صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

پانی میں برکت

حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: عصر کا وقت ہوگیا تو لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا، لیکن پانی بالکل نہ ملا۔ میں نے دیکھا حضورﷺ کے پاس وضو کا تھوڑا ساپانی لایاگیا۔ حضورﷺ نے اس پانی میں اپنا ہاتھ رکھ دیا اور لوگوں سے فرمایا کہ وہ اس برتن سے پانی لے کر وضوکریں۔ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ کی انگلیوں کے نیچے سے پانی پھوٹ رہا تھا اور اس تھوڑے سے پانی سے تمام لوگوں نے وضوکرلیا۔ 2 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: نماز کے لیے اذان ہوئی تو جن کے گھر مسجد سے قریب تھے وہ تو اٹھ کر اپنے گھر وضو کرنے چلے گئے اور جن کے گھر مسجد سے دور تھے وہ مسجد میں باقی رہ گئے۔ حضورﷺ کے پاس پتھر کا ایک پیالہ لایاگیا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اس میں حضورﷺ کا ہاتھ پھیل کر نہیں آسکتاتھا۔ آخر حضورﷺ نے انگلیاں سمیٹ کر اس میں ہاتھ ڈالا (تو ان میں سے پانی نکلنے لگا اور) جتنے آدمی باقی رہ گئے تھے ان سب نے اس پانی سے وضوکرلیا۔ حضرت حُمید راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس ؓ سے پوچھا گیا کہ یہ وضوکرنے والے کتنے تھے؟ فرمایا: اَسّی یا اس سے بھی زیادہ تھے۔ یہ روایت بخاری میں ہے۔ بخاری میں اس جیسی ایک اور روایت بھی ہے۔ ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا: حضور ﷺ مدینہ میں زَوراء نامی جگہ میں تھے۔ وہاں آپ کے پاس ایک برتن لایاگیا۔ آپ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا تو پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان میںسے پھوٹنے لگاجس سے سب نے وضوکرلیا۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں: میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا: آپ لوگ کتنے تھے؟ انھوں نے فرمایا: تین سو یا تین سو کے قریب۔ 1 حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں: صلحِ حُدَیبیَّہ کے موقع پر ہم لوگ چودہ سوتھے۔ حُدَیبیَّہ ایک کنواں ہے ہم نے اس میںسے پانی نکالا اور اتنا نکالا کہ اس میں ایک قطرہ پانی نہ بچا۔ حضورﷺ (کو پتا چلا کہ کنوئیں میں پانی بالکل ختم ہوگیا تو آپ) اس کنویں کے ایک کنارے پربیٹھ گئے اور پانی منگواکر اس سے کلی کی اور کلی کا پانی کنوئیں میں پھینک دیا تو تھوڑی ہی دیر میں کنواں پانی سے بھرگیا۔ ہم نے خود بھی پیا اور اپنی سواریوں کو بھی پلایا یہاں تک کہ ہم بھی سیراب ہوگئے اور ہماری سواریاں بھی۔ 2 جلداوّل صفحہ ۲۰۰ پر بخاری کے حوالہ سے صلحِ حُدَیبیَّہ کا یہ قصہ حضرت مِسور اور حضرت مروان کی روایت سے گزرچکاہے۔ 3 حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں: صلحِ حُدَیبیَّہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی اور حضور ﷺ کے سامنے ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے۔ لوگ رونی صورت بناکر حضورﷺ کے پاس آئے۔ حضورﷺ نے پوچھا: آپ لوگوں کو کیا ہوا؟ لوگوں نے عرض کیا: نہ وضو کے لیے پانی ہے اور نہ پینے کے لیے، صرف یہی پانی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ حضور ﷺ نے اس پیالہ میں اپنا ہاتھ رکھا تو چشمہ کی طرح حضورﷺ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی ابلنے لگا۔ چناںچہ ہم نے وہ پانی پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: آپ لوگ کتنے تھے؟ حضرت جابر ؓ نے فرمایا: ہم تھے تو پندرہ سو، لیکن اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا۔ 1 حضرت ابنِ مسعود ؓ فرماتے ہیں: ہم حضورﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ اتنے میں نماز کا وقت ہوا اور ہمارے پاس تھوڑاساپانی تھا۔ حضورﷺ نے پانی منگواکر ایک پیالہ میں ڈالا، پھر حضورﷺ نے اس پیالہ میں اپنا ہاتھ ڈالاتو حضورﷺ کی انگلیوں کے درمیان میں سے پانی پھوٹنے لگا۔ پھر حضورﷺ نے اعلان فرمایا: غور سے سنو! آؤ وضو کرلو اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی برکت حاصل کرلو۔ لوگ آ آکر وضو کرنے لگے اور میں لوگوں سے آگے بڑھ بڑھ کر وہ پانی پینے لگا، کیوںکہ حضورﷺ نے فرمایا تھا: اللہ کی طرف سے آئی ہوئی برکت حاصل کرلو۔ 2 حضرت ابوقتادہ ؓ فرماتے ہیں: ہم ایک سفرمیں حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ حضور ﷺ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے پاس وضو کا برتن ہے جس میں تھوڑا سا پانی ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اسے لاؤ۔ میں وہ برتن حضورﷺ کی خدمت میں لے گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی لے لو۔ پھر حضورﷺ نے وضو فرمایا، پھر اس برتن میں ایک گھونٹ پانی بچ گیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے ابو قتادہ! اسے سنبھال کر رکھو، عن قریب اس پانی کے ساتھ عجیب وغریب واقعہ پیش آئے گا۔ جب دوپہر کو گرمی سخت ہوئی تو حضورﷺ اٹھے اور حضورﷺ پر لوگوں کی نظر پڑی۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو پیاس کے مارے ہلاک ہوگئے۔ ہماری گردنیں ٹوٹ گئیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، تم ہلاک نہیں ہوسکتے۔ پھر فرمایا: اے ابوقتادہ! وہ وضو کا برتن لے آؤ۔ میں وہ برتن حضور ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ حضورﷺ نے فرمایا: میرا پیالہ کھول کرلے آؤ۔ میں کھول کرلے آیا۔ حضورﷺ برتن میں سے اس پیالے میں ڈال کر لوگوں کو پلانے لگے اور حضور ﷺ کے اردگرد لوگوں کی بہت زیادہ بھیڑ ہوگئی۔ آپ نے فرمایا: اے لوگو! اچھے اخلاق اختیار کرو (ایک دوسرے کو دھکے مت دو)، تم میں سے ہر ایک سیراب ہوکر ہی واپس جائے گا۔ چناںچہ سب نے پانی پی لیا اور میرے اور حضورﷺ کے علاوہ کوئی اور نہ بچا۔ آپ نے میرے لیے پانی ڈال کر فرمایا: اے ابوقتادہ! تم بھی پی لو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نوش فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، لوگوں کو جو پلاتاہے وہ سب سے آخر میں پیتاہے۔ چناںچہ پہلے میں نے پیا پھر میرے بعد حضورﷺ نے پیا اور وضو کے برتن میں اتنا پانی بچا ہوا تھا جتنا پہلے تھا، اور ان پینے والوں کی تعداد تین سو تھی۔ ابراہیم بن حجاج راوی کی حدیث میں یہ ہے کہ پینے والے سات سوتھے۔ 1 مسلم میں غزوۂ تبوک کے بارے میں حضرت معاذ بن جبل ؓکی حدیث منقول ہے جس میں پہلے تو دو نمازوں کو جمع کرنے کا ذکر ہے، اس کے بعد یہ ہے کہ پھر حضورﷺ نے فرمایا: ان شاء اللہ کل تم لوگ تبوک کے چشمے پر پہنچ جائو گے اور وہاں تک پہنچتے پہنچتے چاشت کا وقت ہوہی جائے گا۔ تم میں سے جو بھی اس چشمہ پر پہنچ جائے وہ میرے آنے تک اس کے پانی کو ہاتھ بالکل نہ لگائے۔ چناںچہ جب ہم چشمہ پر پہنچے تو ہم سے پہلے دوآدمی وہاں پہنچے ہوئے تھے اور چشمہ سے جوتے کے تسمہ کی طرح تھوڑا تھوڑا پانی بہہ رہاتھا۔ حضورﷺ نے ان دونوں سے پوچھا: کیا تم دونوں نے اس چشمے کے پانی کو ہاتھ لگایاہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں لگایاہے۔ اس پر آ پ نے ان دونوں کو کچھ برا بھلا کہا۔ پھر (حضورﷺ کے فرمانے پر) لوگوں نے چلوؤں سے تھوڑا تھوڑا پانی ایک برتن میں جمع کیا، پھر حضورﷺ نے اس برتن میں اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر وہ پانی اس چشمہ میں ڈال دیا۔ پانی ڈالتے ہی اس چشمہ میں سے زور شور سے بہت زیادہ پانی بہنے لگا جسے پی کر سب لوگ سیراب ہوگئے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: اے معاذ! اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ یہ ساری جگہ باغوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ 2 حضرت عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں: صحابۂ کرام ؓ حضورﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ پھر آگے اور حدیث ذکرکی، اس کے بعد حضرت عمران ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں بہت زیادہ پیاس لگی۔ ہم حضورﷺ کے ساتھ جارہے تھے کہ اتنے میں ہمیں ایک عورت ملی جو دو بڑی مشکوں کے درمیان پائوں لٹکائے ہوئے اونٹنی پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ہم نے اس سے پوچھا:پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا:یہاں تو کہیں پانی نہیں ہے۔ ہم نے اس سے کہا: تمہارے گھر سے پانی کتنے فاصلہ پر ہے؟ اس نے کہا: ایک دن ایک رات کی مسافت پر ہے۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ کے پاس چلو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول کون ہوتے ہیں؟ ہم نے اسے نہ کچھ کرنے دیا، نہ بولنے دیا اور نہ بھاگنے دیا، بلکہ اس پر قابو پاکر اسے حضورﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ اس نے حضورﷺ کے سامنے بھی ویسی باتیں کیں جیسی ہمارے سامنے کی تھیں، البتہ اس نے یہ بھی حضورﷺ کو بتایا کہ اس کے بچے یتیم ہیں۔ حضور ﷺ کے فرمانے پر اس کی دونوں بڑی مشکیں ہم حضورﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ حضور ﷺ نے ان مشکوں کے منہ پر دستِ مبارک پھیرا۔ ہم چالیس آدمی تھے اور سخت پیاسے تھے۔ پہلے تو ان مشکوں سے ہم سب نے خوب سیر ہوکر پیا، پھر ہمارے ساتھ جتنے مشکیزے اور برتن تھے وہ سب بھر لیے اور اتنے زیادہ بھرے کہ بالکل پھٹنے والے ہوگئے تھے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: جو کچھ تم لوگوں کے پاس ہے وہ لے آؤ۔ چناںچہ ہم نے روٹی کے ٹکڑے اور کھجوریں جمع کرکے اس عورت کو دے دیں۔ پھر وہ عورت اپنے گھروالوں کے پاس گئی اور انھیں بتایا کہ میں یا تو سب سے بڑے جادوگر سے مل کر آئی ہوں یا پھر وہ سچ مچ نبی ہیں جیسے کہ ان کے ساتھی کہہ رہے تھے۔ چناںچہ اس عورت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس ڈیرے والوں کو ہدایت عطافرمائی، اور وہ عورت بھی مسلمان ہوگئی اور ڈیرے والے بھی مسلمان ہوگئے۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم دونوں نے ذکرکیاہے۔ ان دونوں کی دوسری حدیث میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے اس عورت سے فرمایا: یہ کھانے کا سامان اپنے ساتھ اپنے بچوں کے لیے لے جاؤ اور تمھیں معلوم ہوناچاہیے کہ ہم نے تمہارے پانی میں سے کچھ نہیں لیا، ہمیں تو یہ ساراپانی اللہ نے اپنے غیبی خزانے سے پلایا ہے۔1 حضرت زیاد بن حارث صدائی ؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے کہا: ہے لیکن تھوڑا ہے، آپ کو کافی نہیں ہوگا۔ حضورﷺ نے فرمایا: کسی برتن میں ڈال کر میرے پاس لے آئو۔ میں آپ کی خدمت میں لے آیا۔ آپ نے اپنا دستِ مبارک اس میں رکھا تو میں نے دیکھا کہ حضورﷺ کی ہر دو انگلیوں کے درمیان میں سے پانی کا چشمہ پھوٹ رہاہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر مجھے اپنے ربّ سے حیا نہ آتی تو ہم یوں ہی پانی پیتے پلاتے رہتے (کیوںکہ یوں جسم سے پانی نکلنے میں شانِ ربوبیت کا شائبہ ہے، اس لیے اس معجزہ کا تھوڑی دیر کے لئے ہوناہی مناسب ہے)۔ جاؤ اور جاکر میرے صحابہ میں اعلان کردو کہ جو بھی پانی لینا چاہتا ہے، وہ جتنا چاہے آکر چلّو بھر بھر کر لے لے۔ حضرت زیاد ؓ کہتے ہیں: میری قوم کا ایک وفد مسلمان ہوکر فرماں بردار بن کر حضور ﷺ کی خدمت میں آیا۔ وفد کے ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا ایک کنواں ہے۔ سردیوں میں تو وہ ہمیں کافی ہوجاتاہے اس لیے سردیوں میں تو ہم اس کنوئیں کے پاس جمع ہوجاتے ہیں اور گرمیوں میں اس کا پانی کم ہوجاتاہے تو پھر ہم اپنے اردگردکے چشموں پر بکھر جاتے ہیں، لیکن اب ہم بکھر نہیں سکتے کیوںکہ ہمارے اردگردکے تمام لوگ (اسلام لانے کی وجہ سے) ہمارے دشمن ہوگئے ہیں۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ اس کا پانی ہمیں گرمیوں میں بھی کافی ہوجایاکرے۔ حضور ﷺ نے سات کنکریاں منگوائیں اور ان کو اپنے ہاتھ پر الگ الگ رکھ کر دعاکی،پھر فرمایا:جب تم لوگ کنوئیں کے پاس پہنچو تو کنکریاں ایک ایک کر کے اس میں ڈال دو اور ان پر اللہ کا نام لیتے رہو۔ چناںچہ واپس جاکر انھوں نے ایسا ہی کیا تو اللہ نے اس کنوئیں کا پانی اتنا زیادہ کردیا کہ پھر انھیں اس کنوئیں کی گہرائی کبھی نظر نہیں آئی۔ 1 حضرت ابوعون کہتے ہیں: جب حضرت حسین بن علی ؓ مکہ کے ارادے سے مدینہ سے نکلے تو وہ ابنِ مطیع کے پاس سے گزرے جو اپنا کنواں کھود رہے تھے۔ آگے اور حدیث ذکر کی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ ابنِ مطیع نے ان سے کہا: میں نے اپنے اس کنوئیں کو اس لیے ٹھیک کیا ہے تاکہ اس میں دوبارہ پانی آجائے، لیکن ابھی تک ڈول خالی ہی نکلا ہے اس میں کچھ پانی نہیں آیا۔ اگر آپ ہمارے لیے اس کنوئیں میں اللہ سے برکت کی دعا کردیں تو آپ کی بہت مہربانی ہوگی۔ حضرت حسین ؓ نے فرمایا: کنوئیں کا تھوڑاسا پانی لاؤ۔ ابنِ مطیع ڈول میں اس کنوئیں کا تھوڑا ساپانی لائے۔ حضرت حسین ؓ نے اس میں سے کچھ پانی پیا، پھر کلّی کی پھر وہ پانی اسی کنوئیں میں ڈال دیا تو اس کنویں کا پانی میٹھا بھی ہوگیا اور زیادہ بھی ہوگیا۔ 1