صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

د شمنوں کے دلوں میں صحابۂ کرام ؓکارعب

حضرت مُعاویہ بن حیدہ قُشیر ی ؓ فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے ارادہ سے آیا۔ جب مجھے آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا: غور سے سنو! میں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ دوچیزوں سے میری مددکرے: ایک تو تم لوگوں پر ایسی قحط سالی ڈالے جو تمھیں جڑسے اُکھیڑ دے اور دوسرے تمہارے دلوں میں ہمارا رعب ڈال دے۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے عرض کیا: آپ بھی غور سے سن لیں!میں نے اتنی اور اتنی مرتبہ (یعنی انگلیوں کی تعداکے مطابق دس مرتبہ) قسم کھائی تھی کہ نہ آپ پر ایمان لائوں گا اور نہ آپ کا اِتباع کروں گا، لیکن آپ کی اس بددعا کی وجہ سے قحط سالی میری جڑیں اُکھیڑتی رہی اور میرے دل میں آپ کا رعب بڑھتا رہا یہاں تک کہ میں آج آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ 2 حضرت سائب بن یسار کہتے ہیں: حضرت یزید بن عامر سُوائی ؓ سے ہم لوگ پوچھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے غزوۂ حنین کے دن جو رُعب مشرکوں کے دل میں ڈالاتھا اس کی کیا صورت ہوئی تھی؟ تو حضرت یزید ہمیں سمجھانے کے لیے کنکری لے کر طشت میں پھینکتے تھے جس سے طشت میں آواز ہوتی تھی۔ پھر حضرت یزید فرماتے:بس اس جیسی آواز ہم اپنے پیٹ میں محسوس کرتے تھے (حضرت یزیدغزوۂ حنین میں مشرکوں کے ساتھ تھے اس لیے اپنا حال بتارہے ہیں)۔3