزَّمَانُ ذُبَاحًا میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابنِ مرّہ کا قول و فعل ایک نہ ایک دن ضرور گلے کا چھچھوندر بن کر رہے گاچاہے اس میں کچھ دیر لگے ۔ لَیُسَفِّہُ الْأَشْیَاخَ مِمَّنْ قَدْ مَضٰی مَنْ رَامَ ذٰلِکَ لَا أَصَابَ فَلَاحًا وہ ہمارے گزرے ہوئے اَسلاف کو بے وقوف ثابت کرتا ہے، جو ایسا کرنا چاہتا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ حضرت عمرو بن مرّہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہو خدا اس کی زندگی کو تلخ کردے، اور اس کی زبان کو گونگا اور آنکھوں کو اندھا کردے۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! مرنے سے پہلے ہی اس آدمی کے سارے دانت گرچکے تھے اور وہ اندھا ہوچکا تھا اور اس کی عقل خراب ہوچکی تھی اور اسے کسی کھانے میں ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ چناںچہ حضرت عمرو اپنی قوم کے مسلمانوں کو لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ نے اُن کا بڑا استقبال کیا اور ان کو درازیٔ عمر کی دعا دی اور اُن کو ایک خط لکھ کر دیا جس کا مضمون یہ ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ اللہ عزیز کی جانب سے ان کے رسول کی زبانی خط ہے جو رسول سچے حق کو اور حق بتانے والی کتاب کو لے کر آئے۔ یہ خط عمرو بن مُرّہ کے ہاتھ جُہَیْنہ بن زید قبیلہ کے نام بھیجا جارہا ہے۔ سارا نشیبی اور ہموار علاقہ اور وادیوں کا نیچے اور اوپر کا علاقہ سب تمہارا ہے۔ جہاں چاہو اپنے جانور چراؤ اور اس کا پانی استعمال کرو، شرط یہ ہے کہ (مالِ غنیمت کا) پانچواں حصہ دیتے رہو اور پانچ نمازیں پڑھتے رہو۔ بھیڑ بکریوں کے دو ریوڑاگر یکجا کردیے جائیں (اور اُن کی تعداد ایک سوبیس سے زائد اور دو سو سے کم ہو) تو زکوٰۃ میں دو بکریاں دی جائیں گی۔ اور اگر الگ الگ ریوڑ ہو (اور ہر ریوڑ میں چالیس یا اس سے زیادہ بکریاں ہوں) تو ہر ایک میں سے ایک ایک بکری دی جائے گی۔ زراعت کے کام آنے والے اور پانی نکالنے والے جانوروںپر زکوٰۃ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اور تمام حاضر مسلمان ہمارے اس معاہدہ پر گواہ ہیں۔ بقلم قیس بن شَمّاس۔1