صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابۂ کرام ؓ کے قرآن کو سننے کے لیے فرشتوں کا اُترنا
حضرت ابوسعید خُدری ؓ فرماتے ہیں: ایک رات حضرت اُسید بن حُضیرؓ اپنے کھلیان میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ان کا گھوڑا بدکنے لگا۔ وہ رک گئے تو گھوڑا بھی رک گیا۔ انھوں نے دوبارہ پڑھنا شروع کیا تو وہ پھر بدکنے لگا۔ وہ رک گئے تو گھوڑا بھی رک گیا۔
انھوں نے پھر تیسری مرتبہ پڑھنا شروع کیا تو وہ پھر بدکنے لگا۔ حضرت اُسید ؓ فرماتے ہیں: مجھے ڈرہوا کہ کہیں یہ گھوڑا (میرے بیٹے) یحییٰ کو نہ روند ڈالے، میں کھڑاہوکر گھوڑے کے پاس گیا تو مجھے اپنے سر کے اوپر ایک سائبان سا نظر آیا جس میں بہت سے چراغ تھے۔ پھر اس سائبان نے آسمان پر چڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ میں نے صبح حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا:یا رسول اللہ! آج آدھی رات کو میں اپنے کھلیان میں قرآن پڑھ رہاتھا کہ اتنے میں میرا گھوڑا بِدکنے لگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تم اپنے معمول کے مطابق آدھی رات کو قرآن پڑھتے رہو۔ میں نے اگلی رات پھر قرآن پڑھا وہ گھوڑا پھر بدکا، میں نے حضورﷺ سے عرض کیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: پڑھتے رہو اے ابنِ حضیر! میں نے پھر پڑھا وہ پھر بدکا۔ حضورﷺ نے پھر فرمایا: اے ابنِ حضیر! پڑھتے رہو۔ (حضرت ابنِ حضیر ) فرماتے ہیں: یحییٰ گھوڑے کے قریب تھا تو مجھے ڈرہوا کہ کہیں گھوڑا اسے روندنہ ڈالے، اس لیے میں نے قرآن پڑھنا چھوڑ دیا۔تو مجھے سائبان سا نظرآیا جس میں بہت سے چراغ تھے وہ آسمان میں چڑھنے لگا یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سننے آئے تھے۔ اگر تم قرآن پڑھتے رہتے تو صبح کو سارے لوگ ان فرشتے کو دیکھتے اور یہ فرشتے ان لوگوں سے چھپ نہ سکتے۔1
حاکم کی روایت میں ہے کہ حضرت اُسید ؓ فرماتے ہیں: میں نے ادھردیکھا تو مجھے چراغ کی مانند بہت سی چیزیں نظرآئیں جو زمین وآسمان کے درمیان لٹکی ہوئی تھیں۔ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اسے دیکھ کر میرے بس میں نہ رہا کہ میں آگے پڑھوں۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے تھے جو تمہارے قرآن پڑھنے کی وجہ سے اُترے تھے، اگر تم آگے پڑھتے تو بہت سے عجائبات دیکھتے۔2
ایک روایت میں ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا: یہ فرشتے تمہاری آواز کی وجہ سے اتنے قریب آئے تھے، اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح کو لوگ ان کو دیکھتے اور یہ ان سے چھپ نہ سکتے۔