صحابہ کرام ؓ کے دعوتی خطوط
حضرت بُجیَر بن زُہیر بن ابی سلمیٰ ؓ کا اپنے بھائی کعب کے نام خط
حضرت عبدالرّحمن بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب بن زُہیر اور حضرت بُجَیربن زُہیر ؓ دونوںسفر میں روانہ ہوئے۔ اَبرقُ العزاف چشمہ پر پہنچ کر حضرت بُجَیر نے حضرت کعب سے کہا: تم اسی جگہ جانور وں کے ساتھ رہو، میں ذرا اس آدمی یعنی حضور ﷺ کے پاس جاکر سنتا ہوںکہ وہ کیا کہتے ہیں؟ چناںچہ حضرت کعب وہیں ٹھہرگئے اور حضرت بُجَیر حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ آپ نے اُن کے سامنے اِسلام کو پیش کیا وہ مسلمان ہوگئے۔ جب یہ خبر کعب کو پہنچی تو انھوں نے (مخالفت میں) یہ اشعار کہے:
أَلاَ أبْلِغَا عَنِّيْ بُجَیْرًا رِسَالَۃً
عَلٰی أَيِّ شَيْئٍ وَیْبَ غَیْرِکَ دَ لَّـکَا
خبردار !اے میرے دونوں ساتھیو! میری طرف سے بُجَیر کو یہ پیغام پہنچادو کہ تیرے غیر کا ناس ہو، اس نے تجھے کس راستہ پر ڈال دیا۔ (غیر سے حضرت ابوبکر ؓ مراد ہیں)
عَلٰی خُلُقٍ لَّمْ تُلْفِ أُمًّا وَلَا أَبًا
عَلَیْہِ وَلَمْ تُدْرِکْ عَلَیْہِ أَخًا لَّکَا
ایسے اخلاق پر تمہیں ڈال دیا ہے جن پر نہ تمہارے ماں باپ ہیںاور نہ تمہارے بھائی۔
سَقَاکَ أَبُوْ بَکْرٍ بِکَأْسٍ رَدِیَّۃٍ
وَأَنْہَلَکَ الْمَأمُوْرُ مِنْہَا وَعَلَّکَا
ابوبکر نے تمہیں ایک خراب پیالہ پلایا ہے اور اس غلام نے تمہیں بار بار پلا کر سیراب کیا ہے۔
جب یہ اَشعار حضور ﷺ تک پہنچے تو حضور ﷺ نے کعب کے خون کو مباح کردیا اور فرمایا: جسے کعب جہاں بھی ملے وہ کعب کو قتل کردے۔ حضرت بُجَیر ؓ نے یہ بات خط میں اپنے بھائی کو لکھی کہ حضور ﷺ نے اس کا خون مباح کردیا ہے۔ اور اس میں یہ بھی لکھاکہ تم اپنی جان بچاؤ اور میرا خیال یہ ہے کہ تم بچ نہیں سکتے۔ اس کے بعد ان کو یہ لکھا کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو بھی حضورﷺ کی خدمت میں آکر کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰـہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لیتا ہے، حضور ﷺ اس کے کلمۂ شہادت کو ضرور قبول کرلیتے ہیں (یعنی اسے مسلمان مان لیتے ہیں )۔لہٰذا جوں ہی تمہیں میرا یہ خط ملے مسلمان ہوکر آجاؤ۔ چناںچہ حضرت کعب (خط پڑھ کر) مسلمان ہوگئے۔ پھر دوسرا قصیدہ حضور ﷺ کی تعریف میں کہا، پھر (مدینہ)آئے اور حضور ﷺ کی مسجد کے دروازے پر اپنی سواری بٹھائی، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اس وقت حضورﷺاپنے صحابہ کے بیچ میں ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے دستر خوان بیچ میں ہوتا ہے۔ صحابہ حضور ﷺ کے اِرد گرد حلقہ پر حلقہ بنائے ہوئے بیٹھے تھے۔ کبھی آپ ایک طرف متوجہ ہوکر بات فرماتے اور کبھی دوسری طرف۔ حضرت کعب فرماتے ہیں: میں نے مسجد کے دروازے پر اپنی سواری بٹھائی اور میں نے حلیۂ مبارک سے ہی حضورﷺ کو پہچان لیا۔ میں لوگوں کو پھلانگ کر آپ کی خدمت میں جاکر بیٹھ گیااور اپنے اِسلام کا اظہار کرتے ہوئے میںنے کہا: أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ یا رسول اللہ! میں اپنے لیے اَمن چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں کعب بن زُہیر ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم ہی نے وہ اَشعار کہے تھے؟ پھر حضرت ابو بکر ؓ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے ابوبکر! اس نے کیسے کہا تھا؟ تو حضرت ابو بکرنے یہ شعر پڑھا:
سَقَاکَ أَبُوْ بَکْرٍ بِکَأْسٍ رَدِ یَّۃٍ
وَأَنْہَلَکَ الْمَأْمُوْرُ مِنْہَا وَعَلَّکَا
ابو بکر نے تمہیں ایک خراب پیالہ پلایا ہے اور اس غلام نے تمہیں بار بار پلا کر سیراب کیا ہے۔
میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ شعر میں نے ایسے نہیں کہا تھا۔ آپ نے فرمایا: تم نے کیسے کہا تھا؟ میں نے کہا: میں نے تو یہ کہا تھا (الفاظ میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے تعریف کا شعر بنادیا):
سَقَاکَ أَبُوْ بَکْرٍ بِکَأْسٍ رَوِیَّۃٍ
وَأَنْہَلَکَ الْمَأْمُوْنُ مِنْہَا وَعَلَّکَا
ابو بکر نے تمہیں ایک لبریز پیالہ پلایا ہے اور اس معتبر شخص نے تمہیں بار بار پلا کر سیراب کیا ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! (ابو بکر) واقعی معتبر شخص ہیں۔ پھر کعب ؓ نے اپنا قصیدہ آخر تک سنایا۔ آگے پورا قصیدہ ہے۔ 1
حضرت موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ حضرت کعب بن زُہیر ؓ نے مدینہ میں مسجدِ نبوی کے اندر حضور ﷺ کو اپنا قصیدہ ’’بَانَتْ سُعَاد‘‘پڑھ کر سنایا۔ جب وہ اپنے اس شعر پر پہنچے:
إِنَّ الرَّسُوْلَ لَسَیْفٌ یُّسْتَضَائُ بِہٖ
وَصَارِمٌ مِّنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ مَسْلُوْل ٗ
بے شک رسول اللہ ﷺ ایک ایسی تلوار ہیں جس سے (ہدایت کی) روشنی حاصل کی جاتی ہے، اور آپ اللہ تعالیٰ کی تلواروں میں سے وہ تلوار ہیں جو خوب کاٹنے والی اور سونتی ہوئی ہے۔
فِيْ فِتْیَۃٍ مِّنْ قُرَیْشٍ قَالَ قَائِلُھُمْ بِبَطْنِ مَکَّۃَ لَمَّا أَسْلَمُوْا زُوْلُوْا
قریش کے چند نوجوا ن مسلمان ہوگئے تھے، ان میں یہ رسول (ﷺ ) بیٹھے ہوئے تھے، تو اُن میں سے مکہ میں ایک نوجوان نے کہا تھا: (اے کافرو!) سامنے سے ہٹ جاؤ۔
تو حضور ﷺ نے اپنی آستین سے مجمع کی طرف اِشارہ کیا تاکہ لوگ اسے غور سے سنیں۔ راوی کہتے ہیں: حضرت بُجَیربن زُہیر ؓ نے اپنے بھائی کعب بن زُہیر بن ابی سلمیٰؓ کو ایک خط لکھاتھا جس میں وہ اپنے بھائی کو ڈرا رہے تھے اور ان کو اِسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ اور اس خط میں یہ اَشعار بھی لکھے تھے:
مَنْ مُّبْلِغٌ کَعْبًا فَھَلْ لَکَ فِي الَّتِيْ
تَلُوْمُ عَلَیْھَا بَاطِلاً وَّھِيَ أَحْزَمٗ
کعب کو میری جانب سے یہ پیغام کون پہنچائے گا کہ کیا اسے اس دین میں داخل ہونے کا شوق ہے جس کے بارے میں تو ناحق ملامت کرتا ہے، حالاں کہ وہی دین زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد ہے۔
إِلَی اللّٰہِ لاَ الْعُزّٰی وَلاَ اللاَّتِ وَحْدَہٗ
فَتَنْجُوْا إِذَا کَانَ النَّجَائُ وَتَسْلَمٗ
اگر تم نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو لات وعُزّی کو چھوڑ کر ایک اللہ کی طرف آجائو، نجات پالو گے اور محفوظ ہوجائو گے۔
لَدٰی یَوْمٍ لاَ یَنْجُوْ وَلَیْسَ بِمُفْلِتٍ
مِنَ النَّارِ إِلاَّ طَاھِرُ الْقَلْبِ مُسْلِمٗ
تم اس دن نجات پالوگے جس دن پاک دل مسلمان کے علاوہ کوئی بھی نہ نجات پاسکے گا اور نہ آگ سے خلاصی حاصل کرسکے گا۔
فَدِیْنُ زُھَیْرٍ وَھُوَ لاَ شَيْئَ بَاطِلٌ
وَدِیْنُ أَبِيْ سُلْمٰی عَلَيَّ مُحَرَّمٗ
ہمارے والد زُہیر کادین کچھ بھی نہیں ہے اور وہ باطل ہے اور(ہمارے دادا) ابو سلمی کادین میرے لیے حرام ہے۔1