صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابہ ؓ کے شُہَدا میں زندگی کے آثار
حضرت ابونضرہ کہتے ہیں: حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نے فرمایا: جب جنگِ اُحد کا وقت ہوا تو رات کو میرے والد نے بلاکر کہا: میراخیال یہی ہے کہ میں کل حضور ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے سب سے پہلے شہید ہوجائوںگا۔ اور اللہ کی قسم! میں کسی کو ایسا نہیں چھوڑکر جارہاہوں جو حضورﷺ کی ذات کے بعد مجھے تم سے زیادہ پیارا ہو، اور مجھ پر قرضہ بھی ہے وہ میری طرف سے اداکردینا اور اپنی بہنوں کے بارے میں حسنِ سلوک کی وصیت قبول کرو۔ چناںچہ صبح کو سب سے پہلے وہی شہید ہوئے، اور میں نے انھیں ایک اور صحابی کے ساتھ ایک قبر میں دفن کردیا۔ پھر میراجی نہ مانا کہ میں انھیں ایک قبر میں کسی دوسرے کے ساتھ رہنے دوں، تو میںنے انھیں چھ مہینے کے بعد قبر سے نکالاتو وہ بالکل ایسے تھے جیسے کہ اس دن تھے جس دن میں نے انھیں قبر میں رکھاتھا، صرف اُن کے کان میں کچھ فرق آیا ہواتھا۔ 2
ابنِ سعد کی روایت میں اس طرح سے ہے کہ چھ مہینے گزر نے کے بعد میری طبیعت میں شدید تقاضا ہوا کہ میں انھیں الگ دفن کروں۔ چناںچہ میں نے انھیں قبر سے نکالا تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ زمین نے ان کے جسم کو بالکل نہیں کھایاتھا صرف کان کی لَوپر کچھ اثر تھا۔ اور ابنِ سعد کی دوسری روایت میں یہ ہے کہ مجھے ان کے جسم میں کوئی فرق نظرنہ آیا البتہ ان کی ڈاڑھی کے چند بالوں میں کچھ فرق تھا جوزمین سے لگے ہوئے تھے۔ 1
حضرت ابوزبیر کہتے ہیں: حضرت جابر ؓ نے فرمایا:جب حضرت معاویہؓ نے پانی کا چشمہ جاری کیاتو اعلان کیاگیا کہ ہم اپنے جنگِ اُحد کے شہیدوں کو منتقل کرلیں۔ چناںچہ ہم نے انھیں چالیس سال کے بعد نکالا تو ان کے جسم بالکل نرم تھے اور ان کے ہاتھ پائوں مڑجاتے تھے۔ 2
ابونُعَیم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ابوالزبیر کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا: لوگوں نے اپنے شہیدوں کو چالیس سال کے بعد قبروں سے نکالا تو وہ بالکل تروتازہ تھے۔ 3
ابنِ اسحاق نے ’’مغازی‘‘ میں اس قصہ کو ذکرکیا ہے۔ وہ کہتے ہیں: میرے والد نے انصار کے چند مشایخ سے نقل کیاہے کہ جب حضرت امیر معاویہ ؓ نے پانی کا وہ چشمہ چلایا جو شُہَدا کی قبروں کے پاس سے گزرتاتھا تو اس کا پانی ان قبروں میں جانے لگا۔ ہم نے جاکر حضرت عمرو اور حضرت عبداللہؓ کو نکالا تو ان پر دوچادریں تھیں جن سے ان کے چہروں کو ڈھانکا ہواتھا اور دونوں کے پیروں پر کچھ گھاس پڑی ہوئی تھی اور ان کے جسم اِدھر اُدھر مڑجاتے تھے اور ایسے معلوم ہوتاتھا کہ جیسے کل ہی یہ دونوں دفن کیے گئے ہوں۔ 4
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ کے زمانۂ خلافت میں ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: حضرت معاویہ کے کارندوں نے آپ کے والد کی قبر کو اکھاڑ پھینکا اور ان کے جسم کا کچھ حصہ ظاہر ہوگیا ہے۔ میں نے جاکر دیکھا تو وہ بالکل ویسے ہی تھے جیسے کہ میں نے اُن کو دفن کیاتھا اُن کے جسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ میدانِ جنگ میں جوزخم ان کو آئے تھے بس وہی تھے۔ اس کے بعد میں نے ان کو پھر دفن کردیا۔ 1
حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمرو بن جموح انصاری سُلَمی اور حضرت عبداللہ بن عمرو انصاری سُلَمی ؓ دونوں جنگِ اُحد میں شہید ہوئے اور دونوں کو ایک قبر میں دفن کیاگیاتھا۔ دونوں کی قبروں کے پاس سے ایک برساتی نالہ گزرتاتھا۔ ایک مرتبہ برساتی نالہ کے پانی سے ان حضرات کی قبر کھل گئی۔ اس پر جگہ بدلنے کے لیے ان کی قبر کو کھوداگیا تو ان حضرات کے جسموں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی اور ایسے معلوم ہوتاتھا کہ جیسے کل ہی دفن کیے گئے ہوں۔ دونوں میں سے ایک صاحب زخمی ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ زخم پر رکھ کر انھیں دفن کردیاگیاتھا۔ اب ان کا ہاتھ زخم سے ہٹا کر چھوڑاگیا تو وہ اپنی جگہ زخم پر واپس آگیا جیسے کہ پہلے تھا۔ قبر کھود نے کا یہ واقعہ جنگِ اُحد کے چھیالیس سال بعد پیش آیاتھا۔ 2
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سرخ رنگ کے تھے اور ان کے سر پر بال نہیں تھے اور ان کا قد لمبا نہیں تھا۔ اور حضرت عمرو بن جموح ؓ لمبے قد والے تھے، اس لیے جنگِ اُحد کے دن صحابہ نے دونوں حضرات کو پہچان لیا تھا اور دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیاتھا۔ ان حضرات کی قبر ایک برساتی نالہ کے قریب تھی۔ ایک مرتبہ اس کا پانی ان کی قبر میں داخل ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ان کی قبر کھودی گئی، تو دونوں حضرات پر دوکالی سفید دھاریوں والی چادریں تھیں۔ حضرت عبداللہؓ کے چہرے پر زخم تھا اور ان کا ہاتھ ان کے زخم پر رکھاہواتھا۔ جب ان کا ہاتھ زخم سے ہٹایا گیا تو خون پھر بہنے لگا اور جب زخم پر رکھاگیا تو خون رک گیا۔ حضرت جابر ؓ نے فرمایا: میں نے دیکھا تو ایسے لگا کہ جیسے میرے والد اپنی قبر میں سورہے ہوں اور ان کی جسمانی حالت میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ حضرت جابر ؓ سے پوچھاگیا کہ آپ نے ان کا کفن بھی دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا: ہاں، انھیں صرف ایک دھاری دار چادر میں کفن دیاگیاتھا جس سے ان کا چہرہ چھپ گیا تھا اور ان کے پائوں پر حرمل پودے ڈال دیے گئے تھے۔ ہمیں وہ چادر بھی اسی حال میں ٹھیک ملی اور ان کے پیروں پر حرمل پودے بھی اپنی اصلی حالت پر تھے، حالاںکہ دفنانے کے چھیالیس سال بعد ان کی قبر کھودی گئی تھی۔ 1
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: جب حضرت معاویہ ؓ نے جنگِ اُحد کے چالیس سال بعد اُحد کے شُہَدا کے پاس سے نہر چلائی تو ان کی طرف سے ہم شُہَدا کے وُرَثا میں اعلان کیاگیا کہ ہم اپنے شُہَدا کو سنبھال لیں۔ ہم نے وہاں جاکر انھیں نکالا۔ کدال حضرت حمزہ ؓ کے پائوں کو لگا تو اس میں سے خون بہنے لگا۔ 2
حضرت عمرو بن دینار اور حضرت ابو زبیر ؓ کہتے ہیں: کدال حضرت حمزہ ؓ کے پائوں کو لگا تو اس میں سے خون بہنے لگا، حالاںکہ ان کو دفن ہوئے چالیس سال ہوچکے تھے۔ 3
شیخ سمہودی کی تحقیق یہ ہے کہ یہ واقعہ تین مرتبہ پیش آیا۔ ایک مرتبہ دفن کے چھ مہینے بعد، دوسری مرتبہ چالیس سال بعد جب وہاں نہر چلائی گئی اور تیسری مرتبہ چھیالیس سال بعد جب برساتی نالہ کا پانی قبر میں داخل ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر واقعہ کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں اور یہ صحابہ کی کھلی کرامت ہے اور اسی وجہ سے یہ واقعہ باربار پیش آیا۔ 4