حضور ﷺ کے زمانہ میں صحابۂ کرام ؓ کا میدانِ جنگ میں دعوت دینا
حضور ﷺ کے زمانہ میں صحابۂ کرام ؓ کا میدانِ جنگ میں دعوت دینا
حضرت مسلم بن حارث بن مسلم تمیمی فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد (حارث ؓ) نے یہ بیان کیا کہ حضور ﷺ نے ہمیں ایک جماعت میں بھیجا۔ جب ہم چھاپہ مارنے کی جگہ کے قریب پہنچے تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیز دوڑا یا اور اپنے ساتھیوں سے آگے چلاگیا، تو تمام قبیلہ والے روتے پیٹتے بستی سے باہر نکل آئے۔ میں نے اُن سے کہا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُکہہ لو محفوظ ہوجاؤگے ۔ چناں چہ ان لوگوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ پھر میرے ساتھی بھی پہنچ گئے۔ (انھیں جب یہ پتہ چلا تو) وہ مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ مالِ غنیمت ہمیں آسانی سے مل سکتا تھا، لیکن تم نے ہمیں اس سے محروم کردیا۔ (بہر حال) جب ہم واپس لوٹے تو ساتھیوں نے حضورﷺ سے اس کا تذکرہ کیا ۔ آپ نے مجھے بلا کر میرے اس عمل کی بڑی تحسین فرمائی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ہر انسان کے بدلہ میں اتنا اتنا ثواب لکھ دیا ہے۔ عبدالرحمن راوی کہتے ہیں کہ مجھے وہ ثواب بھول گیا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: میں تمہیں ایک تحریر لکھ کر دیتا ہوں اور میرے بعد جو مسلمانوںکے اِمام ہوں گے اُن کو تمہارے بارے میں وصیت کردیتا ہوں۔ چناںچہ آپ نے وہ تحریر لکھوا کر اس پر مہر لگائی اور پھر مجھے دے دی اور مجھ سے فرمایا: صبح کی نماز پڑھ کر کسی سے بات کرنے سے پہلے سات مرتبہ اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِيْ مِنَ النَّارِپڑھا کرو، اگر تم اس دن مرگئے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آگ سے پناہ لکھ دیں گے۔ اور مغرب کی نماز پڑھ کر کسی سے بات کرنے سے پہلے اَللّٰہُمَّ أَجِرْنِيْ مِنَ النَّارِ سات مرتبہ پڑھا کرو، اگر تم اس رات مر گئے تو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آگ سے پناہ لکھ دیں گے۔
جب آپ کا انتقال ہوگیا تو میں نے وہ تحریر حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو دی، انھوں نے اس کی مہر توڑ کر اسے پڑھا اور (حضور ﷺ کی تحریرکے مطابق ) انھوں نے مجھے مال دیا او ر پھر اس پر مہر لگادی۔ پھر وہ تحریر لے کر حضرت عمر ؓ کے (زمانے میں اُن کے ) پاس آیا، انھوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر میں وہ تحریر لے کر حضرت عثمان ؓ کے (زمانہ میں ان کے ) پاس آیا، انھوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ مسلم بن حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان ؓکے زمانۂ خلافت میں حضرت حارث کا انتقال ہوگیا تو حضور ﷺ کی وہ تحریر ہمارے پاس تھی،یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنے۔ انھوں نے ہمارے علاقہ کے گورنر کو لکھا کہ مسلم بن حارث بن مسلم تمیمی کے والد حارث ؓ کو حضور ﷺ نے جو تحریر لکھ کر دی تھی مسلم کو اس تحریر کے ساتھ میرے پاس بھیجو۔چناںچہ وہ تحریر لے کر میں اُن کے پاس گیا، انھوں نے اسے پڑھا اور (حضورﷺ کی تحریر کے مطابق ) مجھے مال دیا اور اُس پر مہر لگا دی ۔1
حضرت زُہری کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے پندرہ آدمیوں کی جماعت میں حضرت کعب بن عمیر غِفاری ؓ کو بھیجا۔ جب یہ لو گ ملکِ شام کے مقام ذاتِ اَطلاح پہنچے تو انھوں نے وہاں کافروں کی بہت بڑی تعداد کو پایا۔ ان حضرات نے ان کافروں کو اِسلام کی دعوت دی جسے انھوں نے قبول نہ کیا بلکہ انھوں نے تیر برسانے شروع کردیے۔ صحابہ ؓ نے یہ دیکھ کر اُن سے بڑی سخت جنگ کی یہاں تک کہ وہ سب شہید ہوگئے۔ ان شہیدوں میں صرف ایک زخمی آدمی زندہ بچ گیا جو رات کے اندھیرے میں کسی طرح چل کر حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا (جس نے حضور ﷺ کو ساری کار گزاری سنائی۔ اس پر حضور ﷺ نے ان کافروں کی طرف لشکر بھیجنے کا ارادہ فرمایا لیکن آپ کوپتہ چلا کہ وہ کافر وہاں سے کسی اور جگہ چلے گئے ہیں، لہٰذا وہ لشکر نہ بھیجا)۔ 2
حضرت زُہری فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ عمرۃُ القضاء سے ذی الحجہ سن ۷ ہجری کو (مدینہ ) واپس تشریف لائے تو حضور ﷺ نے حضرت ابنِ ابی العَوْجاء سلمی ؓکو پچاس سواروں کی جماعت دے کر بھیجا۔ ایک جاسوس نے جاکر اپنی قوم کو ان حضرات کی خبر دی اور ان سے ڈرایا۔ وہ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوگئے۔ جب حضرت ابنِ ابی العَوْجاء وہاں پہنچے تو وہ لوگ پوری تیاری کیے ہوئے تھے۔ جب صحابہ ؓ نے ان کی اس بڑی تعداد کو دیکھا تو (بلا خوف و خطر ) اُن کو اِسلام کی دعوت دی۔ ان لوگوں نے صحابہ کی بات کو نہ سنا اور کہا کہ تم جس (دین ) کی دعوت دے رہے ہو ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور (یہ کہہ کر انھوں نے صحابہ پر حملہ کردیا) ان پر تیر پھینکنے لگے اور ان دشمنوں کی امداد میں ہر طرف سے لوگ آنے لگے اور انھوں نے ان صحابہ کو ہر طرف سے گھیرلیا۔ صحابہ نے بڑی ہمت سے ان کامقابلہ کیا اور خوب زور وشور سے ان سے جنگ کی یہاں تک کہ اکثر صحابہ شہید ہوگئے اور خود ابنِ ابی العوجاء بہت زیادہ زخمی ہوئے لیکن زندہ رہ جانے والے اپنے باقی ساتھیوں کو لے کر صفر ۸ ہجری کی پہلی تاریخ کو وہ کسی طرح مدینہ پہنچ گئے۔ 1