صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

زہر کے اثر کا چلے جانا

حضرت ابوسفر کہتے ہیں: حضرت خالد بن ولید ؓ فارس کے ایک گورنر کے ہاں مہمان بنے۔ لوگوں نے ان سے کہا: ان عجمی لوگوں سے بچ کے رہنا کہیں یہ آپ کو زہر نہ پلادیں۔ انھوں نے فرمایا: ذرا وہ زہر میرے پاس لائو۔ لوگ زہر لے آئے۔ انھوں نے وہ زہر ہاتھ میں لیا اور بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ کر سارا نگل گئے ان پر زہر کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ 3 ’’اِصابہ‘‘ کی روایت میں یہ ہے کہ زہر حضرت خالد ؓ کے پاس لایاگیا۔ انھوں نے اسے اپنی ہتھیلی پر رکھا اور بِسْمِ اللّٰہِ پڑھ کر اسے پی گئے ان پر اس کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ 4 حضرت ذی الجوشن ضِبابی ؓ وغیرہ حضرات فرماتے ہیں: (عمرو) ابنِ بُقَیلہ کے ساتھ اس کا ایک خادم تھا جس کی پیٹی میں ایک تھیلی لٹکی ہوئی تھی۔ حضرت خالد ؓ نے وہ تھیلی لی اور اس میں جو کچھ تھا وہ اپنی ہتھیلی پر ڈالا اور عمرو سے کہا: اے عمرو! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایسا زہر ہے جو انسان کو فوراً مار دیتاہے۔ حضرت خالد ؓ نے کہا: تم نے زہر اپنے ساتھ کیوں رکھا ہوا ہے؟ اس نے کہا: مجھے یہ خطرہ تھا کہ آپ لوگوں کو میری رائے کے خلاف فتح مل جائے گی تو میں اس سے پہلے ہی زہر کھاکر مرجائوںگا، کیوںکہ یوں خودکشی کرلینا مجھے اپنی قوم اور اپنے شہروالوں کی ذلت آمیز شکست کا ذریعہ بننے سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت خالد ؓ نے فرمایا: کوئی انسان اپنے وقت سے پہلے نہیں مرسکتا۔ پھر حضرت خالد ؓ یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ خَیْرِ الْأَسْمَائِ رَبِّ الْأَرْضِ وَرَبِّ السَّمَائِ الَّذِيْ لَیْسَ یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ دَائٌ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اللہ کا نام لے کر میں یہ زہر پیتا ہوں، لفظ اللہ اس کے ناموں میں سب سے بہترین نام ہے جو زمین اور آسمان کا ربّ ہے، اور اس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ نہایت مہربان اور بہت رحم کرنے والاہے۔ اس پر لوگ حضرت خالد ؓ کو روکنے کے لیے آگے بڑھے، لیکن حضرت خالد ؓ لوگوں کے آنے سے پہلے ہی جلدی سے وہ زہر پی گئے اور انھیں کچھ بھی نہ ہوا۔ یہ دیکھ کر عمرو نے کہا: اے جماعتِ عرب! جب تک تم صحابہ میں سے ایک آدمی بھی باقی رہے گا اس وقت تک تم جو چاہو گے حاصل کرلو گے۔ پھر عمرو نے حِیرہ والوں کی طرف متوجہ ہوکر کہا: میں نے آج جیسا واضح اِقبال والادن نہیں دیکھا۔ 1