صحابہ کرام ؓ کی نصیحتیں
حضرت حسن بن علی ؓکی نصیحتیں
حضرت حسن بن علی ؓنے فرمایا: جو دنیا کو طلب کرتاہے دنیا اسے لے بیٹھتی ہے اور جو دنیا سے بے رغبتی اختیار کر لیتا ہے تو اسے اس کی پروا بھی نہیں ہوتی کہ کون دنیا کو استعمال کررہاہے۔ دنیا کی طلب والا اس آدمی کا غلام ہوتاہے جو دنیا کا مالک ہوتا ہے۔ اور جس کے دل میں دنیا کی طلب نہیں ہوتی اسے تھوڑی دنیا کافی ہوجاتی ہے، اور جس کے دل میں طلب ہوتی ہے اسے ساری دنیا بھی مل جائے تو بھی اس کا کام نہیں چلتا۔ اور جس کا آج کا دن دینی اعتبار سے کل گزشتہ کی طرح ہے تو وہ دھوکے میں ہے اور جس کا آج کا دن کل آیندہ سے بہتر ہے، یعنی کل آیندہ میں اس کی دینی حالت آج سے خراب ہوگئی تو وہ سخت نقصان میں ہے۔ اور جو اپنی ذات کے بارے میں نقصان کی چھان بین نہیں کرتاتو وہ بھی نقصان میں ہے اور جو نقصان میں چل رہا ہے اس کا مرجانا ہی بہتر ہے۔ 2
حضرت حسن بن علی ؓنے فرمایا: یہ جان لو کہ حلم اور بُردباری زینت ہے، اور وعدہ پوراکرنا مردانگی ہے اور جلد بازی بے وقوفی ہے اور سفر کرنے سے انسان کمزور ہوجاتاہے اور کمینہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا عیب کا کام ہے اورفاسق فاجر لوگوں کے ساتھ میل جول رکھنے سے انسان پر تہمت لگتی ہے۔ 3
حضرت حسن بن علی ؓنے فرمایا: لوگ چار قسم کے ہوتے ہیں:ایک تو وہ جسے بھلائی میں سے بہت حصہ ملا، لیکن اس کے اخلاق اچھے نہیں۔ دوسرا وہ جس کے اخلاق تو اچھے ہیں، لیکن بھلائی کے کاموں میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ تیسرا وہ جس کے نہ اخلاق اچھے ہیں اور نہ بھلائی کے کاموں میں اس کا کوئی حصہ ہے، یہ تمام لوگوں میں سب سے براہے۔ چوتھا وہ جس کے اخلاق بھی اچھے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں اس کا حصہ بھی خوب ہے، یہ لوگوں میں سب سے اَفضل ہے۔ 1