صحابہ کرام ؓ کا ذکر
وہ کلمات جن سے دعاشروع کی جاتی ہے
حضرت بُریدہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا:
اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ بِأَنِّيْ أَشْھَدُ أَنَّکَ أَنْتَ اللّٰہُ وَلَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِيْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُن لَّہٗ کُفُوًا أَحَدٌ۔
اے اللہ! میں تجھ سے اس وسیلہ سے مانگتاہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ بے شک توہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلاہے، بے نیاز ہے،جس سے نہ کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیداہوا اور نہ کوئی اس کے برابر کا ہے۔
آپ نے فرمایا: تم نے اللہ کے اُس اسمِ اَعظم کے ساتھ مانگاہے کہ جب بھی اس کے ساتھ مانگاجاتاہے تو اللہ تعالیٰ ضرور دیتے ہیں اور جب بھی اس کے ساتھ اسے پکارا جاتاہے تو وہ ضرور قبول کرتے ہیں۔3
حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: یَا ذَا الْجَلاَلِ وَالإِکْرَامِ۔ حضورﷺ نے فرمایا: تیرے لیے قبولیت کا دروازہ کھل گیا ہے، اب تو مانگ۔1
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ کا حضرت ابوعیّاش زید بن صامت زُرَقی ؓ کے پاس سے گزرہوا، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ بِأَنَّ لَکَ الْحَمْدُ لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ، یَا حَنَّانُ! یَا مَنَّانُ! یَا بَدِیْعَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ! یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ۔
اے اللہ! میں تجھ سے اس وسیلہ سے مانگتا ہوں کہ تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں۔تیرے سواکوئی معبود نہیں۔ اے بڑے مہربان! اے بہت دینے والے! اے آسمانوں اور زمین کو کسی نمونہ کے بغیر بنانے والے! اے بزرگی اور بخشش والے!
حضورﷺ نے فرمایا: تم نے اللہ سے اس کے اسمِ اَعظم کے وسیلہ سے مانگا ہے کہ جب اس کے ذریعے سے دعا کی جائے تو اللہ ضرور قبول فرماتے ہیں اور جب اس کے وسیلہ سے اس سے مانگا جائے تو ضرور عطافرماتے ہیں۔2
ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: یَا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ! اے سدا زندہ رہنے والے! اے سب کو قائم رکھنے والے!
حاکم کی روایت میں اس کے بعد یہ الفاظ بھی ہیں:
أَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ۔
میں تجھ سے جنت مانگتاہوں اور آگ سے تیری پناہ چاہتاہوں۔
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ ایک دیہاتی کے پاس سے گزرے، وہ اپنی نماز میں دعامانگ رہاتھا اور کہہ رہاتھا: یَا مَنْ لَّا تَرَاہُ الْعُیُوْنُ، وَلَا تُخَالِطُہُ الظُّنُوْنُ، وَلَا یَصِفُہُ الْوَاصِفُوْنَ، وَلَا تُغَیِّرُہُ الْحَوَادِثُ، وَلَا یَخْشَی الدَّوَائِرُ، یَعْلَمُ مَثَاقِیْلَ الْجِبَالِ، وَمَکَائِیْلَ الْبِحَارِ، وَعَدَدَ قَطَرِ الْأَمْطَارِ، وَعَدَدَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ، وَعَدَدَ مَا أَظْلَمَ عَلَیْہِ اللَّیْلُ وَأَشْرَقَ عَلَیْہِ النَّھَارُ، وَمَّا تُوَارِيْ مِنْ سَمَائٍ سَمَائٌ، وَلَا أَرْضٌ أَرْضًا، وَلَا بَحْرٌ مَّا فِيْ قَعْرِہٖ، وَلَا جَبَلٌ مَا فِيْ وَعْرِہٖ، اِجْعَلْ خَیْرَ عُمْرِيْ اٰخِرَہٗ، وَخَیْرَ عَمَلِيْ خَوَاتِیْمَہٗ، وَخَیْرَ أَیَّامِيْ یَوْمَ أَلْقَاکَ فِیْہِ۔
اے وہ ذات جس کو آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں اور کسی کا خیال وگمان اس تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ اوصاف بیان کرنے والے اس کے اوصاف بیان کرسکتے ہیں اور نہ حوادثِ زمانہ اس پر اثر انداز ہوسکتے ہیںاور نہ اسے گردشِ زمانہ سے کوئی اندیشہ ہے، جو پہاڑوں کے وزن اور سمندروں کے پیمانے اور بارش کے قطروں کی تعداد اور درختوں کے پتّوں کی تعداد کو جانتا ہے، اور وہ ان تمام چیزوں کو جانتاہے جن پر رات کی تاریکی چھاتی ہے اور جن پر دن روشنی ڈالتاہے، اور نہ اس سے ایک آسمان دوسرے آسمان کو چھپا سکتاہے اور نہ ایک زمین دوسری زمین کو، اور نہ سمندر اُن چیزوں کو چھپا سکتاہے جو اس کی تہہ میں ہیں اور نہ کوئی پہاڑ اُن چیزوں کو چھپا سکتاہے جو اس کی سخت چٹانوں میں ہیں۔ تُو میری عمر کے آخری حصے کو سب سے بہترین حصہ بنادے اور میرے آخری عمل کو سب سے بہترین عمل بنادے اور میرا بہترین دن وہ بنا جس دن میری تجھ سے ملاقات ہو۔
آپ نے ایک آدمی کے ذمہ لگایا کہ جب یہ دیہاتی نماز سے فارغ ہوجائے تو اسے میرے پاس لے آنا۔ چناںچہ وہ نماز کے بعد حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور ﷺ کے پاس ایک کان سے کچھ سونا ہدیہ میں آیا ہواتھا۔حضورﷺ نے اس کو وہ سونا ہدیہ میں دیا، پھر اس سے پوچھا کہ اے اَعرابی! تم کون سے قبیلہ میں سے ہو؟ اس نے کہا:یا فرمائیں! بنی عامر بن صَعْصَعَہ قبیلہ میں سے ہوں۔ حضو ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو میں نے تم کو یہ سونا کیوں ہدیہ کیاہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری آپ کی رشتہ داری ہے اس وجہ سے کیاہے۔ آپ نے فرمایا: رشتہ داری کا بھی حق ہوتاہے، لیکن میں نے تمھیں سونا اس وجہ سے ہدیہ کیا ہے کہ تم نے بہت عمدہ طریقہ سے اللہ کی ثنا بیان کی ہے۔1
حضرت عائشہؓفرماتی ہیں: میں نے حضورﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ بِاسْمِکَ الطَّاھِرِ الطَّیِّبِ الْمُبَارَکِ الْأَحَبِّ إِلَیْکَ الَّذِيْ إِذَا دُعِیْتَ بِہٖ أَجَبْتَ، وَإِذَا سُئِلْتَ بِہٖ أَعْطَیْتَ، وَإِذَا اسْتُرْحِمْتَ بِہٖ رَحِمْتَ، وَإِذَا اسْتُفْرِجْتَ بِہٖ فَرَّجْتَ۔
اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس نام کے وسیلہ سے سوال کرتاہوں جو پاک، عمدہ، مبارک اور تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ جب تجھے اس کے ذریعہ پکاراجاتاہے تو تُو ضرور متوجہ ہوتا ہے۔ اور جب تجھ سے اس کے وسیلہ سے مانگا جاتاہے تو تُو ضرور دیتاہے۔ اورجب تجھ سے اس کے ذریعہ رحم طلب کیاجاتاہے تو تُو ضرور رحم فرماتاہے۔ اور جب اس کے وسیلہ سے تجھ سے کشادگی مانگی جاتی ہے توتُو ضرور کشادگی دیتاہے۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: ایک دن حضورﷺ نے فرمایا:ـ اے عائشہ! کیا تمھیں پتا چلا کہ اللہ نے مجھے وہ نام بتادیاہے کہ جب اس نام کے وسیلہ سے اس سے دعا کی جاتی ہے تو وہ ضرور قبول فرماتاہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!وہ نام مجھے بھی سکھادیں۔ آپ نے فرمایا: اے عائشہ! تجھے سکھانا مناسب نہیں۔ وہ فرماتی ہیں: میں ایک طرف ہوکر بیٹھ گئی، پھر میں کھڑی ہوئی اور حضورﷺ کے سرکا بوسہ لیا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وہ نام سکھادیں۔
حضورﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! تمہارے لیے مناسب نہیں کہ میں تمھیں سکھائوں، کیوںکہ تمہارے لیے مناسب نہیں کہ تم اس کے ذریعہ دنیا کی کوئی چیز مانگو۔ میں وہاں سے اٹھی اور وضو کرکے دورکعت نماز پڑھی پھر یہ دعامانگی:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَدْعُوْکَ اللّٰہَ، وَأَدْعُوْکَ الرَّحْمٰنَ، وَأَدْعُوْکَ الْبَرَّ الرَّحِیْمَ، وَاَدْعُوْکَ بِأَسْمَائِکَ الْحُسْنٰی کُلِّھَا مَا عَلِمْتُ مِنْھَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ أَنْ تَغْفِرَ لِيْ وَتَرْحَمَنِيْ۔
اے اللہ! میں تجھے اللہ کہہ کرپکارتی ہوں، تجھے رحمٰن کہہ کر پکارتی ہوں، تجھے نیکوکار رحیم کہہ کر پکارتی ہوں، اور تجھے تیرے اُن تمام اچھے ناموں سے پکارتی ہوں جن کو میں جانتی ہوں اور جن کو میں نہیں جانتی ہوں، اور یہ سوال کرتی ہوں کہ تو میری مغفرت فرمادے اور مجھ پر رحم فرمادے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ میری یہ دعا سن کر بہت ہنسے اور فرمایا: تم نے جن ناموں سے اللہ کو پکاراہے ان میں وہ خاص نام بھی شامل ہے۔1
حضرت سَلَمہ بن اَکوع اَسلمی ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کو کبھی ایسی دعا مانگتے ہوئے نہیں سنا کہ جس کے شروع میں آپ نے یہ الفاظ نہ کہے ہوں:
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَلِيِّ الأَعْلَی الْوَھَّابِ۔
میں اپنے ربّ کی پاکی بیان کرتاہوں جو کہ بلند، بہت بلند اور بہت دینے والا ہے۔2
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: اگر حضورﷺ سو دعائیں بھی مانگتے تو ان کے شروع میں، درمیان میں اور آخر میں یہ دعا ضرور مانگتے:
رَبَّنَا اٰتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِي الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔
اے ہمارے پروردگار! ہم کو دنیا میں بھی بہتری عنایت کیجیے اور آخرت میں بھی بہتری دیجیے اور ہم کو عذابِ دوزخ سے بچائیے۔3
حضرت فَضَالَہ بن عبید ؓ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ حضورﷺ تشریف فرماتھے اتنے میں ایک آدمی نے اندر آکر نماز پڑھی اور پھر اس نے یہ دعا مانگی:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَارْحَمْنِيْ۔
اے اللہ! میری مغفرت فرما اور مجھ پر رحم فرما۔
حضور ﷺ نے فرمایا: اے نمازی! تم نے دعا مانگنے میں جلدی کی۔ جب تم نماز پڑھ کر بیٹھ جائو تو پہلے اللہ کی شایانِ شان تعریف کرو اور مجھ پر درود بھیجو، پھر دعا مانگو۔ پھر ایک اور آدمی نے نماز پڑھی، پھر اس نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجا تو حضور ﷺ نے اس سے فرمایا: اے نمازی! اب تم دعاکرو ضرور قبول کی جائے گی۔4
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اللہ سے مانگنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی شایانِ شان حمد وثنا سے اِبتدا کرے، پھر نبی کریم ﷺ پر درود پڑھے، پھر اللہ سے مانگے، تو اس طرح مقصد میں کامیابی کی زیادہ اُمید ہے۔1