صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
صحابۂ کرام ؓ کے غلوں اور پھلوں میں برکت
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: قبیلۂ دَوس کی ایک عورت تھیں جنھیں اُمِّ شریک کہاجاتاتھا۔ وہ رمضان میں مسلمان ہوئیں پھر انھوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ سفر میں ایک یہودی بھی ساتھ تھا۔ انھیں سخت پیاس لگی یہودی کے پاس پانی تھا۔ انھوں نے اس سے پانی مانگا۔ اس نے کہا: جب تک تم یہودی نہیں ہوجائوگی تمھیں پانی نہیں پلائوں گا۔ یہ سوگئیں تو خواب میں دیکھا کہ کوئی انھیں پانی پلارہاہے۔ جب یہ اُٹھیں تو یہ بالکل سیراب ہوچکی تھیں اور پیاس بالکل ختم ہوچکی تھی۔ جب یہ حضورﷺ کی خدمت میں پہنچیں تو سارا قصہ حضورﷺ کو سنایا۔ حضورﷺ نے ان کو شادی کا پیغام دیا۔ انھوں نے اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھا اور عرض کیا: آپ اپنے علاوہ جس سے چاہیں میری شادی کردیں۔ حضورﷺ نے ان کی حضرت زید ؓ سے شادی کردی اور حضورﷺ نے حکم دیا کہ انھیں تیس صاع (تقریبًا اَڑھائی من) جَو دیا جائے اور فرمایا: اسے کھاتے رہو، لیکن اسے کسی پیمانے سے مت ناپنا۔ اور ان کے ساتھ گھی کی ایک کپّی تھی جسے وہ حضورﷺ کے لیے ہدیہ کے طور پر لائی تھیں۔ حضرت اُمِّ شریک ؓ نے اپنی باندی سے کہا کہ یہ حضورﷺ کی خدمت میں لے جائو۔ اس باندی نے جاکر حضور ﷺ کے گھر میں وہ کپّی خالی کردی اور گھی حضورﷺ کے برتن میں ڈال دیا۔ حضور ﷺ نے باندی سے کہا: اس کپّی کو گھر جاکر لٹکا دینا اور اس کا منہ ڈوری سے بند نہ کرنا۔ اس باندی نے ایسے ہی کیا۔ حضرت اُمِّ شریک نے اندر آکر دیکھا تو کپّی گھی سے بھری ہوئی تھی۔ انھوں نے باندی سے کہا کہ میں نے تم سے نہیں کہاتھا کہ جاکر یہ کپّی حضور ﷺ کی خدمت میں دے آئو۔ باندی نے کہا: میں تو دے آئی ہوں۔ انھوں نے حضور ﷺ کو یہ بات بتائی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اس کپّی کا منہ کبھی بند نہیں کرنا۔ چناںچہ بہت عرصہ تک یہ لوگ اس میں سے گھی نکال کر کھاتے رہے۔ آخر ایک دفعہ حضرت اُمِّ شریکؓ نے اس کپّی کا منہ بند کردیا پھر یہ سلسلہ بند ہوا۔ پھر ان لوگوں نے جَو کو پیمانہ سے ناپا تو وہ بھی تیس صاع ہی تھے کچھ کم نہ ہوئے تھے۔ 1
حضرت یحییٰ بن سعید کہتے ہیں: حضرت اُمِّ شریک دَوسیہؓ نے ہجرت کی۔ راستہ میں ایک یہودی کا ساتھ ہوگیا۔ یہ روزے سے تھیں اور شام ہوچکی تھیں۔ یہودی نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تو نے اس عورت کو پانی پلایا تو میں تیری اچھی طرح خبرلوںگا۔ آخر یہ پیاسی ہی سوگئیں۔ رات کے آخری حصہ میں اُن کے سینے پر ایک ڈول اور ایک تھیلا (اللہ کی طرف سے) لاکر رکھاگیا۔ انھوں نے اس ڈول میں سے خوب پانی پیا، پھر انھوں نے اس یہودی کو اور اس کی بیوی کو اٹھایا تاکہ رات کے آخری حصے میں سفر شروع کرسکیں۔ یہودی نے کہا: مجھے اس عورت کی آواز سے لگ رہاہے کہ جیسے اس نے پانی پی لیا ہو۔ حضرت اُمِّ شریک نے کہا: پانی تو میں نے ضرور پیا ہے، لیکن اللہ کی قسم! تمہاری بیوی نے مجھے پانی نہیں پلایاہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت اُمِّ شریکؓ کی ایک گھی کی کپّی تھی۔ اس کے بعد گھی میں برکت کا قصہ ذکرکیا۔ 2
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: ایک آدمی نے آکر حضورﷺ سے غلہ مانگا۔ حضورﷺ نے اسے آدھا وَسق جو دیے (ایک وَسق ۵ من ۱۰ سیر کاہوتاہے، لہٰذا آدھا وَسق ۲ من۲۵ سیر کا ہوا)۔ وہ آدمی، اس کی بیوی اور اس کا خادم بہت عرصے تک یہ جَو کھاتے رہے، پھر ایک دن اسے پیمانہ سے ناپ لیا۔ حضورﷺ کو پتا لگا تو آپ نے فرمایا: اگر تم لوگ اسے نہ ناپتے تو اسے ہمیشہ کھاتے رہتے اور یہ جَوختم نہ ہوتے اور ہمیشہ باقی رہتے۔ 1
حضرت نوفل بن حارث بن عبدالمطّلب ؓ فرماتے ہیں: میں نے حضورﷺ سے اپنی شادی کے بارے میں مدد چاہی۔ آپ نے ایک عورت سے میری شادی کردی اور مجھے دینے کے لیے آپ نے تلاش کیاتو آپ کو کچھ نہ ملا۔ آپ ﷺ نے اپنی زِرہ دے کر حضرت ابورافع اور حضرت ابویوب ؓ کو بھیجا۔ انھوںنے ایک یہودی کے پاس وہ زِرہ رہن رکھی اور اس سے تیس صاع (۲من ۲۵ سیر) جَو اُدھار لے کر حضورﷺ کی خدمت میں آئے۔ حضورﷺ نے وہ جَو مجھے دے دیے۔ ہم یہ جَو چھ مہینے تک کھاتے رہے، پھرہم نے وہ جَو پیمانہ سے ناپے تو وہ اتنے ہی نکلے جتنے ہم لے کر آئے تھے کچھ کم نہ ہوئے۔ میں نے اس بات کا حضورﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم اسے نہ ناپتے تو جب تک زندہ رہتے اس میں سے کھاتے رہتے۔ 2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: جب حضورﷺ کا انتقال ہوا تو اس وقت میرے پاس انسان کے کھانے کے قابل کوئی چیز نہیں تھی۔ بس صرف کچھ جَو تھے جو میرے طاق میں رکھے ہوئے تھے جنھیں میں بہت عرصے تک کھاتی رہی۔ پھر ایک دن میں نے انھیں تولا تو اس کے بعد وہ ختم ہوگئے۔ 3
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں: میرے والد صاحب کا انتقال ہوا تو ان پر قرضہ تھا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: میرے والد اپنے ذمہ قرض چھوڑکرگئے ہیں، قرض اداکرنے کے لیے میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ والد صاحب کا کھجوروں کا ایک باغ ہے بس اس کی آمدن ہے اور اس کی آمدن اتنی کم ہے کہ کئی سالوں میں قرض ادا ہوگا۔ آپ میرے ساتھ تشریف لے چلیں تاکہ قرض خواہ مجھے برا بھلا نہ کہہ سکیں۔ چناںچہ آپ میرے ساتھ تشریف لے گئے اور کھجور کے ایک ڈھیر کے گرد چکر لگایا اور دعا فرمائی۔ پھر دوسرے ڈھیر کے گرد چکر لگایا، پھر اس کے پاس بیٹھ گئے اور قرض خواہوں سے فرمایا: اس میں سے لینا شروع کرو۔ (حضورﷺ نے ان کو دینا شروع کیا) اور ان سب کو ان کے قرض کے مطابق پورا پورا دے دیا اور جتنا انھیں دیا اتنا بچ بھی گیا۔ 1
ابو نُعَیم کی روایت میں ہے کہ حضورﷺ اس ڈھیر کے پاس گئے، پھر فرمایا: جائو اور اپنے قرض مانگنے والے ساتھیوں کو بلا لائو۔ میں انھیں بلا لایا اور حضورﷺ انھیں تول تو ل کر دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کا سارا قرضہ ادا کروا دیا۔ حالاںکہ اللہ کی قسم! میں تو اس بات پر بھی راضی تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کا سارا قرضہ اُتروا دیتے اور میں ایک بھی کھجور اپنی بہنوں کے پاس واپس لے کر نہ جاتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے کھجور کے سارے ڈھیر بچا دیے، بلکہ مجھے تو وہ ڈھیر جس پر حضورﷺ بیٹھے تھے وہ بھی صحیح سالم نظر آرہاتھا اور ایسے لگ رہاتھا کہ جیسے اس میں سے ایک کھجور بھی کم نہ ہوئی ہو۔
حضرت سعد بن میناء کہتے ہیں: حضرت بشیر بن سعد ؓ کی بیٹی جوکہ حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی بہن ہیں وہ فرماتی ہیں: مجھے میری والدہ حضرت عمرہ بنت رواحہ ؓ نے بلایااور مٹھی بھر کھجوریں میری جھولی میں ڈال کر فرمایا: اے بیٹی! اپنے والد اور اپنے ماموں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے پاس ان کا دوپہر کا کھانا لے جائو۔میں وہ کھجوریں لے کر چل پڑی اور اپنے والد اور ماموںکو ڈھونڈتی ہوئی حضورﷺ کے پاس سے گزری۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے بیٹی! یہاں آئو، یہ تمہارے پاس کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ کھجوریں ہیں جنھیں دے کر میری والدہ نے میرے والد اور ماموں کے پاس بھیجاہے تاکہ وہ یہ کھالیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: مجھے دے دو۔ میں نے وہ کھجوریں حضورﷺ کے دونوں ہاتھوں میں ڈال دیں۔ وہ کھجوریں اتنی تھوڑی تھیں کہ ان سے حضورﷺ کے دونوں ہاتھ بھر نہ سکے۔ پھر آپ کے حکم پر ایک کپڑا بچھایاگیا جس پر آپ نے وہ کھجوریں ڈال دیں۔ وہ کھجوریں کپڑے پر بکھر گئیں۔ ایک آدمی حضور ﷺ کے پاس تھا آپ نے اس سے فرمایا: خندق والوں میں اعلان کردو کہ کھانے کے لیے آجائیں۔ چناںچہ خندق والے سب جمع ہوگئے اور کھجوریں کھانی شروع کردیں تو کھجوریں بڑھتی جارہی تھیں یہاں تک کہ سب خندق والے کھاکر واپس چلے گئے اور کھجوریں اتنی زیادہ ہوگئی تھیں کہ کپڑے سے نیچے گررہی تھیں۔ 1
حضرت عِرباض ؓ فرماتے ہیں: میں سفر میں، حضر میں ہمیشہ حضورﷺ کے دروازے پر پڑا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم تبوک میں تھے، ہم رات کو کسی کام سے کہیں گئے۔ جب ہم حضور ﷺ کی خدمت میں واپس آئے تو آپ بھی اور آپ کے پاس جتنے صحابہ تھے وہ سب بھی رات کا کھانا کھا چکے تھے۔ حضورﷺ نے مجھ سے پوچھا: آج رات تم کہاں تھے؟ میں نے آپ کو بتایا۔ اتنے میں حضرت جُعال بن سُراقہ اور حضرت عبداللہ بن مَعْقل مُزَنیؓبھی آگئے اور یوں ہم تین ہوگئے اور تینوں کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ حضورﷺ حضرت اُمِّ سلمہؓ کے خیمے میں تشریف لے گئے اور اُن سے ہمارے کھانے کے لیے کوئی چیز طلب فرمائی، لیکن آپ کو کچھ نہ ملا۔ پھر پکار کر آپ نے حضرت بلال ؓ سے فرمایا: کچھ ہے؟ حضرت بلال چمڑے کے تھیلے پکڑ کر جھاڑنے لگے تو ان میں سے سات کھجوریں نکل آئیں۔ حضورﷺ نے وہ کھجوریں ایک بڑے پیالے میں ڈالیں اور پھر ان پر ہاتھ مبارک رکھا اور اللہ کا نام لیا اور فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھائو۔ ہم نے وہ کھجوریں کھائیں۔ میں کھجوریں گنتا جارہاتھا اور ان کی گٹھلیاں دوسرے ہاتھ میں پکڑتا جارہاتھا۔ میں نے گناتو میں نے (۵۴) کھجوریں کھائی تھیں۔ میرے دونوں ساتھی بھی میری طرح ہی کررہے تھے اور کھجوریں گن رہے تھے۔ انھوں نے پچاس پچاس کھجوریں کھائی تھیں۔ جب ہم نے کھانے سے ہاتھ ہٹائے تو ساتوں کھجوریں ویسی کی ویسی تھیں۔ حضورﷺ نے فرمایا: اے بلال! ان کو اپنے تھیلے میں رکھ لو۔ جب دوسرادن ہوا تو حضور ﷺ نے وہ کھجوریں پیالہ میں ڈالیں اور فرمایا: اللہ کا نام لے کر کھائو۔ ہم دس آدمی تھے ہم نے پیٹ بھرکر وہ کھجوریں کھائیں پھر جب ہم نے کھانے سے ہاتھ ہٹائے تو وہ کھجوریں اسی طرح سات تھیں۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر مجھے اپنے ربّ سے حیا نہ آتی تو ہم سب مدینہ پہنچنے تک یہی کھجوریں کھاتے رہتے۔ حضورﷺ جب مدینہ پہنچ گئے تو مدینہ کا ایک چھوٹاسالڑکا آپ کے سامنے آیا۔ آپ نے یہ کھجوریں اسے دے دیں وہ کھجوریں کھاتاہوا چلاگیا۔ 1
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: اسلام میں مجھ پر تین ایسی بڑی مصیبتیں آئی ہیں کہ ویسی کبھی بھی مجھ پر نہیں آئیں۔ ایک تو حضورﷺ کے انتقال کا حادثہ، کیوںکہ میں آپ کا ہمیشہ ساتھ رہنے والا معمولی سا ساتھی تھا۔ دوسرے حضرت عثمان ؓ کی شہادت کا حادثہ۔ تیسرے توشہ دان کا حادثہ۔ لوگوں نے پوچھا: اے ابوہریرہ! توشہ دان کے حادثہ کا کیا مطلب؟ فرمایا: ہم ایک سفر میں حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے کہا: توشہ دان میں کچھ کھجوریں ہیں۔ آپ نے فرمایا:لے آئو۔ میں نے کھجوریں نکال کر آپ کی خدمت میں پیش کردیں۔ آپ نے ان پر ہاتھ پھیرا اور برکت کے لیے دعافرمائی، پھر فرمایا: دس آدمیوں کو بلاکر لائو۔ میں دس آدمیوں کو بلالایا۔ انھوں نے پیٹ بھر کرکھجوریں کھائیں، پھر اسی طرح دس دس آدمی آکرکھاتے رہے یہاںتک کہ سارے لشکر نے کھالیا اور توشہ دان میں پھر بھی کھجوریں بچ رہیں۔ آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! جب تم اس توشہ دان میں سے کھجوریں نکالناچاہوتو اس میں سے ہاتھ ڈال کر نکالنا اور اسے اُلٹانا نہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: میں حضورﷺ کی ساری زندگی میں اس سے نکال کر کھاتارہا، پھر حضرت ابوبکر ؓ کی ساری زندگی میں اس میں سے کھاتارہا، پھر حضرت عمر ؓ کی ساری زندگی میں اس میں سے کھاتارہا، پھر حضرت عثمانؓ کی ساری زندگی میں اس میں سے کھاتا رہا۔ پھر جب حضرت عثمان شہید ہوگئے تو میرا سامان بھی لٹ گیا اور وہ توشہ دان بھی لٹ گیا۔ کیا میں آپ لوگوں کو بتا نہ دوں کہ میں نے اس میں سے کتنی کھجوریں کھائی ہیں؟ میں نے اس میں سے دو سو وَسق یعنی ایک ہزار پچاس من سے بھی زیادہ کھجوریں کھائی ہیں۔ 2
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں: میری والدہ مجھے حضورﷺ کے پاس لے گئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آپ کا چھوٹا سا خادم ہے اس کے لیے دعافرمادیں۔ تو حضورﷺ نے یہ دعافرمائی: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ فرما، اور اس کی عمر لمبی فرما، اور اس کے تمام گناہ معاف فرما۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میں اپنے دو کم سو یعنی (۹۸) بچے دفن کرچکا ہوں، یا فرمایا: دو اوپر سو یعنی (۱۰۲) بچے دفن کرچکا ہوں اور میرے باغ کا پھل سال میں دو مرتبہ آتاہے اور میری زندگی اتنی لمبی ہوچکی ہے کہ اب زندگی سے دل بھر چکاہے۔ (۹۳ہجری میں ان کا بصرہ میں (۱۰۳) سال کی عمر میں انتقال ہوا) اور حضورﷺ کی چوتھی دعا کے پوراہونے کا مجھے یقین ہے یعنی گناہوں کی مغفرت کی دعا۔ 1
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں: میری والدہ اُمِّ سُلَیم ؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! انس کے لیے دعافرمائیں۔ حضورﷺ نے یہ دعا فرمائی: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ فرما، اور ان میں برکت عطافرما۔ تو میں پوتوں کے علاوہ اپنے ایک سو پچیس (۱۲۵)بچے دفن کرچکا ہوں، اور میری زمین سال میں دو مرتبہ پھل دیتی ہے، اور سارے علاقہ میں اور کوئی زمین سال میں دودفعہ پھل نہیں دیتی۔ 2