صحابہ کرام ؓ کا ذکر
حضورﷺ کی نماز کے بعد کی دعائیں
حضرت معاذ بن جبلؓفرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:اے معاذ! اﷲ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے عر ض کیا:یا رسول اﷲ!میرے ماں باپ آپ پرقربان ہوں! اﷲ کی قسم!مجھے بھی آپ سے محبت ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا:اے معاذ! میں تمھیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تم نماز کے بعد یہ دعا کبھی نہ چھوڑنا ہمیشہ مانگنا:
اَللّٰھُمَّ أَعِنِّيْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔
اے اﷲ!اپنے ذکر میں،اپنے شکر ادا کرنے میں اور اپنی اچھی طرح عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔
راوی کہتے ہیں: حضرت معاذؓنے اپنے شاگرد صُنابحی کو اور صُنابحی نے عبدالرحمن کو اور عبدالرحمن نے عُقبہ بن مسلم کو اس دعا کی وصیت فرمائی۔1
حضرت عون بن عبداﷲ بن عتبہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ کے پہلو میں نماز پڑھی۔ اس نے سنا کہ حضرت عبداﷲؓسلام کے بعد یہ دعا پڑھ رہے ہیں:
اَللّٰھُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ۔
اے اﷲ! تو ہی سلامتی دینے والا ہے، تیری ہی جانب سے سلامتی نصیب ہوتی ہے، تو بہت برکت والا ہے اے عظمت و جلال والے! اور اِکرام و اِحسان والے!
پھر اس آدمی نے حضرت عبداﷲ بن عمرؓکے پہلو میں نماز پڑھی تو اس نے انھیں بھی سلام کے بعد یہی دعا پڑھتے ہوئے سنا تو وہ ہنس پڑا۔ حضرت ابنِ عمر نے اس سے پوچھا: میاں! کیوں ہنس رہے ہوں؟ اس نے کہا:میں نے حضرت عبداﷲ بن عمرو کے پہلو میں نماز پڑھی تھی تو اُن کو بھی یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا تھا۔حضرت ابنِ عمرؓنے فرمایا: خود حضور ﷺ بھی یہ دعا پڑھتے تھے۔1
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو دایاں ہاتھ اپنے سر پر پھیرتے اور فرماتے:
بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِيْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، اَللّٰھُمَّ أَذْھِبْ عَنِّيَ الْھَمَّ وَالْحُزْنَ۔
اﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ بڑا مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے۔ اے اﷲ! تو ہر فکر اور پریشانی مجھ سے دور فرمادے۔
ایک روایت میں یہ ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ اپنی پیشانی پر پھیرتے اور فرماتے:
اَللّٰھُمَّ أَذْھِبْ عَنِّيَ الْغَمَّ وَالْحُزْنَ۔
اے اﷲ! تو ہر غم اور پریشانی کو مجھ سے دور فرمادے۔2
حضرت ابو ایوبؓفرماتے ہیں: جب بھی میں نے تمہارے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے انھیں نماز سے فارغ ہو کر یہی کہتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ خَطَایَايَ وَذُنُوْبِيْ کُلَّھَا۔ اَللّٰھُمَّ وَأَنْعِشْنِيْ وَاجْبُرْنِيْ وَاھْدِنِيْ لِصَالِحِ الأَعْمَالِ وَالأَخْلاَقِ لَا یَھْدِيْ لِصَالِحِھَا وَلَا یَصْرِفُ سَیِّئَھَا إِلَّا أَنْتَ۔
اے اﷲ!میری تمام خطائیں اور گناہ معاف فرما۔ اے اﷲ!مجھے بلندی عطا فرما، اور میری کمیوں کو دور فرما، اور مجھے نیک اعمال اور اچھے اخلاق کی ہدایت نصیب فرما، (اس لیے کہ) اچھے کاموں اور اچھے اخلاق کی ہدایت تیرے سوا اور کوئی نہیں دے سکتا، اور برے کاموں اور برے اَخلاق کو تیرے سوا اور کوئی ہم سے دور نہیں کر سکتا۔ 1
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں: جب بھی میں نے تمہارے نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو نماز سے فارغ ہوتے ہی حضورﷺ کو یہی کہتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ خَطَئِيْ وَعَمَدِيْ، اَللّٰھُمَّ اھْدِنِيْ لِصَالِحِ الأَعْمَالِ وَالأَخْلاَقِ إِنَّہٗ لَا یَھْدِيْ لِصَالِحِھَا وَلَا یَصْرِفُ سِیَّئَھَا إِلَّا أَنْتَ۔
اے اﷲ!میں نے جو گناہ بھولے سے کیے اور جو جان کر کیے وہ سب معاف فرما۔
(باقی ترجمہ گزر چکا ہے)۔2
حضرت اُمِّ سَلَمہؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ رِزْقًا طَیِّبًا وَعِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا۔
اے اﷲ! میں تجھ سے پاکیزہ روزی، نفع دینے والا علم اور مقبول عمل کی توفیق مانگتا ہوں۔3
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: حضورﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ أَعِذْنِيْ مِنْ حَرِّ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔
اے اﷲ!اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے ربّ! مجھے جہنم کی گرمی سے اور قبر کے عذاب سے پناہ عطا فرما۔ 4
حضرت ابو بکرہؓفرماتے ہیں: نبی کریمﷺ نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔
اے اﷲ!میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔5
حضرت معاویہؓفرماتے ہیں: میں نے سنا کہ جب حضورﷺ نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔
اے اﷲ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روکے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی دولت مندکو اس کی دولت تیری پکڑ سے بچا نہیں سکتی۔ 1
حضرت ابو موسیٰ اَشعریؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کی خدمت میں وضو کا پانی لے کر آیا۔ آپﷺ نے وضو فرما کر نماز پڑھی پھر یہ دعا پڑھی:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ، وَوَسِّعْ لِيْ فِيْ دَارِيْ، وَبَارِکْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ۔
اے اﷲ! میرے گناہ معاف فرما اور میرے گھر میں وسعت عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔2
حضرت زید بن اَرقمؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نماز کے بعد یہ کلمات کہا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّکَ أَنْتَ الرَّبُّ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ أَنَا شَہِیْدٌ أَنَّ الْعِبَادَ کُلَّھُمْ إِخْوَۃٌ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَرَبَّ کُلِّ شَيْئٍ اِجْعَلْنِيْ مُخْلِصًا لَّکَ وَأَھْلِيْ فِيْ کُلِّ سَاعَۃٍ فِي الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِکْرَامِ! اِسْمَعْ وَاسْتَجِبْ اَللّٰہُ أَکْبَرُ الْأَکْبَرُ، اَللّٰھُمَّ نُوْرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ اَللّٰہُ أَکْبَرُ الْأَکْبَرُ، حَسْبِيَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ اللّٰہُ أَکْبَرُ الأَکْبَرُ۔
اے اﷲ!اے ہمارے اور ہر چیز کے ربّ!میں اس بات پر گواہ ہوں کہ تو ہی ربّ ہے، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں۔ اے اﷲ!اے ہمارے اور ہر چیز کے ربّ!میں اس بات پر گواہ ہوں کہ حضرت محمد(ﷺ) تیرے بندے اور رسول ہیں۔ اے اﷲ!اے ہمارے اورہر چیز کے ربّ! میں اس بات پرگواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی ہیں۔ اے اﷲ!اے ہمارے اور ہر چیز کے ربّ!دنیا اور آخرت کے تمام کاموں میں ہر گھڑی مجھے اور میرے گھر والوں کو مخلص بنادے۔ اے بزرگی اور عظمت والے! اے اکرام واحسان والے!سن لے اور قبول فرمالے۔ اﷲ سب سے بڑا سب سے ہی بڑا ہے۔ اے اﷲ!اے آسمانوں او ر زمین کے نور!اﷲسب سے بڑا ہے سب سے ہی بڑا ہے۔ اﷲ مجھے کافی ہے اور بہترین کار ساز ہے، اﷲ سب سے بڑا سب سے ہی بڑا ہے۔ 1
حضرت علیؓفرماتے ہیں: حضورﷺ جب نماز سے سلام پھیرتے تو یہ دعا فرماتے:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہٖ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلٰـہَ إِلَّا أَنْتَ۔
اے اﷲ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما، اور وہ گناہ بھی معاف فرما جو میں نے چھپ کر کیے اور جو میں نے علی الاعلان کیے، اور میں نے جو بے اعتدالیاں کی ہیں اور میرے جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے ان سب کو معاف فرما، توہی آگے اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔2