صحابہ کرام ؓ کی نصیحتیں

حضرت زید بن ثابت ؓ کی نصیحتیں

حضرت عبد اللہ بن دینار بَہرانیکہتے ہیں: حضرت زید بن ثابت ؓ نے حضرت اُبی بن کعب ؓکو خط میں یہ لکھا: امابعد! اللہ تعالیٰ نے زبان کو دل کا ترجمان بنایا، اور دل کو خزانہ اور حکمران بنایا۔ دل زبان کو جو حکم دیتاہے زبان اسے پوراکرتی ہے۔ جب دل زبان کی موافقت پر ہوتاہے تو گفتگو مرتب اور مناسب ہوتی ہے، اور نہ زبان سے کوئی لغزش ہوتی ہے اور نہ وہ ٹھوکرکھاتی ہے۔ اور جس انسان کا دل اس کی زبان سے پہلے نہ ہو یعنی دل اس کی نگرانی اور دیکھ بھال نہ کرے تو اس کی بات عقل وسمجھ والی نہیں ہوگی۔ جب آدمی اپنی زبان کو بات کرنے میں کھلا اور آزاد چھوڑ دے گا، اور زبان دل کی مخالفت کرے گی تو اس طرح وہ آدمی اپنی ناک کاٹ ڈالے گا، یعنی خود کو ذلیل کرلے گا۔ اور جب آدمی اپنے قول کا اپنے فعل سے موازنہ کرے گا تو عملی صورت سے ہی اس کے قول کی تصدیق ہوگی۔ اور یہ کہاوت عام طور سے بیان کی جاتی ہے کہ جو بخیل بھی تمھیں ملے گا وہ باتوں میں تو بڑاسخی ہوگا، لیکن عمل میں بالکل کنجوس ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی زبان اس کے دل سے آگے رہتی ہے یعنی بولتی بہت ہے اور دل کے قابو میں نہیں ہے۔ اور یہ کہاوت بھی عام طور سے بیان کی جاتی ہے کہ جب کوئی آدمی اپنے کہے کی پابندی نہ کرے، یعنی اس پر عمل نہ کرے حالاںکہ اس بات کو کہتے وقت وہ جانتاتھا کہ یہ بات حق ہے اور اس پر عمل کرنا واجب ہے، تو کیا تم اس کے پاس شرف وعزت اور مردانگی پائوگے؟ اور آدمی کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے عیبوں کو نہ دیکھے، کیوںکہ جولوگوں کے عیب دیکھتاہے اور اپنے عیبوں کو ہلکا سمجھتا ہے وہ اس آدمی کی طرح ہے جو بتکلّف ایسا کام کررہاہے جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا۔ والسلام۔ 1