صحابہ کرام ؓ کا ذکر

حضور ﷺ کی سونے کے وقت کی اور سو کر اُٹھنے کے وقت کی دعائیں

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ جب بستر پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَاٰوَانَا، فَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِيَ لَہٗ وَلَا مُؤْوِيَ۔ اس اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا اور ہماری تمام ضرورتوں کو پورا کیا اور ہمیں (رات گزارنے کے لیے) ٹھکانا دیا، اس لیے کہ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کا نہ کوئی ضرورت پوری کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانا دینے والا۔2 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ کَفَانِيْ وَاٰوَانِيْ وَأَطْعَمَنِيْ وَسَقَانِيْ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، وَأَعْطَانِيْ فَأَجْزَلَ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّ کُلِّ شَيْئٍ وَمَلِیْکَہٗ، أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ النَّارِ۔ اس اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے میری تمام ضرورتیں پوری کیں اور مجھے ٹھکانا دیاا ور مجھے کھلا یا پلایا اور جس نے مجھ پر خوب احسا نات کیے اور بہت زیادہ نعمتیں دیں۔ ہر حال میں اﷲ کا شکر ہے۔ اے اﷲ! اے ہر چیز کے ربّ او ر مالک!میں آگ سے اﷲ کی پناہ چاہتا ہوں۔3 حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں: نبی کریمﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا ہاتھ سر کے نیچے رکھ لیتے پھر یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ قِنِيْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ (یا تَبْعَثُ کہے) عِبَادَکَ۔ اے اﷲ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا اس دن تو مجھے اپنے عذاب سے بچا۔1 حضرت ابو اَزہر اَنماری ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب رات کو بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ وَضَعْتُ جَنْبِيْ لِلّٰہِ۔ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ وَاخْسَأْ شَیْطَانِيْ وَفُکَّ رِھَانِيْ وَاجْعَلْنِيْ فِي النَّدِيِّ الأَعْلٰی۔ میں نے اﷲ کے نام کے ساتھ اپنا پہلو (سونے کے لیے بستر پر) رکھا۔ اے اﷲ!تو میرے گناہ بخش دے اور میرے شیطان کو (مجھ سے) دور کر دے اور میری گردن کو (ہر ذمہ داری سے) آزاد کر دے اور مجھے اَعلیٰ مجلس والوں میں شامل کر دے۔ 2 حضرت علیؓفرماتے ہیں: نبی کریمﷺ بستر پر لیٹتے وقت یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِوَجْھِکَ الْکَرِیْمِ وَبِکَلِمَاتِکَ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ کُلِّ دَآبَّۃٍ أَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا۔ اَللّٰھُمَّ أَنْتَ تَکْشِفُ الْمَغْرَمَ وَالْمَأْثَمَ۔ اَللّٰھُمَّ لَا یُھْزَمُ جُنْدُکَ، وَلَا یُخْلَفُ وَعْدُکَ، وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ، سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ۔ اے اﷲ!میں ہر اس جانور کے شر سے تیری کریم ذات کی اور تیرے پورے کلمات کی پناہ چاہتا ہوں جو تیرے قبضہ اور قدرت میں ہے۔ اے اﷲ!تُو ہی (بندے کے) قرض اور گناہ کو دور کرتا ہے (لہٰذا میرا قرضہ اُتار دے اور میرے گناہ معاف کر دے)۔ اے اﷲ! تیرے لشکر کو شکست نہیں ہوسکتی اور تیرے وعدے کے خلاف نہیں ہوسکتا اور کسی مال دار کو اس کی مال داری تیرے قہر و غضب سے نہیں بچا سکتی۔اے اﷲ! میں تیری پاکی اور تعریف بیان کرتا ہوں۔3 حضرت عبداﷲ بن عمروؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ جب سونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتیـ: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ! عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ! رَبَّ کُلِّ شَيْئٍ وَإِلٰـہَ کُلِّ شَيْئٍ! أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰـہَ إِلاَّ أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ، وَالْمَلاَئِکَۃُ یَشْھَدُوْنَ۔ اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہٖ أَوْ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِيْ سُوْئً ا أَوْ أَجُرَّہٗ إِلٰی مُسْلِمٍ۔ اے اﷲ! اے آسمانوں اور زمین کے ایجاد کرنے والے! پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے! اے ہر چیز کے ربّ! ہر چیز کے معبود! میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں، اور حضرت محمد (ﷺ)تیرے بندے اور رسول ہیں، اور فرشتے بھی ان ہی دو باتوں کی گواہی دیتے ہیں۔ اے اﷲ! میں شیطان سے اور اس کے (فریب کے) جال سے اور اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں خود کوئی برا عمل کروں یا کسی مسلمان پر بُرائی کی تہمت لگائوں۔ حضرت ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: حضورﷺ نے یہ دعا حضرت عبداﷲ بن عمروؓکو سکھائی تھی اور خود بھی جب سونے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھا کرتے۔ 1 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبداﷲ بن عمروؓنے حضرت عبداﷲ بن یزید سے فرمایا: کیا میں تمھیں وہ کلمات نہ سکھا دوں جو حضورﷺ نے حضرت ابو بکرؓکو سوتے وقت پڑھنے کے لیے سکھائے تھے؟ پھر پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔2 حضرت عبداﷲ بن عمروؓفرماتے ہیں: نبی کریمﷺ جب سونے کے لیے لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے: بِاسْمِکَ رَبِّيْ فَاغْفِرْ لِيْ ذُنُوْبِيْ۔ اے میرے ربّ! میں تیرے نام کے ساتھ لیٹتا ہوں میرے تمام گناہوں کو معاف فرما۔1 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ کے پاس ایک رات گزاری۔ نماز سے فارغ ہو کر جب آپ بستر پر لیٹنے لگے تو میں نے آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ أَعُوْذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ، وَأَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ۔ اَللّٰھُمَّ لاَ أَسْتَطِیْعُ ثَنَائً عَلَیْکَ وَلَوْ حَرَصْتُ وَلٰـکِنْ أَنْتَ کَمَآ أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ اے اﷲ!میں تیری سزا سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے غصہ سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں،اور تجھ سے تیری ہی پناہ چاہتا ہوں، اور چاہے مجھے کتنا شوق ہو اور میں کتنا زور لگائوں تیری تعریف کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ تُوتو ویسا ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے۔2 حضرت براءؓفرماتے ہیں: جب حضورﷺ بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ إِلَیْکَ أَسْلَمْتُ نَفْسِيْ، وَوَجَّھْتُ وَجْھِيْ، وَإِلَیْکَ فَوَّضْتُ أَمْرِيْ، وَإِلَیْکَ أَلْجَأْتُ ظَھْرِيْ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ۔ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِيْ أَنْزَلْتَ، وَنَبِیِّکَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ۔ اے اﷲ! میں نے اپنی جان تیرے سپرد کردی اور اپنا چہرہ تیری طرف کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، اور میں نے تیری رحمت کے شوق میں اور تیرے عذاب کے ڈر سے تجھے اپنا پشت پناہ بنا لیا، اور تیری پکڑسے بچنے کا تیری رحمت کے سوا کوئی ٹھکانا نہیں، میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی اور تیرے اس نبی پر ایمان لایا جو تو نے بھیجا۔3 حضرت حذیفہؓفرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا پڑھتے: بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ أَحْیَا وَأَمُوْتُ۔ اے اﷲ! میں تیرے نام پر جیتا ہوں اور اسی پر مروں گا۔ اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ أَحْیَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَیْہِ النُّشُوْرُ۔ اس اﷲ کا بہت بہت شکر ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد پھر زندہ کیا اور اسی کے پاس مر کر جانا ہے۔1 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں: نبی کریمﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ أَسْتَغْفِرُکَ لِذَنْبِيْ وَأَسْأَلُکَ رَحْمَتَکَ۔ اَللّٰھُمَّ زِدْنِيْ عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِيْ بَعْدَ إِذْ ھَدَیْتَنِيْ، وَھَبْ لِيْ مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً إِنَّکَ أَنْتَ الْوَھَّابُ۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔اے اﷲ! میں تیری پاکی اور تیری تعریف بیان کرتا ہوں، اور تجھ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں، اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اﷲ! مجھے اور علم عطا فرما، اور ہدایت دینے کے بعد میرے دل کو (گمراہ کر کے) ٹیڑھا نہ کر، اور تو مجھے اپنی بارگاہ سے خاص رحمت عطا فرما، بے شک تو بہت بڑا عطا فرما نے والا ہے۔2