صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
مرنے کے بعد صحابۂ کرامؓ کے جسم کی حفاظت
حضرت عمرو بن اُمیَّہ ؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے اکیلے کو جاسوس بناکر قریش کی طرف بھیجا۔ میں حضرت خبیب ؓ کی (اس) لکڑی کے پاس گیا (جس پر حضرت خبیب کو سولی پر چڑھایاگیاتھا اور ان کا جسم ابھی تک اس پر لٹک رہاتھا) اور مجھے جاسوسوں کا بھی ڈرتھا کہ کہیں ان کو پتا نہ لگ جائے۔ چناںچہ لکڑی پر چڑھ کر میں نے حضرت خبیب کو کھولا جس سے وہ زمین پر گر گئے۔ پھر میں (چھپنے کے لیے) تھوڑی دور ایک طرف کو چلاگیا، پھر میں نے آکر دیکھا تو حضرت خبیب ؓ مجھے کہیں نظر نہ آئے اور ایسے لگا کہ جیسے زمین انھیں نگل گئی ہو اور اس وقت تک ان کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔ 2
حضرت عمرو بن اُمیَّہؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے مجھے اکیلے کو جاسوس بناکر بھیجاتھا۔ میں حضرت خبیب ؓکی لکڑی کے پاس گیا۔پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر کیا۔ 3
حضرت ضحّاکؓ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے حضرت مقداد اور حضرت زبیرؓ کو حضرت خبیب ؓ کو سولی کی لکڑی سے نیچے اتار نے کے لیے بھیجا۔ وہ دونوں تنعیم پہنچے (جہاں مکہ سے باہر حضرت خبیبؓکو سولی دی گئی تھی) تو انھیں وہاں حضرت خبیب ؓ کے ارد گرد چالیس آدمی نشہ میں بدمست ملے۔ ان دونوں نے حضرت خبیب کو لکڑی سے اُتارا پھر حضرت زبیر ؓ نے ان کی نعش کو اپنے گھوڑے پر رکھ لیا۔ ان کا جسم بالکل تروتازہ تھا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، پھر مشرکوں کو ان حضرات کا پتا چل گیا۔ انھوں نے ان حضرات کا پیچھا کیا۔ جب مشرکین ان کے پاس پہنچ گئے تو حضرت زبیر نے (مجبور ہوکر) حضرت خبیب کی نعش کو نیچے پھینک دیا جسے فوراً زمین نے نگل لیا، اسی وجہ سے حضرت خبیب کا نام بَلِیْعُ الْأَرْضِ رکھاگیا (اس کا ترجمہ یہ ہے: وہ آدمی جسے زمین نے نگل لیاتھا)۔ 1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس اُمّت میں ایسی تین باتیں پائی ہیں کہ وہ اگر بنی اسرائیل میں ہوتیں تو کوئی اُمّت ان کا مقابلہ اور برابری نہیں کرسکتی۔ اس کے بعد حدیث کا کچھ حصہ ابھی گزرا ہے اس کے بعد یہ مضمون ہے کہ کچھ عرصہ ہی گزرا ہی تھا کہ حضرت ابنِ حضرمی ؓ کا انتقال ہوگیا اور ہم نے غسل دے کر ان کا جنازہ تیار کردیا، پھر قبر کھود کر انھیں دفن کردیا۔ دفن کے بعد ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ ہم نے کہا: یہ اس زمانہ کے انسانوں میں سب سے بہترین ہیں، یہ حضرت ابنِ حضرمی ؓ ہیں۔ اس نے کہا: یہ زمین مُردوں کو باہر پھینک دیتی ہے، اگر آپ لوگ ان کو ایک دومیل دور لے جاکر دفن کردو تو اچھاہے، کیوںکہ وہاں کی زمین مُردوں کو قبول کرلیتی ہے۔ ہم نے کہا: ہمارے اس ساتھی کے لیے ان کے احسانات اور نیکی کا یہ بدلہ تو مناسب نہیں ہے کہ ہم انھیں یہاں دفن رہنے دیں، اس طرح تو ان کی نعش باہر آجائے گی اور انھیں درندے کھاجائیں گے۔ چناںچہ ہم سب نے اس پر اتفاق کیا کہ قبر کھودکر انھیں نکالاجائے اور دوسری جگہ دفن کیاجائے۔ ہم نے قبر کھودنی شروع کردی۔ جب ہم لحد پر پہنچے تو ہم دیکھ کر حیران رہ گئے، کیوںکہ لحد میں ان کی نعش موجودنہیں تھی اور اس میں تا حدِ نگاہ نور چمک رہاتھا۔ ہم نے لحد پر دوبارہ مٹی ڈال دی اور وہاں سے چل دیے۔ 2
حضرت ابوہریرہ ؓ نے بھی اس واقعہ کو بیان کیا ہے، اس میں یہ مضمون ہے کہ حضرت ابنِ حضرمی ؓ کو ہم لوگوں نے ریت میں دفن کردیا۔ وہاں سے کچھ دورہی ہم گئے تھے تو ہم نے کہا: کوئی درندہ آکر انھیں کھاجائے گا۔ ہم نے واپس آکر انھیں قبر میں دیکھاتو وہ ہمیں وہاں نظر نہ آئے۔ 1
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: ہم نے ان کے لیے تلواروں سے قبر کھودی، لیکن لحد نہ بنائی اور انھیں دفن کرکے آگے چل دیے۔ حضورﷺ کے ایک صحابی نے کہا: ہم نے ان کو دفن تو کردیاہے لیکن قبر میں ان کے لیے لحد نہیں بنائی، یہ ہم نے اچھا نہیں کیا۔ اس پر ہم لحد بنانے کے لیے واپس آئے تو ہمیں ان کی قبر کی جگہ ہی نہ ملی۔ 2
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: حضورﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر حضرت عاصم بن ثابت بن ابی الافلح ؓ کو امیر بنایا۔ پھر آگے حضرت خبیب بن عدی ؓ کا لمبا قصہ ذکر کیا ہے اور اس کے بعد یہ ہے کہ حضرت عاصم ؓ نے کہا: میں کسی مشرک کے عہد میں آنا نہیں چاہتا (آخر شہید ہوگئے)۔ انھوں نے اللہ سے یہ عہد کیاتھا کہ یہ کسی مشرک کو ہاتھ نہیں لگائیں گے اور نہ کوئی مشرک انھیں ہاتھ لگا سکے۔ حضرت عاصم نے جنگِ بدر کے دن قریش کے ایک بڑے سردار کو قتل کیا تھا، اس لیے قریش نے ایک جماعت بھیجی جواُن کے جسم کا کچھ حصہ کاٹ کر لائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیوں کا یا بھڑوں کا ایک غول بھیج دیا جس نے ان کے بدن کو چاروں طرف سے گھیر کر انھیں کافروں سے بچالیا۔ اسی وجہ سے انھیں حَمِيُّ الدَّبْر کہا جاتا تھا (اس کا ترجمہ ہے: وہ آدمی جسے شہد کی مکھیوں یا بھڑوں نے دشمن سے بچایا)۔3
حضرت عُروہ اسی قصہ میں یہ ذکرکرتے ہیں کہ مشرکوں نے اس بات کا ارادہ کیا کہ اُن کا سرکاٹ کر مشرکینِ مکہ کے پاس بھیج دیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھیاں یا بھڑیں بھیج دیں جنھوں نے انھیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ وہ مشرکوں کے چہروں پر اُڑتی تھیں اور انھیں کاٹتی تھیں، اس طرح انھوں نے مشرکوں کو حضرت عاصم ؓ کا سرکاٹنے نہ دیا۔ 4