صحابہ کرام ؓ کے بیانات
امیرالمؤمنین حضرت مُعاویہ بن ابی سفیانؓ کا بیان
حضرت محمد بن کعب قُرَظی کہتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ ایک دن مدینہ میں بیان فرمارہے تھے، اس میں ارشاد فرمایا:
اے لوگو! اللہ تعالیٰ جو چیز دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے وہ روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں۔ اور کسی مال دار کو اس کی مال داری اللہ کے ہاں کوئی کام نہیں دے سکتی۔ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیںاسے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔ میں نے یہ ساری باتیں (منبر کی) ان لکڑیوں پر حضورﷺ سے سنی ہیں۔3
حضرت حُمید بن عبدالرحمن کہتے ہیں:حضرت مُعاویہ ؓنے ہم میں بیان فرمایا۔ میں نے انھیں بیان میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ
میں نے نبی کریم ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا فرماتے ہیں۔ اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہی ہوں اور دیتے تو صرف اللہ ہی ہیں۔ اور یہ اُمّت ہمیشہ حق پر اور اللہ کے دین پر قائم رہے گی، اور جو اِن کی مخالفت کرے گا وہ انھیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ اور یہ صورتِ حال اللہ کے حکم کے آنے تک یعنی قیامت کے قائم ہونے تک ایسے ہی رہے گی۔4
حضرت عمیر بن ہانی کہتے ہیں: حضرت مُعاویہ بن ابی سفیان ؓنے لوگوں میں بیان فرمایا جس میں ارشاد فرمایا:
میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:میری اُمّت میں سے ہمیشہ ایک جماعت اللہ کے دین کو لے کر کھڑی رہے گی، ان کی مخالفت کر نے والے اور ان کی مدد چھوڑنے والے کوئی بھی ان کا نقصان نہیں کرسکیں گے، اور اللہ کے حکم کے آنے تک یعنی قیامت کے قائم ہونے تک وہ ایسے ہی رہیں گے۔
اور ایک روایت میں یہ ہے کہ وہ لوگوں پر غالب رہیں گے۔
حضرت عمیر بن ہانی کہتے ہیں: اس پر حضرت مالک بن یُخامِر نے کھڑے ہوکر کہا: میں نے حضرت مُعاذ بن جبل ؓکو فرماتے ہوئے سنا کہ (میرے خیال میں) یہ جماعت آج کل شام میں ہے۔1
حضرت یونس بن حَلْبَس جُبُلانی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور اس میں مزید یہ بھی ہے: پھر حضرت معاویہ ؓنے اس آیت کو بطورِ دلیل کے ذکر کیا:
{یٰعِیْسٰی اِنِّی مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَھِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ} 2
اے عیسیٰ!(کچھ غم نہ کرو) بے شک میں تم کو وفات دینے والا ہوں اور (فی الحال) میں تم کو اپنی طرف اٹھائے لیتا ہوں اور تم کو ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جو مُنکِرہیں، اور جو لوگ تمہارا کہنا ماننے والے ہیں ان کو غالب رکھنے والا ہوں ان لوگوں پر جو کہ (تمہارے) منکر ہیں روز قیامت تک۔ 3
حضرت مکحول کہتے ہیں: حضرت معاویہ ؓنے منبر پر بیان کرتے ہوئے فرمایا:
میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! علم تو سیکھنے سے آتاہے اور دین کی سمجھ تو حاصل کرنے سے آتی ہے اور جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطافرماتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے اللہ سے صرف وہی ڈرتے ہیں (جو اس کی قدرت کا) علم رکھتے ہیں۔ اور میری اُمّت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی جو لوگوں پر غالب رہے گی، اور مخالفین اور دشمنوں کی انھیں کوئی پروا نہیں ہوگی، اور یہ لوگ قیامت تک یوںہی غالب رہیں گے۔1