صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید

صحابۂ کرام ؓ کے قتل ہونے کی وجہ سے پوری دنیا کے نظام میں کیاکیا تبدیلیاں آئیں

حضرت ربیعہ بن لقیط کہتے ہیں: جس سال حضرت علی اور حضرت معاویہؓ کی جماعتوں میں جنگ ہوئی اس سال میں حضرت عمرو بن عاص ؓ کے ساتھ تھا۔ ان کی جماعت واپس جارہی تھی، راستہ میں تازہ خون کی بارش ہوئی۔ میں برتن بارش میں رکھتا تھا تو وہ تازہ خون سے بھر جاتاتھا۔ لوگ سمجھ گئے کہ لوگوں نے جو ایک دوسرے کا خون بہایاہے اس کی وجہ سے یہ بارش ہوئی ہے۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ بیان کے لیے کھڑے ہوئے، پہلے اللہ کی شایانِ شان حمد وثنا بیان کی، پھر فرمایا: اگر تم اپنے اور اللہ کے درمیان کا تعلق ٹھیک کرلوگے (ہرحال میں اس کا حکم پورا کروگے) تو اگر یہ دوپہاڑ بھی آپس میں ٹکراجائیں گے تو بھی تمہارا کچھ نقصان نہیں ہوگا۔ 1 حضرت زُہری کہتے ہیں: عبدالملک نے مجھ سے کہا: اگر آپ مجھے یہ بتادیں کہ حضرت حسین ؓ کی شہادت کے دن کون سی نشانی پائی گئی تھی تو پھر آپ واقعی بہت بڑے عالم ہیں۔ میں نے کہا: اس دن بیت المقدس میں جوبھی کنکری اٹھائی جاتی اس کے نیچے تازہ خون ملتا۔ عبدالملک نے کہا: اس بات کوروایت کرنے میں میں اور آپ دونوں برابر ہیں (مجھے بھی یہ بات معلوم ہے)۔ 2 حضرت زُہری کہتے ہیں: جس دن حضرت حسینؓ کو شہید کیا گیا اس دن شام میں جو بھی پتھر اٹھایاجاتا اس کے نیچے خون ہوتا۔ 3 حضرت اُمّ حکیم ؓ کہتی ہیں: جس دن حضرت حسین ؓ کو شہید کیا گیا اس دن میں کم عمر لڑکی تھی، تو کئی دن تک آسمان خون کی طرح سرخ رہا۔ 4 حضرت ابوقُبیل کہتے ہیں: جب حضرت حسین بن علی ؓ کو شہید کیا گیا تو اسی وقت سورج کو اتنا زیادہ گرہن لگا کہ عین دوپہر کے وقت ستارے نظر آنے لگے اور ہم لوگ سمجھے کہ قیامت آگئی۔ 1