صحابہ کرام ؓ کا ذکر
نبی کریم ﷺکے صحابۂ کرام ؓ کی دعائیں
حضرت حسن کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابو بکرؓ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الَّذِيْ ھُوَ خَیْرٌ فِيْ عَاقِبَۃِ أَمْرِيْ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ مَا تُعْطِیْنِيْ مِنَ الْخَیْرِ رِضْوَانَکَ وَالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی فِيْ جَنَّاتِ النَّعِیْمِ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے اپنے ہر کام کے انجام میں خیر کا سوال کرتا ہوں۔ اے اﷲ! تو مجھے جس خیر کی توفیق عطا فر مائے اسے اپنی رضا کااور نعمتوں والی جنتوں میں اونچے درجات کے حاصل ہو نے کا ذریعہ بنا۔ 1
حضرت معاویہ بن قرہ کہتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنی دعامیں فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ خَیْرَ عُمْرِيْ اٰخِرَہٗ وَخَیْرَ عَمَلِيْ خَوَاتِیْمَہٗ وَخَیْرَ أَیَّامِيْ یَوْمَ أَلْقَاکَ۔
اے اﷲ!میری عمر کا سب سے بہترین حصہ وہ بنا جو اس کا آخر ہو اورمیرا سب سے بہترین عمل وہ بنا جو خاتمہ والا ہو اور میرا سب سے بہترین دن وہ بنا جو تیری ملاقات کا دن ہو۔ 2
حضرت عبدالعزیزبن سَلَمَہ ماجشون کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے صاحب نے بیان کیا جنھیں میں سچا سمجھتا ہوں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓاپنی دعا میں فر مایا کرتے تھے:
أَسْأَلُکَ تَمَامَ النِّعْمَۃِ فِي الْأَشْیَائِ کُلِّھَا، وَالشُّکْرَ لَکَ عَلَیْھَا حَتّٰی تَرْضٰی، وَبَعْدَ الرِّضَا وَالْخَیْرَۃِ فِيْ جَمِیْعِ مَا یَکُوْنُ فِیْہِ الْخَیْرَۃُ بِجَمِیْعِ مَیْسُوْرِ الْأُمُوْرِ کُلِّھَا لَا بِمَعْسُوْرِھَا یَا کَرِیْمُ!
میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تما م چیزوں میں تو نعمت پوری فرما دے، اور ان چیزوں پر اتنا شکر ادا کرنے کی تو فیق ما نگتا ہو ں کہ جس سے تو راضی ہو جا ئے،اور اس کے بعد یہ درخوا ست کرتا ہوں کہ جتنی چیزوں میں کسی ایک جانب کے اختیار کرنے کی صورت ہوتی ہے ان میں میں آسان صورت اختیار کروں اور مشکل اختیا رنہ کروں، اے کریم!2
حضرت ابو یزید مدائنی کہتے ہیں: حضرت ابو بکرؓ کی ایک دعا یہ بھی تھی:
اَللّٰھُمَّ ھَبْ لِيْ إِیْمَانًا وَّیَقِیْنًا وَّمُعَافَاۃً وَّنِیَّۃً۔
اے اﷲ! مجھے ایما ن ویقین، عا فیت اور سچی نیت نصیب فرما۔ 1
حضرت عمر ؓ فرماتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ تَأْخُذَنِيْ عَلٰی عِزَّۃٍ، أَوْ تَذَرَنِيْ فِيْ غَفْلَۃٍ، أَوْ تَجْعَلَنِيْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ۔
اے اﷲ! میں اس بات سے تیر ی پنا ہ ما نگتا ہوں کہ تو اچانک بے خبری میں میری پکڑ کرے، یا مجھے غفلت میں پڑا رہنے دے، یا غافل لو گو ں میں سے بنا دے۔2
حضرت حسن کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ فرمایاکرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ عَمَلِيْ صَالِحًا، وَاجْعَلْہٗ لَکَ خَالِصًا، وَلَا تَجْعَلْ لأَحَدٍ فِیْہِ شَیْئًا۔
اے اﷲ! میرے عمل نیک بنا دے، اور میرے عمل کو خا لص اپنے لیے بنادے،اور میرے عمل میں اور کسی کا ذرّہ بھر بھی حصہ نہ ہو نے دے۔ 2
حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ اپنی دعا میں یہ بھی کہا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ تَوَفَّنِيْ مَعَ الْأَبْرَارِ، وَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي الْأَشْرَارِ، وَقِنِيْ عَذَابَ النَّارِ، وَأَلْحِقْنِيْ بِالْأَخْیَارِ۔
اے اﷲ! تو مجھے نیک لوگوں کے ساتھ موت دے، اور مجھے برے لوگوں میں سے نہ بنا،اور مجھے جہنم کے عذاب سے بچا، اور مجھے نیک اور بھلے لو گوں کے ساتھ شامل فر ما۔4
حضرت ابو العالیہ کہتے ہیں: میں اکثرحضرت عمر بن خطاب ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنتا:
اَللّٰھُمَّ عَافِنَا وَاعْفُ عَنَّا۔
اے اﷲ! ہمیں عا فیت نصیب فر ما اور ہمیں معا ف فرما۔ 5
حضرت حفصہؓ فرماتی ہیں: میں نے اپنے والد (حضرت عمر ؓ) کو یہ کہتے سنا:
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِيْ قَتْلاً فِيْ سَبِیْلِکَ، وَوَفَاۃً فِيْ بَلَدِ نَبِیِّکَ۔
اے اﷲ!مجھے اپنے راستہ کی شہادت اور اپنے نبی ﷺ کے شہر کی موت نصیب فرما۔
میں نے کہا: آپ کو یہ دونو ںباتیں کیسے حاصل ہو سکتی ہیں؟ حضرت عمر ؓنے فرمایا:اﷲ جہاںچاہے اپنے فیصلہ کو وجوددے سکتا ہے۔1
حضرت عمر ؓنے یوں دعا کی:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِيْ ظُلْمِيْ وَکُفْرِيْ۔
اے اﷲ! میرے ظلم اور میرے کفر کو معاف فرما۔
ایک آدمی نے کہا:یہ ظلم کا لفظ تو ٹھیک ہے، لیکن کفر کا کیا مطلب؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: (قرآن میں ہے:)
{إِنَّ الْاِنْسَانِ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ آیت کا نشان}2
سچ یہ ہے کہ آدمی بہت ہی بے انصاف اور بڑا ہی ناشکرا ہے۔
(یعنی کفر سے ناشکری مراد ہے)۔3
حضرت ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ بیت اﷲ کا طواف کررہے تھے میں نے یہ کہتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ إِنْ کَتَبْتَنِيْ فِي السَّعَادَۃِ فَأَثْبِتْنِيْ فِیْھَا، وَإِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِيْ فِي الشَّقَاوَۃِ فَامْحُنِيْ مِنْھَا، وَأَثْبِتْنِيْ فِي السَّعَادَۃِ؛ فَإِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَائُ وَتُثْبِتُ، وَعِنْدَکَ أُمُّ الْکِتَابِ۔
اے اﷲ! اگر تو نے میرا نام خوش قسمت انسانوں میں لکھا ہے تو میرا نام ان میں لکھا رہنے دے اور اگر میرا نام بد قسمت لوگوں میں لکھا ہوا ہے تو اس میں سے مٹاکر خوش قسمت لو گوں میں لکھ دے، کیوںکہ تو جو چاہے مٹا سکتا ہے اور جو چا ہے با قی رکھ سکتاہے اور تیرے پاس لوحِ محفوظ ہے۔ 4
حضرت یز ید کہتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطّاب ؓ کو آدھی رات کے وقت رَما دَہ قحط کے زمانہ میں حضورﷺکی مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ وہ یہ دعا کررہے تھے:
اَللّٰھُمَّ لاَ تُھْلِکْنَا بِالسِّنِیْنَ وَارْفَعْ عَنَّا ھٰذَا الْبَلاَئَ۔
اے اﷲ! ہمیں قحط سے ہلا ک نہ فر ما اور ہم سے یہ مصیبت دور فرما۔
اور وہ یہ دعا باربار کرتے رہے۔1
حضرت یزید کہتے ہیں: میں نے رَمادَہ قحط کے زمانہ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ پر چادر دیکھی جس پر سولہ پیوند لگے ہوئے تھے، اور آپ کی چادر پانچ ہاتھ اور ایک بالشت لمبی تھی، اور یہ دعا کررہے تھے:
اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلْ ہَلَکَۃَ أُمَّۃِ مُحَمَّدٍ عَلٰی رِجْلَيَّ۔
اے اﷲ! حضرت محمد ﷺ کی اُمّت کی ہلاکت میرے زمانہ میں نہ کر۔ 2
حضرت اَسلم کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا:
اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَتْلِيْ بِیَدِ رَجُلٍ صَلَّی رَکْعَۃً أَوْ سَجْدَۃً وَاحِدَۃً یُحَاجُّنِيْ بِھَا عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
اے اﷲ! میرا قتل ایسے شخص کے ہاتھوں نہ کر جس نے ایک رکعت ہی پڑھی ہو یا ایک سجدہ ہی کیا ہو اور وہ اس کی وجہ سے قیامت کے دن مجھ سے جھگڑا کرے۔
(یعنی میری شہا دت مسلما ن کے ہاتھوں نہ ہو)۔3
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں: ایک مر تبہ حضرت عمر بن خطّاب ؓ نے کنکریوں کی ایک ڈھیری بنائی، پھر اس پر اپنے کپڑے کا کنارہ ڈال کر اس پر سر رکھ کرلیٹ گئے، پھر آسمان کی طرف اپنے ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی:
اَللّٰھُمَّ کَبِرَتْ سِنِّيْ، وَضَعُفَتْ قُوَّتِيْ، وَانْتَشَرَتْ رَعِیَّتِيْ، فَاقْبِضْنِيْ إِلَیْکَ غَیْرَ مُضِیِّعٍ وَلَا مُفَرِّطٍ۔
اے اﷲ! میری عمر زیا دہ ہوگئی اور میرے قُویٰ کمزور ہو گئے اور میری رعایا پھیل گئی، لہٰذا اب تو مجھے اپنی طرف اس طرح اٹھا لے کہ نہ تو میں کسی کا حق ضائع کرنے والا ہوں اور نہ کسی کے حق میں کمی کرنے والا ہوں۔ 1
حضرت اَسود بن ہِلال محارِبی کہتے ہیں: جب حضرت عمر بن خطّاب ؓ خلیفہ بنے تو انھوں نے منبر پر کھڑے ہوکر اﷲ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا:اے لو گو! غور سے سنو! میں دعا کروں گا تم سب اس پر آ مین کہنا۔
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ غَلِیْظٌ فَلَیِّنِيْْ، وَشَحِیْحٌ فَسَخِّنِيْ، وَضَعِیْفٌ فَقَوِّنِيْ۔
اے اﷲ! میں سخت ہوں مجھے نرم کردے، کنجوس ہوں مجھے سخی بنادے، کمزور ہوں مجھے قوی کردے۔2
حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں: حضرت عمر ؓ کسی کی نمازِ جنازہ پڑھاتے تو فرماتے: تیرا یہ بندہ دنیا سے رہائی پاگیا اور دنیا دنیاوالوں کے لیے چھوڑ کر چلا گیا، اور اب وہ تیرا محتاج ہے تجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ اس بات کی گواہی دیاکرتا تھاکہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور حضرت محمد ﷺ تیرے بندے اور رسول ہیں۔ اے اﷲ! اس کی مغفرت فرما،اس سے در گذر فرما اور اسے اس کے نبی کے پاس پہنچادے۔3
حضرت کثیر بن مُدرک کہتے ہیں: جب قبر پر مٹی ڈال دی جا تی تو حضرت عمر ؓ فرماتے:
اَللّٰھُمَّ أَسْلَمَہٗ إِلَیْکَ الْأَھْلُ وَالْمَالُ وَالْعَشِیْرَۃُ، وَذَنْبُہٗ عَظِیْمٌ فَاغْفِرْ لَہٗ۔
اے اﷲ! اہل وعیال، مال اور خاندان والوں نے اسے تیرے سپرد کردیا ہے، اور اس کے گناہ بھی بڑے بڑے ہیں اس کی مغفرت فرما۔4
حضرت علی ؓ فرمایا کرتے تھے:
أَعُوْذُ بِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَائِ وَدَرْکِ الشَّقَائِ وَشَمَاتَۃِ الْأَعْدَائِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ السِّجْنِ وَالْقَیْدِ وَالسَّوْطِ۔
(اے اﷲ!) بلا و مصیبت کی سختی سے اور بد قسمتی کے پکڑ لینے سے اور دشمنوں کے خوش ہو نے سے تیری پنا ہ چا ہتا ہوں،اور جیل، بیڑی اور کوڑے سے تیری پناہ چا ہتا ہوں۔1
حضرت ثوری کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ یہ دعا کیا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنَّ ذُنُوْبِيْ لَا تَضُرُّکَ، وَإِنَّ رَحْمَتَکَ إِیَّايَ لاَ تَنْقُصُکَ۔
اے اﷲ! میر ے گناہ تیرا کوئی نقصا ن نہیں کرسکتے اور تو مجھ پر رحم فرما ئے تو اس سے تیرے خزانو ں میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔2
حضرت علی ؓ جب نیا چا ند دیکھا کرتے تو فرمایا کرتے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ خَیْرَ ھٰذَا الشَّھْرِ وَفَتْحَہٗ وَنَصْرَہٗ وَبَرَکَتَہٗ وَرِزْقَہٗ وَنُوْرَہٗ وَطُھُوْرَہٗ وَھُدَاہٗ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا فِیْہِ وَشَرِّ مَا بَعْدَہٗ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے اس مہینے کی خیر اور اس کی فتح، نصرت، برکت،رزق، نور،طہارت اور ہدایت مانگتا ہوں۔ اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے اور جو کچھ اس کے بعد ہے اس کے شر سے تیری پناہ چا ہتا ہوں۔3
حضرت عمر بن سعیدنخعیکہتے ہیں: میں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کے پیچھے ابنِ مُکنِف کی نمازِ جنازہ پڑھی۔حضرت علی نے چار تکبیریں کہیںاور ایک طرف سلام پھیرا پھر انھوں نے ابنِ مُکنِف کو قبر میں اتارا اور پھر فرمایا: اے اﷲ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیرے بندے کا بیٹا ہے، تیرا مہمان بنا ہے اور تو بہترین میزبان ہے۔ اے اﷲ! جس قبر میں یہ داخل ہوا ہے اسے وسیع فر ما دے اوراس کے گناہ معاف فرما دے۔ ہم تو اس کے بارے میں خیر ہی جانتے ہیں، لیکن تو ہم سے زیادہ جانتا ہے اور یہ کلمہ شہادت: أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھاکرتا تھا۔1
حضرت ابو ہیّاج اَسدی کہتے ہیں: میں بیتُ اﷲ کا طواف کررہا تھاکہ اتنے میں میں نے ایک آدمی دیکھا جو صرف یہ دعا مانگ رہاتھا: اَللّٰھُمَّ قِنِيْ شُحَّ نَفْسِيْ۔
اے اﷲ! مجھے میرے نفس کے بخل سے بچادے۔
اور کچھ نہیں مانگ رہا تھا۔میں نے اس سے صرف یہی دعا کرنے کی وجہ پوچھی۔ اس نے کہا: جب مجھے میرے نفس کے شر سے بچا دیا جائے گا تو میں نہ چوری کروں گا، نہ زنا کروں گا اور نہ کوئی اور برا کا م کروں گا۔میں نے ان کے بارے میں لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟تو لو گوں نے بتایا: یہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ہیں۔2
حضرت ابو عبیدہ کہتے ہیں: (میرے والد)حضرت عبداﷲ (بن مسعودؓ) سے پوچھا گیا کہ جس رات حضورﷺ نے آپ سے فر مایا تھا کہ مانگو، جو مانگو گے تمھیں دیا جائے گا۔ اس رات آپ نے کیا دعا ما نگی تھی؟حضرت عبداﷲؓ نے فرمایا: میں نے یہ دعا مانگی تھی:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ إِیْمَانًا لَّا یَرْتَدُّ، وَنَعِیْمًا لَّا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ أَعْلٰی دَرَجَۃِ الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے ایسا ایمان مانگتا ہوں جو باقی رہے اور زائل نہ ہو، اور ایسی نعمت مانگتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہو،اور ہمیشہ رہنے کی جنت کے اَعلی درجے میں تیرے نبی کریمﷺ کی رفاقت مانگتا ہوں۔3
حضرت ابو عبیدہ کہتے ہیں: میر ے والد صاحب نے فرمایا:ایک رات میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اتنے میں نبی کریمﷺ، حضرت ابو بکر اورحضرت عمرؓ میرے پاس سے گزرے۔ حضور ﷺ نے فر مایا: مانگو،جو مانگو گے وہ تمھیں دیا جائے گا۔حضرت عمر کہتے ہیں: میں نے بعد میں جا کر حضرت عبداﷲ سے پو چھا کہ کیا دعا مانگی تھی؟ انھوں نے کہا: میری ایک دعا ہے جو میں کبھی نہیں چھوڑ تا اور وہ یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ إِیْمَانًا لَّا یَبِیْدُ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے ہلاک نہ ہو نے والا ایمان مانگتا ہوں۔
پھر آگے پیچھے جیسی دعا ذکر کی ہے اور یہ الفاظ بھی ذکر کیے ہیں:
وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لاَّ تَنْقَطِعُ۔
اور ختم نہ ہو نے والی آ نکھوں کی ٹھنڈ ک مانگتا ہوں۔1
ابو نُعیم کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے واپس آ کر حضرت عبد اﷲ ؓ سے کہا: جو دعا تم مانگ رہے تھے وہ ذرا مجھے بھی سنائو۔حضرت عبد اﷲ نے کہاـ: پہلے میں نے اﷲکی حمد و ثنا اور عظمت بیان کی پھر میں نے یہ کہا:
لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَعْدُکَ حَقٌّ وَّلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَّالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَّالنَّارُ حَقٌّ وَّرُسُلُکَ حَقٌّ وَّکِتَابُکَ حَقٌّ وَّالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ وَّمُحَمَّدٌ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقٌّ۔
تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، دوزخ حق ہے، تیرے رسول بر حق ہیں، تیری کتا ب بر حق ہے، سارے نبی بر حق ہیں، محمدﷺ بر حق ہیں۔2
حضرت شقیق کہتے ہیں: حضرت عبداﷲ ؓ یہ دعا ئیں کثرت سے کیا کرتے تھے:
رَبَّنَا أَصْلِحْ بَیْنَنَا، وَاھْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ، وَاصْرِفْ عَنَّا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ، وَبَارِکْ لَنَا فِيْ أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوْبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّیَّاتِنَا، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَابُ الرَّحِیْمُ، وَاجْعَلْنَا شَاکِرِیْنَ لِنِعْمَتِکَ مُثْنِیْنَ بِھَا قَائِلِیْنَ بِھَا، وَأَتْمِمْھَا عَلَیْنَا۔
اے ہما رے ربّ! ہمارے آپس کے تعلقات خوشگوار بنا دے،اور ہمیں اسلام کے راستے دکھا، اور ہمیں تا ریکیوں سے نجات دے کر روشنی میں لا، اور ہم کوظاہر ی وباطنی بدکاریوں سے دور رکھ، اور ہمارے کا نو ں کو، ہمار ی آنکھوں کو، ہمارے دلوں کو اور ہمارے بیوی بچوں کو ہمارے حق میں باعثِ برکت بنا دے، اور ہماری توبہ قبول فرما، بے شک تو ہی بڑا تو بہ قبو ل کرنے والامہربان ہے۔ اور ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر گذار، ان کا ثنا خواں اور لوگوں کے سا منے انھیں بیا ن کرنے والابنا دے، اور ان (نعمتوں)کو ہم پر پورا فرما دے۔1
حضرت ابو الاحوص کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداﷲ بن مسعود ؓ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ بِنِعْمَتِکَ السَّابِغَۃِ الَّتِيْ أَنْعَمْتَ بِھَا، وَبَلاَئِکَ الَّذِي ابْتَلَیْتَنِيْ، وَبِفَضْلِکَ الَّذِيْ أَفْضَلْتَ عَلَيَّ أَنْ تُدْخِلَنِيَ الْجَنَّۃَ۔ اَللّٰھُمَّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّۃَ بِفَضْلِکَ وَمِنْکَ وَرَحْمَتِکَ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے تیری اس نعمتِ کاملہ کے واسطہ سے جو تو نے مجھ پر کیں اور اس آزمایش کے واسطہ سے جس میں تُو نے مجھے مبتلا کیا اور تیرے اس فضل کے واسطہ سے جو تو نے مجھ پر کیا، یہ سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جنت میں د اخل کردے۔اے اﷲ! تو اپنے فضل واحسا ن اور رحمت سے مجھے جنت میںداخل کردے۔2
حضرت ابو قِلابہ کہتے ہیں: حضر ت ابنِ مسعودؓفرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنْ کُنْتَ کَتَبْتَنِيْ فِيْ أَھْلِ الشَّقَائِ فَامْحُنِيْ، وَأَثْبِتْنِيْ فِيْ أَھْلِ السَّعَادَۃِ۔
اے اﷲ! اگر تو نے میرا نام بدبختی والوں میں لکھاہوا ہے تو وہاں سے میرا نام مٹا کر خوش قسمت لوگوں میں لکھ دے۔ 3
حضرت عبد اﷲ بن عُکَیْم کہتے ہیں: حضرت ابنِ مسعود ؓ یہ دعا مانگاکرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ زِدْنِيْ إِیْمَانًا وَّیَقِیْنًا وَّفَھْمًا أَوْ عِلْمًا۔
اے اﷲ! میر ے ایما ن و یقین، سمجھ اور علم کو بڑھادے۔4
حضرت ابو وائل کہتے ہیں: میں ایک دن نمازِ فجر سے فارغ ہو کر حضرت ابنِ مسعود ؓ کی خدمت میں گیا۔ہم نے ان سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ انھوں نے فرمایا: اندر آجائو۔ہم نے اپنے دل میں کہا: ہم کچھ دیر انتظار کرلیتے ہیں شا ید گھر والوں میں سے کسی کو ان سے کوئی کام ہو (تو وہ اپناکام پور اکرلیں)۔ اتنے میں حضرت ابنِ مسعود تسبیح پڑھتے ہوئے ہمارے پاس آئے اورفرمایا: شا ید تم لو گوں نے یہ گمان کیا ہو گا کہ عبداﷲکے (یعنی میرے) گھر والے اس وقت غفلت میں ہوںگے۔ پھر فر مایا: اے باندی! دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ پھر جب اس کو تیسری مر تبہ کہا: دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے؟تو اس نے کہا: جی ہاں۔ اس پر انھوں نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ وَھَبَنَا ھٰذَا الْیَوْمَ وَأَقَالَنَا فِیْہٖ عَثَرَاتِنَا۔
تمام تعریفیںاس اﷲکے لیے ہیں جس نے ہمیں یہ دن عطا فرمایا اور اس نے اس دن میں ہماری تمام لغزشیںمعاف فرمادیں (تبھی تو ہمیں لغزشوں کے باوجودزندہ رکھاہوا ہے)۔
أَحْسِبُہٗ قَالَ: وَلَمْ یُعَذِّبْنَا بِالنَّارِ۔
راوی کہتے ہیں:میرا خیال یہ ہے کہ انھوں نے یہ بھی فرمایاتھا کہ اس نے ہمیں (لغزشوںکی وجہ سے) آگ سے عذاب نہیں دیا۔1
حضرت سُلَیم بن حنظلہکہتے ہیں: حضرت عبداﷲبن مسعود ؓ بازار کے دروازے کے پاس آئے اور یہ دعا پڑھی:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِھَا وَخَیْرِ أَھْلِھَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ أَھْلِھَا۔
اے اﷲ! میں تجھ سے اس بازار کی خیر اور بازار والوں کی خیر مانگتا ہوں، اور اس بازار کے شر اوربازاروالوں کے شر سے تیری پناہ چا ہتا ہوں۔2
حضرت قتادہ کہتے ہیں: حضرت ابنِ مسعود ؓ جب کسی بستی میں داخل ہو نے کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَمَا أَظَلَّتْ! وَرَبَّ الشَّیَاطِیْنِ وَمَا أَضَلَّتْ! وَرَبَّ الرِّیَاحِ وَمَا أَذْرَتْ! أَسْأَلُکَ خَیْرَھَا وَخَیْرَ مَا فِیْھَا، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا۔
اے اﷲ! جو کہ تمام آسمانوں کا اور جن پر آسمانوں نے سایہ ڈالا ہے ان تمام چیزوں کا ربّ ہے! جو کہ شیطانوں کا اور جن کو شیطانوں نے گمراہ کیا ہے ان سب کا ربّ ہے! اور جو کہ ہوائو ں کا اوران تمام چیزوں کا ربّ ہے جنھیں ہوائوں نے اڑایا ہے! میں تجھ سے اس بستی کی خیر اور جو کچھ اس بستی میں ہے اس سب کی خیر مانگتا ہوں، اوراس کے شر سے اور جو کچھ اس بستی میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔1
حضرت ثور بن یزید کہتے ہیں: حضرت مُعاذ بن جبل ؓ جب رات کو تہجد کے لیے اٹھتے تو یہ دعا کرتے:
اَللّٰھُمَّ قَدْ نَامَتِ الْعُیُوْنُ وَغَارَتِ النُّجُوْمُ وَأَنْتَ حَيٌّ قَیُّوْمٌ۔ اَللّٰھُمَّ طَلَبِيْ لِلْجَنَّۃِ بَطِيْئٌ، وَھَرَبِيْ مِنَ النَّارِ ضَعِیْفٌ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لِيْ عِنْدَکَ ھُدًی تَرُدُّہٗ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔
اے اﷲ! آنکھیںسوچکی ہیں اور ستارے غروب ہو گئے ہیں اور تو ہمیشہ زندہ رہنے والا اور ساری کائنات کو قائم رکھنے والا ہے۔اے اﷲ! میرے اندر جنت کی طلب بہت سست ہے اور مجھ میں دوزخ کی آگ سے بھا گنے کا جذبہ بالکل کمزورہے۔اے اﷲ! مجھے اپنے پاس سے ایسی ہدایت عطا فرماجو قیا مت تک چلتی رہے بے شک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ 2
بنو نجار کی ایک عورت کہتی ہیں: مسجد کے اِردگرد کے گھروں میں میر ا گھر سب سے اونچا تھا۔ حضرت بلال ؓ روزانہ صبح کو فجر کی اذان میرے گھر کی چھت پر دیا کر تے تھے۔ سحری کے وقت آکر چھت پر بیٹھ کر صبحِ صادق کا انتظار کرتے۔ جب صبحِ صادق نظر آتی تو انگڑائی لیتے پھر یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ أَحْمَدُکَ وَأَسْتَعِیْنُکَ عَلٰی قُرَیْشٍ أَنْ یُقِیْمُوْا دِیْنَکَ۔
اے اﷲ! میں تیری تعریف کرتا ہوں اور قریش کے لیے تجھ سے مدد مانگتاہوں تا کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں۔
پھر وہ اذان دیتے۔ مجھے با لکل یاد نہیں کہ کسی رات حضرت بلال ؓ نے یہ دعا ئیہ کلمات (اذان سے پہلے)چھوڑ ے ہوں۔1
حضرت بلال ؓ کی بیوی حضرت ہند کہتی ہیں: حضرت بلالؓ جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا کر تے:
اَللّٰھُمَّ تَجَاوَزْ عَنْ سَیِّاٰتِيْ وَأَعْذِرْنِيْ بِعِلاَّتِيْ۔
اے اﷲ! میری برائیوں سے درگذر فرما اور میری بیماریوں کی وجہ سے مجھے معذور قرار دے۔2
حضرت زید بن ثابت ؓ جب بستر پر لیٹتے تو یہ دعا کرتے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ غِنَی الْأَھْلِ وَالْمَوْلٰی، وَأَعُوْذُ بِکَ أَنْ تَدْعُوَ عَلَيَّ رَحِمٌ قَطَعْتُھَا۔
اے اﷲ! میں تجھ سے اہل وعیال کے اور تمام متعلقین کے غنا کو ما نگتا ہوں، اور میں اس بات سے تیری پناہ چا ہتا ہوں کہ میں رشتہ توڑوں اور وہ رشتہ میرے لیے بددعا کرے۔3
حضرت عروہ کہتے ہیں: حضرت سعدبن عبادہ ؓ یہ دعا کیا کرتے:
اَللّٰھُمَّ ھَبْ لِيْ حَمْدًا، وَھَبْ لِيْ مَجْدًا، لَا مَجْدَ إِلَّا بِفِعَالٍ، وَلَا فِعَالَ إِلَّا بِمَالٍ۔ اَللّٰھُمَّ لَا یُصْلِحُنِي الْقَلِیْلُ وَلَا أَصْلُحُ عَلَیْہِ۔
اے اﷲ! مجھے تعریف عطا فر ما اور مجھے بزرگی عطا فر ما اور بزرگی کسی بڑے کا م کے ذریعہ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور کوئی بڑا کا م مال کے ذریعہ سے ہی ہوا کرتا ہے۔اے اﷲ! تھوڑا مال میرے حالات درست نہیں کرسکتا اور نہ ہی تھوڑے مال سے میں درست رہ سکتا ہوں (لہٰذاتو اپنی شان کے مطابق اپنے خزانوں میں سے عطا فرما)۔1
حضرت بلال بن سعد کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداءؓفرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ تَفْرِقَۃِ الْقَلْبِ۔
اے اﷲ! میںدل کے بکھرجانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔
کسی نے پوچھا:دل کے بکھر جانے سے کیامراد ہے؟ فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ اﷲکی طرف سے میرے لیے ہر وادی میں کچھ مال رکھ دیا جائے (اور مجھے ہر وادی میں جا کر اپنے مقدر کا مال جمع کرنا پڑے)۔2
حضرت اسماعیل بن عبید اﷲ کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداء ؓ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ تَوَفِّنِيْ مَعَ الْأَبْرَارِ، وَلاَ تُبْقِنِيْ مَعَ الْأَشْرَارِ۔
اے اﷲ!مجھے نیک لو گوں کے سا تھ موت دے اور مجھے بُر ے لو گوں کے سا تھ باقی نہ رکھ۔
حضرت لقمان بن عامر کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداء ؓ فر ما یا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ لَا تَبْتَلِنِيْ بِعَمَلِ سُوْئٍ فَأُدْعٰی بِہٖ رَجُلٌ سُوْئٌ۔
اے اﷲ! مجھے کسی بُرے عمل میں مبتلا نہ فرما، ورنہ مجھے برا آدمی کہہ کر پکاراجائے گا۔3
حضرت حسان بن عطیہ کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداء ؓ فرمایا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ تَلْعَنَنِيْ قُلُوْبُ الْعُلَمَائِ۔
اے اﷲ! میں اس بات سے تیری پناہ چا ہتا ہوں کہ عُلما کے دل مجھ پر لعنت کریں۔
کسی نے پو چھا:ان کے دل آپ کو کیسے لعنت کریں گے؟ فرمایا: ان کے دل مجھے نا پسند کرنے لگیں ۔4
حضرت عبداﷲبن یزید بن ربیعہ دمشقیکہتے ہیں: حضرت ابو الدرداءؓ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں شروع رات میں مسجد گیا۔ وہا ں میرا گزر ایک آدمی پر ہوا جو سجدے میں یہ کہہ رہا تھا:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ خَائِفٌ مُّسْتَجِیْرٌ فَأَجِرْنِيْ مِنْ عَذَابِکَ، وَسَائِلٌ فَقِیْرٌ فَارْزُقْنِيْ مِنْ فَضْلِکَ، لَا مُذْنِبٌ فَأَعْتَذِرُ، وَلَا ذُوْ قُوَّۃٍ فَأَنْتَصِرُ، وَلٰـکِنْ مُّذْنِبٌ مُّسْتَغْفِرٌ۔
اے اﷲ! میں ڈرنے والا اور پناہ مانگنے والا ہوں لہٰذا مجھے اپنے عذاب سے پناہ دے، اور مانگنے والا فقیر ہوں لہٰذا اپنے فضل سے روزی عطا فرما، اور جو گناہ مجھ سے ہوئے ہیں ان کے بارے میں میرے پاس کو ئی عذرنہیں ہے جسے میں تیرے سامنے پیش کر سکوں، اور نہ میں ایسا طاقت ور ہوں کہ تجھ سے خود کو بچا سکوں، بلکہ میں تو سراپا گناہ گار ہوں اور تجھ سے مغفرت کا طلب گار ہوں۔
راوی کہتے ہیں: حضرت ابو الدرداء کو یہ دعائیہ کلمات بہت پسند آئے اور وہ اپنے ساتھیو ں کو یہ کلمات سکھا نے لگے۔1
حضرت تَمامہ بن حَزن کہتے ہیں: میں نے ایک بڑے میاں کو بلندآوازسے یہ کہتے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ لَا یَخْلِطُہٗ شَيْئٌ۔
اے اﷲ! میں اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے ساتھ کچھ بھی خیر ملاہوانہ ہو، یعنی خالص شر ہو۔
میں نے پوچھا ـ:یہ بڑے میاں کون ہیں؟ لو گوں نے بتا یا : یہ حضرت ابو الدرداءؓ ہیں۔2
حضرت ابو الدرداء ؓ فرماتے تھے:اے اﷲ! میں اس بات سے تیری پناہ چاہتاہوں کہ تو میرے بھائی عبداﷲبن رواحہ کے سامنے میرا ایسا کوئی عمل پیش کرے جس سے وہ شرمندہ ہوں (حضرت ابنِ رواحہ ان کے جاہلیت میں بھائی تھے اور ان کی دعوت پر مسلمان ہوئے تھے)۔ 3
حضرت نافع کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمر ؓصفا پر یہ دعا کیا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اَعْصِمْنِيْ بِدِیْنِکَ وَطَوَاعِیَتِکَ وَطَوَاعِیَۃِ رَسُوْلِکَ۔ اَللّٰھُمَّ جَنِّبْنِيْ حُدُوْدَکَ۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِيْ مِمَّنْ یُحِبُّکَ، وَیُحِبُّ مَلاَئِکَتِکَ، وَیُحِبُّ رُسُلَکَ، وَیُحِبُّ عِبَادَکَ الصَّالِحِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ حَبِّبْنِيْ إِلَیْکَ وَإِلٰی مَلاَئِکَتِکَ وَإِلٰی رُسُلِکَ وَإِلٰی عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ یَسِرِّنِيْ لِلْیُسْرٰی، وَجَنِّبْنِي الْعُسْرٰی، وَاغْفِرْ لِيْ فِي الْاٰخِرَۃِ وَالْأُوْلٰی، وَاجْعَلْنِيْ مِنْ أَئِمَّۃِ الْمُتَّقِیْنَ۔ اَللّٰھُمَّ إِنَّکَ قُلْتَ: {اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ} وَإِنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔ اَللّٰھُمَّ إِذْ ھَدَیْتَنِيْ لِلإِْسْلاَمِ فَلَا تَنْزِعْنِيْ مِنْہُ وَلَا تَنْزِعْہُ مِنِّيْ حَتَّی تَقْبِضَنِيْ وَأَنَا عَلَیْہِ۔
اے اﷲ! اپنے دین کے ذریعہ سے، اور اپنی اور اپنے رسول کی اِطاعت کے ذریعہ سے میری حفاظت فرما۔اے اﷲ! مجھے اپنے حرام کردہ کا موں سے بچا۔ اے اﷲ! مجھ کو ان لو گوں میں سے بنا دے جو تجھ سے،تیرے فرشتوں سے،تیرے رسولوں سے اور تیرے نیک بندوںسے محبت کرتے ہیں۔ اے اﷲ! مجھے اپنا اور اپنے فر شتوںکا،اپنے رسولوں کا اور اپنے نیک بندوں کا محبوب بنادے۔ اے اﷲ! مجھے نیکی کی تو فیق عطا فرما اور برائی سے محفوظ فرما اور دنیا و آخرت میں میری مغفرت فرما اور مجھے متقیوں کا امام بنا۔ اے اﷲ! تو نے(قرآن میں) فرمایا ہے: مجھے پکارو میں تمہاری درخواست قبول کروں گا اورتو وعدے کے خلاف نہیںکرتا۔ اے اﷲ! جب تو نے مجھے اسلام کی ہدایت دے دی ہے تو مجھے اسلام سے نہ نکال اور نہ اسے مجھ سے چھین، بلکہ جب تو میری روح قبض کر ے تو میں اسلام پر ہوں۔
حضرت ابنِ عمرؓ صفامروہ پر اور عرفات و مُزْدَلِفہ میں اور مِنٰی کے دوجمروں کے درمیان اور طواف میں اپنی لمبی دعا کے ساتھ یہ دعا بھی مانگتے تھے۔1
حضرت عبداﷲ بن سبرہ کہتے ہیں: حضرت ابنِ عمرؓ صبح کے وقت یہ دعا پڑھتے:
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِيْ مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِکَ عِنْدَکَ نَصِیْبًا فِيْ کُلِّ خَیْرٍ تَقْسِمُہُ الْغَدَاۃَ، وَنُوْرًا تَھْدِيْ بِہٖ، وَرَحْمَۃً تَنْشُرُھَا، وَرِزْقًا تَبْسُطُہٗ، وَضُرًّا تَکْشِفُہٗ، وَبَلَائً تَرْفَعُہٗ، وَفِتْنَۃً تَصْرِفُھَا۔
اے اﷲ! مجھے اپنے ان بندوں میں سے بنا کہ آج صبح تو جتنی خیریں تقسیم کرے گاان کا ان خیروں میںتیرے نزدیک سب سے زیادہ حصہ ہو، اور جس نور سے توہدایت دیتا ہے اور جس رحمت کو تو پھیلا تا ہے اور جس رزق کو تو وسعت دیتا ہے اور جس تکلیف کو تو دور کرتا ہے اور جس آزمایش کو تو ہٹاتا ہے اور جس فتنے کو تو پھیر دیتا ہے سب چیزیں انھیں سب سے زیادہ حا صل ہو ں۔2
حضرت سعید بن جُبیر کہتے ہیں: حضرت ابنِ عباس ؓفرمایا کر تے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ بِنُوْرِ وَجْھِکَ الَّذِيْ أَشْرَقَتْ لَہُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أَنْ تَجْعَلَنِيْ فِيْ حِرْزِکَ وَحِفْظِکَ وَجِوَارِکَ وَتَحْتَ کَنَفِکَ۔
اے اﷲ! میں تیری ذات کے اس نو ر کے واسطہ سے جس کی وجہ سے سارے آسمان اور زمین روشن ہوگئے تجھ سے اس بات کا سوال کرتاہوں کہ تو مجھے اپنے حفظ وامان، میں اپنی پناہ میں، اپنے سایہ کے نیچے لے لے۔1
حضرت سعید کہتے ہیں: حضرت ابنِ عباس ؓ فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ قَنِّعْنِيْ وَبَارِکْ لِيْ فِیْہِ وَاخْلُفْ عَلٰی کُلِّ غَائِبَۃٍ بِخَیْرٍ۔
اے اﷲ! تو نے مجھے جو کچھ دیا ہے اس پر مجھے قناعت نصیب فرمااور اس میں برکت نصیب فرما اور میری جتنی چیزیں اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں بلکہ غائب ہیں ان سب چیزوں میں توخیر کے ساتھ میرا خلیفہ بن جا انھیں اچھی طرح سنبھال لے ۔2
حضرت طا ؤس کہتے ہیں: میں نے حضرت ابنِ عباس ؓکو یہ فرما تے ہوئے سنا:
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ شَفَاعَۃَ مُحَمَّدٍ الْکُبْرٰی، وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ الْعُلْیَا، وَأَعْطِہٖ سُؤْلَہٗ فِي الْاٰخِرَۃِ وَالْأَوْلٰی، کَمَا اٰتَیْتَ إِبْرَاھِیْمَ وَمُوْسٰی عَلَیْھِمَا السَّلَامُ۔
اے اﷲ! محمد (ﷺ ) کی شفاعتِ کبریٰ قبول فرما،اور ان کے بلنددرجے کو اور اُونچا فرما،اور انھوں نے آپ سے جو کچھ مانگا ہے وہ سب کچھ انھیں دنیا اور آخرت میں عطا فرماجیسے تو نے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمایا۔3
حضرت اُمِ الدرداءؓ فرماتی ہیں: حضرت فضالہ بن عُبیدؓ یہ دعا کیا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ الرِّضَا بِالْقَضَائِ وَالْقَدْرِ، وَبَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَلَذَّۃَ النَّظْرِ إِلٰی وَجْھِکَ، وَالشَّوْقَ إِلٰی لِقَائِکَ فِيْ غَیْرِ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ، وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ۔
اے اﷲ! میں تجھ سے اس بات کا سوال کرتا ہوں کہ میں تیری ہر تقدیر اور فیصلے پر راضی رہا کروں، اور موت کے بعد مجھے عمدہ زندگی نصیب ہو، اور تیرے دیدارکی لذت حاصل ہو، اور مجھے تیری ملاقات کا شوق نصیب ہو،اورتکلیف دہ مصیبت اور گمرا ہ کن فتنہ سے میری حفاظت ہو۔
حضرت فضالہ ؓ کہتے تھے کہ حضورﷺ یہ تمام دعائیںمانگا کرتے تھے۔1
حضرت مَقْبُری ؓ کہتے ہیں: مروان حضرت ابو ہریرہ ؓ کے مرض الوفات میں ان کے پاس گیا اور اس نے کہا: اے ابو ہریرہ! اﷲآپ کو شِفا عطا فرمائے۔ انھوں نے فرمایا:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أُحِبُّ لِقَائَ کَ فَأَحِبَّ لِقَائِيْ۔
اے اﷲ! میں تیری ملاقات کو محبوب رکھتا ہوں تو میرے سے ملاقات کو محبوب بنالے۔
چناںچہ وہاں سے چل کر مروان ابھی اَصحاب القطا مقام تک نہیں پہنچا تھا کہ پیچھے حضرت ابو ہریرہ ؓ کا انتقال ہوگیا۔2
حضرت عبداﷲ بن ہشام کہتے ہیں: حضورﷺ کے صحابہؓ سال یا مہینہ کے شروع ہونے پر یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ أَدْخِلْہٗ عَلَیْنَا بِالْأَمْنِ وَالإِیْمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالإِسْلاَمِ، وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ، وَجَوَارٍ مِّنَ الشَّیْطَانِ۔
اے اﷲ! اس سال اورمہینے کو امن،ایمان،سلامتی،اسلام،رحمن کی رضا اور شیطان سے پناہ کے ساتھ ہم پر داخل فرما۔3
حضرت ابو اُمامہ بن سَہل کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے پوچھا: صحابہ ؓ جب کسی بستی کے پاس پہنچتے یا اس میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے :
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ لَّنَا فِیْھَا رِزْقًا۔
اے اﷲ! اس بستی میں ہمارے لیے رزق مقدّر فرما۔
وہ یہ دعا کس ڈر سے پڑھا کر تے تھے؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فر مایا: بستی کے والی کے ظلم کا اور بارش نہ ہونے کا ڈر ہو تا تھا۔ 1
حضرت ثا بت کہتے ہیں: حضرت انس ؓ جب اپنے بھائی کے لیے دعا کرتے تو یہ کہتے:اﷲ اس پر ان نیک لوگوں والی رحمتیں نا زل فر ماجو ظالم اور بد کار نہیں، جو رات بھر عبادت کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں۔2
حضرت عبداﷲ بن زبیر ؓ جب بادل گر جنے کی آواز سنتے تو با ت کرنا چھوڑدیتے اور یہ دعا پڑھتے:
سُبْحَاَن الَّذِيْ یُسَبِّحُ الرُّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلاَئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ۔
وہ ذات پاک ہے جس کے خوف سے رعد فرشتہ اور دوسرے فرشتے اس کی حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے ہیں۔
پھر فر ماتے: یہ زمین والوں کے لیے اﷲ کی طرف سے دھمکی ہے۔ 3