صحابہ کرام ؓ کے بیانات

تقدیرکے بارے میں حضورﷺ کا بیان

حضر ت علیؓ فر ماتے ہیں: حضورﷺایک مر تبہ منبر پر تشریف لے گئے۔پہلے اﷲ کی حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد فر مایا: ایک ر جسٹر ایسا ہے جس میں اﷲتعالیٰ نے جنت والوں کے نا م اور نسب سب تفصیل سے لکھے ہوئے ہیں، اور آخر میں ان سب کی مجموعی تعداد لکھی ہو ئی ہے۔ اب قیا مت تک ان میں کو ئی کمی بیشی نہیں ہوگی۔ پھر فرمایا: ایک ر جسٹر اور ہے جس میں اﷲتعا لیٰ نے دوزخ والوںکے نام اور نسب سب تفصیل سے لکھے ہوئے ہیں اور آخر میں ان سب کی مجمو عی تعداد لکھی ہو ئی ہے، اب قیا مت تک ان میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوگی۔ جنت میں جانے والا زندگی بھر کیسے بھی عمل کرتا رہے لیکن اس کاخاتمہ جنت والوں کے عمل پر ہوگا، اور دوزخ میں جا نے والا زندگی بھر کیسے ہی عمل کر تا رہے لیکن اس کا خا تمہ دوزخ والوں کے عمل پر ہو گا۔ بعض دفعہ خو ش قسمت لوگ یعنی جن کے مقدر میں جنت جانا لکھا ہوا ہے وہ بد قسمتی کے راستے پر اس طرح چل رہے ہوتے ہیں کہ یو ں کہا جا تا ہے کہ یہ تو بد قسمتوں جیسے ہیں بلکہ ان ہی میں سے ہیں، لیکن پھر خو ش قسمتی انھیں آلیتی ہے اور انھیں (بد قسمتی کے راستہ سے) چھٹر الیتی ہے۔ اور کبھی بدقسمت لوگ یعنی جن کے مقد رمیںدوزخ میں جانا لکھا ہوا ہے وہ خو ش قسمتی کے راستہ پر اس طرح چل رہے ہوتے ہیں کہ یو ں کہا جاتا ہے کہ یہ تو با لکل خوش قسمتوں جیسے ہیں بلکہ ان ہی میں سے ہیں، لیکن پھر بدقسمتی انھیں پکڑ لیتی ہے اور(خوش قسمتی کے راستہ سے) انھیں نکال کر (بد قسمتی کے راستے پر) لے جاتی ہے۔ اﷲتعالیٰ نے جسے لوحِ محفوظ میں خوش قسمت (یعنی جنتی) لکھا ہو ا ہے اسے اس وقت تک دنیا سے نہیں نکالتے جب تک اس سے مر نے سے پہلے خوش قسمتی والا عمل نہیں کرالیتے، چا ہے وہ عمل مرنے سے اتنی ہی دیر پہلے ہو جتنا کہ اونٹنی کے دودھ نکا لنے کے درمیان وقفہ ہوتا ہے۔ اور اﷲتعالیٰ نے جسے لوحِ محفوظ میں بد قسمت (یعنی دوزخی) لکھا ہو اہے، اسے اس وقت دنیا سے نہیں نکالتے جب تک اس سے مرنے سے پہلے بد قسمتی والا عمل نہیں کرالیتے ،چاہے وہ عمل مرنے سے اتنی ہی دیر پہلے ہو جتنا کہ اونٹنی کے دودھ نکا لنے کے درمیا ن وقفہ ہو تا ہے۔ اَعمال کا دارومدار آخری وقت کے عمل پر ہے۔1