صحابہ کرام ؓ کے بیانات
اَنصار کے بارے میں حضورﷺکا بیان
حضرت ابو قتادہ ؓ فر ماتے ہیں: میں نے انصار کے بارے میں حضورﷺکو منبر پر یہ فرماتے ہو ئے سنا:
غور سے سنو! اور لوگ تو میرا اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار میرا اند ر کا کپڑا ہیں، یعنی ان سے میرا خاص تعلق ہے۔ اور لوگ اگر ایک وادی میں چلیں اور انصار کسی اور گھا ٹی میں چلیں تومیں انصار کی گھا ٹی میں چلوں گا۔ اگر ہجرت کو فضیلت نہ ہو تی تو میں انصا رمیں سے ایک آدمی ہو تا۔ لہٰذا جو بھی انصار کا حاکم بنے اسے چاہیے کہ وہ ان کے اچھے کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے برے سے درگزر کرے۔ جس نے انھیں ڈرایا اس نے اس چیز کو ڈرایا جواِن دو پہلوئوں کے درمیان ہے، یعنی میرے دل کو۔
حضورﷺنے اپنے دل کی طرف اشارہ بھی فر مایا۔2
حضرت کعب بن مالک انصاری ؓ اُن تین صحابہ میں سے ہیں جن کی توبہ قبول ہوئی تھی۔ ان کے صاحب زادے حضر ت عبداﷲ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺکے ایک صحابی نے میرے والد ِمحترم کو بتا یا کہ ایک دن حضورﷺسر پر پٹی با ندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور بیان میں آپ نے یہ فر ما یا:
اما بعد! اے جماعتِ مہاجرین! تمہاری تعداد میں اضا فہ ہوتا رہے گا (اور لوگ ہجرت کر کے آتے رہیں گے)، لیکن انصا ر جتنے آج ہیں اُتنے ہی رہیں گے ان کی تعداد میں اضافہ نہ ہوگا۔انصار تو میرے ذاتی کپڑوں کا صندوق ہیں، یعنی یہ میرے خاص لوگ ہیں جن کے پا س آکر میں ٹھہرا ہوں، لہٰذا ان کے کریم آدمی کا اِکرام کرو اور ان کے برے آدمی سے در گزر کرو۔1