صحابہ کرام ؓ کی غیبی تائید
ناگواریوں اور سختیوں کو برداشت کرنا
حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ فرماتے ہیں: اسلام ناگواریوں اور سختیوں کو لے کر اُتراہے، یعنی ناگواریاں اور سختیاں برداشت کرنے سے اسلام کو ترقی ملتی ہے۔ ہم نے سب سے زیادہ بھلائی ناگواری میں پائی۔ چناںچہ ہم حضورﷺ کے ساتھ مکہ سے (ہجرت کرکے بڑی ناگواری کے ساتھ) نکلے، لیکن اللہ نے اسی ہجرت کی وجہ سے ہمیں بلندی اور کامیابی عطافرمائی۔ اسی طرح ہم حضورﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر میں گئے تھے، اس وقت ہمارا حال وہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے:
{وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکـٰـرِہُوْنَآیت کا نشان یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَہُمْ یَنْظُرُوْنَ آیت کا نشان وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّہَا لَکُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ} 1
اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کو گراں سمجھی تھی (اور) وہ اس مصلحت (کے کام) میں بعد اس کے کہ اس کا ظہور ہوگیاتھا (اپنے بچائو کے لیے) آپ سے (بطورِ مشورہ) اس طرح جھگڑ رہے تھے کہ گویاکوئی ان کو موت کی طرف ہانکے لیے جاتاہے اور وہ دیکھ رہے ہیں۔ اور تم لوگ اس وقت کو یاد کرو جب کہ اللہ تعالیٰ تم سے ان دوجماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتے تھے کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی اور تم اس تمنا میں تھے کہ غیر مسلح جماعت (یعنی قافلہ) تمہارے ہاتھ آجاوے۔
اور مسلح جماعت قریش کی تھی۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ نے اس سفر میں بھی ہمارے لیے بلندی اور کامیابی رکھ دی (حالاںکہ یہ غزوہ ہماری مرضی کے بالکل خلاف ہواتھا)۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے بھلائی کی بھلائی ناگواری میں پائی۔ 1
حضرت محمد بن اسحاق بن یسار نے حضرت خالد بن ولید ؓ کا قصہ ذکرکیاہے کہ جب حضرت خالد ؓ یمامہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انھیں یمامہ یہ خط لکھا:
حضور ﷺ کے خلیفہ اور اللہ کے بندے ابوبکر کی طرف سے حضرت خالد بن ولید کے نام، اور ان مہاجرینِ انصار اور اخلاص کے ساتھ ان کا اتباع کرنے والوں کے نام جو حضرت خالد کے ساتھ ہیں۔ سلام علیکم!
میں آپ لوگوں کے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتاہوں جس کے سواکوئی معبود نہیں۔
اما بعد! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دوست کو عزت دی اور اپنے دشمن کو ذلیل کیا اور تمام گروہوں پر اکیلا ہی غالب آگیا، وہ اللہ جس کے سواکوئی معبود نہیں اس نے یہ فرمایاہے:
{وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ص وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ}2
(اے مجموعۂ اُمّت) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطافرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے (اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی، اور جس دین کو (اللہ تعالیٰ نے) ان کے لیے پسند فرمایا ہے (یعنی اسلام) اس کو ان کے (نفعِ آخرت کے) لیے قوت دے گا۔
حضرت ابوبکر ؓ نے یہ پوری آیت لکھی اس کے بعد لکھا: یہ اللہ کا وعدہ ہے جس کے خلاف کبھی نہیں ہوسکتا اور اللہ کا فرمان ایساہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جہاد فرض کیا ہے اور قرآن میں فرمایاہے:
{کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ}3
جہاد کرناتم پر فرض کیاگیاہے اور وہ تم کو (طبعاً) گراں (معلوم ہوتا) ہے۔
آیات لکھنے کے بعد لکھا:
اللہ نے تم سے جووعدے کیے ہیں وہ سارے اللہ سے پورے کرائو (جس کی صورت یہ ہے کہ اللہ نے ان وعدوں کے لیے جو شرطیں لگائی ہیں تم وہ شرطیں پوری کرو) اور اللہ نے جو کام تم پر فرض کیے ہیں ان میں اللہ کی اطاعت کرو چاہے اس میں کتنی مشقت اٹھانی پڑے، اور کتنی زیادہ مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں، اور کتنے دور دور کے سفر کرنے پڑیں، اور کتنے مالی اور جانی نقصانات اٹھانے پڑیں، کیوںکہ اللہ کے اجرِ عظیم کے مقابلے میں یہ سب کچھ، کچھ بھی نہیں۔ اللہ تم پر رحم کرے، تم ہلکے ہویابھاری ہر حال میں اللہ کے راستے میں نکلو اور مال وجان لے کر خوب جہاد کرو۔
پھر اس کے متعلق آیات لکھیں، پھر لکھا:
غور سے سنو! میں نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو عراق جانے کا حکم دیا اور کہا ہے کہ وہاں جاکر میرے دوسرے حکم کا انتظار کرے۔ لہٰذا آپ لوگ سب ان کے ساتھ جائو اور ان کا ساتھ چھوڑ کر زمین سے مت چمٹو، کیوںکہ یہ ایسا راستہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اس آدمی کو بہت بڑااجر عطا فرماتے ہیں جس کی نیت اچھی ہو اور جسے خیر کے کاموں کا بہت زیادہ شوق ہو۔ جب آپ لوگ عراق پہنچ جائو تو میرے حکم کے آنے تک وہیں رہو۔ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری دنیا اور آخرت کے تمام ضروری کاموں کی کفایت فرمائے: وَالسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔1
اور سختیاں اور تکلیفیں برداشت کرنے کے باب میں، ہجرت کے باب میں، نصرت کے باب میں اور جہاد کے باب وغیرہ میں صحابہ ؓ کے سختیاں اور تکلیفیں برداشت کرنے کے قصے تفصیل سے گزر چکے ہیں۔