صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابۂ کرامؓ کے لَا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہنے سے دشمنوں کے بالاخانوں کا ہل جانا
حضرت ہِشام بن عاص اُموی ؓ فرماتے ہیں: (دورِ صدیقی میں) مجھے اور ایک اور آدمی کو روم کے بادشاہ ہِرَ قل کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجاگیا۔ چناںچہ ہم سفر میں روانہ ہوئے اور دِمَشق کے غُوطَہ مقام پر پہنچے اور جَبَلَہ بن اَیْہم غَسَّانی (شاہِ غسَّان) کے ہاں ٹھہرے۔ ہم نے جَبَلہ کے پاس جانا چاہا تو اس نے اپنا قاصد ہم سے بات کر نے کے لیے بھیجا۔ ہم نے کہا: اللہ کی قسم! ہم کسی قاصد سے بات نہیں کریںگے ہمیں تو بادشاہ کے پاس بھیجا گیا ہے۔ اگر بادشاہ ہمیں اجازت دے تو ہم اس سے بات کریں گے، ورنہ ہم اس قاصد سے بات نہیں کریں گے۔ قاصد نے واپس جاکر بادشاہ کو ساری بات بتائی جس پر بادشاہ نے ہمیں اجازت دے دی (ہم اندر گئے)۔ اس نے کہا: بات کرو۔ چناںچہ میں نے اس سے بات کی اور اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے کالے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ میں نے کہا:آپ نے یہ کالے کپڑے کیا پہن رکھے ہیں؟ اس نے کہا:میں نے یہ کپڑے پہن کر قسم کھائی ہے کہ جب تک تمھیں ملکِ شام سے نکال نہ دوںیہ کپڑے نہیں اُتاروں گا۔ ہم نے کہا: تمہارے بیٹھنے کی اس جگہ کی قسم! اِن شاء اللہ یہ جگہ بھی ہم آپ سے لے لیں گے، بلکہ شہنشاہِ اَعظم (شاہِ روم) کا ملک بھی لے لیں گے۔ ہمیں یہ بات ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے بتائی ہے۔
اس نے کہا: تم وہ لوگ نہیں ہو (جو ہم سے ہمارا ملک چھین لیں)، بلکہ وہ تو وہ لوگ ہوں گے جو دن کو روزے رکھتے ہوں گے اور رات کو عبادت کرتے ہوں گے۔ تو بتائو تمہارے روزے کس طرح ہیں؟ ہم نے اس کو روزے کے بارے میں بتا یا تو اس کا سارا چہرہ سیاہ ہوگیا اور اس نے کہا: چلو۔ پھر اس نے ہمارے ساتھ شاہِ روم کے پاس ایک قاصد بھیجا۔ چناںچہ ہم وہاں سے چلے۔ جب ہم شہر کے قریب پہنچے تو ہمارے ساتھ جو قاصد تھا اس نے ہم سے کہا: آپ لوگوں کی یہ سواریاں بادشاہ کے شہر میں داخل نہیں ہوسکتیں۔ اگر آپ لوگ کہیں تو ہم سواری کے لیے ترکی گھوڑے اور خچر دے دیں۔ہم نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو ان ہی سواریوں پر شہر میں داخل ہوں گے۔ ان لوگوں نے بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا کہ یہ لوگ تو نہیں مان رہے ہیں۔ بادشاہ ہِرَقل نے انھیں حکم دیا کہ ہم لوگ اپنی سواریوں پر ہی آجائیں۔ چناںچہ ہم تلواریں لٹکائے ہوئے شہر میں داخل ہوئے اور بادشاہ کے بالاخانے تک پہنچ گئے۔ ہم نے بالاخانہ کے نیچے اپنی سواریاں بٹھادیں وہ ہمیں دیکھ رہاتھا۔ ہم نے لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہَ أَکْبَرُ کہا ـ تو اللہ جانتاہے کہ وہ بالاخانہ ہلنے لگا اور ایسے ہل رہاتھا جیسے درخت کی ٹہنی کو ہوا ہلارہی ہو۔
ہِرَقل نے ہمارے پاس پیغام بھیجا کہ تم لوگوں کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ تم اپنے دین کی باتیں ہمارے سامنے زور سے کہو۔
پھر اس نے پیغام بھیجا کہ اندر آجائو۔ ہم اس کے پاس گئے۔ وہ اپنے قیمتی بچھو نے پربیٹھا ہوا تھا، اور اس کے پاس روم کے تمام جرنیل اور سپہ سالار بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی مجلس میں ہر چیز سرخ تھی، اس کے چاروں طرف سرخی تھی اور ان کے کپڑے بھی سرخ تھے۔ ہم اس کے قریب گئے تو وہ ہنسنے لگا اور کہنے لگا:اگر آپ لوگ مجھے ویسے ہی سلام کرتے جیسے آپس میں کرتے ہو تو اس میں کیا حرج تھا؟ اس کے پاس ایک آدمی تھا جو فصیح عربی بولتاتھا اور بہت باتیں کرتاتھا (جوترجمانی کررہاتھا)۔ ہم نے کہا:جس طرح ہم آپس میں سلام کرتے ہیں اس طرح آپ کو سلام کرنا ہمارے لیے جائز نہیں اور جس طرح آپ کو سلام کیا جاتاہے اس طرح سلام کرنا ویسے جائز نہیں۔ اس نے پوچھا:آپ لوگ آپس میں کیسے سلام کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: السلام علیکم! اس نے کہا: آپ لوگ اپنے بادشاہ کو کس طرح سلام کرتے ہیں؟ ہم نے کہا:اسی طرح۔اس نے کہا: وہ آپ لوگوں کو جواب کیسے دیتاہے؟ ہم نے کہا: ان ہی الفاظ سے۔
پھر اس نے پوچھا:آپ لوگوں کا سب سے بڑا کلام کیاہے؟ ہم نے کہا: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہَ أَکْبَرُ ۔ اللہ جانتاہے ان کلمات کے کہتے ہی وہ بالاخانہ پھر ہلنے لگا اور بادشاہ سر اُٹھا کر دیکھنے لگا۔ پھر اس نے کہا: اچھا یہ ہیں وہ کلمات جن کے کہنے سے یہ بالاخانہ ہلنے لگا تھا۔ تو جب یہ کلمات آپ لوگ اپنے گھروں میں کہتے ہیں تو کیا وہ بھی ہلنے لگتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں، یہ بات تو ہم نے صرف آپ کے ہاں دیکھی ہے۔ اس نے کہا: میری آرزو یہ ہے کہ آپ لوگ جب بھی یہ کلمات کہیں تو آپ لوگوں کی ہر چیز ہلنے لگے، چاہے مجھے اس کے لیے اپنا آدھا ملک دیناپڑے۔ ہم نے کہا:کیوں؟ اس نے کہا: اس لیے کہ اگر ایسا ہوجائے تو پھر یہ نبوت کی نشانی نہ ہوگی، بلکہ لوگوں کی شعبدہ بازی میں سے ہوگا۔ پھر اس نے بہت سے سوالات کیے جن کے ہم نے جوابات دیے۔ پھر اس نے کہا: آپ لوگوں کے نماز، روزے کس طرح ہوتے ہیں؟ اس کی ہم نے تفصیل بتائی۔ پھر اس نے کہا: اب آپ لوگ اٹھیں اور چلے جائیں۔پھر اس کے حکم دینے پر ہمیں بہت عمدہ مکان میں ٹھہرایا گیا اور بہت زیادہ مہمانی کا اہتمام کیا گیا۔ ہم وہاں تین دن ٹھہرے رہے۔
پھر ایک رات اس نے ہمارے پاس پیغام بھیجا،ہم اس کے پاس گئے۔ اس نے کہا: اپنی بات دوبارہ کہو۔ ہم نے اپنی ساری بات کہہ دی۔پھر اس نے ایک چیز منگوائی جو بڑی چوکور پٹاری کی طرح تھی اور اس پر سونے کے پانی کا کام کیا ہوا تھا۔ اس میں چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے جن کے دروازے تھے۔اس نے تالا کھول کر ایک خانہ کھولا اور اس میں کالے رنگ کے ریشم کا ایک کپڑا نکالا۔ اسے ہم نے پھیلا یا تو اس پر ایک آدمی کی سرخ رنگ کی تصویر بنی ہوئی تھی جس کی آنکھیں بڑی اور سرین موٹے تھے اور اتنی لمبی گردن میں نے کسی کی نہیں دیکھی۔ اس کی ڈاڑھی نہیں تھی، البتہ سر کے بالوں کی دومینڈھیاں تھیں۔ اللہ نے جتنے انسان بنائے ان میں سب سے زیادہ خوب صورت تھا۔ بادشاہ نے کہا: کیا آپ لوگ اسے پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت آدم ؑ ہیں، ان کے بال عام لوگوں سے زیادہ تھے۔
پھر اس نے دوسرا دروازہ کھول کر کالے ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس پر سفید تصویر بنی ہوئی تھی۔ اس آدمی کے بال گھنگھر یالے تھے۔ آنکھیں سرخ، سربڑا اور ڈاڑھی خوب صورت تھی۔ اس نے کہا: کیا آپ لوگ اسے پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت نوح ؑ ہیں۔ پھر اس نے ایک دروازہ کھول کر کالے ریشم کا ایک کپڑا نکالا، اس پر ایک آدمی کی تصویر تھی جو بہت سفید تھا۔ اس کی آنکھیں خوب صورت، پیشانی ستی ہوئی، رخسار لمبے، ڈاڑھی سفیدتھی۔ ایسے لگ رہاتھا جیسے مسکرارہاہو۔ اس نے کہا کہ آپ لوگ اسے پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت ابراہیم ؑ ہیں۔پھر اس نے ایک اور دروازہ کھولا اس میں سفید تصویر تھی۔ اللہ کی قسم! وہ حضورﷺ کی تصویر تھی۔ اس نے کہا: کیا انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں، یہ حضرت محمد رسول اللہﷺ ہیں اور ہم خوشی کے مارے رونے لگے اور اللہ جانتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ایک دَم اُٹھا اور کچھ دیر کھڑا رہا، پھر بیٹھ گیا۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! یہ وہی ہیں۔ ہم نے کہا: ہاں، بے شک یہ وہی ہیں، گویا کہ آپ ان کو ہی دیکھ رہے ہیں۔ پھر کچھ دیر وہ اسی تصویر کو دیکھتا رہا، پھر کہنے لگا: یہ تصویر تھی تو آخری خانے میں، لیکن میں نے آپ لوگوں کا امتحان لینے کے لیے ذرا جلدی نکال لی تا کہ پتا چلے کہ آپ لوگوں کی معلومات کیا ہیں۔
پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے کالے رنگ کے ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس پر گندمی رنگ والے سیاہی مائل آدمی کی تصویر تھی، جس کے بال بہت زیادہ گھنگھریالے، آنکھیں اندر گھسی ہوئیں، نگاہ تیز، منہ چڑھاہوا اور دانت ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے اور ہونٹ سمٹا ہوا تھا، اور ایسے معلوم ہورہاتھا جیسے کہ غصہ میں ہو۔ اس نے کہا: کیا انھیں پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت موسیٰ ؑہیں، اور ان کے پہلو میں ایک اور تصویر تھی جو بالکل ان جیسی تھی، البتہ ان کے سر پر تیل لگا ہوا تھا، پیشانی چوڑی تھی اور ان کی آنکھوں میں کچھ بھینگا پن تھا۔ اس نے کہا: کیا انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت ہارون بن عمران ؑ ہیں۔ پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر سفید ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس پر ایک آدمی کی تصویر تھی جس کا رنگ گندمی، بال سیدھے اور قد درمیانہ تھا، اور وہ ایسے نظر آرہے تھے کہ جیسے غصہ میں ہوں۔ اس نے کہا: کیا ان کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا:یہ حضرت لوط ؑ ہیں۔
پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر سفید ریشم کا ایک کپڑا نکالاجس پر ایک سفید آدمی کی تصویر تھی۔ سفیدی میں کچھ سرخی ملی ہوئی تھی، ناک اونچی، رخسار ہلکے اور چہرہ حسین وجمیل تھا۔ اس نے کہا: کیا انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا:یہ حضرت اِسحاق ؑ ہیں۔ پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشم کا ایک کپڑا نکالا اس پر ایک تصویر تھی جو حضرت اِسحاق کے مشابہ تھی، صرف یہ فرق تھا کہ ان کے ہونٹ پر تل تھا۔ اس نے کہا: کیا انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت یعقوب ؑ ہیں۔ پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر کالے ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس میں ایک سفید آدمی کی تصویر تھی جس کا چہرہ خوب صورت، ناک اونچی اور قد اچھاتھا۔ اس کے چہرے پر نور بلند ہورہاتھا۔ اس کے چہرے سے خشوع معلوم ہورہاتھا اور اس کا رنگ مائل بسرخی تھا۔ اس نے کہا: کیا آپ لوگ انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ تمہارے نبی (ﷺ) کے دادا حضرت اِسماعیل ؑ ہیں۔
پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر سفید ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس میں حضرت آدم ؑ جیسی تصویر تھی اور ان کا چہرہ سورج کی طرح چمک رہاتھا۔ اس نے کہا: انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا:یہ یوسف ؑ ہیں۔ پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر سفید ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس میں سرخ رنگ کے آدمی کی تصویر تھی جس کی پنڈلیاں پتلی، آنکھیں چھوٹی اور کمزور، پیٹ بڑا اور قد درمیانہ تھا، تلوار بھی گلے میں لٹکائی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا: کیا انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت داود ؑ ہیں۔پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس میں ایک آدمی کی تصویر تھی جس کے سرین بڑے، پائوں لمبے تھے اور وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ اس نے کہا:کیا آپ انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا:نہیں۔ اس نے کہا: یہ سلیمان بن داود ؑ ہیں۔ پھر اس نے ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے کالے ریشم کا ایک کپڑا نکالا جس میں سفید تصویر تھی۔ وہ بالکل جوان تھے، ڈاڑھی بے اِنتہا کالی اور بال بہت زیادہ، آنکھیں اور چہرہ بہت خوب صورت تھا۔ اس نے کہا:کیا انھیں پہچانتے ہیں؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: یہ حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔
ہم نے پوچھا: آپ کو یہ تصویریں کہاں سے ملی ہیں؟ کیوںکہ ہمیں یقین ہے کہ اَنبیا ؑ کو جو شکل وصورت عطافرمائی گئی تھی یہ اس کے مطابق ہیں، اس لیے کہ ہم نے اپنے نبی پاک ؑ کی تصویر ان کی شکل و صورت کے مطابق بنی ہوئی دیکھی ہے۔ اس نے کہا: حضرت آدم ؑ نے اپنے ربّ سے یہ سوال کیا تھا کہ میری اولاد میں سے جتنے نبی ہوں گے وہ مجھے دکھادیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اَنبیا ؑ کی یہ تصویریں حضرت آدم ؑ پر اتاری تھیں اور سورج ڈوبنے کی جگہ کے پاس جو حضرت آدم ؑ کا خزانہ تھا اس میں یہ تصویریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن کو وہاں سے نکال کر ذوالقرنین نے حضرت دانیال ؑ کو دی تھیں۔ پھر ہِرَ قل نے کہا: غور سے سنیں! اللہ کی قسم! اس کے لیے میںدل سے تیار ہوں کہ میں اپنے ملک کو چھوڑ دوں اور آپ لوگوں میں جو اپنے غلاموں کے ساتھ سب سے براسلوک کرتا ہو میںاس کا مرتے دَم تک کے لیے غلام بن جائوں (لیکن اسلام میں داخل ہونے کے لیے تیار نہیں)۔ پھر اس نے بہت عمدہ تحفے دے کر ہمیں رخصت کیا۔
جب ہم حضرت ابوبکر صدیق ؓکے پاس پہنچے تو ہم نے ان کو ساری کارگزاری سنائی۔ ہرقل نے ہمیں جو کچھ دکھایا، جو کچھ کہا اور جو تحفے دیے وہ سب ہم نے ان کو بتادیے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر ؓ رو پڑے اور فرمایا: یہ بے چارہ ہرقل مسکین ہے۔ اگر اللہ کا اس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ ہوتا تو یہ بھلائی کا کام کرلیتا یعنی اسلام میں داخل ہوجاتا۔ اور حضرت ابوبکر ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ حضورﷺ نے ہمیںبتایاتھا کہ یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں حضرت محمد ﷺ کے حلیۂ مبارک اور صفات وغیرہ کا ذکر موجود ہے۔ 1
حضرت ہِشام بن عاص ؓ کی اس حدیث میں تو ان تصویروں میں حضرت ابوبکر ؓ کی تصویر کا ذکر نہیں ہے، لیکن بیہقی نے حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے یہی حدیث روایت کی ہے اس میں حضرت ابوبکرؓکی تصویر کا ذکر اس طرح ہے (کہ بصریٰ شہر کے نصاریٰ مجھے ایک گرجاگھر میں لے گئے اس میں بہت سی تصویریں تھیں) پھر انھوں نے مجھ سے کہا:دیکھو، کیا اس نبی کی تصویر ان میں نظر آرہی ہے؟ میں نے دیکھا تو ان میں حضورﷺ کی تصویر بھی تھی اور حضرت ابوبکرؓکی تصویر بھی تھی۔ وہ حضورﷺ کی اَیڑی پکڑے ہوئے تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا: کیا تمھیں ان کی تصویر نظر آئی؟ میں نے کہا:جی ہاں۔ انھوں نے حضورﷺکی تصویر کی طرف اشارہ کرکے کہا: کیا وہ یہ ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں گواہی دیتاہوں کہ وہ یہی ہیں۔پھر انھوں نے کہا:تم ان کو پہچانتے ہو جو اِن کی اَیڑی پکڑے ہوئے ہیں؟میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ یہ تمہارے حضرت یعنی تمہارے نبی ﷺ ہیں اور یہ ان کے بعد ان کے خلیفہ ہیں۔ 2
طبرانی کی روایت میں یہ ہے کہ میں نے کہا: یہ ان کی اَیڑی کے پاس کھڑاہوا آدمی کون ہے؟ اس نصرانی نے کہا: تمہارے نبی(ﷺ) کے علاوہ ہر نبی کے بعد نبی ضرور ہوتاتھا،لیکن تمہارے نبی(ﷺ) کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور یہ ان کے بعد ان کے خلیفہ ہیں۔ تو یہ حضرت ابوبکرؓکی تصویر تھی۔ 3
(پہلے نبیوں کی شریعت میں جان دار کی تصویر کی اجازت تھی، لیکن ہماری شریعت میں اجازت نہیں)
قبیلۂ غسّان اور قبیلۂ بنو قَین کے چند مشایخ بیان کرتے ہیں کہ حِمص کی لڑائی میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے صبر کا بدلہ یہ دیا کہ حِمص والوں پر زلزلہ آیا اور اس کی صورت یہ ہوئی کہ مسلمان ان کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا جس کی وجہ سے شہرِ حِمص میں رومیوں پر زلزلہ آگیا اور دیواریں پھٹ گئیں، تووہ سب گھبراکر اپنے ان سرداروں اور اَصحابِ شوریٰ کے پاس گئے جو اُن کو مسلمانوں سے صلح کرنے کی دعوت دینے لگے، لیکن ان لوگوں نے ان سرداروں اور اَصحابِ شوریٰ کی یہ بات نہ مانی بلکہ اس پر ان کے ساتھ ذلت آمیزرویہ اختیار کیا۔ مسلمانوں نے دوبارہ پھر زور سے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہا جس سے بہت سے گھر اور دیواریں گرگئیں، اورشہروالے پھر گھبراکر سرداروں اور اَصحابِ شوریٰ کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ یہ اللہ کا عذاب ہے؟ اس پر شہروالوں نے صلح کی بات مان لی۔ آگے اور بھی حدیث ہے۔ 1