صحابۂ کرام کے بارے میں قرآنی آیات
قرآن مجید سے پہلی کتابوں میں حضور ﷺ اور صحابۂ کرام ؓ کا تذکرہ
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓسے ملا تو میں نے اُن سے کہا کہ مجھے حضورﷺ کی وہ صفات بتائیں جو تورات میں آئی ہیں۔ انھوں نے فرمایا: بہت اچھا، خدا کی قسم !تو رات میں بھی آپ کی وہی صفات بیان ہوئی ہیں جو قرآن مجید میں ہیں ۔ (چناں چہ تورات میں ہے) اے نبی! ہم نے آپ کو گواہ اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والااور اُمیوں کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور میرے رسول ہیں۔ میں نے آپ کا نام مُتوکل رکھا ہے۔ نہ آپ سخت گو ہیں، نہ سخت دل ، نہ بازاروں میں شور کرنے والے ہیں، اور نہ آپ برُائی کا بدلہ برُائی سے دیتے ہیں، بلکہ آپ عفوو در گزر سے کام لیتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت دنیا سے اٹھائیں گے جب کہ لوگ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہہ کر ٹیڑھے دین کو سیدھا کرلیں گے۔ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اندھی آنکھوں کو اور بہرے کانوں کو اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو کھول دیں گے۔ 1
حضرت وَہب بن مُنَبِّہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زبور میں حضرت داؤد ؑ کو یہ وحی فرمائی کہ اے داؤد! تمہارے بعد عنقریب ایک نبی آئے گا جس کا نام احمد اور محمد (ﷺ) ہوگا۔ وہ سچے اور سردار ہوں گے، میں اُن سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا اور نہ ہی وہ مجھے کبھی ناراض کریں گے۔ اور میں نے اُن کی اگلی پچھلی تمام لغزشیں کرنے سے پہلے ہی معاف کردی ہیں۔ اور آپ کی اُمت میری رحمت سے نوازی ہوئی ہے۔ میں نے اُن کو وہ نوافل عطا کیے جو انبیا کو عطا کیے اور ان پر وہ چیزیں فرض کیں جو انبیا اور رسولوں پر فرض کیں، حتیٰ کہ وہ قیامت کے دن میرے پاس اس حال میں آئیں گے کہ اُن کا نور انبیا کے نور جیسا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرمادیا کہ اے داؤد ! میں نے محمد(ﷺ) کو اور آپ کی اُمت کو تمام اُمتوں پر فضیلت دی ہے۔1
حضرت عبداللہ بن عمروؓنے حضرت کعب سے فرمایا کہ مجھے حضورﷺ اور آپ کی اُمت کی صفات بتائیں۔ انھوں نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی کتاب (تورات) میں اُن کی یہ صفات پاتا ہوں کہ احمدﷺ اور ان کی اُمت اللہ کی خوب تعریف کرنے والے ہیں، اچھے برُے ہرحال میں الحمدللہ کہیں گے، اور چڑھائی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہیں گے، اور نیچائی پر اُترتے ہوئے سبحان اللہ کہیں گے، اُن کی اذان آسمانی فضامیں گونجے گی، وہ نماز میں ایسی دھیمی آواز سے اپنے رب سے ہم کلام ہوں گے جیسے چٹان پر شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے، اور فرشتوں کی صفوں کی طرح اُن کی نماز میں صفیں ہوں گی، اور نماز کی صفوں کی طرح اُن کی میدانِ جنگ میں صفیں ہوں گی، اور وہ جب اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے چلیں گے تو مضبوط نیزے لے کر فرشتے اُن کے آگے اور پیچھے ہوں گے، اور جب وہ اللہ کے راستہ میں صف بنا کر کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اُن پر ایسے سایہ کیے ہوں گے (حضورﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتلایا )جیسے کہ گدھ اپنے گھونسلے پر سایہ کرتے ہیں ،اور میدانِ جنگ سے یہ لوگ کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
حضرت کعب سے اسی جیسی ایک اور روایت بھی منقول ہے، جس کا مضمون یہ ہے کہ اُن کی اُمت اللہ کی خوب تعریف کرنے والی ہوگی، ہرحال میں الحمدللہ کہیں گے، اور ہر چڑھائی پر چڑھتے ہوئے اللہ اکبر کہیں گے، (اپنی نمازوں کے اوقات کے لیے) سورج کا خیال رکھیں گے، او ر پانچوں نمازیں اپنے وقت پر پڑھیں گے اگرچہ کوڑے کرکٹ والی جگہ پر ہوں، میانِ کمر پر لنگی باندھیں گے، اور وضو میں اپنے اَعضا کو دھوئیں گے۔2